بذریعہ موٹر سائیکل چاند پہ جانے کی خواہش اور ہومیو پیتھی


”اچھا، تو اب تمہیں بھیجا ہے۔ نئے آئے ہو فراڈ کمپنی میں۔ نام کیا ہے تمہارا؟“

”جی میڈم، اکبر۔ اکبر نام ہے میرا“

”اکبر! تمہاری کمپنی کے منیجر نے وعدہ کیا تھا کہ میں اس کی کمپنی کے اتنے ہزار سیرپ مریضوں کو لکھ دوں گی تو کمپنی مجھے پانچ تولہ سونے کا سیٹ تحفہ دے گی۔ میں نے تو اپنا وعدہ پورا کیا لیکن نہ تو تحفہ پہنچا اور نہ وہ کم بخت منیجر آیا۔ اب تمہیں بھیج دیا ہے۔ جاؤ جا کے اس منحوس کو کہہ دو کہ جب تک سونے کا سیٹ نہیں پہنچ جاتا، قائم پور کے سرکاری ہسپتال میں مریضوں کو تمہاری بے کار کمپنی کے مزید سیرپ لکھ کر نہیں دیے جائیں گے۔ سمجھ گئے نا“ ۔

”جی میڈم“
”چائے پیو گے“
”نہیں میڈم“

مجھے پتہ ہے تم ہسپتال کے باہر بنے میڈیکل سٹور پہ جاؤ گے تو وہ تمہیں کولڈ ڈرنک پلائے گا۔ وہاں بھی تو تمہاری کمپنی اپنی جعلی دوائیاں رکھواتی ہے نا ”۔ لیڈی ڈاکٹر صاحبہ کافی غصے میں تھیں۔

پرانی سی ڈی موٹر سائیکل چلی جا رہی ہے۔ ٹر ٹر ٹر ٹر ٹر۔

”وہ کدھر ہے؟ وہ۔ ارے وہ۔ شاہ۔ ہاں، ہاں تمہاری کمپنی کا منیجر۔ فی سیرپ پہ پیسوں کا وعدہ کیا تھا۔ جتنے سیرپ اب تک لکھ چکا ہوں اس حساب سے تو میرے ستر ہزار روپے بنتے ہیں۔ تمہارے ہاتھ بھیجے ہیں اس نے؟“

”نہیں سر! میں نیا ہوں۔ مجھے اس سارے معاملہ کا کوئی علم نہیں“ ۔
”کہاں کے ہو؟“
”سر! چندی پور گاؤں سے تعلق ہے“
”اچھا، وہ شیخوں والا گاؤں“ ۔
”جی“

”دیکھ یار، تو تو اپنا ہمسایہ ہی ہوا۔ خیر پور ٹامیوالی کے سرکاری ہسپتال کے باہر بنے میڈیکل سٹورز پہ تمہاری کمپنی جتنے سیرپ رکھوا گئی تھی سب تو نکلوا دیے ہیں۔ اب شاہ کو بول اپنا وعدہ بھی پورا کرے ورنہ دوسری کمپنیوں کی طرف سے بھی بڑی آفرز آ رہی ہیں“ ۔

پرانی سی ڈی موٹر سائیکل چلی جا رہی ہے۔ اس پہ بیٹھے لڑکے کو بس یہ تجربہ ہوا ہے کہ وہ جس سرکاری و غیر ہسپتال میں بھی جائے گا اسے اسی طرح کے جملے سننا پڑیں گے اور پھر اس نے دو ماہ بعد بغیر تنخواہ وصول کیے فارماسوٹیکل کمپنی کی جاب ہی چھوڑ دی اور موٹر سائیکل بیچ دیا۔

برسوں گزر گئے کوئی دوسری سواری ہی نہ خریدی اور پھر آخر کار 20 جنوری 2022 کو ایک بار پھر موٹر سائیکل خرید لیا۔

”کیوں خریدا؟“ وہ بات دراصل یہ ہے کہ میں چاند پہ جا کے ایک نئی ریاست بنانا چاہتا ہوں تو چاند پہ جانے کے لیے سواری تو چاہیے نا۔

”ہا ہا ہاہا۔ موٹر سائیکل پہ بیٹھ کے چاند پہ جائے گا۔ وہاں نئی ریاست بنائے گا۔ دماغ تو خراب نہیں ہو گیا تیرا؟ ابھی بڑھاپا تھوڑا دور ہے۔ ابھی سے دماغی طور پہ بڈھے کھوسٹ ہو گئے ہو کیا؟“

ہاں، میں چاند پہ جاؤں گا۔ وہاں ایک عجیب اور منفرد ریاست بھی بناؤں گا جہاں مولویوں، پادریوں، پنڈتوں، بدھ راہبوں، وچ ڈاکٹروں اور ہر قسم کے مذہبی پیشواؤں کا داخلہ منع ہو گا۔ وہاں نہ فوج ہو گی نہ پولیس اور نہ سیاسی جماعتیں۔ وہاں نہ کوئی امیر ہو گا اور نہ غریب۔ نہ کوئی اپر کلاس ہو گی نہ مڈل اور نہ لوئر۔

”او بھائی! چرس تو نہیں پینا شروع کر دی۔ آج کل یونیورسٹی میں بھی چرس بہت پی جا رہی ہے۔ وہاں سے تو کسی نے تم کو لا کر نہیں دی؟“

ارے نہیں یار! صرف چائے پیتا ہوں۔ وہ بھی آج کل پھیکی پی رہا ہوں۔ پہلے گجر ڈھابہ کے ساتھ والی دکان سے تازہ اور گرم گرم خستہ جلیبیاں بنواتا ہوں پھر چائے میں جلیبیاں ڈبو ڈبو کے کھاتا ہوں۔ چائے اس لیے پھیکی پیتا ہوں کہ آج کل ہر تیسرے یا پانچویں بندے میں ذیابیطس کا مرض رپورٹ ہو رہا ہے۔

”تو بھی تو اپنے بلاگز میں لوگوں کو ذیابیطس کنٹرول کرنے کے بڑے مشورے دیتا پھرتا ہے“ ۔
ہاں، بطلیموس تو دنیا میں نہیں رہا۔ سوچا، مفت کے مشورے دے کر اپنی خود ساختہ ”علمیت“ کا رعب ڈال لوں۔
”اچھا، تو کوئی نئی ’در فطنیاں‘ چھوڑ“

بھائی! بات یہ ہے کہ ایک ہومیوپیتھک دوا پیسی فلورا پوٹینسیاں تبدیل کر کے بلڈ کینسر کے مریض کو دی جائے تو وہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ڈائیلاسز پہ پڑے مریض کو اوپیم، فاسفورس، ایل سیرم دی جائے تو اس کے ڈائیلاسز ختم کرائے جا سکتے ہیں۔ گردے سکڑ گئے ہوں تو پلبم دوا سے واپس نارمل سائز میں آ سکتے ہیں۔ ڈائیلاسز کا مریض سٹیج فور پہ چلا گیا ہو اور اس کا پیشاب بننا ہی بند ہو گیا ہو تو کا لچیکم دوا کی مختلف پوٹینسیاں دینے سے اس کا پیشاب دوبارہ بننا شروع ہو جائے گا۔

لیب رپورٹ میں کر یٹینائن اور یوریا بڑھا ہوا ہو تو کر یٹینائن نام کی ہی ہومیوپیتھک دوا سے نارمل ہو جاتے ہیں۔ لیب رپورٹ میں پروٹین بڑھا ہوا ہو تو ایڈرینل ہارمون سے بنی دوا اسے کنٹرول کر سکتی ہے کیوں کہ ایڈ رینل ہارمون گردوں میں پروٹین کو ٹھکانے لگا دیتا ہے۔ لیب رپورٹ میں یورک ایسڈ بڑھا ہوا ہو جس سے گھٹنے اور جوڑوں کا درد ہو یا اس یورک ایسڈ کی وجہ سے دل اور گردوں کے امراض لاحق ہو گئے ہوں تو یورک ایسڈ پیدا کرنے والی غذاؤں کا پرہیز کر کے ساتھ لیڈم پال اور کا لچیکم نام کی دوائیں استعمال کی جائیں تو یورک ایسڈ لیول کم ہوجاتا ہے۔ گردے کمزور ہو کر کام کرنا چھوڑ رہے ہوں تو لائیکو پوڈیم دوا ان میں طاقت ڈال دیتی ہے۔

”تم کیسے دعوٰی کر رہے ہو کہ لیڈم پال بھی یورک ایسڈ کو کنٹرول کر سکتی ہے؟“

ارے بھائی! یونیورسٹی کے ایک مقالہ کی تحقیق ہی یہی تھی کہ لیڈم پال یورک ایسڈ کو کنٹرول کرنے میں حیرت انگیز نتائج دیتی ہے۔ جس شخص کے دل یا دماغ کی شریانوں میں کولیسٹرول، چربی اور کیلشیم وغیرہ کے امتزاج کی وجہ سے خون جمنے سے کلاٹ بن جائے تو آرنیکا نام کی دوا کی ایک مخصوص پوٹینسی اس کلاٹ کو ختم کر دیتی ہے۔ کسی فرد کے ہاتھ اور پاؤں سن ہونے لگ جائیں تو مطلب مستقبل قریب میں فالج کے حملہ کے اشارے آ رہے ہیں۔ وقفہ سے کبھی کبھی کا سٹیکم نام کی دوا کے ایک دو قطرے اس کی زبان پہ ڈال دیے جائیں تو وہ بندہ متوقع فالج کے حملہ سے بچ جائے گا۔

اب دیکھو نا، بوڑھے لوگ گھٹنے کے درد سے تڑپ رہے ہوتے ہیں۔ زیتون کے تیل کی بوتل میں آرنیکا، ہائیپریکم، بیلا ڈونا، برائی اونیا اور رسٹاکس دو اؤں کی مدر ٹنکچر کیو طاقت کے دس دس قطرے ڈال کر رکھ لیے جائیں اور جب گھٹنے یا جوڑوں میں درد اٹھے تو یہ تیل وہاں لگا دیا جائے تو چند منٹ کے اندر اندر درد کو سکون مل جاتا ہے۔ ہاں ان دو اؤں والا زیتون تیل زخموں پہ نہ لگایا جائے صرف جلد پہ لگایا جائے۔ میں جن ہومیوپیتھک دو اؤں کا ذکر کر رہا ہوں ان میں سے زیادہ تر ڈیڑھ سو سے دو سو سال پہلے ہی جرمنی اور فرانس میں بنائی گئی تھیں اور آج تک اپنے اچھے نتائج کی وجہ سے چلی آ رہی ہیں۔

”یار! یہ جو تو ہومیو پیتھی کے حوالے جھوٹے سچے دعوے کر رہا ہے یہ سب تو ایلوپیتھی کی مخالفت میں کر رہا ہے“ ۔

دیکھ بھائی! میں ایلوپیتھ ڈاکٹرز کا بھی اتنا ہی احترام کرتا ہوں جتنا ہومیوپیتھس کا ۔ ایلوپیتھی ایمرجنسی کو فوراً ٹریٹ کر لیتی ہے۔ شاندار سرجری کرتی ہے او ر درد کو منیج کر لیتی ہے۔ میں تو طب یونانی، آیورویدک، اور آکو پریشر طریقہ علاج کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کرتا۔ ہر طریقہ علاج اپنی اپنی جگہ اثر رکھتا ہے بشرطیکہ معالج ماہر اور قابل ہو۔ اب دیکھو نا، ہاتھ پہ انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان پشت پر جو گوشت ہوتا ہے وہ پورے جسم کے اعصابی نظام سے منسلک ہوتا ہے اب اس گوشت پہ درد کنٹرول کرنے والی دوا کا ایک قطرہ بھی ڈال دیا جائے تو درد جسم میں چاہے کسی بھی جگہ ہے اسے چند منٹ یا تھوڑی دیر کے اندر آرام آ جاتا ہے یا درد میں کمی آ جاتی ہے۔

اب دوا ڈالنے والا ایلوپیتھ ہے یا ہومیوپیتھ وہ اپنے اپنے طریقہ علاج کی دوا ڈالے گا تاہم اعصابی نظام تو اپنا مخصوص رد عمل دے گانا۔ جیسے پرانے وقتوں میں طب یونانی میں درد میں مبتلا شخص کی دونوں آنکھوں میں عرق گلاب ڈالا جاتا تھا۔ اب عرق گلاب سے بظاہر تو بینائی بہتر کرنے کا کام لیا جاتا ہے لیکن چونکہ پورے جسم کا اعصابی نظام آنکھ میں آ کر انتہائی رسپانس کی سطح پہ کھڑا ہوتا ہے تو آنکھ میں ڈالا جانے والا عرق گلاب جسم کے کسی اور حصے میں موجود درد کو بھی کچھ نہ کچھ افاقہ دے جاتا تھا۔

”اب تو لبلبہ کو دوبارہ فعال کرنے کی بھی بڑھک لگائے گا؟“

نہیں بھائی! میں کوئی بڑھک نہیں لگاتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو لوگ صبح، دوپہر، شام اپنی زندگی کا آخری کھانا سمجھ کے گردن تک اپنا پیٹ بھرتے ہیں ان کے جگر پہ چکنائی چڑھ جانے اور فیٹی لیور کا مسئلہ پیدا ہو جانے سے لبلبہ خود بخود متاثر ہو جاتا ہے اور ساتھ ساتھ معدہ کے اندر انسولین کے خلاف مزاحمت بھی بن جاتی ہے۔ ہاں اس حد تک تجربات ہو چکے ہیں کہ آئرس ورسیکالر اور دیگر مزاجی دو اؤں کے استعمال سے غیر فعال لبلبہ کو اس حد تک فعال کیا جا چکا ہے کہ وہ ضرورت کی تیس سے پچاس فیصد تک قدرتی انسولین کی ضرورت کو پورا کرنے لگ جاتا ہے۔

باقی کی قدرتی انسولین کا متبادل یہ ہے کہ بندہ چینی اور میٹھی چیزوں سے پرہیز کرے اور ساتھ ساتھ روزانہ طویل واک اور جسمانی ورزش لازمی کرے تو مصنوعی انسولین سے جان چھوٹ جائے گی۔ ارے بھائی! جسم میں شوگر لیول تین سو یا اس سے بھی اوپر چلا جاتا ہے تو خون صاف کرنے والی کڑوی دو اؤں جیسے ”صافی“ کے تھوڑے بہت استعمال سے اور نہیں تو جسم میں اضافی شوگر کے خلاف کڑواہٹ آ جانے سے توازن قائم ہو جانے سے وقتی طور پہ بندہ کسی بڑے سائیڈ ایفیکٹ سے بچ جاتا ہے۔

”چھوڑ یار، تیری ہومیوپیتھی نے کون سے تیر مار لیے ہیں؟ کئی کیسوں میں دوا ہی اثر نہیں کرتی“ ۔

میرے بھائی! دو باتیں ہیں۔ ملک میں اگر ایک لاکھ ہومیوپیتھس ہیں تو شاید صرف ایک ہزار ہومیوپیتھس ہی ہومیوپیتھی کے اصل طریقہ علاج کا علم رکھتے ہوں گے باقی ننانوے ہزار کے پاس ہومیوپیتھی کا ڈپلومہ یا ڈگری تو ہوتی ہے لیکن انھیں کلاسیکل ہومیوپیتھی کے علاج کے اصولوں کا ہی علم نہیں ہوتا۔ وہ مطالعہ ہی نہیں کرتے۔ رہ گئے وہ ایک ہزار ہومیوپیتھس جو قابل معالج ہوتے ہیں۔ ہومیوپیتھی کا اوریجنل علم رکھتے ہیں۔ مریض کی تکلیف کو بھی پہچان لیتے ہیں۔

درست طریقہ سے ڈائیگنوز کر لیتے ہیں اور درست دوا تجویز کر لیتے ہیں لیکن کیا کیا جائے کہ وہ بیچارے بھی جعلی اور غیر معیاری ہومیوپیتھک دو اؤں کے ہاتھوں مار کھا رہے ہوتے ہیں۔ جرمنی کی ایک دوا ساز کمپنی نے تجربات کے بعد ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک دوا تیار کی جس نے حیرت انگیز نتائج دیے۔ ہمارے ملک میں بھی یہ دوا امپورٹ ہوئی اور اپنی مقبولیت اور نتائج کی وجہ سے فی شیشی چھپن ہزار روپے کی فروخت ہوئی۔ لاہور میں یار لوگوں نے اس دوا کی نقل تیار کر کے فروخت کرنا شروع کر دی۔ کلاسیکل ہومیوپیتھ تو مریض کو وہ دوا لکھ کے دے رہا ہے کہ بازار سے خرید لو اب جعلی دوا کیا رزلٹ دے گی؟

”اچھا، چھوڑ تو ، وہی پرانی بات کر ۔ چاند پہ جاکے تو کیا کرے گا؟“
بتایا نا ایک منفرد نظام ریاست قائم کروں گا جہاں کسی کے پاس بھی کسی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں ہو گا۔
”تو پھر جرم کی سزا کیسے دی جائے گی؟“

جینیٹک کوڈ میں تبدیلی لا کے ایک ایسی انسانی نسل تیار کر کے چاند پہ آباد کی جائے گی جس کے اندر جر م، تشدد اور غلبہ پانے کی خواہش تک نہ ہو گی پھر بھی اگر کوئی جرم کرے گا تو چونکہ چاند ریاست پہ جیلیں بالکل نہیں بنائی جائیں گی تو جرم کے مرتکب فرد کو چاند سے اٹھا کے خلا میں پھینک دیا جائے گا۔

او بھائی! تجھے تو خود اپنا پتہ نہیں کہ تو کون ہے اور باتیں کرتا ہے موٹر سائیکل پہ بیٹھ کے چاند پہ جانے کی۔

Facebook Comments HS