انسان اور فرشتے


”جب مجھے نام دیو کا خیال آتا ہے تو میں سوچتا ہوں کہ نیکی کیا ہے اور بڑا آدمی کسے کہتے ہیں، ہر شخص میں قدرت نے کوئی نہ کوئی صلاحیت رکھی ہے۔ اس صلاحیت کو درجہ کمال تک پہنچانے میں ساری نیکی اور بڑائی ہے۔ درجہ کمال تک نہ کوئی پہنچا ہے اور نہ ہی کوئی پہنچ سکتا ہے، لیکن درجہ کمال تک پہنچنے کی کوشش ہی سے انسان، انسان بنتا ہے۔ یہ سمجھو کہ کندن ہو جاتا ہے۔ حساب کے دن جب اعمال کی جانچ پڑتال ہوگی تو خدا پوچھے گا کہ میں نے جو استعداد تجھ کو ودیعت کی تھی اسے کمال تک پہنچانے اور اس سے کام لینے میں تو نے کیا کیا اور خلق اللہ کو اس سے کیا فیض پہنچایا۔ اگر نیکی اور بڑائی کا یہ معیار ہے تو“ نام دیو ”نیک تھا اور بڑا بھی“ ۔

یہ اقتباس مولوی عبد الحق کے مضمون ”نام دیو۔ مالی“ سے لیا گیا ہے۔ یہ مضمون ایک نچلی ذات کے شخص کے بارے میں میں ہے جو پیشے کے اعتبار سے مالی ہے مگر اپنے کام میں سچا اور محنتی ہے۔ اس کردار کو انھوں نے اتنی خوبصورتی سے پورٹریٹ کیا ہے کہ پڑھنے والے کہ دل میں اس شخص کے لئے عزت اور احترام پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ ایک عام سا شخص ہے جو ایک مزدور ہے مگر کردار اور اخلاق کے اعتبار سے وہ ایک اعلی مرتبے پے قائم ہے۔ ہمارے اردگرد بھی اب بھی یقیناً ایسے لوگ ہیں مگر ہماری نگاہوں میں وہ بصیرت نہیں۔

شاید ہمارے معاشرے میں انسان کو پرکھنے کا معیار اس کا اعلی حسب و نصب، پیسہ، تعلیم اور خوبصورتی ہے۔ دین داری، ایمانداری کے پیمانے تو سب سے آخر میں آتے ہیں۔ آج کل ٹیلی ویژن پے چلنے ولا ڈرامہ ”پری زاد“ بھی ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو انتہائی کم شکل، غریب مگر اس کے اندر ایک اچھا انسان موجود ہے۔ اس کا کل سرمایہ اس سے بے انتہا محبت کرنے والی بہن ہے۔ اس کہانی نے یہ سبق دیا ہے کہ نیکی کا بدلہ تو نیکی ہے مگر جن لوگوں نے آپ کو اذیت دی، دکھ دیا مگر جب آپ کی باری آئی تو آپ نے بھی پلٹ کر وہی کیا، نہیں۔

شاید یہ ہی انسانیت کی معراج ہے۔ وقت کا دھارا کسی کے لئے بھی پلٹ سکتا ہے۔ ظرف کی بات ہے جو شاید اب ہم میں نہیں۔ دوسری اہم بات جو اس کہانی میں ہے اگر کسی کو اللہ پاک نے بد صورت بنایا ہے تو اس میں اس شخص کا کیا قصور۔ کیا وہ زمانے میں اس لئے ٹھوکریں کھائے، طنز اور طعنے سہے کیونکہ وہ بد شکل ہے۔ ہم اسی ظالم معاشرے کا حصہ ہیں جو دوسرے کی بےعزتی کا تماشا بہت خوش ہو کر دیکھتے ہیں۔ دوسروں پے رائے زنی کرنے والا شخص اپنے آپ کو برتر سمجھتا ہے۔

جس طرح اونچی چوٹی پے کھڑے انسان کو زمین پے کھڑے لوگ چھوٹے دکھائی دیتے ہیں بالکل اسی طرح نیچے کھڑے ہوئے شخص کو بھی وہ انسان دور سے چھوٹا ہی لگے گا۔ ہمارے اردگرد ایسے لوگ بہت کم ہیں جن کو اللہ پاک نے سب دیا ہے۔ ، پیسہ، عزت، تعلیم، ہنر، حسن بھی مکر آپ جب بھی ان سے ملیں تو ان میں اتنی انکساری اور عاجزی ہوگی کہ آپ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کہ خدارا اس خودغرض دنیا میں کیا اب بھی فرشتے موجود ہیں۔ اور کیوں نہ ہوں، انسان اور فرشتے میں فرق پرہیزگاری اور دین داری کا ہی تو ہے۔

Facebook Comments HS