پرین جو کنڈ، رنی کوٹ

خوشی کیا ہے؟ خوشگوار موسم، اچھی صحت، من پسند ماحول، اچھے دوستوں کا ساتھ اور پہاڑ کے نیچے کے جنگل کی جانب پیدل سفر۔
ہم چاروں دیوار سندھ کے نام سے مشہور رانی کوٹ کے اندر ایک قلعے میری کوٹ کے پڑوس سے اوپر پہاڑوں پر اک اور قلعے شیر گڑھ کی دیواروں کو حیرت اور شوق کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔
قلعے کی دیواروں کو دیکھتے اور ایک گہری کھائی کے کنارے ٹھنڈی ہوا اور نرم دھوپ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے یہ ہم چار تھے جو ایک وسیع پہاڑی منظر کے اندر تصویر بنے ناشتہ کر رہے تھے۔
رات کو جلائی ہوئی لکڑیاں آگ بن کر راکھ ہو چکی تھیں مگر ابھی بھی راکھ کا ڈھیر رات کو تاروں بھرے آسمان کے نیچے گلزار کی نظموں کو پڑھنے اور گانے کی یاد تازہ کرتا تھا۔
ماحول اور موسم وقت کو بدل دیتے ہیں اور ہم اب اس وسیع پہاڑی منظر سے نکل کر اور مناظر کی تلاش کا سفر شروع کرنے جا رہے تھے۔
دور اوپر کے پہاڑی سلسلے پر شیر گڑھ کا قلعہ نظر آ رہا تھا اور ہم نیچے اس پہاڑی پر موجود قلعہ میری کوٹ کی دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے نیچے نظر آنے والے جنگل کی جانب کوچ کر رہے تھے۔
گول پتھروں سے بھری پہاڑی ڈھلان بسا اوقات شہری قدموں کو لڑکھڑا دیتی ہے اور اس راستے پر چلنے کے لیے شوق، ہمت اور اچھے جوتے لازم ہیں۔
پہاڑوں کے درمیان رانی کوٹ کی تعمیر کیوں کی گئی ہو گی؟ کیا تھا کہ جس کے تخفظ کے لیے کم و بیش 32 کلومیٹر کے غیر معمولی حجم پر محیط یہ عظیم قلعہ رانی کوٹ جس کے اندر دو مزید قلعے میری کوٹ اور شیر گڑھ بھی تعمیر کیے گئے۔
تاریخ کے دریچوں تک رسائی آسان کام نہیں اور بہت سی تاریخی حقیقتیں گزرتے وقت کے ہاتھوں مٹ گئیں یا تبدیل ہو کر لوک کہانیوں کے روپ میں زندہ ہیں۔
ہم محتاط قدم رکھتے ہوئے اس اور کبھی کبھار پھسلنے سے بچتے ہوئے پہاڑی ڈھلان سے نیچے اتر رہے تھے۔ ہمارا گائیڈ ہم سے کافی آگے تیز قدم اٹھاتا ہوا کی طرح بڑھتا چلا جا رہا تھا۔
اب ہم ایک چھدرے سے جنگل میں تھے، کچھ لمحے قبل جب ہم اس جنگل کو اوپر سے دیکھتے تھے تو ایک سبزہ کا پھیلا ہوا قطعہ سا لگتا تھا۔
اس جنگل کی ابتدا میں کب ایک سادہ سا منظر پرفسوں ہوا پتہ ہی نہیں چلا۔ صبح کا وقت اور ابر آلود آسمان اس جنگل میں اک عجب سا سماں تخلیق کر رہے تھے۔ عجب سے خوبصورت درخت تھے جو کسی سحر کی اک ہلکی سی یاد دلاتے تھے۔ سبز رنگ کے سوئیوں جیسے پتے والے درجنوں درخت جن میں کھلتے پیلے رنگ کے کچھ پھول بھی نظر آ جاتے تھے۔
اور اس جنگل میں خاموشی سے ایک کم گہرائی والی ندی کے پانی زمین کے رنگ سے ہم آہنگ ہو کر بہتے تھے
اس وادی میں کچھ گھروں کی بستی، ایک پھیلا ہوا سا جنگل، کچھ کھیت اور پہاڑوں سے آنے والے پانیوں کی ایک چھدری سی ندی خاموشی سے بہتی ہے۔
دور تک پھیلے پہاڑی سلسلے میں قائم رانی کوٹ کی دور تک پھیلی ہوئی فصیل کے اندر ایک اور قلعے کے عین نیچے کا یہ جنگل گزرے ہوئے کل تک ہمارے لیے اک تصویر تھا اور اب ہم اس تصویر کے اندر تھے۔
درختوں کے درمیان ایک پرسکون سی اور بہت ہی کم گہرائی کی پہاڑی ندی کے شفاف پانیوں میں اگر دیکھیں تو جنگل کا عکس نظر آتا ہے۔ کہیں یہ ندی آپ کے راستے کو قطع کرتی ہے اور آپ کو چھوٹے بڑے پتھروں پر قدم رکھتے اسے پار کرنا ہوتا ہے اور کہیں کنارے کنارے اس کے ساتھ کچھ فاصلہ طے کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہنا ہے۔
اگر ہمیں جنگل سے باتیں کرنا آتا تو یہ جنگل ہمیں تاریخ کے گزرے ہوئے زمانے کی بہت سی کہانیاں سناتا، مگر ہم کہ محدود حواس اور کم علم کے ساتھ شاید اس قابل نہ تھے کہ جنگل سے بات کرتے۔
تو بس اک سحر کے عالم میں اطراف کو دیکھتے اور خنک فضا کو محسوس کرتے کبھی آہستہ اور کبھی تیز قدم لیتے آگے بڑھ رہے تھے کہ اک چھوٹی سی چڑھائی پر عجب طور سے درختوں کے ملاپ سے بنے قدرتی دروازہ نما شاخوں کے بیچ سے ذرا چھک کر نکلے تو پیچھے جنگل پھر ایک تصویر تھا اور ہم کچھ دیر پہلے اس تصویر کے اندر تھے۔
ایک ریتیلے سے چھوٹے سے میدان سے گزرتے اوپر کو جاتی پہاڑی ڈھلان پر اب ہم پرین جی کنڈ یا پریوں کے تالاب کی جانب رواں دواں ہوئے۔
سلسلہ شوق کیسے کٹھن راستوں کو قابل رسائی کرتا ہے۔ میدان کی ہموار سطح پہ چلتے چلتے پھر اوپر نیچے ہوتی ہوئی پہاڑی سڑک پہ رواں قدم آپ کی سانسوں کو نیا احساس بخشتے ہیں۔
ہر اک موڑ کے ساتھ اور موڑ جو پہاڑی راستے کا اک جزو لازم ہیں تو ہر اک موڑ کے ساتھ سوچ بھی جیسے اک موڑ لیتی ہے اور اطراف کے بدلتے سے منظر احساس کو اک نیا رخ دینے لگتے ہیں۔
وہ پانی جو جنگل میں خاموشی سے ایک کم گہرائی والی ندی کے پانی زمین کے رنگ سے ہم آہنگ ہو کر بہتے تھے اب اپنی رفتار اور حجم میں جیسے بڑھ سے گئے تھے اور اک ہلکے سے شور کی زبان میں پہاڑوں سے شاید بات کرنے لگے تھے۔ آسماں سے پہاڑوں کے اندر اترنے والی ہوا ان پانیوں سے گزر کر موسم کو اک سرد احساس دینے لگی تھیں۔
ایک طویل سے لگنے والے سفر کی سوچی گئی منزل اک دم سے ہی آ گئی جب پہاڑوں کے عین درمیان ہمیں ایک منفرد سے انداز میں پانی کا اک ذخیرہ نظر آیا جسے دیکھ کر خوشی اور سکون کا اک امتزاج محسوس ہونے لگا۔ پیچھے کہیں دور پہاڑوں سے بہتا ہوا پانی جیسے اک پڑاؤ میں آ کر پرسکون ہو گیا ہو اور ابھی اسے سفر کی اگلی منزل کے لیے جانے میں کچھ وقت پڑا ہو۔
سفر کی اشکال، مقاصد، مواقع، ضروریات، شدت، طریقے اور ادوار۔ انسانوں، موسموں، دریاؤں، ندیوں، بادلوں، پہاڑوں اور ہواؤں کے لیے کیا تصور رکھتے ہیں۔ یہ اک انوکھا سا لگنے والا فلسفیانہ سوال ہے جو شاید اک فرد اس طرح کے پرفسوں سے ماحول، موسم اور مقام پہ پہنچ کر ہی سوچ سکتا ہے۔
اک سرشاری کے عالم میں جیسے ہم پرین جی کنڈ کے کچھ عین درمیان والے حصے کے ایک کنارے بیٹھ کر اور ٹھنڈے پانی میں پیر ڈال کر بیٹھ گئے۔ اک منفرد سا تجربہ یا ہم چاروں کے لیے اپنا اپنا اک انفرادی تجربہ۔
اس تالاب کو اطراف سے پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے اور ایک ازلی خامشی وہاں نہ جانے کتنے زمانوں سے راج کرتی آئی ہے اور آج ہم اس راج میں احساس کے سفر سے گزر رہے تھے۔
بہت چھوٹی اور کچھ ان سے ذرا بڑی مچھلیاں پیر کے تلوؤں اور انگلیوں پر آ کر چھونے لگتی اور اک آرام کا احساس پیروں سے پورے جسم میں سفر کرنے لگتا۔
ہم نے وہاں کچھ باتیں کیں، خاموشی کے بہت سے وقفے گزارے اور اک ساتھ ہوتے تنہائی کا مزا لیتے رہے۔ پھر باتوں کا سلسلہ جاری ہوا کہ کوچ کا وقت آن پہنچا کہ آج ہمیں اس خامشی کی پہاڑی سلطنت سے واپس اپنے شہر کو چلے جانا تھا۔
پرین جی کنڈ پر ہم نے بہت سے لمحے، بہت سی یادیں اپنے ذہن میں ستاروں کی طرح محفوظ کر لیں کہ جب بھی گھور اندھیرا زندگی کو تاریک کرنے کی کوشش کرے، ہم وہ ستارے نکال کر روشنی پھیلا دیں اور مسکرانے لگیں۔

