ڈی آئی خان اور چنگچی رکشوں کی دہشت


ڈی آئی خان شہر و گرد نواح میں ٹریفک کے سمندر میں روزانہ درجنوں افراد چنگچی رکشوں کے نالائق ڈرائیوروں کے ہاتھوں اپاہج ہو رہے ہیں، ہسپتالوں کو پہنچ رہے ہیں، یا مر رہے ہیں۔ شہر کے دو بڑے ہسپتالوں مفتی محمود ہسپتال اور ڈی ایچ کیو ہسپتال کی ایمرجنسیوں سے ڈیٹا لیا تو معلوم ہوا کہ شہر میں 80 % ایکسیڈنٹ چنگچی رکشوں اور موٹرسائیکلوں کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔

ٹریفک پولیس والے اگر چنگچی ڈرائیوروں کو صرف اتنا بتا دیں کہ جس چیز کو آپ چلا رہے ہو یہ نہ تو موٹرسائیکل ہے اور نہ گاڑی، آپ کو احساس موٹرسائیکل والا ضرور مل رہا ہے لیکن سڑک پر جگہ یہ ایک گاڑی کی گھیرتی ہے۔ لہاذا اس کو جہاز یا موٹرسائیکل بنانے کے بجائے چنگچی سمجھیں اور لوگوں کی زندگیوں سے نہ کھیلیں۔ اور موٹرسائیکل کی طرح پتلے راستوں سے نکلنے کے بجائے مین روڈ پر تحمل کے ساتھ چلائیں۔ تو یقین کریں دہشتگردی سے زیادہ اموات و زخمیوں و اپاہجوں کا باعث بننے والے ان رکشوں اور ان کو چلانے والے بغیر لائسنس ڈرائیورز / قاتلان کو راہ راست پر لانا عوام کے لئے انتظامیہ کا بڑا معرکہ ہو گا۔

ہسپتالوں کی شرح کے مطابق چنگچی رکشوں کے یہ ایکسیڈنٹ دہشتگردی سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ ہسپتالوں کے ہڈیوں کے وارڈز (آرتھو) میں داخل 80 % مریض موٹرسائیکلوں و چنگچی رکشوں والے ہیں۔ ڈاکٹروں سے بات کی تو بتایا گیا کہ شہر کے ٹریفک انچارج سے کئی بار انہوں نے بھی درخواست کی ہے کہ اس طرف دھیان دیا جائے۔ اور خصوصی کمپین چلائی جائے، تاکہ آبادی کے بڑے حصے کو اس دہشت سے بچایا جا سکے۔ لیکن چونکہ ڈاکٹر صاحبان کی یہ بات دل کو نہیں لگی، خود ٹریفک انچارج دفتر جاکر حالات کا پوچھا کیونکہ اکثر و بیشتر ڈاکٹر صاحبان ایسے حالات میں خوش ہوتے ہیں کہ ان کے مریض جتنے زیادہ ہوں اتنا اچھا ہو گا۔

ٹریفک انچارج دفتر میں نہیں تھا کسی اسسٹنٹ سے بات کی، دفتر کے احاطے میں سات آٹھ چنگچیاں کھڑی تھیں۔ پوچھنے پر بتایا گیا کہ یہ بھکر اور ٹانک شہر سے لائی گئی غیر قانونی چنگچیاں ہیں۔ جو کسی نہ کسی خلاف ورزی و ٹریفک حادثے میں ملوث تھیں۔ وہاں پوچھنے پر بتایا گیا کہ شہر کے اندر چونکہ سڑکیں وہی انگریز دور کی ہیں، اور آبادی تیس لاکھ سے اوپر تجاوز کرچکی ہے۔ ٹریفک پولیس و وارڈنز کی تعداد ٹریفک کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ فلائی اوور کے نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک نظام مکمل اپاہج ہے۔ اوپر سے غیر قانونی چنگچیوں کی ٹانک، لکی مروت، بھکر تونسہ وغیرہ سے شہر میں آمد بہت زیادہ ہے۔ شہر و مضافات میں اندازے کے مطابق تیس سے چالیس ہزار چنگچی رکشے چلتے ہیں۔ جن میں سے 90 % کے ڈرائیورز کے لائسنس نہیں۔ اور ان کو بنیادی ٹریفک قوانین کی کوئی معلومات نہیں۔ جو ان ٹریفک حادثات کی بنیادی و بڑی وجہ ہے۔ چنگچی بارگینز پر پابندی کے باوجود خرید و فروخت ہو رہی ہے۔ ایک ایک سواری کو اٹھا کر لے جانے والی یہ چنگچیاں چلتا پھرتا موت کا رقص ہیں۔

ڈیرہ شہر کے لئے کسی ماسٹر پلان کی ضرورت ہے۔ سڑکوں کو کشادہ و دو رویہ کر کے ٹریفک وارڈن کی بھرتیاں کی جائیں، شہر میں ٹریفک قوانین میں شدید سختی، چوکوں چوراہوں پر ٹریفک سگنلز کی اشد ضرورت ہے۔ آبادی کے مطابق شہر میں سڑکوں و بائی پاسز کی ضرورت ہے۔ شہر کا واحد بائی پاس پانچ چھ سال بعد تباہ ہو چکا ہے۔ کئی راستے سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے تاحال بند ہیں۔ جن کی طرف انتظامیہ کو خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ سب سے بڑھ کر ان چنگچی ڈرائیوروں کے لئے اوئیرنیس سیشنز رکھنا ہوں گے ، ان کو انسانی جان کی اہمیت بتانی ہوگی۔ جس کے بعد ممکن ہے کہ ان رکشوں کی دہشت کم ہو۔ جو روزانہ معصوم شہریوں کے جانیں لے رہے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments