کیا آپ ایک آزاد انسان ہیں


وہ عمارتیں جن سے آپ اپنی مرضی سے باہر نہیں جا سکتے انہیں جیل کہتے ہیں، گھر نہیں۔ مطلب کسی چاردیواری کے اندر رہنے کا حق نہیں بلکہ اپنی مرضی سے باہر جا سکنے کا حق آپ کے آزاد انسان ہونے کی ایک نشانی ہے۔ تھوڑا سا دھیان دیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ پاکستان میں کروڑوں انسان اپنی مرضی سے چاردیواری سے باہر نہیں جا سکتے۔ ان میں زیادہ تر کو ہم عورتیں کہتے ہیں۔

وہ بظاہر تعلیمی ادارے جہاں بغیر کسی موضوع کی قید کے آپ سوال نہیں اٹھا سکتے انہیں برین واشنگ سنٹر کہنا چاہیے۔ وہ شاہ دولے کی خانقاہیں ہیں، شاہ دولے کے چوہے ہی پیدا کر سکتی ہیں اور وہی کر رہے ہیں۔ سوچنے اور سوال کرنے سے عاری لوگوں کو ان دیکھے خوف کے نیچے رکھنا اور ان کے جذبات کو کھوکھلے نعروں سے ابھارنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اپنے اردگرد پچھلی چند دہائیوں میں پیدا ہونے والی ”تحریکوں“ اور نوجوانوں کی بغیر سوچے سمجھے ان تحریکوں میں شمولیت کو دیکھ لیں۔

اگر آپ اپنی نوکری چھوڑ نہیں سکتے ہیں تو آپ ایک مزارع ہیں یا ہاری ہیں۔ مجبوری کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ آپ کی اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے یا ایمپلائر کی جانب سے کوئی جبر ہے، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ہیں تو آپ ایک غلامی میں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آپ کا ایمپلائر کھلے بازار میں آپ کو خرید یا بیچ نہیں سکتا۔ غلامی کی اس شکل کو ماڈرن غلامی کہتے ہیں۔ یہاں یہ واضح کرتا چلوں کہ مزارع یا ہاری ہونا کوئی گالی نہیں ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ کنڈیشن اور مجبوری ہے اور انسان کی آزادی پر ایک قدغن ہے۔ اس میں مزارع یا ہاری انسانوں کا قصور نہیں بلکہ یہ ریاست کی ناکامی ہے۔ شہری اگر بانڈڈ لیبر میں رہنے پر مجبور ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ معاشرہ اور ریاست اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہے۔

اگر آپ ایک بالغ انسان مرد، عورت یا ٹرانسجینڈر ہیں اور آپ اپنی مرضی سے دوست نہیں بنا سکتے، اپنی مرضی کا تعلیمی شعبہ یا پروفیشن نہیں چن سکتے، اپنی مرضی کے شہر یا جگہ پر رہ نہیں سکتے، اپنی مرضی کے سفر نہیں کر سکتے، اپنی مرضی کا لباس نہیں پہن سکتے یعنی ان سب فیصلوں کے لیے آپ کو اجازت کی ضرورت ہے تو اسے بھی ماڈرن غلامی ہی کہتے ہیں۔

ایسے رشتے جو خونی ہوں نہ سنگت، رفاقت یا صحبت کے تقاضے پورے کر رہے ہوں لیکن پھر بھی انسان ان سے نکل نہ سکے تو یہ جیتے جی ستی ہونا کہلائے گا۔ ایسے رشتے کا کیا مطلب جو رشتہ داروں، پڑوسیوں اور محلہ داروں کے لیے قائم رکھا جائے۔ ایسی زندگی کو ایک مسلسل عذاب کے علاوہ کیا کہا جائے۔

اگر آپ کو اپنی بچہ دانی پر بھی اختیار نہیں ہے یعنی آپ فیملی پلاننگ بھی نہیں کر سکتے اور اپنی مرضی کے خلاف آپ کو بچے پیدا کرنے پڑ رہے ہیں تو پھر آپ اپنی زندگی کو کیا نام دیں گی۔ میں تو اس صورت حال کے لیے ماڈرن غلامی سے بہتر کسی اصطلاح سے واقف نہیں ہوں۔

اگر آپ کسی دوسرے انسان، چاہے وہ آپ کی اپنی بیوی ہی کیوں نہ ہو، کی بچہ دانی پر اپنا اختیار جمانے کی کوشش کرتے ہیں یعنی اسے اپنی فیملی پلان کرنے کے لیے آپ کی اجازت کی ضرورت ہے تو پھر آپ اپنی اس ڈھٹائی اور بے شرمی کو کیا نام دیں گے۔ میرا خیال ہے کہ آپ ”سیڈسٹ“ ہیں کیونکہ آپ دوسروں کو تکلیف پہنچا کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔

اگر آپ کسی بھی نظریے کے تحت انسانی قتل کی حمایت میں ہیں تو اپنے اس نظریے کو آپ کیا نام دیں گے اور انسانیت کے لیے اس کی افادیت کو کس درجے پر فائز کریں گے۔

اوپر دی گئی مختلف صورت حال اور کیفیات کو جاننے کی کوشش کریں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ بھی اسی میں کہیں پائے جاتے ہوں۔ آپ بھی کہیں نہ کہیں کسی ایسی صورت حال کا شکار ہوں یا اس کا ارتکاب کر رہے ہوں۔ غیر جانبداری سے سوچنا بہت مشکل ہے کیونکہ اوپر بیان کیے گئے عذابوں کو مختلف مذہبی اور سماجی روایات کے تحت ہم نے بڑے پرکشش نام دے رکھے ہیں۔ اور شخصی آزادیوں کو سٹگماٹائز کر رکھا ہے۔ لیکن پھر بھی یقین جانیں سوچنا ناممکن نہیں ہے۔

وسائل کی کمی کا بہانے کا شکار نہ ہوں۔ بہت سی ذاتی خوشیاں انجوائے کرنے کے لیے کوئی پیسے یا وسائل درکار نہیں ہوتے۔ بس لوگوں کو اپنی ذات کی حد تک اپنی مرضی کی زندگی جینے دیں۔ چاردیواری سے باہر نکل کر ہوا خوری کا حق، کھیلنے کودنے کا حق، دوست بنانے کا حق، اپنی مرضی کی تعلیم اور کام کرنے کا حق، مرضی کی شادی اور طلاق کا حق، اپنی فیملی پلان کرنے کا حق۔ کسی انسان کو یہ تمام حقوق مہیا کرنے پر تو کوئی وسائل درکار نہیں ہوتے۔ ہاں البتہ انسانوں سے یہ حقوق چھیننے پر وسائل خرچ ہوتے ہیں۔ اور ہمارے بہت سارے وسائل اسی سمت میں جا رہے ہیں۔

دوسرے لفظوں میں انسانوں سے خوشیاں چھیننے پر بہت وسائل درکار ہوتے ہیں۔ لوگوں کو دکھ اور عذاب میں رکھنے کا خرچ بہت زیادہ ہے۔ ہمارے زیادہ تر وسائل انسانوں کو دکھ میں رکھنے پر ہی خرچ ہو رہے ہیں۔

کسی عورت، مرد یا ٹرانسجینڈر شخص کی ذاتی زندگی کو کنٹرول کرنے کی کاسٹ نکالیں۔ ایک لڑکی، ایک ٹرانسجینڈر یا ایک لڑکا جس کے باپ کے نام کا خانہ خالی ہے، کو سکول سے باہر رکھنے کی کاسٹ، اسے نوکری سے دور رکھنے کی کاسٹ، ایک زبردستی کی شادی کی کاسٹ، فیملی پلاننگ سے دور رکھنے کی کاسٹ، منطقی سوچ کو پنپنے سے روکنے کی کاسٹ، اور ان سب مسائل کے ہماری زندگیوں پر اثرات اور نتائج سوچنے کی دعوت دیتے ہیں۔

نتیجہ جہالت، غربت اور بیماری ہے۔ دکھوں کی بہتات اور خوشیوں کی کمی ہے۔ یہ سب کچھ انسان کی شخصی آزادیوں سے جڑا ہوا ہے۔ اپنے آپ سے یہی بنیادی سوال پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا آپ ایک آزاد انسان ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 321 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments