صدارتی نظام حکومت


گزشتہ کچھ دنوں سے ملکی نظام حکومت کو تبدیل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ ویسے تو یہ بات دو تین سال سے سننے میں آ رہی ہے کہ موجودہ نظام عوام کی ترجمانی کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپوزیشن اور حکمران جماعت کے حامیوں کے درمیان مکالمے۔ افسوس کہ کوئی بھی علمی دلیل نہیں دے پا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں بار بار نظام تبدیل کرنے کی بات کیوں کی جاتی ہے؟ سیاسی فلاسفرز کہتے ہیں کہ جس ریاست میں قانون جتنے کم ہوں گے وہ ریاست اتنے ہی بہتر انداز میں چلائی جا سکتی ہے۔

قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ پاکستان ایک تجربہ گاہ ہے پاکستان بنانے کا مقصد کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ مگر ہمارے ہاں مقصد تو عوام اور حکمران دونوں ہی بھول گئے ہیں ہاں البتہ تجربہ گاہ والی بات کچھ زیادہ ہی سیریس لے لی ہے، اسی لئے ہمارے ہاں جو بھی سیاست میں آتا ہے نظام تبدیلی کی بات کرتا ہے اور بنیادی وجہ یہی بتائی جاتی ہے کہ موجودہ نظام عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا۔

سیاست کے طالب علم ہونے کی وجہ سے مجھے یہ بات عجیب سی لگتی ہے کہ ہمارے ہاں رائج نظام دوسرے ملکوں میں کامیابی سے چلتا ہے مگر پاکستان میں نہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال پڑوسی ملک کی لے لیں یہی پارلیمانی نظام حکومت وہاں اپنے پاؤں جما چکا ہے اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش میں لگا ہے۔ اسی نظام کی وجہ سے آج دنیا اس بات کو مانتی ہے کہ انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست ہے۔ دراصل نظام کہیں سے مسلط نہیں کیے جاتے بلکہ عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے ریاست کے اجتماعی مسائل کو حل کرنے کے لیے بناتے ہیں، عوام اور حکمران دونوں ہی اپنے نظام کو مستحکم کرنے کے لئے ایک دوسرے کی سپورٹ کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں یہ کڑوا سچ ہے کہ حکمران اقتدار کی ہوس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں اور عوام سیاسی شعور سے کوسوں دور۔ عوام اور حکمران دونوں جمہوریت کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی نظام کو۔ اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ جمہوری نظام نے عوام کو کیا دیا۔ پانچ سال بعد سیاسی رہنماؤں کے کھوکھلے نعروں اور جذباتی تقریروں، برادری ازم، فرقہ واریت، اور شخصیت پرستی کے نام پر ووٹ کاسٹ کرنے کے عمل کو سیاسی نظام سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے کہ جس کی وجہ سے ہمارے ہاں نظام مستحکم نہیں ہو سکا، عوامی راج کے بجائے ایک خاص سیاسی طبقہ ہی اقتدار میں مسلسل گردش کر رہا ہے۔

تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کہ یہی سیاسی طبقہ اپنے مفادات کے لیے کبھی آمریت کے ساتھ تو کبھی جمہوریت کی بات کرتا ہے ہے۔ جب ریاست میں نظام سے زیادہ مفادات پرست اشرافیہ طاقتور ہوتی ہے تو کھوکھلے نعروں، جذباتی تقریروں اور مختلف سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوام کو سیاسی نظام اور سیاسی شعور سے دور رکھا جاتا ہے اور اس طرح کے شوشے چھوڑے جاتے ہیں کہ نظام عوام کی ترجمانی نہیں کر سکا۔

فرض کریں صدارتی نظام رائج ہو جاتا ہے تو کیا عوام کے مسائل حل ہو جائیں گے جبکہ ہمارا سیاسی کلچر ہی غیر مستحکم ہے؟ کیا عوامی راج قائم ہو جائے گا؟ اگر یہی سیاسی اشرافیہ اقتدار میں آ گئی تو، پھر کیا ہو گا؟ سوال یہ ہے کہ موجودہ نظام کس وجہ سے ناکام ہوا؟ اس نظام کو ناکام کرنے والے کون ہیں؟ ہمیں نئے سیاسی نظام کے قصیدے گانے سے پہلے سیاست، جمہوریت اور سیاسی نظام کو سمجھنا ہو گا۔ کچھ سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے ہوں گے ورنہ۔ تاریخ بے شعور لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔

Facebook Comments HS