باتیں ایک مفکر، مدبر نیز جید حکیم عرف سنیاسی بابا کی


آپ کا سوال بہت اچھا ہے کہ پاکستان میں کوئی مہنگائی نہیں ہے۔ ایسے ہی سوالوں کے لیے میں نے ٹی وی پر سوال و جواب کا سلسلہ رکھا ہوا ہے۔ مجھے پتہ ہے اور میں آپ کو بھی یہ سیکرٹ بتانا چاہتا ہوں کہ مہنگائی کا شور بد نیت میڈیا، کرپٹ اپوزیشن اور چند کروڑ بھوکے ننگے گھٹیا عوام کا ڈرامہ ہے تاکہ میں رات کو سکون کی نیند سو نہ سکوں۔ ورنہ پاکستان نے پچھلے تین برسوں میں بہت ترقی کر لی ہے تو پھر مہنگائی کا سوال ہی کیسے پیدا ہوتا ہے۔ ہم نے معیشت اٹھا دی ہے۔ حتی کہ عثمان بزدار کے گھر میں بھی بجلی کا میٹر لگوا دیا ہے اور کرپشن کا خاتمہ کر دیا ہے۔ معاشی ترقی کی وجہ سے کئی لوگ تو اتنے امیر ہو گئے ہیں کہ اب پیزے کھاتے ہیں اور ساری دنیا کو پیزے کھلاتے بھی ہیں۔ پاکستان کے غریب لوگ تو عیاشی میں پڑ گئے ہیں۔ وہ میرے احسانات بھول گئے ہیں اور اب مجھے گالیاں دیتے ہیں۔ خیر میں برا نہیں مناتا کیونکہ بہترین ڈرامہ الطغرل ہی ہے جس نے مجھے بذریعہ جہاد ثواب کمانے کا گر سکھایا ہے۔

ہاں کچھ لوگ جن کا خیال ہے کہ ملک کا برا حال ہے تو ظاہر ہے کہ وہ معیشت کو نہیں سمجھتے۔ اس لیے میں نے آج کا لیکچر معیشت اور سیاست پر ہی رکھا ہے۔ کورونا، رحونیت اور مذہب پر تو پہلے کافی لیکچر ہو چکے ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے اور یہ سب کچھ پرانے زمانے کی ایف اے کی اکنامکس کی کتاب میں لکھا ہوتا تھا کہ جب طلب بڑھتی ہے تو قیمت بڑھ جاتی ہے اور جہاں رسد کم ہوتی ہے وہاں بھی قیمتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ جیسے برطانیہ پاکستان کی نسبت بہت ہی مہنگا ملک ہے۔ آپ وہاں چرس کی ایک چھٹانک خریدنے کا تو سوچ بھی نہیں سکتے جبکہ ہمارے ہاں بہت سے غریب لوگ چرس کی پوری چھٹانک ہی خریدتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں چرس کی رسد برطانیہ کی نسبت بہت بہتر ہے۔ باقی چیزیں بھی یورپ میں پاکستان کی نسبت بہت مہنگی ہیں۔

میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ آپ نے میری بات غور سے سننی ہے اور سمجھنے کی کوشش کرنی ہے۔ پچھلے سال نومبر کی بات ہے نیدرلینڈ کے شہر روٹرڈیم کی بندرگاہ پر کولمبیا سے ایک شپ آیا تھا۔ اس میں سبریاں اور کوکین تھی۔ ڈچ پولیس نے بہت ظلم کیا ہزاروں من سبزیوں کو جانے دیا اور صرف اسی کلو کوکین روک لی۔ وہ لوگ بے چارے جو کوکین لا رہے تھے بہت رو رہے تھے۔ آپ حیران ہوں گے صرف اسی کلو کے لیے اتنے کیوں پریشان تھے۔ تو میں آپ کو بتاؤں کہ صرف سو گرام کوکین یورپ میں ایک لاکھ روپے کی ملتی ہے۔ اب آپ کو اندازہ ہوا کہ مہنگائی کہاں زیادہ ہے۔ اور یورپ کچھ الگ نہیں، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی مہنگائی کا یہی حال ہے اس لیے اگر پاکستانی پاسپورٹ کی وجہ سے آپ کو ویزا نہیں ملتا تو زیادہ نہ پچھتائیں۔ پاکستان میں بہت سی چیزوں کی قیمتیں ایک نعمت سے کم نہیں ہیں۔ یہ گھٹیا اور ناشکرے لوگ ہیں جو آٹا، دال، دودھ، دوائیوں اور پیٹرول کی قیمت میں دو چار سو فیصد اضافے پر واویلا مچاتے ہیں۔ یہ بات تو اب پرانی ہو گئی کہ یورپ کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا لیکن اسی کو دہراتے ہوئے میں ان گھٹیا اور غریب لوگوں کو خبردار کرتا ہوں کہ یورپ میں ایک چھٹانک چرس خریدنی پڑے تو ان کو ہماری حکومت کی شاندار کارکردگی، لوگوں کے لیے ضروری اشیا کی ہماری لسٹ اور چوروں کو پکڑ پکڑ کر منسٹر بنانے کی ہماری انقلابی پالیسی کی قدر آ جائے گی۔

ہاں تو میں آپ کو اکنامکس کا لیکچر دے رہا تھا کہ طلب اور رسد کیا ہوتی ہے اور اس کا قیمتوں پر کیا اثر ہوتا ہے۔

اب آتے ہیں ہم سیاست پر۔ تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ سیاست آپ صرف فاسٹ باؤلنگ، خوشامد اور فلاں فلاں پوشیدہ لسٹ سے سیکھتے ہیں۔ اسی لیے تو برٹ لی اور شیخ رشید بہترین سیاستدان ہیں۔ برٹ لی فاسٹ باؤلر تھا اور باقی دونوں خوبیاں شیخ رشید کی ہیں۔ مجھے بھی سیاست فاسٹ باؤلنگ اور ایک بھارتی اداکارہ (اللہ کی امان اس کی زینت سے) نے سکھائی باقی سب تو سکینڈلز ہیں۔ میں چاہے ان کا اقرار کروں یا نہ کروں۔

پاکستان کی سیاست میں کچھ اور داؤ پیچ بھی ہوتے ہیں جو ایک مہربان جنرل صاحب نے مجھے بتائے تھے۔ لیکن میں کسی ایسی بات کا ذکر نہیں کرنا چاہتا۔ میں صرف یہ بتا رہا ہوں کہ اگر مجھے حکومت سے باہر کرو گے تو نتائج کے خود ذمہ دار ہو گے۔ ظاہر ہے کہ اب میرے کزن طاہر القادری نے بھی نہیں آنا اور ڈی چوک کا میدان بھی نہیں ملے گا کیونکہ راحیل شریف کی تنخواہ بہت زیادہ ہے اور ایم بی ایس میری ڈرائیونگ پر ٹرسٹ نہیں کرتا اس کے باوجود پیٹرول کی قیمت تین سو روپے فی لیٹر ہونے میں ابھی چند ماہ اور انتظار کرنا پڑے گا۔ یہ وہ سنہرا دور ہو گا جب ویگن پر سوار ہونے کا نہیں بلکہ ہاتھ لگانے کا کرایہ سو روپے ہو گا اور لوگ پنجابی کلچر کے مطابق مجھے اور میرے آباؤ اجداد کو ایسے یاد کریں گے جیسے میں نے ان کی کھڑی فصلوں کو آگ لگا دی ہو۔

اب مجھے مزید نیشن بلڈنگ کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔ اس لیے ٹیلفون کا یہ سلسہ ختم کرتے ہیں۔ کچھ اور کالر جمع ہو جائیں تو مذہب، سیاست، معیشت اور دھاندلی پر مزید لیکچر بھی دیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 321 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments