اصلی تبدیلی آ رہی ہے


24 فروری پیر کے روز پیپلز پارٹی کے ملک گیر کسان مارچ احتجاج میں جہاں کسانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی وہیں شہری علاقوں سے بھی عوام بڑی تعداد شریک رہی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان حکومت کے خلاف 27 فروری کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کی کال بھی دے رکھی ہے۔

قبل ازیں نواز شریف اور شہباز شریف کی کال پر مسلم لیگ نون بھی پنجاب کے بڑے شہروں میں مہنگائی کے خلاف بڑی ریلیاں نکال چکی ہے۔ عمران خان کو اعتماد کا ووٹ دینے والی جماعت اسلامی بھی اب سڑکوں پر حکومت مخالف احتجاج میں شامل ہو رہی ہے۔ جبکہ فضل الرحمان کے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم نے بھی یوم پاکستان کے موقع پر حکومت مخالف اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

عوام پر ٹیکسوں۔ بجلی، گیس، پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے بڑھتی مہنگائی، وسائل توانائی اور کھاد کی قلت، اور بری حکمرانی سے بڑھ کر معاملہ حکومتی بے حسی ہے۔ وزیراعظم ہر ظلم ڈھانے کے بعد یہ کہہ کر اپنا دامن بچانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ”اب میں یہ نہ کرتا تو کیا کرتا، گھبرائیں نہیں مشکل وقت گزر گیا بس اگلے تین ماہ بعد حالات بہتر ہو جائیں گے۔ “ مگر اب عوام مزید یہی تکرار سننے کو تیار نہیں دکھائی دیتے۔

2021 کے موسم گرما میں، بجلی کی قلت 6,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی تھی جس کے نتیجے میں پورے پاکستان میں کئی کئی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی رہی۔ دسمبر 2021 میں، حکومت نے اضافی آمدنی حاصل کرنے کے لیے بجلی کے نرخوں میں 4.74 روپے فی یونٹ اضافی اضافہ کیا۔ اس کے بعد عمران خان حکومت نے پٹرولیم کی قیمتوں میں بھی تسلسل سے اضافہ کر رہی ہے۔

سندھ حکومت کے وزیر امتیاز شیخ نے ایک آئینی آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر سندھ کے لوگ کھانا پکانے کے ایندھن سے محروم ہیں، جو کہ بنیادی طور پر صوبے کے کنوؤں میں پایا جاتا ہے، تو کیا صوبائی حکومت گیس کی تقسیم کا نظام خود سنبھال لے۔

بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ جہاں ملک بھر میں گھریلو زندگی سے لے کر صنعتی اور زرعی پیداوار تک کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس نے برآمدات کو بھی متاثر کیا ہے۔ کسانوں کو کھاد کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور جو کھاد دستیاب ہے حکومت اس کی قیمت پر قابو رکھنے میں ناکام ہے۔

حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اسے ”معاشی قتل“ قرار دیا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی کال پر ملک بھر میں بڑے کسان مارچ ہو رہے ہیں۔ گیس و بجلی کی عدم دستیابی پر کئی شہروں میں شہریوں اور خواتین کے سڑکوں پر احتجاج کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور یہ غیر منظم عوامی ردعمل اب اپوزیشن کی منظم احتجاجی تحریک میں ضم ہوتا دکھائی رہا ہے۔

بدترین حکمرانی، بجلی، گیس، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی جیسے بحران پر اپوزیشن کے بڑھتے احتجاج کو ملتی عوامی پذیرائی کا نتیجہ ہی ہے جس نے حکومت کی صفوں میں ارتعاش برپا کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو پریشان کر دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری یہ للکارا مار چکے ہیں کہ لانگ مارچ سے حکومت گرا کر دکھاؤں گا۔ بعین فضل الرحمان عندیہ دے چکے۔

اقتدار کی غلام گردشوں میں پی پی اور پی ڈی ایم میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور عبوری وزیراعظم کے لئے موزوں نام پر اتفاق جیسی خبروں کے بعد کپتان کے کئی نامور کھلاڑی اب دوسری جماعتوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو جب وزیراعظم قوم سے براہ راست گفتگو میں اپنے اقتدار کو خطرے کا عندیہ دیتے ہوئے دھمکیاں دینے پر تل جائیں کہ ”اگر اقتدار سے نکلا تو اور خطرناک ہو جاؤں گا“ ۔

بلاول بھٹو زرداری تو اس حکومت کے پہلے دن سے ہی عمران خان کو ”وزیراعظم سیلیکٹ“ قرار دے چکے تھے۔ اور جب اقتدار کی غلام گردشوں میں یہ سرگوشیاں سنائی دے رہی ہوں کہ ”کہیں ’سلیکٹر‘ اپنا بوجھ تو ہلکا کرنا نہیں چاہ رہے ہیں؟“ وزیراعظم کے لئے یہ بات تو خطرے کی ہے ناں۔

نیا پاکستان بنانے اور تبدیلی کی داعی عمران خان حکومت نے تقریباً ساڑھے تین برس کی ”جدوجہد“ سے جس ”تبدیلی“ کو تشکیل دیا وہ عوام کے لئے ”تبدیلی معکوس“ نکلی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وسائل کی عدم فراہمی اور تقسیم پر صوبے اور عوام وفاق پر سیخ پا ہیں۔ حکومت نے مسائل کا ایسا پہاڑ کھڑا کیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف اپوزیشن احتجاج کو عوام اپنے حقیقی مسائل کی بنا پر ملک گیر پذیرائی دے رہے ہیں۔ یہی اصلی تبدیلی ہے جو معروضی حالات سے جنم لیتی ہے۔ ملک میں اصلی تبدیلی آ رہی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments