ریل کی سیٹی
یہ کتاب شاید ایک سفرنامہ ہے، ایک ایسے مسافر کا جو ریل میں بیٹھا کھڑکی سے باہر جھانکتا ہوا مناظر کو پیچھے کی طرف گامزن ہوتا دیکھتا ہے۔ میدانوں، کھیتوں، پہاڑیوں، نہروں، دریاؤں، ریگ زاروں اور آبادیوں میں منزلیں مارتا، ان کے رنگوں کو ذہن کے کینوس پر اتارتا، وہاں بسنے والے لوگوں کی خوشبو کو دل میں بساتا اور پھر صفحات پر نقش کرتا چلا جاتا ہے۔ ریل جب دریا کے کسی پل سے گزرتی ہے تو اس کی گڑگڑاہٹ سے پیدا ہونے والے ارتعاش سے مسافر کے ذہن میں ماضی کا کوئی دریچہ وا ہوتا ہے، اس دریچے سے کچھ کہانیاں جھانکتی ہیں جو اسٹیشن سے متصل شہر میں کئی سال پہلے بسر ہوئی تھیں۔ یہ کتاب شاید ایک سفر کی داستان ہے، خود شناسی کا ایسا سفر جس کا زاد راہ ماضی میں سرزد کردہ لغزشوں کے ادراک سے میسر ہوتا ہے۔
یا شاید یہ کتاب ایک آپ بیتی ہے جو کسی پٹڑی کے کانٹا بدلنے کے ساتھ ہی جگ بیتی بن جاتی ہے، اب یہ کہانی صرف مسافر کی کہانی نہیں رہتی۔ میری، آپ کی ، ہمارے اجداد اور ان کے ساتھ بسنے والے لوگوں کے ہجر، وصال اور فراق کی حکایت بن جاتی ہے۔
یا شاید یہ کتاب ایک خود کلامی ہے جو مسافر کئی زمانوں میں سفر کرتا ہوا، ایک پلیٹ فارم سے دوسرے اور ایک اسٹیشن سے اگلے میں داخل ہوتا ہوا کرتا ہے۔ اس خود کلامی میں مسافر منزلوں کے ساتھ ساتھ الگ الگ ادوار میں قدم رکھتا چلا جاتا ہے۔
شاید یہ کتاب ایک روداد ہے، جس کا آغاز راولپنڈی کے اسٹیشن سے 1849 میں ہوتا ہے۔
مسافر ایک پلیٹ فارم کے ٹی اسٹال پر کھڑا، چائے کے گھونٹ بھرتا ہوا پلکوں کو جھپکاتا ہے تو ایک زمانے کی تصویر کیمرے کا شٹر کھلنے اور بند ہونے کے وقفے میں ذہن پر منعکس ہو جاتی ہے۔ راول کی پنڈی سے نکلنے کے بعد چکلالہ، مانکیالہ اور کلر سیداں آتے ہیں۔ پھر گوجر خان، مسافر اس جگہ کو پوٹھوہار کا دل گردانتا ہے۔ اس پورے سفر میں ایک پوری تاریخ دفن ہے، بقول مسافر ”جب قلم کلمہ پڑھ لے تو پہلے تاریخ کافر ہوا کرتی ہے“ ۔
ریل کہانی کا ایک دریچہ سوہاوہ اور دینہ سے ہو کر جہلم کا رخ کرنے سے پہلے ٹلہ جوگیاں کی طرف کھلتا ہے۔ منسوب ہے کہ رانجھا اور پورن سنگھ سے لے کر گرو گورکھ ناتھ اور گرو نانک تک جوگیوں اور روگیوں کو یہاں سے کچھ نہ کچھ ضرور ملا۔ یادوں کی بارات جب جہلم سے گزرتی ہے تو دریا کے یخ بستہ پانیوں میں مضبوط چپو چلتے ہیں اور ساتھ ہی نازک دل دھڑکتے ہیں۔ کھاریاں چھاؤنی اور لالہ موسی سے گزرتے ہوئے تاریخ کے کچھ اور ورق پلٹے جاتے ہیں اور مسافر گجرات آن پہنچتا ہے اور یہاں ایک اور دریا کا سامنا درپیش ہے۔
حسن کچے گھڑے کا دیوانہ
عشق موج چناب کی صورت
عشق جب سر چڑھ جائے تو کا ابدی ٹھکانہ کسی دریا کی موجیں ہی ہو سکتی ہیں۔ ذرا آگے بڑھیں تو سیالوں کا کوٹ، سیالکوٹ اور سرور سے بھرا پسرور آتے ہیں۔ کوئی مٹھاس بھرا گاؤں ہو تو شکر گڑھ، کسی بادشاہ کے وزیر کا آباد کیا گیا ہو تو وزیر آباد، گوجروں بی بستی گوجرانوالہ جہاں امرتا نے جنم لیا، اور ایمن آباد کی چندروتی، کیا کیا چہرے تھے جنہوں نے ان شہروں میں سانسیں لیں اور ایسے ہی کسی دوسرے شہر کی خاک ہوئے۔
جڑانوالہ کے مضافات میں سر لائل کا آباد کیا ہوا شہر لائلپور جس نے اتنا قد کاٹھ نکالا کہ دھپ سڑی ڈجکوٹ اور سمندری اس کے آگے بونے لگنے لگے۔ اور بشن سنگھ کا ٹوبہ ٹیک سنگھ اب صرف ایک کردار نہیں بٹوارے کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ سلطان باھو اور عبدالسلام کا جھنگ، چنیوٹ کے شیخ اور آراستہ فرنیچر، کمالیہ کا کھردرا کھدر جس سے حریت پسندوں کو وطن کی خوشبو آتی تھی خانیوال کا بانسوں والا بازار اور جنکشن ہو، چہار چیزوں والا ملتان یا صادق دوست کا بہاولپور، مسافر ہر رنگ کی مٹی کو جدا رکھتا ہے اور خوشبو کو الگ محسوس کرتا ہے۔ موتیوں جیسے اجلے پانیوں سے شروع ہوئی یہ کہانی روہی کی چمکتی ریت تک آ جاتی ہے۔ سانس ہے تو سفر ہے۔ مختار مسعود نے کہا تھا راہ خود سفر میں ہے، منزل خود مقصود کی تلاش میں ہے۔ اور سکون بھی ایک مسافر ہے۔
محمد حسن معراج نے بے حد محسوس کیا اور باکمال لکھا۔ ایک ایسی کتاب جسے ہر اس شخص کو پڑھنا چاہیے جو اس مٹی کی خوشبو کو پہچاننا چاہتا ہے اور ان ہواؤں میں سانس لیتا ہے جو اس کے اپنے پانیوں پہ سفر کرتے ہوئے اس تک پہنچتی ہیں۔ کتاب کو سنگ میل نے اسی معیار کے مطابق شائع کیا ہے جو ان کا خاصہ ہے۔


