یہ آج کل کی مائیں


گزشتہ دنوں ایک دوست سے ملاقات ہوئی باتوں باتوں میں اس نے ایک واقعہ سنایا اسی کی زبانی بیان کرتی ہوں ”میری خالہ ایک بس میں سفر کر رہی تھیں اور جگہ نہ ہونے کے باعث کھڑی ہوئی تھیں انہوں نے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے ایک لڑکے سے کہا“ بیٹا تم تو جوان جہان ہو تھوڑا احساس کرلو تمہاری ماں کی جگہ ہوں ”اس پر لڑکے نے جو جواب دیا وہ ہمارے معاشرے کی تنگ سوچ کی عکاسی ہے لڑکا بولا“ ہم آپ کا احساس کیسے کریں؟ کیا آپ آج کل کی مائیں ہمارا احساس کرتی ہیں؟ ہمیں ڈائپر لگا کر کئی گھنٹوں کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے بھوک لگنے پر فیڈر ہمارے منہ میں ٹھونس دیا جاتا ہے جب ہمارے لیے کوئی تکلیف نہیں اٹھائی جاتی تو ہم کیوں اٹھائیں؟ ”

اس انتقام پسند سوچ رکھنے والے اور اس جیسے کئی لوگ جو ماؤں کو اپنے پالنے کی مشقت سہتے دیکھنا چاہتے ہیں ان سے میں یہ پوچھنا چاہوں گی کہ کسی ماں کے مقام کا تعین کرنے کے لیے یہ نام نہاد پیمانے تم نے کس بنا پر بنائے ہیں؟ کیا کسی حدیث میں یہ بیان کیا گیا کہ صرف ان ماؤں کے قدموں تلے جنت ہے جو بچوں کو اپنا دودھ پلائیں؟

کئی بڑی امائیں بھی یہی کہتی پائی جاتی ہیں کہ آج کل کی ماؤں کو تو کچھ کرنا ہی نہیں پڑتا رویا تو فیڈر منہ میں دے دو گندا ہونے سے بچنے کے لیے پیمپر لگا دو تنگ کرے تو موبائل پکڑا دو یہ تک کہا جاتا ہے کہ اولاد اس لیے نافرمان ہوئی جاتی ہے کیونکہ مائیں ان کے لیے کوئی مشقت نہیں سہتیں ان ساری معزز خواتین سے عرض ہے کہ آپ کے دور میں بلاشبہ ماؤں نے بہت مشقت سے اپنے بچوں کو پالا جس کی ہم قدر کرتے ہیں لیکن آج کل کی ماؤں کے حالات مختلف ہیں ان کی مشکلات مختلف ہیں اور مشکلات کے حل بھی مختلف ہیں آج کل مائیں بچوں کو پالنے کے لیے جن سہولیات کا فائدہ اٹھاتی ہیں وہ بالکل ایسی ہی سہولیات ہیں جو ہماری روزمرہ زندگی کو آسان بناتی ہیں جیسے فریج، مائیکرو ویو، واشنگ مشین وغیرہ اگر آج سے بیس سال پہلے بچوں کو پلانے کے لیے فیڈر نہیں تھا تو کپڑے دھونے کے لیے مشین بھی نہیں تھی جیسے جیسے زمانے نے ترقی کی بہت سی ایجادات ہماری زندگی میں شامل ہو گئیں اور دنیا میں رہ کر دنیا کے ساتھ آگے نہ بڑھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہوتی اس لیے ہم نے انہیں بخوشی اپنی زندگی میں شامل کر لیا تو میری پیاری ماؤں!

اگر آپ کے دور میں یہ سہولیات ہوتیں تو آپ بھی ان سے ضرور فائدہ اٹھاتیں لیکن اگر آپ کی اولاد اپنی اولاد کو پالنے کے لیے ان ساری سہولیات کا استعمال کر رہی ہے تو تنقید کیوں؟ اولاد کی فرمانبرداری تو خدا کی دین ہے اس میں انسان کا کیا کمال؟ رہی بات ماں کے مقام کی تو ماں کا مقام محض پوتڑے دھونے تک محدود نہیں ہے اس مقام کا تعین جب تخلیق کرنے والے نے کر دیا تو ہم اور آپ کون ہوتے ہیں کمی بیشی کرنے والے؟ آج کل کی ماؤں کو آپ کی تنقید کی نہیں آپ کی رہنمائی اور مدد کی ضرورت ہے

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments