آپ کیسا پاکستان چاہتے ہیں؟


 

میرا سوہنا پاکستان گہنا دیا۔ ہمارے سارے حکمرانوں نے مل کر ہمارے پیارے پاکستان کو کیسا بنا دیا ہے۔ غربت، بیماری، بے روزگاری اور سوچنے سمجھنے کی قوت سے عاری انسانوں کا ایک جم غفیر ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہر اگلا سال پہلے سے برا آتا ہے، ہر اگلی حکومت پہلی سے خراب آتی ہے اور ہر اگلی دہائی اخلاقی دیوالیہ پن کا پہلے سے زیادہ شکار لگتی ہے۔ اس سب پر مستزاد یہ کہ کوئی اس بارے فکر مند ہے نہ سوچ رہا ہے۔ حکمرانوں کی سوچ اور فکر اگلے الیکشن میں جوڑ توڑ کا حصہ بننے یا بنانے تک محدود ہے۔

ہر روز نئی گواہی آتی ہے کہ صورت حال بہت خراب ہے اور خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔

بچوں کی تعلیم کو لیں، کئی مختلف ذرائع سے کی گئی ریسرچز بتاتی ہیں کہ ہمارے سکول جانے کی عمر کے سوا دو کروڑ بچے اور بچیاں سکولوں سے باہر ہیں۔ سکولوں سے باہر بچوں میں زیادہ تعداد دیہاتی علاقوں میں رہنے والے بچوں کی ہے۔ اسی طرح لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ٹرانس یا ذرا سے مختلف صلاحیتوں کے مالک بچوں کا معاملہ تو کسی کھاتے میں ہی نہیں آتا۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ ان سوا دو کروڑ بچوں کا مستقبل کیا ہو گا جنہیں اکیسویں صدی میں سکول کی تعلیم ہی میسر نہ آ سکی۔ ان سوا دو کروڑ بچوں میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ آج کے یہ سوا دو کروڑ بچے اور نوجوان کل کے سوا دو کروڑ خاندان ہیں۔ جس ملک میں سوا دو کروڑ ان پڑھ خاندان غربت میں رہ رہے ہوں گے اس ملک کا مستقبل کیا ہے۔ یہ معاملہ تو صرف تعداد کا تھا۔ اب تعلیمی معیار کو دیکھیں۔

اور جب ہم اپنے تعلیمی اداروں کے معیار کو دیکھتے ہیں تو صورت حال اس سے بھی کہیں زیادہ خراب ہے۔ جو پانچ کروڑ بچے سرکاری یا سستے نجی سکولوں میں جا رہے ہیں وہ کیا سیکھ رہے ہیں۔ ان کی شخصیت کی کیا ڈیولپمنٹ ہو رہی ہے۔ اس پرورش اور تعلیم کے ساتھ وہ کیسا معاشرہ ترتیب دے پائیں گے۔ یہ سب بڑے اہم سوال ہیں جو ہمارے حکمرانوں کی لسٹ ہی میں شامل نہیں۔ یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔

صحت اور صحت کے نظام کو لیں۔ بائیس کروڑ عوام کے لیے جتنا بجٹ ہم خرچ کرتے ہیں اس سے تو شاید مسواک ہی آ سکتے ہے۔ نظام ایسا ہے کہ ہزاروں ڈاکٹر خواتین و حضرات بے روزگار ہیں جب کہ لاکھوں یا شاید کروڑوں لوگ کو ڈاکٹر کی خدمات میسر ہی نہیں۔ ہزاروں دیہی ہسپتال ڈاکٹروں کے بغیر ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مقرر کردہ معیار کے مطابق کسی بھی ملک میں ہر چھ سو افراد کے لیے ایک ڈاکٹر ہونا ضروری ہے جبکہ پاکستان میں ہر اکیس سو افراد کے لیے ایک ڈاکٹر میسر ہے۔ اور وہ بھی زیادہ تر تو شہروں میں مقیم ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ دیہاتی علاقے میں تو شاید پانچ یا دس ہزار لوگوں کے لیے بھی ایک ڈاکٹر میسر نہیں ہے۔ اس بات کا اثر یہ ہے کہ صحت کی سہولیات کا معیار بہت ہی پست ہے۔

اگر ہم اپنے ملک کا موازنہ ترقی یافتہ ممالک سے کریں تو صورت حال بہت ہی خراب ہے۔ مثلاً 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر ہزار بچوں میں سے پچھتر بچے اپنے پانچویں سالگرہ دیکھنے سے پہلے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تعداد اب تین رہ گئی ہے، یعنی ایک ہزار میں سے تین بچے اپنی پانچویں سالگرہ دیکھنے سے پہلے مر جاتے ہیں۔ ہم اس تعداد کو ترقی یافتہ ممالک کے برابر کب کر پائیں گے۔ ہماری ماؤں اور بچوں کا بھی ایک صحت مند زندگی کا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں رہنے والے لوگوں کا۔ اب بھی پاکستان کی آبادی کا دو تہائی حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے۔ اور یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں کہ دیہاتوں میں صحت کی سہولیات اور بھی کم ہیں اس لیے قابل علاج بیماریوں سے مرنے والی ماؤں اور بچوں کی تعداد شہروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ گاؤں کی طرف تو توجہ اور بھی کم ہے۔

صحت، تعلیم اور باقی سارے انسانی حقوق کا مسئلہ جڑا ہوا ہے آبادی کے بڑھنے کے ساتھ۔ پاکستان میں صحت، تعلیم اور ترقی کی صورت حال انتہائی خراب ہونے کی وجہ سے آبادی بے ہنگم طریقے سے بڑھ رہی ہے۔ زندگی کے تمام معاملات کی طرح فیملی پلاننگ کا شعور بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لیے مسائل کے مزید بڑھنے کی امکانات واضح ہیں۔ اور پھر وہی رونا کہ شاید ہی اس بارے میں کوئی سوچ رہا ہو۔

کہانی کو آگے بڑھاتے چلے جائیں تو مایوسی بڑھتی چلی جائے گی۔ پینے کا صاف پانی، استعمال شدہ پانی کی گھروں اور آبادیوں سے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق نکاسی، حفظان صحت کے اصولوں کا علم اور ایک اچھی خوشیوں سے بھری زندگی کا شعور ناپید ہے۔ یہ سب کچھ خودبخود نہیں آتا بلکہ قوم کو سکھانا پڑتا ہے جو ہم نے نہیں کیا۔ بار بار نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ دیہی علاقوں میں رہنے والوں کے مسائل شہری علاقوں کی نسبت اور بھی زیادہ ہیں۔

یہ ہمارے پیارے پاکستان کا موجودہ چہرہ ہے۔ غربت ہے، بیماری ہے اور شعور کی کمی ہے۔ یقیناً ہمیں اپنے ملک کا یہ چہرہ پسند نہیں ہے۔ اگر ہمیں پاکستان کا یہ چہرہ پسند نہیں ہے تو پھر ہمیں کیسا پاکستان چاہیے ہے۔ اور ہم پاکستان کو ویسا کیسے بنا سکتے ہیں جیسا ہمیں پسند ہے۔

اس صورت حال کے خلاف ہم نے جنگ کا آغاز کرنا ہے۔ ہم نے خود بھی بحیثیت شہری غربت اور بیماری کو ختم کرنا ہے اور شعور کو بڑھانا ہے۔ تمام متعلقہ لوگوں، اداروں اور محکموں کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے کیونکہ یہ کام اکیلے کوئی بھی کامیابی سے نہیں کر سکتا۔ عوامی وکالت یعنی ایڈووکیسی بھی کرنی ہے لیکن تعاون سے نہ کہ لڑائی سے۔

پس نوشت: چکوال کے ایک بہت کامیاب بزنس مین اور اس سے بھی زیادہ کامیاب سوشل ورکر ملک بشیر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ دیہاتی علاقے کا درد رکھتے ہیں اور صحت کے میدان میں شاندار کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں۔ انہوں نے دیہاتی علاقے کے ہسپتالوں میں سرجری اور ڈائلیسز کی سہولت کو بھی ممکن بنا دیا ہے۔ اب وہ غربت، بے روزگاری اور بیماری کے خاتمے اور شعور کو بڑھانے کے سلسلے میں کچھ بڑا سوچ رہے ہیں۔ وہ تمام متعلقہ لوگوں، اداروں اور محکموں کے تعاون سے ”انوویٹیو چکوال“ شروع کرنے کو ہیں۔ یہ پروگرام دیہی علاقوں میں ایک انقلاب کا آغاز کرنے کو ہے۔

پاکستان کا وہ چہرہ سامنے آئے گا جو ہمیں پسند ہے اور ہم سب کی خواہش ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 321 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments