مالٹے، دھوپ اور سرکاری استانیاں


جہاں سرکاری سکولوں کی استانیوں کی ملازمت کے حوالے سے پیشہ وارانہ کارکردگی کے بارے میں کئی غلط فہمیاں اور گمراہ کن باتیں مشہور ہیں جن میں سے اکثریت کا حقائق سے بالکل تعلق نہیں وہیں ایک گمراہ کن پراپیگنڈہ یہ بھی ہے کہ موسم سرما میں سرکاری استانیاں بچوں کو کلاسز میں اللہ کے آسرے پر چھوڑ کر خود سارا دن گروپس بنا کر گپیں مارتیں، دھوپ سینکتیں، وٹامن ڈی لیتیں اور ساتھ کینو مالٹے کھاتی رہتی ہیں۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

سرکاری سکول ٹیچر بننے سے پہلے ہم بھی ایسے قصے بارہا سن چکے تھے ہم نے تو یہ تک سن رکھا تھا کہ سرکاری سکولوں میں استانیاں پڑھانے کے بجائے سارا دن کسی کمرے میں سو کر، گپ شپ لگا کر یا کھا پی کر واپس آجاتی ہیں یہاں بچوں کو پڑھائی لکھائی کروانا لازمی نہیں ہوتا۔

لیکن جب میں سرکاری استانی بنی تب پتا چلا کہ یہ سب باتیں تو بس سرکاری سکولوں کو بدنام کرنے کی سازشوں کا حصہ ہیں ورنہ ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ چند برے لوگ تو ہر جگہ ہر ادارے میں ہوتے ہیں اگر ادھر بھی ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب ہی برے ہیں۔ اکثریت یہاں فرائض کو خوش اسلوبی سے ادا کرنے والوں کی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ صبح سکول اسمبلی کے بعد بچوں کی حاضری اور ان کے ریکارڈ کی سکول ٹیب پر انٹری و درستی سے لے کر سکول کی صفائی ستھرائی، فائلوں، داخل خارج، این ایس بی تک کاموں کی ایک لمبی لائن ہے جو سکول کے اوقات کار ختم ہونے پر بھی ختم نہیں ہوتے۔ اوپر سے ڈینگی ایپ پر کارکردگی دکھانے کا پریشر اور روز تصاویر اپ لوڈ کر کے بھیجنے کا سلسلہ تو کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں دیتا۔

مزید براں افسران کے اچانک وزٹس، ایم ای اے کا خوف اور سب سے بڑھ کر خوف خدا اب ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے فرصت ہی نہیں لینے دیتا کہ ہم ویلے نکمے بیٹھے رہیں۔

لیکن پھر بھی میں یہ ضرور کہوں گی کہ جہاں آگ ہو وہیں سے دھواں نکلتا ہے، رائی ہو تبھی اس کا پہاڑ بنتا ہے۔ سرکاری استانیاں واقعی مالٹوں اور دھوپ سے عشق کرتی ہیں۔ لیکن اس عشق کو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو پشت پشت ڈال کر نہیں بلکہ نبھا کر پورا کرتی ہیں۔ تبھی فری پیریڈز میں اور بریک میں مالٹوں کے ساتھ دھوپ سینکتی ہوئی ہر سرکاری تعلیمی ادارے میں لازمی پائی جاتی ہیں۔

بحیثیت انسان ان کے بھی تو کچھ حقوق ہیں۔ ان کو بھی وٹامن ڈی کے حصول کی ضرورت ہے۔ صحت مند رہنا ان کا بھی تو حق ہے۔ سب سے بڑی بات مالٹے ہوتے ہی اتنے سستے ہیں کہ ہر استانی انہیں کھانا افورڈ کر لیتی ہے لہذا اس سستی کھانے پینے کی عیاشی کو نظر لگانا تو گناہ کبیرہ ہے۔ رہی بات میری تو کیونکہ مالٹے کھانے سے میرے دانت کھٹے ہو کر درد کرنے لگتے ہیں تو میں اس کو کھانے سے گریز ہی کرتی ہوں لیکن دھوپ سینک لیتی ہوں جب بریک میں فارغ ہوتی ہوں۔

سرکاری استانیوں کی بدولت ہی کینو مالٹے کی مانگ موسم سرما میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جس کا براہ راست مثبت اثر ملکی معیشت پر بھی پڑتا ہے لہذا قوم کو تو ہمارا شکر گزار ہونا چاہیے کہ چلو کسی پہلو سے ہی سہی ہم ملکی معیشت کو آسرا تو دے رہے ہیں۔ فرائض کی انجام دہی میں سرکاری استانیاں کوئی غفلت نہیں برتتیں بس جب بریک یا فری پیریڈ ہو تب اگر دھوپ سینک کر کینو مالٹے کھا ہی لیتی ہیں تو اس میں برائی بھی کچھ نہیں۔ اس بات پر منفی پراپیگنڈا کرنے والوں کو تو اللہ ہی ہدایت دے۔

آخر پر صرف یہی کہنا چاہوں گی کہ کسی بھی سنی سنائی بات پر یقین کر کے سرکاری استانیوں کو کام چور، سست اور کاہل سمجھنے کی غلطی آپ کبھی مت کریں۔ ہم بہت محنتی اور دیانتدار ہیں۔ قوم کا بہتر مستقبل ہم سے وابستہ ہے۔ بے شک مالٹوں اور دھوپ سے موسم سرما میں ہمیں عشق ہے اور یہ عشق ہم اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو اگنور کر کے نہیں بلکہ پورا کر کے نبھاتی ہیں۔

Facebook Comments HS