ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بھی متعصب نکلا


 

25 جنوری 2022 کو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ ترین رپورٹ شائع کی ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل، برلن جرمنی میں قائم ایک پرائیویٹ ادارہ ہے جو تمام دنیا میں کرپشن اور بد عنوانی پر ریسرچ کرتا ہے اور اس ریسرچ کے نتیجے میں اقوام عالم کی درجہ بندی کرتا ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی کی درجہ بندی کی رپورٹ کو ’کرپشن پرسیپشن انڈیکس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ 1995 سے ہر سال شائع کی جاتی ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی پر یہ رپورٹ ساری دنیا میں معتبر ترین رپورٹ شمار ہوتی ہے۔

180 ممالک کی تازہ ترین درجہ بندی کی اس رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی میں کافی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی موجودہ حکومت پاکستان کی بدعنوان ترین حکومت ہے۔ پاکستان عالمی درجہ بندی میں شفافیت میں ایک سو اسی میں سے ایک سو چالیس نمبر پر ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان 2018 میں شفافیت میں 117 ویں نمبر پر تھا اور آج 2021 میں پاکستان شفافیت میں 140 نمبر پر ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جو ممالک شفافیت میں دنیا میں سب سے اوپر ہیں ان میں پہلے دس ممالک میں ڈنمارک، نیوزی لینڈ، فن لینڈ، سنگاپور، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، ناروے، ہالینڈ اور جرمنی شامل ہیں۔ اور آخری دس ممالک میں ہیٹی، شمالی کوریا، لیبیا، گنی، سوڈان، وینزویلا، یمن، شام، صومالیہ اور جنوبی سوڈان شامل ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا ادارہ ایک متعصب ادارہ ہے، اور خاص کر پاکستان کے معاملے میں تعصب کا شکار ہوا ہے اور میرے پاس اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی مضبوط دلائل موجود ہیں۔ میں اپنے دلائل آپ تمام دوستوں کے سامنے رکھتا ہوں اور امید ہے کہ آپ بھی کھلے ذہن اور دل کے ساتھ ان کا جائزہ لیں گے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی طرح اگر تعصب کا شکار نہ ہوئے تو آپ کو یقین آ جائے گا کہ میں درست کہہ رہا تھا۔

سب سے پہلی دلیل جو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو ایک متعصب ادارہ ثابت کر دے گی وہ یہ ہے کہ شفاف ترین ممالک میں شامل پہلے دس ممالک سارے کے سارے امیر اور خوشحال ممالک ہیں ان میں ایک بھی اسلامی ملک شامل نہیں ہے۔ اور بدعنوان ترین ممالک میں زیادہ تر غریب، بدحال اور اسلامی ممالک شامل ہیں یہ بددیانتی اور تعصب نہیں تو اور کیا ہے۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ موجودہ گورنر سندھ جناب عمران اسماعیل نے ایک نغمہ گایا تھا جو کہ تمام طبقوں میں خاصا مقبول ہوا تھا جس کے بول بھی جناب نے خود ہی لکھے تھے ”تبدیلی آئی رے تبدیلی آئی رے، منہ کالا کرپٹوں کا دیتا ہے دہائی رے“ ۔ اب آپ خود سوچیں کہ کوئی بھی ذی شعور، اپنا منہ کالا ہونے کی دہائی تو نہیں دے سکتا، اپنے کرپٹ اور منہ کالا ہونے پر نغمے تو نہیں لکھ سکتا۔ اور آپ تو نہ صرف گا رہے تھے بلکہ باقاعدہ ناچ ناچ کے گا رہے تھے۔ جب کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل یہ کہہ رہا ہے کہ موجودہ حکومت تاریخ کی بدعنوان ترین حکومت ہے۔ تو یہ رپورٹ عمران اسماعیل صاحب کے نغمے کے ساتھ میل نہیں کھاتی بلکہ متصادم ہے۔

تیسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ خان صاحب جب اپوزیشن میں تھے تو سب سے زیادہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی اسی رپورٹ ’کرپشن پرسیپشن انڈیکس‘ کا حوالہ دیا کرتے تھے اور پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ کی حکومتوں کا ناطقہ بند کیا ہوا تھا۔ آپ تکرار سے یہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ آپ نے ایک ترانہ بھی شاعروں سے لکھوایا تھا ”صاف چلی شفاف چلی تحریک انصاف چلی“ ۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک پارٹی اور اس پارٹی کے لیڈر کا بیانیہ ہی کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف ہو، اس پر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کہے کہ اسی پارٹی کی حکومت ہی تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت ہے۔

دیکھئے اگر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو سچ مان لیا جائے تو اس کے مآخذ بہت ’خطرے ناک‘ ہو سکتے ہیں۔ خدانخواستہ اگر اس کو سچ مان لیا جائے تو اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اقتدار پارٹی کے سارے سیاستدان، اعلیٰ عدلیہ کے دو سابق قاضی القضاء ثاقب نثار صاحب، اور آصف کھوسہ صاحب دامت برکاتہم، صحافیوں میں ہارون الرشید صاحب اور حسن نثار صاحب مدظلہ العالی اور ان کے پٹھوں میں صابر شاکر، سمیع ابراہیم، اور ارشاد بھٹی جیسی برگزیدہ ہستیاں، یہ سب جھوٹے اور دروغ گو ہیں نعوذ باللہ اور تسلسل سے جھوٹ بولا جاتا رہا۔

یہ بات قرین قیاس نہیں لگتی۔ قول و فعل کا اتنا بڑا تضاد خان اعظم اور اس کی پارٹی کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔ اور سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ وہی ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل، پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کو تحریک انصاف کے مقابلے میں شفاف ترین حکومت کا سرٹیفکیٹ دے رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے۔

سب سے مضبوط ترین دلیل یہ ہے کہ خاتون اول نے بھی عمران خان صاحب کے انتخاب پر قوم کو مبارکباد دی تھی اور ترقی اور خوشحالی کے دور کی نوید سنائی تھی۔ بلکہ عمران خان کو اس قوم کے اوپر اللہ تعالی کی رضا اور خوشنودی بھی قرار دیا تھا۔ پاکستان کے معاملے میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سے بہت بڑی بھول ہوئی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد سجاد آہیر

محمد سجاد آ ہیر تعلیم، تدریس اور تحقیق کے شعبے سے ہیں۔ سوچنے، اور سوال کرنے کا عارضہ لاحق ہے۔ بیماری پرانی مرض لاعلاج اور پرہیز سے بیزاری ہے۔ غلام قوموں کی آزادیوں کے خواب دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔

muhammad-sajjad-aheer has 33 posts and counting.See all posts by muhammad-sajjad-aheer

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments