حمزہ علی عباسی کی کتاب اور ہم

بے شک ایک اچھا اداکار بننے کے لئے جو حساسیت درکار ہے وہ ہر انسان میں موجود نہیں ہوتی۔ اپنی ذات سے مختلف کسی دوسرے کا سوانگ بھرنا، کسی کے درد، دکھ یا شیطانیت کے اندر داخل ہو کر اسے ایک حقیقت کا روپ دینا کوئی آسان کام نہیں۔ مگر ہماری مذہبی اور معاشرتی منافقت کے کیا کہنے کہ ایک طرف محظوظ ہونے کے لئے انہی اداکاروں کو دیکھنا اور پھر دوسری طرف انھیں لعن طعن کر کے نیکیاں اور

Read more

اگر سپین بھی آج اسلامی مملکت ہوتا

مسلم خواتین کو خاص شکر ادا کرنا چاہیے کہ مسلمان یورپ میں زیادہ عرصہ نہ ٹک سکے اور اپنے عظیم کارناموں سمیت سپین سے ہی لوٹا دیے گئے ورنہ جینی ہر موسو اب تک تائب ہو کر اسلامی زندگی گزارنے کا عندیہ دے چکی ہوتی اور روبیالز سینہ چوڑا کر کے فخر کے ساتھ آزاد گھوم رہا ہوتا کہ مملکت اسلامیہ میں نیم برہنہ عورت کے سامنے فرط جذبات کے کسی بھی اظہار پر نہ کوئی قدغن لگائی جاتی ہے

Read more

دعا یا دوا

کچھ عرصہ قبل اس موضوع پر سر خالد سہیل کا بلاگ پڑھا تو سوچا وقت ملنے پر اس موضوع پر اپنے خیالات بھی لکھوں گی۔ خدا ہے یا نہیں، ہے تو کیا ہے اور کیا نہیں۔ چونکہ اس سوال کا کوئی حتمی جواب موجود نہیں لہذا کسی فلسفیانہ، سائنسی یا مذہبی جواب کو حتمی ماننا یا رد کرنا بھی سہل نہیں۔ مکمل رد کریں تو پھر نطشے کا زاراتھسٹرا دکھائی دیتا ہے۔ ’دس سپوک زارا تھسٹرا‘ میں الفاظ ادا تو ایک

Read more

مرد افضل ہے: پدر سری ذہنیت کی مخرب الاخلاق خوش فہمی

مردانہ فضیلت کے خود اعزازی تمغے کو چیلنج ہوئے چونکہ ابھی ایک صدی بھی نہیں گزری لہذا اس تمغے کی چمک ابھی بھی بہت جگہ پوری آب وتاب سے موجود ہے۔ اور فضیلت پر ایمان جہاں جتنا زیادہ ہے وہیں بدمعاشی، خوف و ہراس، استحصال، اور تشدد بھی اتنا ہی آب و تاب سے جلوہ گر ہے۔ پدر سری ذہنیت پر کسی ایک صنف کی اجارہ داری نہیں۔ یہ ایک قدیم حیوانی ذہنیت ہے جو اب بھی ہمارے شعور اور

Read more

عربی اور اردو پہ انگریزی کے اثرات کا ایک مختصر موازنہ!

  خلیجی ممالک میں کافی عرصہ رہنے کے بعد بھی عربی عامیہ سیکھنے کے کوئی خاص مواقع میسر نہیں آئے کہ جن عرب لوگوں میں ملنا جلنا ہوتا تھا وہ انگریزی سے واقف تھے اور بازار اور دوسری جگہوں پہ کوئی نہ کوئی عربی عامیہ سے واقف دیسی ملازم مدد کو موجود ہوتا تھا۔ مگر اب حالات کافی بدل رہے ہیں۔ جا بجا عرب خواتین و مرد کام کرتے نظر آتے ہیں، جن میں سے بیشتر انگریزی سے فی الحال

Read more

کائنات کے تخلیق کار تک رسائی

شعوری حیات کی ابتدا گر سوال سے ہو تو جستجو، تبادلہ خیال، علم میں اضافے کی خواہش اور دیگر انسانوں کی رائے کا احترام وہ خواص ہیں جو سوال کرنے والوں کو ہی ودیعت ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جن کے شعور کو ابتدا سے ہی حتمی جواب کی اینٹوں سے چن کر جستجو کے مزید مدارج سر کرنے سے خائف کر دیا جائے، تو ایسے کسل مند، ملفوف و مقید شعور کو محض اوپر جانے والوں کے تمسخر، اہانت اور

Read more

شطرنج کی بساط اور مشرق و مغرب کا تضاد

زندگی کو اکثر شطرنج کی بساط سے تشبیہ دی جاتی ہے، کیونکہ دونوں میں مہرے کچھ مقرر کردہ اختیارات لے کر بساط پر اترتے ہیں، اور دونوں میں کامیاب بازی وہی کہلاتی ہے جہاں چال چلنے میں عقل، حکمت اور نگاہ دوربین کا استعمال ہو نہ کہ صرف طاقت و اختیار کا اندھا زعم۔ شطرنج جہاں بھی پہنچی وہاں کے سماجی ڈھانچے کے مطابق طاقت اور اختیار کے استعارے بھی بدلتے گئے۔ ہمارے مشرق میں شطرنج میں کوئی نسوانی کردار

Read more

طلسماتی حقوق کی تجوری کیسے کھلی؟

آ کچھ زیادہ گئے وقتوں کی بات نہیں کہ ایک ملک تھا آواری، اس کے تمام باشندے چاہے نر ہوں یا مادہ وہ آوارہ کہلاتے تھے۔ شہریت کے لئے اس نام کے انتخاب پر نر باشندے اپنے قائد کے بہت ممنون تھے کہ کوئی تو خوبصورت لفظ بغیر تذکیر و تانیث کے مرد کے لئے بھی چنا گیا، کیونکہ وہ اس احساس کمتری میں مبتلا تھے کہ تمام عمدہ الفاظ پر صرف تانیث کی اجارہ داری تھی، گویا مرد نے

Read more

چند دن اپنے خدا کے بغیر جی کر دیکھیے

ہر شخص کا اپنا ایک خدا ہے، اکثریت کا خدا وہی پسند کرتا ہے جو وہ خود پسند کرتا ہے، اس کے دشمنوں سے اتنی ہی نفرت کرتا ہے جتنی کے وہ خود کرتا ہے، جو اس کے ہر جواز اور تعصب کی تائید کے لئے ہمہ وقت چوکس اور موجود رہتا ہے۔ ہمارے دین سے لاعلم معاشرے میں پیشتر کے لئے خدا کا تصور اسی آلہ دین کے جن جیسا ہی ہے جس سے اپنی خواہشات پوری کروانے کے

Read more

واضربوھن، ایک لفظ پر کھڑی بیوی پر تشدد کی عمارت

جب تک قرآن حکیم کے تراجم و تفاسیر کی ضرورت پیش آئی کوئی ایسی ایک باوثوق اتھارٹی نہیں تھی جو قرآن کے مبہم الفاظ یا مسائل پر کوئی حتمی فیصلہ دیتی، لہذا تراجم اور تفاسیر میں لکھنے والوں کی سوچ اور معاشرت کا عکس شامل ہونا شروع ہو گیا۔ بے شک علماء نے اپنے ادوار میں اپنے علم و فہم کے مطابق بہت محنت کی اور اپنے انتخاب کے دلائل بھی دیے۔ مگر اختلافات بہرحال رہے۔ فقہ میں بھی اختلافات

Read more

خواتین کے لۓمساجد کے دروازے بند رکھنے کے چند سنگین نتائج

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ایک مسلم معاشرے میں ایک کم عمر اجنبی مرد اور عورت کا آمنا سامنا کن ماحول میں ہوتا ہے۔ عموماً گلی، سڑکوں، یا بازاروں میں۔ سڑکوں پر تو کوئی قانون ہوتا ہے مگر مارکیٹوں یا بازاروں میں کون سی اخلاقیات کارفرما ہوتی ہیں۔ مرد ہو یا عورت وہاں خریدار ’ہر‘ شے کو دیکھنے کی نیت سے آتا ہے، وہاں مال لاحاصل پر بے باکی سے دست حسرت پھیر کر ہی حسرت پوری کی

Read more

قرآن میں خواتین کا ذکر اور مرد مترجم اور مفسر (قسط 2)

قرآن مجید کا اعجاز ہے کہ جو عورت دور جاہلیت میں جائیداد کا حصہ تھی اسے جائیداد کا مالک بنا دیا گیا۔ مقصد عملی طور پر اس کے لیے معاشی استحکام کی راہ ہموار کر کے اس کی عزت نفس بحال کرنا تھا نہ کہ محض حقوق نسواں کی علمبرداری کا پرچار۔ قرآن خود مال کو ’خیر‘ اور ’فضل‘ کہتے ہوئے اسے حاصل کرنے اور تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے، نہ کہ اسے کوئی معیوب شے قرار دیتا ہو،

Read more

قرآن میں خواتین کا ذکر اور مرد مترجم اور مفسر

جب رسول اللہ کی زندگی کا دور پڑھا تو معاشرتی سطح پر گھر سے باہر خواتین کی ایک واضح موجودگی نظر آئی۔ نماز پنجگانہ اور عید کی نمازوں کی ادائیگی کے لے مردوں کے ہمراہ مسجد کے ایک ہی احاطے میں نماز ادا کرتی خواتین، دین خدا کو سمجھنے کے لیے مردوں کے ساتھ پیغمبر خدا ﷺ سے سوال جواب کرتی خواتین، جنگوں میں نرسنگ کرتی اور لڑتی خواتین، اپنے حق کے لے مجادلہ کرتی خواتین۔ رسول اللہ ﷺ کے

Read more

زلزلے کیوں آتے ہیں؟

بچپن میں سنتے تھے کہ زمین ایک گائے کے سینگوں پر کھڑی ہے۔ جب وہ تھک کر سینگ بدلتی ہے تو زلزلہ آتا ہے۔ گائے نظروں سے چھپی یہ سب بوجھ خاموشی سے اٹھائے کھڑی ہے۔ زمین پر ہنستے بستے لوگ اسے نا انصافی یا ظلم نہیں قدرت کا لکھا سمجھ کر اس پر ‍بوجھ در بوجھ ڈالنے میں کوئی تأمل نہیں کرتے۔ پھر بڑے ہوئے تو یہی حقیقت کینیڈا میں انگلش لٹریچر کے کورس کے دوران اسی موضوع سے

Read more

ناموس قمر

بہت زیادہ گئے وقتوں کی بات نہیں کہ ایک روز محلے کے لوگ چھت پر سونے کی تیاری میں مصروف تھے، چاند اس روز کچھ زیادہ ہی آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ اسے دیکھ کر کچھ شاعرانہ مزاج حضرات اس کی مدحت میں کلام پڑھنے لگے اور کچھ لڑکیاں اس کے قصیدے گانے لگیں جس سے سماں اور مسحور کن ہو گیا۔ جب اس قصیدہ گوئی کو کافی دیر ہو گئی تو کچھ بزرگ بولے کہ اب وہ آرام کرنا چاہتے ہیں مگر منچلے کہاں سننے والے تھے۔ آخرکار جب قصیدہ گو خود ہی تھک ہار گئے تو خاموشی ہوئی اور سب نے سکون کا سانس لیا۔

چند لمحے ہی گزرے تھے کہ ایک ہوائی فائر نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ فائر نئے ہمسائے کے گھر کی طرف سے تھا۔ وہ چاند کو دیکھ کر اس پر چیخ رہا تھا چونکہ اس کے پرانے گھر کے اردگرد اونچی، اونچی عمارتیں تھیں تو بلند قامت دیواروں نے اسے اندھیرے کا عادی کر دیا تھا۔ لہذا چاند کی روشنی اس کے آرام و سکون میں خلل انداز ہو رہی تھی، اور وہ اسے ختم کر کے دھواں بنانا چاہتا تھا۔ بس پھر کیا تھا وہ جو چند لمحے پہلے اس قمر کے قصیدے گا رہے تھے وہ کب اس کے لئے ایسے مذموم عزائم کے متحمل ہو سکتے تھے۔ فوراً سے ان کی بھی بندوقیں نکل آئیں۔

Read more

بیٹی پرایا دھن: ہم والدین ہیں یا تاجر؟

لفاظی میں بے مثل ہمارے معاشرے کے رویے بدلنے میں مذہب کافی حد تک بے بس نظر آتا ہے۔ کیونکہ جو قوم اپنی اخلاقیات اور مذہب کے اصولوں پر فخر تو کرے مگر عملی طور اس کی تعلیم و تربیت اور کردار سازی تجارت اور دنیا داری کے اصولوں پر کی جانے، وہاں اولاد جیسے حسین ترین معجزے کا بھی نفع اور نقصان کے ترازو میں تولے جانا کوئی انہونی بات نہیں۔ مذہب نے جس کو رحمت کہا اسے ہماری

Read more

لفظ بہرحال نہیں مرتے

کسی بھی غور طلب خبر کو پڑھنے کے بعد مجھے لوگوں کی رائے جاننے میں بھی دلچسپی رہتی ہے۔ یہ جاننے کے لیے کہ اس خبر کو دیکھنے کے اور کیا زاویے ہو سکتے ہیں اور یہ بھی کہ اس کے بارے میں عمومی معاشرتی رویہ اور فکر کس سمت جا رہی ہے۔ انٹرنیٹ سے پہلے کچھ صحافی حضرات کا نکتہ نظر ٹی وی یا اخبار کے ذریعہ معلوم ہو جاتا تھا مگر عام آدمی کا زاویہ جاننے کا ذریعہ

Read more