کپتان کا اوپننگ بیٹر کلین بولڈ

مرزا شہزاد اکبر کا پیشہ وکالت ہے۔ وہ جنرل مشرف کے دور میں نیب میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور مختلف ریفرینسز میں نیب کو قانونی مشاورت دیتے رہے ہیں۔ وہ ایک منجھے ہوئے، وسیع المطالعہ اور تجربہ کار وکیل ہیں۔ وہ جنرل مشرف کے دور میں بھی ایک طاقتور اور با اثر آدمی تھے۔ مشرف ان پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ نیب کے خرچ پر کئی بار نواز فیملی کی کرپشن کے ثبوت تلاش کرنے کے لیے بیرونی ممالک کے دورے کرتے رہے ہیں۔
نیب سے فارغ ہونے کے بعد زیادہ تر بیرون ممالک مقیم رہے۔ بعد میں پاکستان آ کر قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف اعلٰی عدالتوں میں درخواستیں دیتے رہے ہیں۔ یہ وہی دور ہے جب آج کے وزیراعظم عمران خان بھی ان حملوں کے خلاف احتجاج کرتے تھے اور ریلیاں نکالتے اور دھرنے دیا کرتے تھے۔ غالباً انہیں دنوں عمران خان کی ملاقات ان سے ہوئی۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ایک مخصوص مذہبی کمیونٹی کے انتہائی دولت مند، با اثر اور متحرک رکن ہیں۔ اس لحاظ سے بیرون ممالک دوروں کے دوران بھی گاہے بگاہے عمران خان کی میزبانی کرتے رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب عمران خان اقتدار میں آئے تو اپوزیشن کی اور خاص طور پر نواز فیملی کی کرپشن کو بے نقاب کر کے انہیں کٹہرے میں لانے کے مقصد کے پیش نظر انہیں مشیر احتساب اور ایسٹ ریکوری یونٹ کا سربراہ مقرر کیا۔ نواز فیملی کے خلاف اندھی نفرت وزیراعظم اور شہزاد اکبر کی ایک مضبوط مشترک قدر ہے۔ جناب وزیر اعظم نے انہیں تین ذمہ داریاں سونپی تھیں، جن کے پس پردہ قانونی سے زیادہ سیاسی مقاصد تھے۔ پہلا کام یہ تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے معزز، بہادر، بے خوف اور آئین و اصول پرست جج جناب جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں مضبوط صدارتی ریفرنس دائر کریں اور ایک سال کے اندر اندر انہیں سپریم کورٹ سے چلتا کریں تاکہ 2023 کے الیکشن کے قت وہ بطور چیف جسٹس موجود نہ ہوں۔ شہزاد اکبر نے وزیراعظم کو یقین دہانی کروا دی کہ وہ بہت جلد جسٹس فائز عیسٰی کو سپریم کورٹ سے مکھن سے بال کی طرح نکال باہر کریں گے مگر شہزاد اکبر اور ان کے دست راست فروغ نسیم اور اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب انور مقصود کے صدارتی ریفرنس کا کیا انجام ہوا یہ سب جانتے ہیں۔
وزیراعظم پاکستان نے شہزاد اکبر کو دوسری ذمہ داری یہ سونپی تھی کہ وہ نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کا چمتکار دکھائیں گے۔ شہزاد اکبر نے قانونی پیچیدگیوں اور دونوں ملکوں کی سیاسی، آئینی اور سفارتی صورت حال کو دیکھے بغیر وزیراعظم کی فرمائش کو بھی بہت جلد پورا کرنے کی حامی بھر لی۔ جبکہ تیسرا ٹاسک انہیں یہ دیا گیا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے سب سے بڑے اور خطرناک حریف شہباز شریف کو بہر صورت پس دیوار زندان ڈالیں گے۔ نواز شریف اور مریم نواز تو پہلے ہی نا اہل ہیں، شہباز شریف کا کانٹا بھی نکل جائے گا اور مقتدرہ کی بیساکھی کے سہارے وہ 2023 میں بھی وزارت عظمٰی کے منصب پر متمکن ہو جائیں گے۔
ان تین اہداف کو مکمل کرنے کے لیے وزیراعظم نے شہزاد اکبر کے لیے خزانے کے منہ کھول دیے۔ ایف آئی اے، آئی بی، نیب، پولیس ایم آئی اور دوسرے تحقیقی و تفتیشی اداروں کو ان کی مٹھی میں دے دیا گیا۔ نواز فیملی کی کرپشن کے ثبوت ڈھونڈنے کے لیے انہیں برطانیہ، یو ای اے، سعودی عرب جیسے ملکوں کی لا فرموں اور تفتیشی اداروں سے ہر ممکن معاونت کے لیے لا محدود اختیارات دے دیے گئے۔ مگر ساڑھے تین سال تک شہزاد اکبر، نیب، ایف آئی اے اور دوسرے تفتیشی ادارے سر توڑ کوششوں کے بعد بھی شہباز شریف کے خلاف کوئی ٹھوس کیس بنا سکے اور نہ نواز شریف کو واپس لانے کی کوئی سبیل نکال سکے۔ شہباز شریف کو گرفتار تو کیا کرانا تھا الٹا انہیں برطانوی تفتیشی ادارے نیشنل کرائم ایجنسی سے بھی کلین چٹ دلوا دی اور براڈ شیٹ کو لاکھوں ڈالرز بطور جرمانہ الگ ادا کرنا پڑا۔
درج بالا وجوہات کی بنا پر بھی وزیراعظم ان سے سے نالاں تھے کیونکہ اس طرح وزیراعظم کے احتساب کے بیانیے کو سخت زک پہنچ رہی تھی۔ لیکن شہزاد اکبر کے خلاف شاید اس سے بھی بڑی اور سنگین چارج شیٹ تھی۔ شہزاد اکبر کی ایک بہت بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں عمران کے ارد گرد براجمان مافیاز کے کارندوں اور سرپرستوں پر ہاتھ ڈالنے کی ٹھان لی تھی۔ آٹے اور چینی سکینڈل کے خلاف ان کے بنائے گئے ٹی آر اوز پر کمیشن نے تحقیقات کیں تو یہ ہوش ربا انکشاف سامنے آیا کہ ملک میں پیدا ہونے والی چینی کا پچپن فیصد تو پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں اور وزرا کی ملکیت ہے۔
اس وقت اسد عمر نے چینی کی برآمد کی اجازت دی۔ رزاق داود نے اس کی سفارش کی اور وزیراعلی پنجاب نے تو کابینہ کے فیصلے سے قبل ہی سبسڈی دے دی جس کا فائدہ جہانگیر ترین، خسرو بختیار، رزاق داوٴد اور دوسرے وزرا کو ہوا۔ شہزاد اکبر نے ویٹ کمیشن رپورٹ میں نمبر ون وزیراعلی کو اس طرح ایکسپوز کیا کہ ایک وزیر بھی فارغ ہو گیا۔ آئی پی پیز کمیشن کے ٹی آر اوز میں بھی انہوں نے وزیراعظم کے دوست ندیم بابر اور رزاق داوٴد کو مہنگی بجلی بنانے پر بری طرح بے نقاب کیا۔
انہوں جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کے خلاف منی لانڈرنگ کے ثبوت اکٹھے کیے۔ پٹرولیم کمیشن رپورٹ میں ندیم بابر اور رنگ روڈ منصوبے میں وزیراعظم کی لندن والی اے ٹی ایم زلفی بخاری کے خلاف ناقابل تردید شواہد جمع کیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وزیراعظم کو دونوں دوست عہدے سے ہٹانا پڑے۔ علیم خان اپنے جیل جانے اور وزیراعظم کے قریبی طاقتور لوگ کاوے موسوی کے ساتھ از سر نو معاہدہ نہ ہونے کی وجہ شہزاد اکبر کو سمجھتے ہیں۔
اب تو وزیراعظم اور ان کے ارد گرد براجمان مافیاز کو یہ خطرہ بھی لاحق ہونے لگا تھا کہ کسی دن شہزاد اکبر ان کی کرپشن کی تمام فائلیں ان کے حوالے کر دیں گے جن کو بیساکھی بنا کر وہ اقتدار میں آئے تھے۔ اس حکومت کی بد قسمتی ہے کہ شہزاد اکبر کے استعفا کے اگلے دن ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کی رپورٹ بھی آ گئی جس نے وزیراعظم اور ان کی حکومت کے کرپشن کے خلاف بیانیے کو تقریباً زمین بوس کر دیا۔ حکومت کے وزرا اور ترجمان ادارے کی ساکھ پر سوال اٹھا کر اور عادل گیلانی کی ذات کو متنازع بنا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اس طرح وہ اپنی حکومت کو مزید ایکسپوز کر رہے ہیں۔
مرزا شہزاد اکبر کپتان کے اوپننگ بیٹر تھے مگر وہ صفر پر کلین بولڈ ہو گئے ہیں۔ اب اپنی ہی حکومت کے وزرا ان پر الزامات لگا رہے ہیں کہ انہوں کھربوں روپے ہتھیا لیے ہیں۔ مختلف ٹھیکوں سے احتساب کے نام پر پیسے اکٹھے کیے ہیں۔ ملک ریاض کے جرمانے والے 45 ارب روپے میں بھی ان کا اچھا خاصا کمیشن تھا۔ کپتان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان پر کیس چلا جائے مگر جس لابی کے یہ بندے ہیں اس کے کپتان پر بے انتہا احسانات ہیں۔
باوثوق ذرائع کے مطابق شہزاد اکبر بہت جلد فرار ہونے والے ہیں۔ کپتان زلفی بخاری، ڈاکٹر ظفر مرزا، رزاق داوٴد، جہانگیر ترین اور ندیم بابر وغیرہ کی طرح کھلی کرپشن کے بعد انہیں بھی باعزت الوداع کریں گے اور حسب معمول اپنی تقریروں میں کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے کھوکھلے اعلانات کرتے رہیں گے۔

