عورت مارچ والی عورتیں


آج پھر وہ بکھری بکھری نظر آ رہی تھی۔ آنکھیں رات بھر کی جاگی ہوئی۔ سارا وجود تھکا تھکا۔ میرے بہت اصرار پر اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔کہنے لگی میڈم باہر چل کر بتاتی ہوں یہاں باقی سب کولیگز آتے جاتے ہیں۔

انیلا میری اسسٹنٹ تھی اور میرے ساتھ کام کرتے اسے پانچ سال ہو گئے تھے۔ ماسٹرز کے بعد اس نے میرے ایک پراجیکٹ کے لیئے کچھ عرصہ انٹرنشپ کی ۔اس کی کام میں لگن اور سیکھنے کے شوق کو دیکھتے ہوئے  میں نے اسے اپنے ساتھ اسسٹنٹ کی جاب کے لیئے سلیکٹ کر لیا۔چونکہ یہ پراجیکٹ جاب تھی اس لیئے معقول تنخواہ اسے مل جاتی تھی۔ انیلا کام میں محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پر اعتماد لڑکی تھی۔گھر میں کمانے والی بیٹی ہونے کے ناطے اس کے مزاج میں تھوڑا رعب اور انا بھی تھی اور بلاشبہ پروفیشنل لائف میں آگے بڑھنے کے لیئے خود اعتمادی اور اپنے فیصلے خود کرنے کی سمجھ بوجھ رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
ایک سال پہلے انیلا کی شادی ہوگئی جو کہ خالص ارینج میرج تھی۔میرے فرینڈز اور کولیگز اکثر مجھے چھیڑتے ہیں کہ تم اپنے اسسٹنس کو ہر وقت اس قدر مصروف اور کام میں لگا کر رکھتی ہو کہ انہیں ادھر ادھر دیکھنے اور کہیں آنکھ مٹکا کرنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی۔یہی حال انیلا کا تھا ۔اپنے اردگرد کی دنیا سے بے خبر اپنے کام میں مگن رہتی۔شادی کے شروع شروع دن بہت فریش اور خوش خوش دکھنے والی لڑکی آہستہ آہستہ دکھی دکھی اور پریشان نظر آنے لگی۔میں نے پوچھنا مناسب نہیں جانا اور اور اسسٹنٹ ہونے کے ناطے میرے ساتھ  زیادہ فرینک بھی نہیں تھی۔آج مجھے بہت اداس اور روئی ہوئی نظر آئی تو میں نے وجہ جاننے کا اصرار کیا۔
ہم باہر کینٹین پر آ کر بیٹھ گئے تو اس کی رواداد سے جو میں نے اخذ کیا وہ یہ تھا کہ اس کا شوہر جو کہ خود کسی پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرتا ہے انیلا کے مطابق اگرچہ بہت اچھا اور پیار کرنے والا شخص ہے لیکن اس کا اختلاف انیلا کی خود اعتمادی اور با اختیاری ہے۔ اس کی خواہش ایک پڑھی لکھی اور جاب کرنے والی سمارٹ لڑکی سے شادی تھی لیکن وہ اس سے توقعات وہی رکھتا ہے جو ایک عام ڈری سہمی گھریلو لڑکی سے ہوتی ہیں کہ اسے کہیں آنے جانے کے لیئے گھر بھر کے لوگوں کی اجازت لینا ہو گی۔لڑکی کا اکیلے باہر نکلنا اور سفر کرنا تو انتہا کی بے غیرتی ہے۔کوئی بھی کام کرنے سے پہلے شوہر کی اجازت اور مرضی درکار ہوگی۔اس نے کب کہاں کیا پہن اوڑھ کر جانا ہے اس کا فیصلہ بھی اس کا شوہر یا ساس کریں گے۔ آفس کے مقرر کردہ اوقات سے ایک منٹ بھی روگردانی کی اجازت نہیں۔”تم نے مجھ سے پوچھے بغیر یہ کیوں کیا”۔ "تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہیں اس کی اجازت دوں گا”  "میرے ساتھ رہنا ہے تو میری مرضی سے رہنا ہو گا "۔۔۔یہ اور اس سے ملتے جلتے طنزیہ جملوں اور زہر آلود فقروں نے اٹھتے بیٹھتے اس کا جینا حرام کر دیا تھا۔۔۔خاص کر کہ اسے
” عورت مارچ والی عورت ” ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے
یہ کیس صرف انیلا کا نہیں بلکہ جاب کرنے والی ہر اس دوسری لڑکی کا ہے جو شادی کے بندھن میں بندھی ہوئی ہے۔معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ لڑکی پڑھی لکھی اور جاب کرنے والی چاہیئے جو ہمارے ساتھ شانہ بشانہ چل سکے جس کے آنے سے گھر میں خوشحالی بھی آ جائے اور رشتے داروں کے منہ بھی بند ہو جائیں کہ خاندان میں کوئی اس جیسی تھی ہی نہیں لیکن یہ کوئی سوچنا نہیں چاہتا کہ ایک پڑھی لکھی جاب کرنے والی لڑکی کے بھی کچھ خواب ہوں گے جو شاید ایک عام گھریلو لڑکی کے خوابوں سے مختلف ہوں۔ہو سکتا ہے اس کا خواب امیر اور گاڑی بنگلے والا شوہر نہ ہو بلکہ اس کا خواب شادی شدہ زندگی کے ساتھ ساتھ اپنی پروفیشنل گرومنگ اور کیرئیر بنانا ہو۔
ایک جاب کرنے اور خود اچھا کمانے والی لڑکی آپ سے کبھی نئے کپڑے جوتوں کا مطالبہ نہیں کرے گی۔۔ باہر جا کر کھانا کھانے کے لیِے آپ کی طرف نہیں دیکھے گی۔۔۔گھر میں مہمانوں کے آنے پر آپ کا انتظار نہیں کرے گی کہ آپ کے دیئے گئے پیسوں کے مطابق کیا پیش کرنا ہے۔۔۔آپ سے نت نئی فرمائشیں اور ایسی ضدیں نہیں کرے گی جو آپ کی مالی حیثیت سے بڑھ کر ہوں۔۔ہاں وہ آپ سے چاہے گی تو صرف عزت، محبت، اعتبار اور احترام۔۔۔ایک پڑھی لکھی عورت اپنی ذاتی سوچ اور نظریہ رکھتی ہے وہ آپ کی دس مانے گی تو تین چار اپنی بھی منوائے گی اور اسے یہ شعور اور خود اعتمادی اعلی  تعلیم نے دی ہے ۔۔وہی اعلی تعلیم جس کو دیکھ کر آپ نے اس سے شادی کی ہے۔اگر آپ کے والد صاحب نے تیس برس پہلے ایک عام گھریلو لڑکی سے شادی کی اور آپ کی والدہ نے ساری عمر سادگی سے گزار دی کبھی اپنی ذاتی سوچ کا اظہار نہیں کیا، جو پہنایا پہن لیا، جو کھلایا کھا لیاتو جناب وہ اس دور کی بات تھی جو بلاشبہ بہت خوبصورت تھا۔اگر پچیس تیس سال بعد آپ نے اپنی سوچ بدل لی ہے اور ایک پڑھی لکھی جاب کرنے والی سمارٹ لڑکی کو بیوی بنانا چاہتے ہیں تو سوچیے اس لڑکی کی بھی کوئی سوچ ہوگی جو یقینا آپ کی والدہ کی سوچ سے مختلف ہوگی۔اس کا زندگی کو دیکھنے کا تجربہ اور شعور ایک پچیس تیس سال پرانے دور کی عورت سے مختلف ہوگا۔آپ بدل گئے تو نئے دور کی لڑکیاں بھی بدل چکی ہیں۔اب وہ زیادہ با اختیار اور خود اعتماد ہیں اور ایسی لڑکیوں کے ساتھ رہنے کے لیئے آپ کو اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا۔رہا سوال عورت مارچ والی عورتوں کا تو ہر وہ عورت جو اپنے جائز حقوق کا ادراک رکھتی ہو اور اپنی خواہشات کا اظہار کرنا جانتی ہو، خود اعتمادی سے بات کر سکتی ہو اور اپنی زندگی کو کسی مرد کی بجائے اپنی ذاتی عینک سے دیکھنا جانتی ہو اس کی ایسی تشریحات کرنا اور ایک طعنہ بنا کر پیش کرنا زیادتی ہے۔

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

رضوانہ انجم کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments