’سروگیسی‘ یا کرائے کی کوکھ سے بچوں کی پیدائش پر بنگالی مصنفہ تسلیمہ نسرین کی ٹویٹس پر بحث


’یہ مائیں سروگيٹ کے ذریعے اپنے ریڈی میڈ بچے حاصل کر کے کیسا محسوس کرتی ہیں؟ کیا وہ ان بچوں کے لیے وہی جذبات رکھتی ہیں جو انھیں جنم دینے والی ماؤں کے ہوتے ہیں؟‘

’سروگیسی (کرائے کی کوکھ سے بچے حاصل کرنا) اسی لیے ممکن ہے کیونکہ عورتیں غریب ہیں۔ امیر چاہتے ہیں کہ ان کے مفادات کے لیے معاشرے میں ہمیشہ غربت موجود رہے۔۔۔۔ اگر آپ کو کسی بچے کی پرورش کی اشد ضرورت ہے تو کسی بے گھر بچے کو گود لے لیں۔ بچوں کو آپ کی خصلتیں وراثت میں ملنی چاہیں۔۔۔ یہ بس خود غرض انا کی تسکین ہے۔‘

’میں تب تک سروگیسی کو قبول نہیں کروں گی جب تک امیر خواتین سروگیٹ ماں نہیں بنتیں۔ سروگیسی، خواتین اور غریبوں کا استحصال ہے۔‘

یہ بنگالی مصنفہ تسلیمہ نسرین کی ان ٹویٹس میں سے چند ہیں جنھوں نے ’سروگیسي‘ یا کرائے کی کوکھ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ناصرف ایک بحث کا آغاز کیا ہے بلکہ تسلیمہ، سروگیسی کی حمایت کرنے والے صارفین کے نشانے پر ہیں۔

حال ہی میں انڈین اداکارہ پرینکا چوپڑا اور نِک جونس کے ہاں سروگیسی کے ذریعے بچی کی پیدائش ہوئی ہے اور بہت سے صارفین کا خیال ہے کہ تسلیمہ نسرین کی ٹویٹس کا نشانہ پرینکا چوپڑا اور نِک جونس ہی ہیں کیونکہ انھوں نے یہ ٹویٹس پرینکا اور نک جونس کی جانب سے اپنی بچی کی پیدائش کے اعلان کے فوراً بعد کی ہیں۔

تاہم تسلیمہ کا کہنا ہے کہ یہ سروگیسی کے متعلق ان کی مختلف رائے ہے جس کا پرینکا اور نِک سے کوئی لینا دینا نہیں اور انھیں دونوں اداکار بہت پسند ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’کچھ لوگ پاگل ہو گئے ہیں اور مجھے پرینکا کا دشمن سمجھتے ہیں مگر میں ہمیشہ سے انھیں پسند کرتی آئی ہوں۔‘

https://www.instagram.com/p/CZAJvizvjf4/

یاد رہے بالی وڈ کے معروف اداکار شاہ رخ خان کے دوسرے بیٹے ابراہم کی پیدائش بھی سنہ 2013 میں ایک سروگيٹ مدر یا کرائے کی کوکھ سے ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ ڈائریکٹر کرن جوہر کے دونوں جڑواں بچے بھی سروگيسی سے پیدا ہوئے تھے۔

مسلسل تنقید کی زد میں آنے کے بعد تسلیمہ نسرین نے ٹویٹ کیا کہ سروگیسی کے حوالے سے تبصرے کے بعد انھیں گالیاں دی جا رہی ہیں ’ان کا دعویٰ ہے کہ میرا بچے پیدا کرنے کے لیے کوکھ کرائے پر نہ دینے والا آئیڈیا پتھر کے زمانے کا ہے۔ مگر حقیقتاً اپنی نسل آگے چلائے جانے کے لیے کسی بھی ذریعے سے بچے پیدا کرنے کا آئیڈیا پتھر کے زمانے کا ہی ہے۔‘

ساتھ ہی انھوں نے ایک بار پھر سے غریب خواتین کے جسم کا استحصال نہ کرنے اور بے گھر بچے گود لینے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے ان لوگوں پر بھی تنقید کی جو سروگیسی کے حوالے سے ان کی رائے کی مذمت کر رہے ہیں۔

’ہر شخص کا جسم اس کا اپنا ہے اور وہ اس کے ساتھ جو چاہیں کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں‘

دنیا بھر سے خواتین تسلیمہ پر تنقید اور ان کی رائے کی حمایت کرتی بھی نظر آتی ہیں۔

انڈیا سے تعلق رکھنے والی گلوکارہ سونم کالرہ نے تسلیمہ نسرین کی ایک ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا ’ہر شخص کا جسم اس کا اپنا ہے اور وہ اس کے ساتھ جو چاہیں کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔‘

جس پر تسلیمہ نے ٹویٹ کیا ’غربت یا دوسروں پر مالی طور پر انحصار جیسی مجبوریوں کی وجہ سے عورتیں اپنی اندام نہانی یا کوکھ کرائے پر دینے کے لیے مجبور ہیں۔ یقیناً یہ ’انتخاب‘ والا معاملہ نہیں ہے۔ اگر یہ ’انتخاب‘ کی بات ہوتی تو صرف امیر اور خود انحصار خواتین کو انتخاب کا حق ہوتا۔ مگر ایسا نہیں ہے۔‘

نہینا نامی صارف نے تسلیمہ کو ’ریڈی میڈ‘ کا لفظ استعمال کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ ’ایک عورت ہوتے ہوئے آپ ایسے الفاظ کیسے استعمال کر سکتی ہیں۔

تاہم کچھ صارفین یہ بھی کہتے نظر آئے کہ صرف عورتوں پر تنقید کیوں؟ مردوں سے پوچھیں ’ریڈی میڈ بچے‘ ملنے پر وہ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ کیا وہ بھی جنم دینے والی ماؤں جیسے احساسات رکھتے ہیں؟

ایک اور صارف نے تسلیمہ کو جواب دیتے ہوئے لکھا ’ماں وہ ہوتی ہے جو بچے کی پرورش کرتی ہے۔ صرف جنم دینے والی ہی ماں نہیں ہوتی۔‘

انھوں نے ’ریڈی میڈ‘ کا لیبل استعمال کرنے ہر تسلیمہ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا آپ کو معلوم ہے کہ پرینکا کو حاملہ ہونے میں کوئی مسائل تھے؟ شاید سروگیسی کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔‘

سوشل میڈیا صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بے شک پرینکا اور نِک سلیبرٹیز ہیں مگر انھوں نے اولاد کے حوالے سے جو بھی فیصلہ لیا ہے اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

کرائے کی کوکھ کا کاروبار

’حاملہ ہونا چاہتی ہوں لیکن بچہ نہیں چاہتی‘

یوکرین کی غریب ماؤں کی کوکھ کرائے پر دستیاب

دوسری جانب ایسے صارفین بھی ہیں جو تسلیمہ کی رائے سے اتفاق کرتے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ’سروگیسی کے ذریعے بچے پیدا کرنے کے بجائے انھیں گود لیا جانا چاہیے۔ یہ غریبوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔‘

ایسے ہی ایک صارف دنیا کی بڑھتی آبادی کی جانب توجہ دلاتے اور سروگیسی کی حمایت کرنے والوں سے سوال کرتے ہیں کہ ’دنیا میں بہت سے یتیم ہیں۔ آپ انھیں کیوں نہیں اپناتے؟

سروگیسی کتنی طرح کی ہوتی ہے؟

سروگیسی ایک طرف بے انتہائی خوشی کا سبب بن سکتی ہے تو دوسری طرف غریب اور مظلوم خواتین کے استحصال کا دروازہ بھی کھول سکتی ہے۔ مگر حالیہ عرصے میں سروگیسی یا کسی دوسرے کی کوکھ سے بچے کی پیدائش ہونا عام ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی وجوہات میں آئی وی ایف جیسی تکنیکوں میں ہونے والی پیش رفت، روایتی رویوں میں نرمی اور دیر سے بچے پیدا کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان شامل ہیں۔

سروگیسی دو طرح کی ہو سکتی ہے: جیسٹیشنل، جہاں سروگیٹ ماں کی کوکھ میں بیضہ (ایگ) اور نطفہ (سپرم) داخل کیے جاتے ہیں، اور روایتی، جہاں سروگیٹ ماں کا اپنا بیضہ استعمال ہوتا ہے۔

