قبائلی اضلاع سیاحت بھی، مہمان نوازی بھی


” ہم ایک دکان میں داخل ہوئے، پیکنگ کے لئے درکار تمام چیزیں خرید لی تو آخر میں نمک یاد آیا۔ دکاندار سے نمک دینے کا کہا تو اس نے دکان میں اپنے لئے رکھی ہوئی نمک میں سے ادھا نمک ہمیں دیا، ہم نے ماچس طلب کی تو اس نے دکان سے نئی ماچس دینے کی بجائے اپنے جیب کی ماچس دے کر کہا اسے استعمال میں لاؤ۔ ایک کی بجائے دو شاپرز دیے جبکہ ہماری سہولت کے لئے اس نے آگے سفر کے لئے کچھ مفید تجاویز بھی دی۔“ یہ کوئی اور جگہ نہیں بلکہ جنوبی وزیرستان کے یحصیل سراروغہ بازار میں موجود ایک دکاندار سے ہماری پہلی ملاقات کی روداد ہے۔

یہ سب دیکھ کر مجھے فوری طور پر مری کا خیال آیا اور وہاں پر سیاحوں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا گیا اور جنہیں جس بیدردی سے لوٹا گیا۔ میں نے دکاندار سے کہا کیا باہر سے آنے والوں سیاحوں کے ساتھ آپ لوگوں کا برتاؤ ایسا ہی ہوتا ہے۔ تو اس خوبصورت نوجوان نے جواب دیا ”جی ہاں! اور اس میں ایسی کون سی بات ہے یہ تو ہم سب کی ذمہ داری ہے اور علاقائی رسم و روایات ہیں کہ مہمانوں کے ساتھ ہمیشہ اچھے طریقے سے پیش آنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

میں نے جب مری میں پیش آنے والے سیاحوں کے ساتھ سلوک بارے پوچھا تو اس نے کہا“ ہاں مجھے پتا ہے کہ وہاں پانچ سو روپے پر ایک انڈا فروخت کیا جاتا تھا، گاڑی کو دھکا دینے کے بھی پیسے لئے جاتے تھے لیکن شکر الحمدللہ ہمارے ہاں ایسا کچھ بھی نہیں۔ یہاں تو جب خدانخواستہ کسی کا ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے تو عام لوگ اپنی گاڑیوں میں اپنے جیب خرچ سے انہیں ڈاکٹر تک پہنچاتے ہیں۔ کسی کے پاس رات گزارنے کی جگہ نہ ہو تو انہیں حجروں میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ جب میں نے ماچس اور نمک کی یاد دہانی کرائی تو اس نے کہا یار تم مجھے کیوں شرمندہ کر رہے ہو یہ بھلا کوئی ایسی بڑی بات تو نہیں۔

جب میں اس نوجوان سے محو گفتگو تھا تو وہاں ایک دوسرا نوجوان جو ہماری باتوں کو بڑی انہماک سے سن رہا تھا میں نے اس سے پوچھا ”لوگ یہاں آ کر کیسا محسوس کرتے ہیں ان کے کیا تاثرات ہوتے ہیں تو اس جوان نے کہا“ کوئی بھی باہر کا مہمان یہاں آئے تو وہ انتہائی خوشی محسوس کرتا ہے اور سب سے پہلے وہ یہی کہتا ہے کہ ہم نے تو یہی سنا تھا کہ وہاں دہشت ہے خوف ہے لوگ مروائے جا رہے ہیں کسی کو نہیں چھوڑا جاتا، کوئی تحفظ نہیں لیکن یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں۔ نوجوان نے کہا جب سے حالات سنبھل چکے ہیں یہاں پاکستان کے کونے کونے سے لوگ سیاحت کے لئے آتے ہیں اور آج تک کسی کو ذرا برابر بھی کسی نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ ”اس کے بقول“ ہمارے ہاں مہمانوں کو کسی بھی قسم کا دھوکہ دینا یا ناجائز فائدہ اٹھانا انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ”

محترم قارئین! ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم ہمیشہ منفی باتوں کو تو خوب اچھالتے ہیں لیکن کبھی بھی مثبت باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ وزیرستان جیسا خوبصورت علاقہ بد سے بدنام برا کے مصداق ہم نے ہمیشہ جس میں خود اس کے اپنے باسی اور مشران بھی شامل ہیں اس میں موجود خامیوں کو تو دنیا کے سامنے بیان کیا لیکن اس کی خوبصورتی، اس کی مہمان نوازی، لوگوں کا خلوص، سادگی، ہمدردی کو بیان نہیں کیا۔

بہتے چشمے، برف پوش پہاڑ، سرسبز وادیاں، گھنے جنگلات، خوبصورت لوگ مختصر یہ کہ دنیا جہاں کی خوبصورتی یہاں موجود ہے لیکن اگر کمی ہے کسی چیز کی تو وہ ہے توجہ دینے کی۔ وزیرستان میں مکین، شوال، رزمک، کانیگرم قدرتی حسن میں اپنے مثال آپ ہیں اور ان کا قدرتی حسن کسی صورت میں پاکستان کے شمالی علاقوں سے کم نہیں۔ مگر بدقسمتی سے اس کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے لانے میں کسی نے سنجیدگی نہیں دکھائی۔ اس حوالے سے سب سے مایوس کن کردار ہماری میڈیا نے ادا کیا کہ اس نے ہمیشہ وزیرستان کی دہشت اور خوف سے بھر پور خبریں تو دنیا کو دکھائی لیکن کبھی بھی اس کی قدرتی خوبصورتی کو پیش نہیں کیا۔

محمد آصف نامی نوجوان نے کہا ”مجھے افسوس ہوتا ہے جب ہمارے اپنے لوگ وزیرستان کی منفی چیزوں کو تو ہر جگہ بیان کرتے ہیں لیکن اس کی مثبت چیزوں کو بیان نہیں کرتے۔ آصف کے بقول“ ہمارے علاقے کی قدرتی خوبصورتی، مہمان نوازی، ہمدردی، امن پسندی کو ہمارے اپنے لوگوں نے دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا تو ظاہر ہے کہ ہمارے علاقے کے بارے میں لوگوں نے غلط رائے ہی قائم کرنی تھی۔

اپنے اس سفر میں جو بات میں نے سب سے زیادہ محسوس کی وہ یہاں کی غربت اور تعلیمی سہولیات کا نہ ہونا ہے۔ ایک نوجوان کے بقول ”یہاں کے اساتذہ ڈیوٹی بالکل نہیں کرتے بلکہ ان کی کثیر تعداد دوسرے شہروں میں رہ رہے ہیں۔ “ بچوں کی خاصی بڑی تعداد سکولوں سے باہر ہیں اور جو سکول جاتے ہیں تو وہاں اساتذہ موجود نہیں ہوتے۔ سکولوں اور ہسپتالوں کی عالی شان عمارتیں آپ کو ہر جگہ دیکھنے کو ملے گی لیکن افسوس کہ اگر حکومت کو عالی شان عمارات بنانے کے ساتھ اساتذہ اور ڈاکٹروں کی حاضری کو بھی یقینی بناتی۔

ایک سرکاری استاد کے بقول ”وزیرستان میں قدم قدم پر سکول موجود ہیں لیکن فائدہ صفر اور وہ اس لئے کہ اساتذہ ڈیوٹی نہیں کرتے“ ۔ اس کے بقول ”مانیٹرنگ والے صرف مین روڈ کے کنارے چند سکولوں کے دوروں تک محدود ہے اور وہ بھی صرف چائے پی کر چلے جاتے ہیں“ ۔ ایسی ہی بے شمار شکایتیں لوگوں نے میرے سامنے پیش کی ہیں جس پر پھر کبھی لکھوں گا۔

دوسری اہم چیز جو میں نے نوٹ کی وہ یہاں کی غربت ہے۔ اہل ثروت طبقہ ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور کراچی وغیرہ مستقل رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں جو صرف خاص مواقعوں پر جیسے عید وغیرہ پر چند دن کے لئے آ جاتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں لیکن جو یہاں مستقل رہ رہے ہیں ان میں اکثریت غرباء کی ہے۔ ایک معذور کم سن بچہ جو ہوٹل میں کام کر رہا تھا کہنے لگا ”جب سے چلنا پھیرنا سیکھا ہے بس مزدوری میرا مقدر بن چکی ہے“ ۔ ”سکول جانے کی خواہش تو ہے لیکن کمایا گا پھر کون“ ان کی آنکھیں بھر آئی اور ہم میں مزید رہنے کی سکت نہ رہی۔

یہاں کاشت کاری محدود پیمانے پر ہوتی ہے آبادی کم ہونے کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ بد قسمتی سے حکومت جب بھی کسی حوالے سے کوئی ریلیف دیتی ہے تو اس کا ایک بہت بڑا حصہ وہ لوگ لے جاتے ہیں جو یہاں مستقل نہیں رہتے۔ حکومت کو چاہتے کہ وہ صرف ان لوگوں کو فوقیت دیں جو یہاں مستقل رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان کی معاش کا کوئی اور خاص ذریعہ نہیں۔

جب سے یہاں امن بحال ہوا ہے تو سیاحوں کی ایک بڑی تعداد عیدین پر، یوم آزادی اور یوم پاکستان کے دنوں یہاں کا رخ کرتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بیس سے پچیس ہزار سے زیادہ گاڑیاں عید کے دنوں وزیرستان میں سیاحوں کی داخل ہوتی ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر حکومت مناسب اقدامات کرے تو یہ تعداد کہاں تک جا سکتی ہے۔ سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد کے آنے کے بعد مقامی لوگوں نے سڑکوں کے کنارے معمولی نوعیت کے ریسٹورنٹ، ہوٹل بنائے ہیں لیکن یہ سیاحوں کی مطلوبہ ضروریات کو پورا نہیں کرتی۔ اس لئے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اپنے ساتھ خیمے لاکر رات کھلے آسمان تلے گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اگر حکومت سیاحت کو فروغ دے، سیاحوں کے لئے سہولیات فراہم کرے اور اس کے لئے مناسب تشہیری مہم چلائے تو یہاں کی سیاحت کو چار چاند لگ سکتے ہیں۔ عوام کو اور خاص کر خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع اور پنجاب کے کے قریبی علاقوں کو سیر و سیاحت کے لئے ایک سستی جگہ ملے گی جبکہ مقامی لوگوں کو روزگار حاصل ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ اس حوالے سے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے تاکہ وزیرستان ایک بار پھر امن اور خوشحالی کا مرکز بنے جیسے کہ ماضی قریب میں تھا۔

Facebook Comments HS