بہت زیادہ گئے وقتوں کی بات نہیں کہ ایک روز محلے کے لوگ چھت پر سونے کی تیاری میں مصروف تھے، چاند اس روز کچھ زیادہ ہی آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ اسے دیکھ کر کچھ شاعرانہ مزاج حضرات اس کی مدحت میں کلام پڑھنے لگے اور کچھ لڑکیاں اس کے قصیدے گانے لگیں جس سے سماں اور مسحور کن ہو گیا۔ جب اس قصیدہ گوئی کو کافی دیر ہو گئی تو کچھ بزرگ بولے کہ اب وہ آرام کرنا چاہتے ہیں مگر منچلے کہاں سننے والے تھے۔ آخرکار جب قصیدہ گو خود ہی تھک ہار گئے تو خاموشی ہوئی اور سب نے سکون کا سانس لیا۔
چند لمحے ہی گزرے تھے کہ ایک ہوائی فائر نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ فائر نئے ہمسائے کے گھر کی طرف سے تھا۔ وہ چاند کو دیکھ کر اس پر چیخ رہا تھا چونکہ اس کے پرانے گھر کے اردگرد اونچی، اونچی عمارتیں تھیں تو بلند قامت دیواروں نے اسے اندھیرے کا عادی کر دیا تھا۔ لہذا چاند کی روشنی اس کے آرام و سکون میں خلل انداز ہو رہی تھی، اور وہ اسے ختم کر کے دھواں بنانا چاہتا تھا۔ بس پھر کیا تھا وہ جو چند لمحے پہلے اس قمر کے قصیدے گا رہے تھے وہ کب اس کے لئے ایسے مذموم عزائم کے متحمل ہو سکتے تھے۔ فوراً سے ان کی بھی بندوقیں نکل آئیں۔
Read more