کاش ملک کا وزیر اعظم عوام کے ساتھ ہوتا


’آپ کا وزیر اعظم آپ کے ساتھ‘ کے سلسلہ میں گزشتہ روز لوگوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے ملک کے اہم ترین مسئلہ یعنی مہنگائی کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سیاست میں تصادم کی اس فضا کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان اس وقت گوناگوں مسائل سے دوچار ہے۔

عمران خان کی یہ گفتگو اقتدار سے چمٹے رہنے کی افسوسناک خواہش کا اظہار ہے۔ وزیر اعظم کو قوموں کی تباہی کی وجوہات بیان کرنے کا بہت شوق ہے۔ تو انہیں جان لینا چاہئے کہ مٹھی بھر لوگوں کی اقتدار و اختیار کی ہوس ہی درحقیقت قوموں کو تباہ کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس گفتگو میں انہوں نے نہ صرف موجودہ مدت پوری کرنے کی بات کی ہے بلکہ یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ان کی پارٹی آئیندہ انتخاب جیت کر مسلسل اقتدار پر قابض رہے گی۔ فارن فنڈنگ کیس کے علاوہ تحریک انصاف کے معاملات کے حوالے سے جو معلومات سامنے آتی رہتی ہیں، ان کی روشنی میں یہ کہنا کوئی غلط بیانی نہیں ہوگی کہ تحریک انصاف دراصل عمران خان ہی کا دوسرا نام ہے۔ وہ جب اپنی پارٹی کی حکومت جاری رہنے کا اعلان کرتے ہیں تو درحققیت وہ اپنی اس ذاتی خواہش کا اظہار کررہے ہوتے ہیں کہ وہ کسی بھی قیمت پر اقتدار چھوڑنا نہیں چاہتے۔ حالانکہ اگر وہ واقعی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو لوگوں پر خود کو مسلط کرنے کی بجائے عوام کی رائے اور ان کے حق انتخاب کو اہمیت دینے کی بات کرتے۔ وہ انتخاب جیتنے کی امید ضرور ظاہر کرتے لیکن پارلیمانی جمہوری نظام میں وہ اس تیقن کے ساتھ کیسے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ان ہی کی پارٹی آئیندہ مدت میں بھی بر سر اقتدار رہے گی؟

وزیر اعظم نے جمہوریت سے نابلد ہونے کا یوں بھی مظاہرہ کیا ہے کہ انہوں نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر ماننے سے انکار کیا ہے۔ گویا جو شخص عمران خان ہی کی طرح عوام کے ووٹ لے کر قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہؤا اور پھر اپوزیشن ارکان کی اکثریت نے انہیں اپنا لیڈر منتخب کیا، اسے عمران خان محض اپنی سیاسی ضرورت کی وجہ سے ’کریمنل ‘ قرار دے رہے ہیں۔ یہ طریقہ نہ تو کسی بھی مسلمہ جمہوری نظام میں قابل قبول ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی ایسے نظام میں اس کی کوئی گنجائش ہے جسے عمران خان خود ہی ’رول آف لا‘ کا نام دیتے نہیں تھکتے۔ عمران خان خود کو برطانوی نظام کے ماہر گردانتے ہیں اور اس کی خوبیوں و محاسن کے بارے میں لیکچر دے کر پاکستانی عوام کو باور کرواتے رہتے ہیں کہ ہمارا نظام کیوں ناقص اور ناکارہ ہے۔ برطانیہ کے جمہوری نظام میں اپوزیشن لیڈر شیڈو وزیر اعظم کہلاتا ہے۔ اور وہ ہر وقت باقاعدہ اس بات کے لئے تیار رہتا ہے کہ کسی بھی وقت وزیر اعظم ناکام ہو کر عہدہ چھوڑ سکتا ہے اور اسے انتخابات کے ذریعے یا دارالعوام میں اکثریت حاصل کرکے ملک کی رہنمائی کا کردار ادا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہی اس نظام کی کامیابی کا راز بھی ہے کہ کوئی شخص نہ تو خود کو عقل کل سمجھتا ہے اور نہ ہی ملک یا نظام کی بقا کے لئے خود کو ناگزیر قرار دیتا ہے۔ اس کے برعکس عمران خان اور ان کے تمام ساتھیوں کا سارا زور اس ایک نکتہ پر ہے کہ اگر ’عمران خان جیسا دیانت دار شخص دستیاب نہیں ہوگا تو ملک خدا نخواستہ تباہ ہوجائے گا‘ ۔ یہ طرز فکر کسی بھی جمہوری نظام یا مزاج کے برعکس ہے۔ پاکستان میں اگر جمہوریت ناکام ہوتی ہے تو اس سوچ کو پروان چڑھانے والے اس ناکامی کی بنیادی وجہ ہوں گے۔

کیا برطانیہ یا کسی بھی دوسرے جمہوری ملک میں کوئی وزیر اعظم اپنی ہی اسمبلی کے ارکان کی بڑی تعداد کے منتخب کئے ہوئے کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے اپوزیشن لیڈر یا عوام کا نمائیندہ ماننے سے انکار کرسکتا ہے کہ وہ تو ’کریمنل ‘ ہے۔ کسی حقیقی جمہوریت میں ایسا سوچنا بھی حرام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت اختلاف رائے کے ساتھ آگے بڑھنے کا نام ہے۔ اس میں کوئی ایک شخص کسی دوسرے سے کتنا ہی بیر رکھتا ہو اور اس کی ذات کے بارے میں اس کے کیسے ہی خیالات ہوں لیکن وزیر اعظم کے طور پر اسے بہر طور ایک باقاعدہ نظام میں منتخب ہو کر اپوزیشن لیڈر کے طور پر کام کرنے والے شخص کو عوام کا نمائیندہ سمجھ کر احترام بھی دینا پڑے گا اور اس کے ساتھ اہم قومی مسائل کے سلسلہ میں مشاورت بھی کرنا پڑے گی۔ عمران خان اس بنیاد سے ہی انکار کررہے ہیں جس کی وجہ سے وہ 2018 کا انتخاب جیت کر ملک کے وزیر اعظم بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں 156 نشستیں حاصل ہوئی تھیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو بالترتیب 84 اور 56 سیٹیں ملی تھیں۔ عمران خان کی پارٹی قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں کرسکی تھی جس کی وجہ سے انہیں متعدد دوسری پارٹیوں سے اشتراک کرنا پڑا۔ یہی صورت حال پنجاب میں دیکھنے میں آئی۔ تحریک انصاف کو ملک میں رجسٹرڈ ووٹوں کے پندرہ فیصد کی حمایت حاصل ہوسکی تھی۔ اس لحاظ سے بھی پاکستان میں آباد لوگوں کا محض چند فیصد ہی نے عمران خان کے سیاسی منشور کی حمایت کی تھی۔ تاہم مسلمہ پارلیمانی طریقے اور آئینی ضرورتوں کے مطابق تحریک انصاف نے دیگر پارٹیوں کو ساتھ ملاکر قومی اسمبلی سے عمران خان کے لئے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا۔ اگر دنیا میں پارلیمانی نظام پر عمل کرنے والے ممالک پر نگاہ ڈالی جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ متعدد صورتوں میں اسمبلی میں کم نشستیں لینے والی پارٹی بھی دیگر پارٹیوں کو ساتھ ملاکر کسی بڑی پارٹی کے مقابلے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ عمران خان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جیسے ہتھکنڈوں یا تحریص و لالچ سے انہوں نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا، اگر شہباز شریف کو بھی وہی مواقع حاصل ہوتے تو وہ تحریک انصاف کو سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود اپوزیشن میں بیٹھنے پر مجبور کرسکتے تھے۔ ایسا کیوں نہیں ہوسکا؟ اس سوال کا شافی جواب شیخ رشید عمران خان کو بتاسکتے ہیں جو اب بھی ببانگ دہل حکومت کے سر پر طاقت ور عناصر کے دست شفقت کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ عمران خان نے کبھی سوچا ہے کہ اس ’دست شفقت‘ کے بغیر ان کی سیاسی حیثیت کیا ہے؟

یوں جس اصول کے تحت عمران خان کو وزیر اعظم مانا جائے گا، اسی اصول کے تحت شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر ماننا پڑے گا۔ عمران خان جب شہباز شریف کو مجرم قرار دے کر اپوزیشن لیڈر ماننے سے انکار کرتے ہیں تو وہ دراصل اپنے اس خوف کا اظہار کرہے ہوتے ہیں کہ شہباز شریف اب بھی اسٹبلشمنٹ کے لئے سب سے مؤثر متبادل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی خوف کی وجہ سے عمران خان خاص طور سے شہباز شریف کونشانہ بناتے ہیں لیکن ایسے دعوے کرتے ہوئے وہ خود ہی اس اصول قانون کی بھی دھجیاں اڑا رہے ہوتے ہیں جن کا حوالہ دے کر وہ اپوزیشن کو ناقابل قبول اور خود کو ملک کا ’مستحق‘ لیڈر تسلیم کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔

کسی قانون و قاعدہ کے تحت چلنے والے نظام میں کسی ’عمران خان‘ کے کہنے یا چاہنے سے کوئی چور اچکا یا مجرم قرار نہیں پاتا۔ کسی بھی شخص کے خلاف عدالتوں میں شواہد پیش کئے جائیں گے اور عدالت ہی ان معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی مجاز ہوگی کہ متعلقہ شخص نے کوئی قانون شکنی کی ہے یا نہیں۔ عمران خان سیاسی فائدے کے لئے اپوزیشن پر کیچڑ اچھال کر دیانت کی نام نہاد روایت مستحکم کرنا چاہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طریقہ سے خود انصاف کی بنیاد پر قائم نظام کا تصور محو ہورہا ہے۔ جب ملک کا وزیر اعظم عدالتوں کا کام خود کرنے کا اعلان کرے گا یا عدالتی نظام کو ناقص قرار دے گا تو درحقیقت وہ یہ اعتراف کرے گا کہ وہ ملک کے نظام قانون کو ملکی ضرورتیں پوری کرنے کے قابل نہیں بنا سکا۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں اکثریت کے باوجود عمران خان صرف شکائتیں کرنے اور الزام لگانے سے کام چلاتے ہیں۔

عمران خان کو اقتدار سنبھالے ساڑھے تین سال ہوچکے ہیں۔ اب بھی وہ اپنی ناکامیوں کا الزام سابق حکمرانوں یا عالمی عوامل کو قرار دے کر خود اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونا چاہتے ہیں۔ یہ طریقہ ذمہ داری سے گریز کی بدترین مثال ہے۔ وزیر اعظم کی اس بات پر کون اعتبار کرے گا کہ وہ ملک میں مہنگائی کی صورت حال کی وجہ سے رات بھر سو نہیں سکتے لیکن اسی سانس میں امریکہ ، برطانیہ اور یورپ میں قیمتوں کی مثالیں دے کر پاکستان کو جنت نظیر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان ممالک کا ذکر کرتے ہوئے کبھی وہ وہاں پر اوسط آمدنی کی شرح کا ذکر بھی کردیا کریں تو مناسب ہوگا۔ یہ درست ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت ان پڑھ ہے ۔ لوگ جذبات کی رو میں بہہ کر اپنے من چاہے لیڈر کے ہر جھوٹ کو سچ ماننے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم جب سوٹزرلینڈ کی مثال دیتے ہوئے یہ کہے گا کہ’ دیکھو وہاں گائیوں اور پہاڑوں کے سوا کیا ہے لیکن نظام عدل نے اسے خوشحال ملک بنا دیا‘ تو تمام تر کم علمی کے باوجود کوئی تو یہ سوال بھی پوچھے گا کہ کیا وزیر اعظم کو سوٹزر لینڈ کی 86 لاکھ اور پاکستان کی 23 کروڑ آبادی کا تناسب بھی دکھائی دیتا ہے؟ باقی رہا نظام عدل ، تو پاکستان میں تو خود عمران خان اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے مشن پر گامزن ہے۔ بس ان کے ذاتی اقتدار کو خطرہ نہیں ہونا چاہئے۔

ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستانی عوام کا بھلا چاہنے والا لیڈر یہ اعلان کرے کہ ’مجھے وزیر اعظم رہنے دیں، اگر میں اقتدار سے نکالا گیا تو اپوزیشن کے لئے زیادہ خطرناک ہوں گا‘۔ عمران خان کی یہ دھمکی کسی اپوزیشن پارٹی کے لئے نہیں ہے بلکہ انتشار، بدامنی، انارکی اور فساد کے اس طریقے سے سب سے زیادہ تکلیف پاکستانی عوام کو ہوگی اور اس سے قومی پیداواری صلاحیت متاثر ہوگی۔ کوئی عوام دوست لیڈر یا عوام کے ساتھ کھڑا ہونے والا وزیر اعظم کیسے ملک میں ایک نیا فساد شروع کرنے کی دھمکی دے سکتا ہے؟ اگر یہ ہوس اقتدار نہیں ہے تو عمران خان کے چہیتے اسے کیا نام دیں گے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2170 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments