بیٹیوں کی شناخت پریڈ


شناخت پریڈ سے کون واقف نہیں جہاں بیری ہو وہاں یہ پیریڈ لازمی ہوتی ہے اور بہت کم اور خوش نصیب لڑکیاں ہوں گی جو اس پریڈ سے نہیں گزریں۔

مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے کہ میری امی کے دور میں سوشل میڈیا نہیں تھا مگر وہ بہت روشن خیال خاتون تھیں انہیں اس شناخت پریڈ سے سخت نفرت تھی مگر مجبوری ایسی تھی کہ وہ اس سے الگ نہیں رہ سکتی تھیں۔ مگر اس پریڈ کے کچھ اصول انہوں نے وضع کر لئے تھے۔

جیسے لڑکی بہت بن سنور کے نہیں جائے گی ناشتے کی ٹرے نہیں اٹھائے گی اگر کسی نے کچھ برا کہنے یا لڑکی میں کوئی خامی کا ذکر کرنے کی کوشش کی تو امی ادھر کی ادھر حساب بے باق کر دیتی تھیں۔ مشورہ یہ دیا جاتا کہ سب کو سامنے کر دیں کیا پتا کس کا نصیب کس سے جڑا ہو اور میری امی کا جواب ہوتا میں نے لڑکیوں کا جمعہ بازار نہیں لگانا میں اپنی بیٹیوں کو بہت اعتماد دے کر پالا ہے میں ان کا اعتماد مسخ نہیں کر سکتی۔

ساتھ میں رشتہ لانے والے کو تمام لڑکی کے کوائف بتا دیتیں اور ساتھ میں تاکید بھی کر دیتی کہ اگر انہیں سمجھ آئے تو لانا ورنہ میرے گھر کا راستہ نہ بتانا۔

ایک دفعہ مجھے یاد ہے کہ میری دوست کی امی نے میری بہن کا رشتہ بھیجا کیونکہ یہ رشتہ کسی جاننے والے کے توسط سے آیا تھا تو امی نے ناشتے پہ اہتمام بھی کر لیا جبکہ وہ شربت اور بسکٹ کے علاوہ تیسری کوئی ڈش رکھنے کی روادار نہ ہوتیں وہ لوگ آئے بھی اور خاموشی سے مل کے چلے بھی گئے۔ امی کا ایک اصول یہ بھی تھا کہ وہ پلٹ کے کبھی یہ نہیں پوچھتی تھیں کہ آپ کو میری لڑکی پسند آئی؟

مگر شامت کی مار میری دوست گھر آئی اور اس نے میری بہن کے سامنے ہی کہہ دیا کہ آنٹی لڑکے والوں کو لڑکی گوری چاہیے

امی کو انتہائی غصہ آیا ان کی اولاد کو کوئی اس طرح بولے ممکن نہیں۔ امی اسی وقت میری دوست کے گھر گئیں اور چند باتیں بہت شیریں انداز میں کیں۔

آپ میری بیٹی کو دن میں کم از کم ایک دفعہ تو ضرور دیکھ ہی لیتی ہیں (آخر کو محلے داری تھی) آپ اس کے رنگ روپ سے بہت اچھی طرح واقف ہیں پھر رشتہ بھی آپ اپنے دیور کے بیٹے کا لائیں تو آپ کو تو پتا ہو گا کہ وہ کس طرح کی بہو لانا چاہ رہے ہیں اور تیسرا یہ کہ میں نے کبھی اپنی بیٹی کے رشتے کا ذکر آپ سے نہیں کیا تو آپ میرے گھر یہ رشتہ کیوں لائیں اور اگر بالفرض میری محبت میں آپ لے بھی آئیں تو ان کے زریں خیالات مجھ تک کیوں پہنچائے؟

آپ بھی بیٹیوں والی ہیں اور ہر ماں کو اپنی اولاد پیاری ہے بسی ایک لمحے کو میری جگہ خود کو رکھ کے سوچیں آپ کو میری تکلیف کا احساس ہو جائے گا۔ اور حقیقتاً  آنٹی نے امی سے معذرت کی۔

مگر کہتے ہیں نا کہ لوگوں کو روشن خیالی پسند نہیں آتی امی کی روشن خیالی لوگوں کو پسند نہیں آئی اکثر لوگ یہی کہتے چار بیٹیاں ہیں کیسے کریں گی مگر میری امی کا اللہ پہ مضبوط ایمان تھا ان کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا جس نے دی ہیں، وہی کرے گا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ایک لڑکی کے لیے اس سے بڑی دکھ کی کیا بات ہوگی کہ وہ ایک مجرم کی طرح لوگوں کے سامنے جائے کسی غیر مرد کے سامنے جائے کہ وہ اسے پسند کر لے ایک زمانے میں تو صرف خواتین ہی لڑکی دیکھنے جاتی تھیں مگر اس کے بعد تو کہا یہ جانے لگا کہ بھئی جس کو کرنی ہے وہ ہی دیکھ لے تو زیادہ بہتر ہے اور اس میں سب سے بڑا کر دار رشتہ کروانے والوں کا ہے یہ تمام نئے آئیڈیاز ان ہی کے شیطانی دماغ کا پیش خیمہ ہے۔

کوئی ایک لڑکے کی مثال بھولے سے سننے میں نہ آئی جو اماں بہنوں کے ساتھ اس پریڈ میں شامل ہوا ہو اور اسے لڑکی پسند آ گئی ہو اور وہاں رشتہ طے ہی ہوا ہو اماں بہنوں کی مخالفت کے باوجود۔ امی نے کبھی ہم بہنوں کو کسی غیر مرد کے سامنے نہیں بٹھایا یہ بھی ان کا ایک اصول شناخت پریڈ کا تھا۔ میں اس معاملے میں بڑی خوش قسمت نکلی مگر شناخت پریڈ سے بچ نہیں سکی مگر چونکہ گھر کا ماحول ایسا تھا کہ کبھی یہ چیزیں ذہن پہ سوار نہیں رہی۔

مئی کی گرمی میں جب آپ یونیورسٹی سے آئیں تو آپ کا رنگ روپ ویسے ہی بہت نکھر جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک تپتی دوپہر میں میری بہن نے مجھے اٹھایا جلدی اٹھو کچھ مہمان آئے ہیں۔

میں کیا کروں؟ جھنجھلا کے جواب دیا ارے وہ تمھارا بوتھا دیکھنے آئیں ہیں۔

یہاں میرے دماغ میں گھنٹی بجی، قصہ مختصر میں ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی دو عام سی شکل و صورت والی لڑکیاں صوفے پہ تھیں ایک نظر ہی انہوں نے مجھے دیکھا۔ دائیں ہاتھ والے صوفے پہ ایک آنٹی تھیں بس وہ ہی مجھے دیکھ رہی تھیں اور دیکھ ہی رہی تھیں مجھے پتا ہے میں حسن کی پری تو تھی نہیں اور نہ ہی ان ہی آنکھوں میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر بس ایک گھوری تھی جو میری سمجھ سے باہر اور نہ ہی میں ان کے بیٹے کو دیکھا نہ ملی ان کا غصہ سمجھ سے باہر تھا کمرے میں مکمل خاموشی تھی میں کبھی ادھر دیکھتی تو کبھی ادھر ایک دم سے میری نظر اپنی بڑی بہن پہ پڑی اس نے اپنی ایک آنکھ دبائی میرے چہرے پہ مسکراہٹ آ گئی وہ خاتون فوراً میری بڑی بہن کی طرف مڑی اب ان کا زاویہ بدل چکا تھا۔

میری بہن نے مجھے جیسے ہی جانے کا اشارہ کیا۔ ویسے ہی میری مسکرا ہٹ گہری ہوئی اور میں منظر سے غائب۔

بعد کا مجھے پتا ہے کیونکہ بڑی بہن صاحبہ شادی کے عہدے پہ فائز ہو چکی تھیں اور ایسے لوگوں سے نمٹنا بھی انہیں خوب آتا تھا۔

ان تمام واقعات کا ذکر کرنے کا مقصد یہاں صرف یہ ہے کہ اس طرح کی پریڈ کا اثر لڑکی کے ذہن پہ کیا پڑتا ہو گا ہماری امی تو ہمارے ڈھال بنی رہیں مگر ہر گھرانے میں ایسا نہیں ہوتا۔ لڑکی کو آخر میں اپنے آپ سے ہی نفرت ہونے لگتی ہے۔ اسے لگتا ہے وہ اس دنیا کی سب سے بد صورت لڑکی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ شادی کا معیار ہی کچھ اور ہے تو ہم کیوں اپنی بیٹیوں کا تماشا لگائیں۔ انہیں احساس کمتری میں مبتلا کریں۔

بہت سے گھرانوں میں تو بس لڑکی سولہ سترہ برس کی ہوئی نہیں کہ شادی کی فکر لاحق ہو گئی شادی کے بعد وہ کن مسائل سے دو چار ہے یا ہو سکتی ہے اس مسلے کا ذہن میں ہوتا ہی نہیں۔ اکثر والدین کو تو یہ فکر لا حق ہوتی ہے کہ ہم مر جائیں گہ تو ان کا کیا ہو گا۔ اس لئے وہ اس پریڈ میں لڑکی پہ کی جا نے والی تنقید پہ خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہوتے ہیں کہ اگر بولیں گے تو بدنام ہو جائیں گے اور ہمارے گھر رشتہ نہیں آئے گا۔ زیادہ تر لوگوں کا کام گھر گھر جا کے صرف لڑکی دیکھنا ہوتا آ کر کو بیٹے کو تسلی بھی دینی ہوتی ہے کہ تمہارے لئے لڑکی دیکھی جا رہی ہے۔

شادی تو جب ہونی ہوتی ہے ہو ہی جاتی ہے اگر آپ کے سامنے، منہ پہ آپ کی بیٹی کو کوئی برا کہے تو آپ کیوں چپ رہیں کوئی قد ناپ رہا ہے کوئی وزن تو کوئی تعلیم اور کوئی باپ بھائی کی جائیداد شادی نہ ہوئی سودے بازی ہوگی۔ غلط رواج پہ خاموشی اور حوصلہ افزائی اپنے آپ کو ہی موت کے منہ میں دھکیلنے کے برابر ہے۔

میری امی نے لوگوں کی بہت سی باتیں سنیں مگر جہاں تک ان فضولیات سے اپنی اولادوں کو بچا سکتی تھی انہوں نے بچایا۔ ماں باپ سے زیادہ لوگوں کو فکر لاحق ہوتی ہے کہ اب تک شادی نہیں ہوئی کب تک بیٹھا کے رکھیں گی کہیں آئے جائے گی نہیں تو شادی کیسے ہوگی مگر رشتہ سب سے نکمے اور ناکارہ اور لالچی لوگوں کا لایا جاتا اور یہ بھی باور کرایا جاتا اس سے اچھا رشتہ نہیں ملے گا۔

یہ سب باتیں وقتی ہوتی ہیں اور شادی سب کی ہوجاتی ہے دیر یا سویر اصل مسائل وہ ہیں جو جڑ پکڑتے جا رہے ہیں اور ان کا کوئی اختتام نہیں۔ لڑکیوں کو بھیڑ بکریوں کی صورت میں پیش کرنا چھوڑ دیں لوگوں کو آپ کی اولاد سے محبت نہیں ہوگی نہ وہ احساس کریں گے یہ احساس آپ کو دلانا ہے۔

اپنی اولاد کو بہادر بنائیں انہیں باصلاحیت بنائیں ان کی صلاحیت کے مطابق ان کو با اعتماد بنائیں صرف شادی ہی مسلے کا حل نہیں ہے بلکہ شادی کے بعد ہی اصل مسائل شروع ہوتے ہیں ان کو حل کرنا اور ان سے نمٹنا سکھائیں آپ کی بیٹیوں میں اتنی صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ حالات کے مطابق فیصلے لے سکیں۔ انہیں خودمختار بنائیں، کمانا سکھائیں اچھے برے حالات میں وہ کسی کی محتاج نہ رہیں بلکہ حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکیں سسک سسک کے زندگی نہ گزاریں، انہیں ڈرنا نہ سکھائیں۔

ابھی کچھ دن پہلے ایک اشتہار ٹی وی پہ دیکھا یقین کریں دل خوش ہو گیا کہ ایک ماں اپنے بیٹے کو آنے والی بہو کو خوش رکھنے کے لئے اور اس کی عزت کرنے کی نصیحت کر رہی تھی۔ اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی اب ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ کسی شناخت پریڈ میں جانے سے پہلے ایک نظر اپنی بیٹیوں کی شکل یا پھر آئینہ ہی دیکھ لیں۔ بیٹیوں کے ساتھ بیٹوں کو بھی با صلاحیت، ہنر مند اور محنتی بنانے کی ضرورت ہے۔ جیسی اس کی شکل ہے جتنا وہ کماتا ہے اسی حساب سے اس کے لئے لڑکی تلاش کریں، اور بہو کو بیٹی نہ سمجھیں! مگر اپنے بیٹے کی عزت ضرور سمجھیں۔ ہر دل چیرنے والے کام کا انجام چونکا دینے والی سچائی سے ہی شروع ہو رہا ہے، کہیں ایسا نہ آپ کی سگی اولاد ہی آپ کو اپنے سے الگ کر کے کسی ایدھی ہوم کے اولڈ ہاؤس میں چھوڑ آئے۔

Facebook Comments HS