قرآن کا موضوع


قرآن کا موضوع کیا ہے؟ یہ سوال یا موضوع مقابلے کے امتحان کی تیاری کی ہر دوسری کتاب میں پایا جاتا ہے اور اس کا جواب دیا جاتا ہے : انسان۔ معاملہ مذہب یا اسلام کا ہو تو ہم سب ہی جواب ضرور دیتے ہیں، اور میرے سمیت سب ہی علامہ ہیں۔ یہ جواب محض سنی سنائی اور اٹکل پچو پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کھولتے ہی اس کا جواب مل جاتا ہے۔

قرآن کی پہلی سورۃ، قرآن کے مقدمے یعنی فاتحہ الکتاب میں پہلے اللہ کے نام سے تلاوت کتاب کا آغاز کیا گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کے اختیارات بیان ہوئے ہیں۔ عام طور پر تو یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس کے بعد انسان اپنے عمل کا وسیلہ دیتا ہے کہ اے ہمارے رب، ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔ یہ بات غلط نہ سہی مگر اس مفہوم پر آئندہ کلام سے مضبوط ربط نہیں رہتا۔ ہمارے خیال میں یہ اس طرح ہے کہ کوئی انسان اپنی بے چارگی میں کہہ رہا ہو کہ اے ہمارے رب، ہم تیری عبادت کرتے ہیں، مگر ہم کو عبادت کا سلیقہ نہیں آتا، اس لئے تجھ سے مدد چاہتے ہیں اسی بارے میں۔

اب تو ہم پر رحم فرما اور ہمیں اپنے ان بندوں کی راہ دکھا جنہیں ہدایت دے کر تو نے ان کو نوازا تاکہ ہم پر بھی اسی طرح تیرا فضل ہو۔ محمد مارما ڈیوک پکتھال صاحب نے اپنے قرآن کے ترجمے میں اس موقعے پر جملوں کی تقسیم میں کمال سلاست زبان اور لسانی ذوق کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے بسملہ کو ایک جملہ خیال کیا ہے۔ اس کے بعد دوسرا جملہ ہے اور پھر تیسرا جملہ اس طرح شروع کیا ہے کہ قاری مٰلک یوم ٱلدین کہہ کر خدا کو مخاطب کرتا ہے اور اپنا مدعا بیان کرتا ہے۔

جب یہ دعا مکمل ہو جاتی ہے تو پھر سورۃ البقرۃ شروع ہوتی ہے، ہمارا رب ہم سے ہم کلام ہوتا ہے۔ الم کہہ کر گویا اللہ کی طرف سے ہمیں باور کرایا جاتا ہے کہ ہاں، تم نے صحیح جانا کہ بندگی اور ہدایت کی راہ تمہیں معلوم نہیں، لیکن اور بھی بہت کچھ ہے جو تمہیں معلوم نہیں (حروف مقطعات کے بارے میں اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ ان کے معنے اللہ یا اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کو معلوم نہیں اور یہ اللہ کا ایک راز ہیں ) ۔

اللہ کا کلام جاری رہتا ہے اور گویا قاری کو مخاطب کر کے کہا جاتا ہے کہ تم نے ہم سے عبادت کا سلیقہ جاننا چاہا اور ہدایت کی راہ کی طلب کی تو یہ اس کتاب میں دیکھو، اس پوری کتاب میں بحیثیت مجموعی جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے اس میں کوئی بات شک کی نہیں۔ یہ یقین دلانے کے بعد قاری کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اس سے آگے وہی سب ہے جو اس نے طلب کیا یعنی ہدایت کی راہ: ذٰلک ٱلۡکتٰب لا ریۡبۛ، یہ کتاب شک و شبہے سے پاک ہے ؛ فیھۛ ہدى للۡمتقین، اس میں اللہ سے ڈرنے والوں کو راہ بتائی گئی ہے۔

یہی قرآن کا بنیادی موضوع ہے اور ذیلی موضوعات تو کسی بھی کتاب یا مضمون کی طرح ان گنت ہیں۔ جب قرآن اپنا موضوع خود متعین کر رہا ہے تو اس مقصد کے لئے دور از کار تاویلات سے گریز ہی کرنا چاہیے۔ علما کی اس سے مختلف تشریحات اس لئے درست ہیں کہ وہ اس موقع پر قرآن کا موضوع تلاش کرنے کی بجائے دیگر معاملات و عنوانات و معانی پر بات کرتے ہیں۔

Latest posts by محمود احمد (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments