طلسماتی حقوق کی تجوری کیسے کھلی؟

کچھ زیادہ گئے وقتوں کی بات نہیں کہ ایک ملک تھا آواری، اس کے تمام باشندے چاہے نر ہوں یا مادہ وہ آوارہ کہلاتے تھے۔ شہریت کے لئے اس نام کے انتخاب پر نر باشندے اپنے قائد کے بہت ممنون تھے کہ کوئی تو خوبصورت لفظ بغیر تذکیر و تانیث کے مرد کے لئے بھی چنا گیا، کیونکہ وہ اس احساس کمتری میں مبتلا تھے کہ تمام عمدہ الفاظ پر صرف تانیث کی اجارہ داری تھی، گویا مرد نے کبھی کوئی حسین کام نہیں کیا! کبھی کبھی پولیس کو گشتی پولیس کہہ دیا جاتا تھا مگر یہاں موصوف چونکہ مذکر لیا جاتا تھا تو صفت آپ ہی آپ تکریم کا معنی لے لیتی جس سے اس دلکش، عموماً مونث، صفت کی تمام گیرائی اور گہرائی عنقا ہو جاتی۔
پھر کچھ ایسا ہوا کہ ملک آواری کے تمام بوٹ بردار مردوں کو محاذ جنگ جانا پڑا۔ ملک کا تمام نظم و نسق چار و ناچار ناتجربہ کار، کم عقل، جذباتی آوارہ عورتوں کے سپرد کرنا پڑا۔ مگر جہاں آواری کی پیشتر عورتیں بہت گھبرائیں کہ یہ اتنا بڑا نظام تو صرف آوارہ مرد ہی چلا سکتے ہیں، وہیں کچھ عاقبت نااندیش آوارہ عورتوں کی خوشی کی انتہا نہ تھی، انھوں نے ساتھی عورتوں کو حوصلہ دیا کہ اگر وہ ایک گھر کا نظام خوبی سے چلا سکتی ہیں تو ملک کیا مشکل ہے۔ اسے صرف پیمانے کا فرق سمجھو اور ہمت پکڑو! اور پھر کیا تھا بے خوف آوارہ عورتوں کے غول کے غول سڑکوں پر ناچتے گاتے نکلے، نہ کسی کو لباس درست کرنے کا خوف تھا نہ آواز پست رکھنے کا دھیان۔ ہر طرف خوشی اور سکون تھا۔ پھر موج مستی کے بعد کام اور ذمہ داریوں کی تقسیم ہوئی۔
کچھ عرصے بعد جب بھاری بوٹ پہنے مرد دھپ دھپ کرتے، شور مچاتے واپس آئے تو ملک آواری کی کایا پلٹ چکی تھی۔ ان کے گمان کے برعکس سب اچھا، بلکہ پہلے سے کہیں اچھا چل رہا تھا۔ آوارہ مردوں نے آوارہ عورتوں کے کارناموں پر خوب واہ واہ کی اور پھر انھیں واپس اپنے گھریلو مورچوں پر لوٹ جانے کا حکم صادر کیا۔ مگر اب آواری کی آوارہ عورتیں خود انحصاری، خود مختاری اور خود اعتمادی کی لذت سے بخوبی آشنا ہو چکی تھیں اور باقی تمام دنیاوی اور جسمانی لذتیں اس اندرونی اور روحانی لذت کے سامنے کم تر بلکہ بہت ہی ہیچ دکھائی دے رہیں تھیں۔
اب تو ملک آواری کے اندر جنگ کا آغاز ہو گیا۔ مردوں کو اب اپنی برتری قائم رکھنے کا کوئی جواز بن نہیں پڑ رہا تھا۔ بوٹ کسی محاذ پہ پہلے کبھی ایسی بے بسی کا شکار نہ ہوئے تھے۔ اور عورت اپنا جو روپ دیکھ چکی تھی اسے ان دیکھا کرنے کو کسی صورت راضی نہ تھی۔ آوارہ مرد چاہتے تھے کہ کسی طرح وقت کی گھڑیاں واپس موڑ دیں اور آوارہ عورتوں کو واپس محکومیت میں لے لیں مگر ایسا کرنا ناممکن تھا۔ سو وقتی طور پر انھیں ہتھیار ڈالنے اور بوٹ اتارنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہ آیا۔
قریب ہی ملک دبستان تھا۔ جہاں آواز دبانا، مال دبانا، حق دبانا، زن دبانا اس ملک کی عالمگیر نیک نامی اور شہرت کا باعث تھا۔ تو اس جنگ کی بھنک ملک دبستان پہنچی تو وہاں کی طلسماتی عورتوں نے اپنی آوارہ بہنوں کو پیغام بھیجا کہ اپنی اوقات مت بھولو، عورتوں کے قیمتی حقوق تجوری میں احتیاط سے رکھنے کی چیز ہیں، بے دریغ استعمال کر کے انہیں ضائع کرنا کفران نعمت ہے۔ لہذا ہماری خوشگوار زندگی سے آ کر سبق لو اور ہاں ہمارے پاس جو حقوق کی ایک پوٹلی کوئی ہزار کو برس سے بند پڑی ہے، تو اگر بہت بے چینی ہے تو اس پر ہاتھ پھیر کر روحانی مسرت حاصل کر لو۔
لہذا دو آوارہ عورتوں نے ملک دبستان کی طلسماتی عورتوں کی پیشکش کو قبول کر لیا۔ جب وہاں پہنچیں تو ہر کوئی ایک ہی ورد کر رہا تھا، ہم طلسماتی ہیں! ہم طلسماتی ہیں! کیا تم لوگ جانتے نہیں کہ دبستان کے سب لوگ طلسماتی ہیں پھر یہ ورد پر اصرار کیوں، تو ایک طلسماتی نر نے سمجھایا کہ اب چونکہ عمل میں کوئی طلسم باقی نہیں رہا تو الفاظ سے خانہ پری کی جاتی ہے، اور سارے جھوٹے سچے طلسم کو ماضی کی کراماتی تاریخ میں گھول کر بچوں کو پچپن میں ہی پلا دیا جاتا ہے اور یوں یہ ورد ہی ہمارے لئے اکسیر بن جاتا ہے اور عمل کی زحمت سے بھی بچت ہو جاتی ہے۔ حیرت زدہ آوارہ عورتیں آگے بڑھیں تو جا بجا سفید شفاف بادلوں سے گولے پھرتے نظر آئے۔ جو بالکل مبہم پاکیزہ فرشتوں کی مانند دکھائی دیتے تھے۔ ایک نمبر آوارہ عورت نے جاننے کی کوشش کی کے آخر یہ کیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ خوبصورت گولے دودھیا روئی کی رضائی میں لپٹی طلسماتی عورتیں ہیں، چونکہ ملک دبستان میں جا بجا ہمہ وقت عورتوں پر طعن و تشنیع کی گولیاں اور نظروں کے نشتر برسنے کا خطرہ رہتا ہے تو رحم دل حکمرانوں نے تمام عورتوں کو یہ رضائیاں فراہم کی ہیں جو وہ گھر کے اندر اور باہر ہر جگہ لپیٹے رکھیں اور یوں دبو رہنے سے دبستان میں طلسماتی عورتوں کے آبگینے جیسے جسم ضرر سے محفوظ رہتے ہیں۔
رحم دل حکمرانوں نے دیکھنے کے لئے ایک لیزر نما آلہ بھی نصب کر کے دیا اور سانس لینے کو ایک عدد ٹیوب بھی لگا رکھی تھی۔ دو نمبر آوارہ عورت کے اندر صدیوں کی گڑی ہوئی ایک لاچار اور بے بس عورت کی وہ تصویر جس میں وہ ہمہ وقت مرد کے سہارے اور حفاظت کی محتاج ہے، معدوم نہیں ہوئی تھی۔ لہذا وہ اپنی بہنوں کی اس حالت زار سے اتنی مرعوب ہوئی کہ اس نے بھی محفوظ رہنے کو افضل جانا اور رضائی حاصل کرنے کی تمنا کی۔ جس پر اسے بتایا گیا کہ بس اسے ایک طلسماتی کلمہ پڑھنا پڑے گا اور پھر اس طلسماتی گروپ کی عظیم رکن بن جائے گی اور ایک عدد پیش قیمت رضائی کی فخریہ مالک ہو گی۔
مگر کیا اس کے رضائی میں اس کے کوئی حقوق ہوں گے؟ اس پر اسے یقین دہانی کرائی گئی کہ رضائی میں وہ اتنی محفوظ رہے گی کہ حقوق کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، اور حکمران اس کے حقوق کی حفاظت کے لئے ہی تو شبانہ روز تگ و دو کر رہے ہیں تبھی تو حقوق اتنے محفوظ ہیں کہ ہزار برس گزرنے کے بعد بھی تمام طلسماتی عالم میں ان تک کسی کی رسائی ممکن نہیں ہوئی۔ اگر یہ دبو دبستان کی کامیابی نہیں تو اور کیا ہے؟ اور ہاں یہ حقوق تجوریوں میں باحفاظت پڑے ہیں۔ بس ہم طلسماتی عورتوں کی اس سے بڑی کیا خوش نصیبی ہو گی کہ کچھ ہزار برس سے نسل در نسل تجوری بہ تجوری یہ حقوق مکمل حفاظت سے صرف ہماری ہی دل جوئی کے لئے منتقل ہو رہے ہیں۔
پھر اس روئی کے گولے نے ادھر ادھر گھوم کے دیکھا گویا کوئی سن نہ لے، پھر سرگوشی میں بولی، سنا ہے اگر ایک تجوری بھی کھل گئی تو سب تجوریاں خود بخود کھل جائیں گئی اور حقوق باہر فضا میں بکھر جائیں گے اور کوئی بھی انھیں پکڑنے سے روک نہ سکے گا۔
ایک نمبر کی آوارہ سے رہا نہ گیا تو بولی دکھاؤ تو سہی کہاں ہے یہ قیمتی تجوری۔ جب وہ محلے کے با با کے حجرے میں داخل ہوئے تو دیکھا کے سبز ریشمی غلاف تلے ایک لوہے کا زنگ آلود صندوق پڑا تھا، بابا جی خراٹے لے رہے تھے اور ایک ہاتھ توند پہ اور ایک صندوق پہ دھرا تھا، کہ کہیں کوئی ان کے سونے کے دوران طلسماتی حقوق چرا کر نہ لے جائے۔
ایک نمبر کی آوارہ عورت چونکہ ملک آواری میں ٹرک ڈرائیور تھی تو اس کی جیب میں ہر وقت ایک پیچ کس موجود رہتا تھا جونہی اس نے پیچ کس گھمایا صندوق کھل گیا ہے اور تمام حقوق اڑ کر فضا میں پھیل گئے۔ پھر تو وہ کھلبلی پڑی کہ لوگوں نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔
آوارہ عورتوں نے جو یہ منظر دیکھا تو دم دبا کر بھاگ کھڑی ہوئیں کہ ہمارے ملک آواری میں تو ابھی ہماری اپنی جنگ شروع ہوئی ہے اور ہمیں اپنے سیاپے بھگتانے ہیں یہ کس مشکل میں پھنس گئے۔ تم جانو اور تمھارے طلسم، ہم تو چلے!
مگر وہی ہوا جس کا ملک دبستان میں خوف تھا کچھ جوان ہمت طلسماتی لڑکیوں نے اڑتے ہوئے حقوق پکڑنے کی کوشش کی اور بھاگ دوڑ میں سہولت کے لیے رضائی اتار پھینکی۔ سب نے کہا یہ سب آوارہ عورتوں کے شر سے ہوا۔ لہذا حکومت وقت نے طلسماتی عورتوں کو آوارہ عورتوں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک ایک زائد رضائی اڑھانے کا حکم نامہ صادر کیا ہے تاکہ انھیں فضا میں موجود حقوق نظر ہی نہیں آئیں اور یوں انھیں محفوظ رکھا جا سکے۔ اور اس دوران دبستان کی اپنی تجوریوں سے نکلے حقوق کو آوارہ عورتوں کی چال سے منسوب کر کے انہیں سمیٹنے کی کوششیں تاحال جاری ہیں!

