پاکستان معاشی اڈے سب کے لیے یکساں کھلے


پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی 2022۔ 2026 میں ملک کو درپیش کئی چیلنجز کو محور بنایا گیا، وہاں اقتصادی سیکورٹی کے لئے بھی جامع منصوبہ بندی کو قومی پالیسی میں شامل کیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت کو اقتصادی پریشانیاں ورثے ملیں اور قریبا ہر حکومت کو بھی معاشی صورت حال کو درست کرنے کا مسئلہ درپیش رہا ہے۔ شاید یہی وجہ رہی کہ مستقل وزیر خزانہ سمیت کئی اہم معاشی عہدوں پر شخصیات تبدیل ہوتی رہیں۔ وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا ہے کہ پاکستان اب ’فوجی اڈوں کی پیشکش کے دھندے میں نہیں مگر ہمارے اکنامک (معاشی) اڈے سب کے لیے کھلے ہیں۔

‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ گوادر میں (چین کے ) کوئی فوجی اڈے نہیں، بلکہ وہاں اکنامک بیسز ہیں جس کی پیشکش ہم نے امریکہ، روس، مشرق وسطیٰ کو بھی کی ہے اگر وہ یہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ ’قومی سلامتی کے مشیر نے واضح کیا کہ ان کے ملک کی حکمت عملی اور سوچ میں بڑی تبدیلی آئی ہے جس میں اب جیو سٹریٹیجک کے بجائے جیو اکنامک ضروریات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جس کے لیے رابطوں کے مسائل کا حل اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے شراکت داری اہم ہوتی ہے ”۔

پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے جو اشاریے مہیا ہیں ان میں سب سے اہم پہلو ترسیلات زر میں اضافے میں اوورسیز پاکستانیوں کا اہم کردار کو سراہا گیا ہے۔ اوورسیز پاکستانی کی جانب سے قانونی طریقے سے زر مبادلہ بھیجے جانے کی وجہ سے مملکت کو سہارا ملتا ہے۔ دوم اس کی ایک اور اہم وجہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے سخت شرائط پر عمل درآمد کی وجہ سے غیر قانونی طریقوں (ہنڈی، حوالہ، منی لانڈرنگ) کے ذریعے رقم بھیجنے کے رجحان میں کمی اور روشن پاکستان جیسے اکاؤنٹ اور قانونی طریقوں سے زر مبادلہ بھیجے جانا بھی شامل ہے، تاہم ملکی ترقی اور جی ڈی پی میں اضافے کے لئے صرف ترسیلات زر پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ جہاں اس کے مثبت اثرات تو دوسری جانب مضر اثرات بھی سامنے آتے ہیں، جس میں قابل، اور اعلیٰ ماہرین کا ملک سے باہر خدمات ہیں۔

جن کی قابلیت سے پاکستانی عوام کو براہ راست کوئی فائدہ نہیں پہنچ پاتا اور معاشی صورت حال کے پس منظر میں بتدریج اہل افراد کی کمی واقع ہو رہی ہے۔ افراد قوت کے بحران نے کئی ترقی یافتہ ممالک کو دشواریوں میں مبتلا کیا تاہم سرمایہ کی وافر پیمانے پر فراہمی اور پرکشش مراعات کی وجہ سے انہوں نے افرادی قوت کے بحران پر قابو پا لیا، تاہم پاکستان اس وقت ترقی پذیر مملکت کے طور پر آزاد پالیسیوں سے قدرے دور ہے، کیونکہ اقتصادی مسائل کی وجہ سے عالمی قوتوں کے زیر اثر مالیاتی اداروں کی کڑی شرائط نے عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری سمیت تنوع مسائل میں الجھا رکھا ہے۔ معید یوسف ایک انٹرویو میں اعتراف کرچکے ہیں کہ معاشی کمزوری کی وجہ سے خارجہ پالیسی آزاد نہیں ہے۔ بادی النظر دیکھا جائے تو واضح نظر آتا ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کی کڑی شرائط کا اثر براہ راست ان طبقات تک پہنچتا ہے جو کسی نہ کسی صورت بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

روپے کی قدر مسلسل گرنے کے سے پاکستانی برآمدات میں قابل قدر اضافہ ہونا چاہے۔ ڈالر کی قدر میں اضافے سے درآمدات مہنگی ہوئیں، تیل مصنوعات کی گرانی ہوئی اور ماضی میں زرعی ملک ہونے کے باوجود جن اشیا خورد نوش میں پاکستان خود کفیل تھا، گندم، چینی، کپاس، خوردنی تیل، چائے سمیت اشیا ء ضروری درآمدات کرنے سے ملکی خزانے پر زر مبادلہ کی کمی کا اضافی بوجھ بڑا، اگر برآمدات کو مربوط حکمت عملی کے تحت بڑھائے جائے تو ڈالر کے قدر میں اضافے سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

اس کے لئے متعلقہ اداروں اور محکموں کو نئی تجارتی منڈیوں میں ’میڈ ان پاکستان برانڈ‘ کو قابل اعتبار بنانا ہو گا۔ روپے کی قدر گرنے کا دوسرا سب بڑا نقصان ملکی اور غیر ملکی قرضوں پر پڑتا ہے اور پہلے سے لئے گئے قرضوں اور ان کے سود کا توازن بگڑ جاتا ہے، جس کی وجہ سے روپے کی قدر کی گراؤٹ اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ بڑھتا جا رہا ہے۔ روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے کے لئے اقتصادی پالیسی کو ملکی معیشت، صنعت، زراعت، سیاحت کے شعبوں میں تبدیلی لانے ہوگی اور انہیں ترجیح دیتے ہوئے بلند سطح کو کم کرنا ہو گا۔

مشیر تجارت رزاق داؤد کا کہنا ہے کہ موجودہ مالی سال ( 2021۔ 2022 ) کے پہلے چھ مہینوں میں ملکی برآمدات 25 فیصد کی شرح سے بڑھتے ہوئے 15 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں جو گزشتہ سال 12 ارب ڈالر تھیں۔ خیال رہے کہ رواں مالی سال ( 2021۔ 2022 ) کے پہلے چھ مہینوں میں ملک کا تجارتی خسارہ 100 فیصد بڑھا، ان چھ مہینوں میں تجارتی خسارہ تقریباً 25 ارب ڈالر تک بھی پہنچا۔

ملکی معیشت کی کمزوری کا اثر دفاعی ضروریات پر بھی بڑھتا ہے کیونکہ ملکی دفاع، بالخصوص انتہا پسندی اور دیرینہ دشمنوں کے خلاف جاری جنگ میں اخراجات ناگزیر ہوتے ہیں، اسی طرح جب بھارت جیسا ملک پاکستان کا دیرینہ دشمن ہو تو ملکی دفاع کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ بھارت نے اپنے توسیع پسندانہ جارح اور انتہا پسند سوچ و نظریے کی وجہ سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں خود کو سب سے آگے رکھا ہوا ہے۔ دفاعی ضرورت میں خود کفیل ہونے اور کسی بھی ملک پر انحصار کم اور ختم کرنے کے لئے ملکی معیشت کی مضبوطی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان میں سیکورٹی اور سیاسی چیلنجز نے جہاں غیر ملکی سرمایہ داری میں کمی ہوئی ہے تو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی بری طرح زک پہنچائی ہے، جس کی وجہ سے جدید دفاعی ساز و سامان کی خریداری کے لئے دفاعی بجٹ میں بڑا اضافہ نہیں ہوا، 1970 ء کی دہائی میں دفاعی بجٹ کے لیے مختص کردہ رقم جی ڈی پی کا 6.50 فیصد، 2001۔ 02 ء کے مالی سال کے دوران (گویا بیس سال پہلے ) دفاعی بجٹ کے لیے مختص کردہ رقم جی ڈی پی کا 4.6 فیصد بجٹ 2020۔ 21 میں دفاع کے لیے مختص کردہ 1,289 ارب روپے جی ڈی پی کا محض 2.86 فیصد ہیں۔

کمزور معاشی صورت حال کی وجہ سے عوامی فلاح و بہبود اور بڑے پراجیکٹ شروع اور مکمل کرنے میں دشواری ہے بالخصوص موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آبی ذخائر جس تیزی سے کم ہو رہے ہیں اس کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ چھوٹے بڑے ڈیم بنائے جائیں، جہاں آبی ذخائر دستیاب ہوں گے تو دوسری جانب توانائی کے بحران کو ختم کرنے کے لئے پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔ جس کا اثر پیداواری لاگت پر پڑے گا اور اس سے عوام میں مہنگائی کو برداشت کرنے کی سکت اور زر مبادلہ کی بچت بھی ممکن ہو پائے گی۔

افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آبی ذخائر کے لئے کسی بھی جمہوری حکومت نے بڑے پراجیکٹ شروع نہیں کیے ، آمرانہ دور میں بڑے آبی ذخائر کو قابل عمل بنایا گیا، موجودہ حکومت بڑے آبی ذخائر پر کام شروع تو کرچکی لیکن اس کی رفتار انتہائی سست ہے، جس کی وجہ سے کوئی بڑا آبی منصوبہ کسی وقت پایہ تکمیل پر پہنچے گا، اس کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی جا سکتی۔ متوسط اور غریب طبقہ معاشی چیلنجز کی وجہ سے بدترین اقتصادی بحران سے صرف اس وقت ہی نکل سکتا ہے جب ان کے لئے طویل المدت منصوبہ سازی کی جائے۔

خطہ غربت سے لاکھوں خاندانوں کو نکالنے کے لئے ٹیکس کلچر اور بچت کے رجحان میں آگاہی بڑھانا ہوگی تو دوسری جانب لاکھوں ایسے لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانا ہو گا، جو حکومت سے مراعات اور فوائد تو حاصل کر رہے ہیں لیکن اس کے بدلے وطن عزیز کو کچھ نہیں دے رہے۔ تباہ شدہ مقامی صنعت کو عارضے سہاروں کے بجائے مضبوط کندھے فراہم کرنا ہی قومی سلامتی پالیسی میں اقتصادی بحران سے نکلنے کا اہم حل ہے۔ مقامی صنعت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے سے سرکاری اداروں میں بے روزگار افراد کا ملازمت کے لئے سرتوڑ کوشش کرنے میں کمی واقع ہوگی اور خود کفالت کے رجحان سے جہاں بے روزگاری میں کمی واقع ہوگی وہاں متوسط اور نچلی سطح کے طبقات کو معاشی مسائل سے باہر آنے میں مدد ملے گی۔

عالمی بنک کی جائزہ رپورٹ کے مطابق، ”کاروبار کرنے کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والے ممالک“ کی درجہ بندی کو بہتر بنانے اور مزید سرمایہ کاری کے حصول کے لئے پاکستان کو کسٹم قوانین کو آسان، ملکی سیکیورٹی میں بہتری کے ساتھ ساتھ سیاحت اور اس جیسی دیگر صنعتوں کے لئے پسندیدہ منزل کے طور پر اپنے بین الاقوامی تشخص کو ازسرنو شکل اور فروغ دینا چاہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments