امریکی یونیورسٹیوں میں بین الاقوامی طلبا کے داخلے کی پالیسیوں میں تبدیلی


ہارورڈ یونیوسٹی، میساچیوسٹس (فائل فوٹو)

صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ نے امریکی معیشت کو مزید مسابقتی بنانے کی وسیع تر کوششوں کے سلسلے میں جمعے کو سائنس ، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں بین الاقوامی طلباٗ کو راغب کرنے کے لیے پالیسیوں میں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق محکمہ خارجہ ان شعبوں میں جنھیں "ایس ٹی ای ایم "،اسٹیم کے نام سے جانا جاتا ہے، اہل طلبا کو چھتیس ماہ تک کی تعلیم و تربیت مکمل کرنے کی اجازت دے گا۔اس کے علاوہ ان طلبا کو امریکی کاروباری اداروں سے منسلک کرنے کے لیے مزید نئےاقدامات بھی کئے جائیں گے۔ حکام کا اصرار تھا کہ ان کےنام ظاہر نہ کئے جائیں لیکن ان تبدیلیوں کے سرکاری اعلان سے قبل اس موضوع پر بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔

ہوم لینڈ سیکورٹی کا محکمہ غیر ملکی طلباٗ کی امریکہ میں کلاوڈ کمپیوٹنگ ، ڈیٹا ویژیولائزیشن اور ڈیٹا سائنس سمیت تعلیم کے 22نئے شعبوں کو اپنی فہرست میں شامل کرے گا۔

یہ ایک ایسا پروگرام ہے جو امریکی یونیورسٹیوں کے بین الاقوامی گرویجویٹس کو مقامی آجروں کے ساتھ تربیت میں مزید تین سال تک گزارنے کی اجازت دیتا ہے،اس پروگرام کے تحت مالی سال 2020میں 58 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں۔

سینٹاکلارا کیلی فورنیا میں قائم یونیورسٹی کا ایک منظر۔ فائل فوٹو
سینٹاکلارا کیلی فورنیا میں قائم یونیورسٹی کا ایک منظر۔ فائل فوٹو

یہ پروگرام اس کوبات یقینی بنانے کےلیے ترتیب دیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے ٹیلنٹ کے لیے امریکہ کشش کا باعث بن جائے۔یہ سائنسدانوں اور محققین کو اپنی جانب متوجہ کرے گا، جن کی کامیابیاں معیشت کوترقی دینے کے قابل بنائیں گی۔سرکاری اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی طلبا بڑھتی ہوئی تعلیمی تحقیق کا محور ہیں۔

سرکاری قومی سائنس بورڈ نے اس ہفتے رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق معاشیات، کمپیوٹر سائنس، انجنیرنگ اور میتھمٹکس میں امریکی ڈاکٹریٹ کی نصف ڈگریاں عارضی ویزے پر آنے والے بین الاقوامی طلبا اور سائنسدانوں کے پاس ہیں۔

لیکن چین سائنس اور انجنیرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں کے فرق کو تیز ی سے ختم کررہا ہے اورتقریباً اتنے ہی گریجویٹس تیار کررہا ہے جتنے امریکہ نے2018میں کیے تھے۔

(اس خبر میں مواد خبررساں ادارے اے پی سے لیا گیا ہے)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3253 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments