سبزی والے پراٹھے


گھر میں سبزی تو اکثر بنتی ہے، لیکن شوق سے کھاتا کوئی نہیں۔ اس رات میں نے پانی کی بوتل نکالنے کے لیے فریج کا دروازہ کھولا تو اندر پڑے سبزی کے دو تین سالن دیکھتے ہی جو پہلا خیال ذہن میں آیا کچھ یوں تھا کہ ”لگتا ہے عنقریب گھر میں سبزی والے پراٹھوں کا سیزن شروع ہونے والا ہے۔ “
پانی پینے کے بعد میں نے بوتل واپس فریج میں رکھ دی اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔
:اگلی صبح آنکھ کھلی تو بیگم صاحبہ نے گرما گرم پراٹھے تیار ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے فرمایا
” بہت دن ہو گئے تھے سوچا آج موسم اچھا ہے، تو سبزی والے پراٹھے بنا لیے جائیں۔“

ان کی بات سن کر میں بے دلی سے مسکرا دیا۔ مجھے اپنی پیش گوئی درست ہونے کا خدشہ تو تھا لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ دل میں آنے والا خیال، زبان تک پہنچنے سے قبل ہی حقیقت میں ڈھل جائے گا۔

وہ سوال جس کی گونج کے بغیر ہمارے ہاں کسی گھر میں دن کا آغاز نہیں ہوتا یہ ہے کہ
” آج کیا پکے گا؟“

یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب کوئی نہیں دینا چاہتا، اس وقت تک، تو ہر گز نہیں جب تک خاتون خانہ کی یہ دھمکی سنائی نہ دے کہ

”پھر میں نے بھی کچھ نہیں پکانا یہ میری ذمہ داری نہیں۔ سب لوگ کھانے کے لیے جمع ہو جاتے ہیں اور پکانے کا فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ “

یہ دھمکی بچوں کے لیے کم اور شوہر کے لیے زیادہ، دل دہلا دینے والی ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ فوراً دھیمے لہجے میں جواب دیتا ہے :

”چکن تو رات بھی کھایا تھا، کوئی دال، سبزی پکا لیں۔ “
”ہم دال نہیں کھائیں گے۔ “ بچے اس پر فوری احتجاج کرتے ہیں۔
” اور تین طرح کی سبزی کے سالن پہلے ہی فریج میں پڑے ہیں۔ “ بیگم کا موقف سامنے آتا ہے۔
” تو پھر اب میں اور کیا بتاؤں“ شوہر بے چارگی سے کہتا ہے۔

” اچھا ٹھیک ہے، میں ہی کچھ دیکھتی ہوں۔ ساری مصیبتیں میرے لیے ہیں اس گھر میں۔ “ بیگم صاحبہ سوچتے ہوئے جواب دیتی ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ کسی خاتون خانہ نے جب بھی یہ کہا کہ میں ہی کچھ دیکھتی ہوں آج کیا پکانا ہے، تو اس روز ان کے گھر میں سبزی والے پراٹھے ہی بنے۔

شاید ہی کوئی گھرانا ایسا ہو، جہاں کھانے پکانے کے یہ تجربات نہیں کیے جاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ سبزی والے پراٹھوں کا موسم سے کوئی تعلق نہیں ان کا براہ راست کنکشن فریج میں جمع ہونے والے سالن سے ہے۔ ہمارے ہاں ہر سگھڑ خاتون اس ہنر سے واقف ہے کہ بچی ہوئی سبزی کا بہترین استعمال صرف، پراٹھے کی شکل میں کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہنر آزمانے سے خواتین کو دو فائدے حاصل ہوتے ہیں :

پہلا، بچے سبزی دیکھ کر منہ نہیں بناتے اور دوسرا یہ کہ شوہر کو اختلاف کا موقع نہیں ملتا، بلکہ وہ تو یہ سوچ کر خوش ہو جاتا ہے کہ آج پکانے کا مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو گیا۔

Facebook Comments HS