سروگیسی خاص طور پر ان جوڑوں کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے جو قدرتی طور پر بچے پیدا نہیں کر سکتے۔ اس عمل کے ذریعے وہ گود لینے کے طویل اور مشکل عمل سے گزرے بغیر ‘اپنے’ بچوں کے والدین بن سکتے ہیں۔

زیادہ تر کیسز میں یہ تمام چیزیں آرام سے ہو جاتی ہیں۔ لیکن جیسے جیسے سروگیسی کی مقبولیت بڑھی ہے، اس کے ساتھ ہی سروگیٹس کے ساتھ برے سلوک اور اس سے پیدا ہونے والے اخلاقی مسائل کی کہانیاں بھی سامنے آنے لگی ہیں۔

بچوں کے بارے میں تشویش کے ساتھ ساتھ ایسی مثالیں بھی ہیں جہاں سروگیٹ ماؤں کو ایجنٹس ابتر حالات میں رکھتے ہیں اور ان کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اکثر اوقات معاشرتی اور معاشی طور پر کمزور خواتین کو سروگیسی کے لیے نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں پیسوں کا لاچ دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یوکرین میں سروگیسی کے لیے 20000 ڈالر تک کی رقم دی جا سکتی ہے، جو کہ وہاں کی اوسط سالانہ آمدنی سے 8 گنا زیادہ ہے۔

تاہم اس طرح کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ سروگیٹ ماؤں کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے اور سخت قوائد نہ ماننے یا بچے ضائع ہو جانے کی صورت میں ایجنسیز انہیں پیسے دینے سے انکار کر دیتی ہیں۔

اس طرح کے مسائل کی وجہ سے کئی ممالک نے سروگیسی پر پابندی لگا دی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کہہ چکا ہے کہ کمرشل سروگیسی، یعنی پیسوں کے لیے کی گئی سروگیسی بچے بیچنے کے مترادف ہے۔

مختلف ممالک میں مختلف قوانین

سروگیسی

کِم کارڈیشئن نے بھی سروگیسی کا استعمال کیا ہے

سروگیسی کے بارے میں قوانین ہر ملک میں مختلف ہیں۔ جرمنی اور فرانس جیسے ممالک میں اسے خواتین کا احترام نہ کرنے، اور کسی اور کے مقاصد کے لیے انہیں استعمال کرنے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اس لیے اس پر مکمل پابندی ہے۔

برطانیہ جیسے کچھ دیگر ممالک میں اسے ایک عورت کی طرف سے دوسری عورت کو دیا گیا تحفہ سمجھا جاتا ہے، اور اس کی اجازت تو ہے مگر خرچوں کو چھوڑ کر اس کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کی جاتی۔

امریکی ریاست کیلیفونیا، روس اور یوکرین میں اس کے برعکس کمرشل سروگیسی کی اجازت ہے۔ وہاں اسے ایک عورت کی خود مختاری اور اپنی مرضی سے اس عمل میں شامل ہونے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

لیکن کچھ ایسے ممالک جہاں سروگیسی کی جاتی ہے، وہاں اس بارے میں کوئی ضوابط واضح نہیں۔ ان میں کینیا اور نائجیریا شامل ہیں۔

مختلف ممالک میں مختلف قوانین کے ہونے کا مطلب ہے کہ اگر ان کے اپنے ملک میں اس کی اجازت نہیں تو لوگ کسی دوسرے ملک میں جا کر ایسا کر سکتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے اسی مقصد سے انڈیا، تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور نیپال جیسے ممالک کا رُخ کیا۔ اور پھر وہاں خواتین کے ساتھ برے سلوک کی اطلاعات کے بعد ان ممالک نے غیر ملکیوں کے لیے اپنے کلینک بند کر دیے۔

انڈیا میں بھی کمرشل سروگیسی کے حوالے سے اب قوانین پر کام ہو رہا ہے۔

لیکن ایک ملک پابندی لگا دیتا ہے تو اس کی جگہ کوئی دوسرا ملک لے لیتا ہے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24127 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments