مری یاترا – چند تاثرات


پاکستان میں کوئی شخص رہتا ہے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ مری نہ جانا چاہے۔ خاص طور پر ہر نیا شادی شدہ جوڑا یہاں آ کر اپنا ’ہنی مون‘ منانا چاہتا ہے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مال روڈ پر گشت کرنا ہر مڈل کلاس شادی شدہ جوڑے کی نمبر ایک خواہش ہوتی ہے۔ اس چاہ کو پورا کرنے اکثر لوگ کچھ نہ کچھ ادھار پکڑ کر یہاں تشریف لے آتے ہیں۔

ہماری مری کے ساتھ پرانی یاد اللہ ہے۔ پہلی بار ہم اس شہر میں بچپن میں تشریف لائے لیکن اس وقت ہم اس شہر کو سمجھ نہ پائے، ہو سکتا ہے کہ اس وقت اتنی تیزی اور پھرتی نہ تھی یا ہماری سمجھ مختصر تھی۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ پھر کئی دفعہ آنا جانا ہوا صرف ایک شے ہم کو سمجھ آئی کہ مری کا درجہ حرارت کافی کم ہے اور گرمیوں میں یہاں آنا، آسودگی اور راحت کا باعث ہوتا ہے۔ ہم بھی اپنا ہنی مون منانے یہاں تشریف لائے لیکن ہمارے ساتھ ہماری بیوی کے علاوہ ایک بھائی، ان کی بیوی اور ان کا ایک عدد بچہ بطور محافظ ساتھ تھے۔

ان کو اس لیے ہمارے ساتھ ارسال کیا گیا تھا کہ وہ ہماری دیکھ بھال کریں اور ہم ’ہنی مون‘ میں بھی کھل کر کھیل نہ سکیں لیکن اب یہ روایت کم ہو گئی ہے۔ اب بچے کھل کھیلنے کے لیے ہی مری کا رخ کرتے ہیں۔ ہنی مون کے دوران نئے شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اور اتنے زیادہ محافظوں کی موجودگی میں ہم شہر اور اس کے لوگوں کو زیادہ نہ جان پائے اور اسی طرح ہی واپس تشریف لے گئے۔ اسی طرح کافی مرتبہ یہاں آئے کچھ شہر کے بارے میں زیادہ پلے نہ پڑا۔ لیکن اس مرتبہ بچوں کی شدید خواہش پر دوبارہ مری کی یاترا کرنے کا ارادہ کیا اور دفتر سے کچھ دن کی رخصت لی اور مری روانہ ہو گئے۔

مری پہنچتے ہیں نجانے کہاں کہاں سے لوگ آ کر آپ کی گاڑی پر لپکتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ شہد کی مکھیاں شہد پر بیٹھ رہی ہیں۔ ہوٹل کے دلال، پارکنگ کے دلال اور نجانے کون کون سے دلال آپ کی گاڑی کو گھیر لیتے ہیں۔ صاحب صاف کمرے، روشن اور چمک دار کمرے، گرم پانی کی سہولت، پارکنگ کی سہولت وغیرہ وغیرہ، مال روڈ بند ہے صاحب، پارکنگ میں گاڑی کھڑا کر دیں۔ ایک بات جو ہم نے نوٹ کی ہے وہ یہ ہے جتنی بار آپ مری سے باہر نکل کر واپس آئیں گے تو آپ کو ان دلالوں (service providers) سے واسطہ پڑے گا۔

ان کو دیکھ کر ملک کا نظام یاد آنے لگتا ہے جہاں پر دفتر کے باہر آپ کو ایسے دلالوں سے واسطہ پڑتا ہے اور آپ کے خیر خواہ بن کر آپ کو ٹیکا لگا جاتے ہیں۔ اگر آپ بھی مری جا رہے ہیں تو ان سے احتیاط کریں، اگر کر سکیں۔

مری میں آپ کو مس گائیڈ کرنے کے لیے کافی ٹورسٹ گائیڈز مل جاتے ہیں۔ ان کا مقصد آپ کو ایسے پہاڑوں کے نام بتانا ہوتا ہے جو مری میں موجود نہیں ہوتے اور وہ مری کے مال روڈ سے آپ کو کشمیر، کاغان، ناران، شوگران، گلگت اور چترال کی سیر کرا سکتے ہیں۔ لیکن اس کام کے لیے آپ کو ان کو تھوڑے سے پیسے دینے ہوں گے۔

مری کے کھانے دیکھنے میں دلکش اور خوبصورت پیکنگ میں ہوتے ہیں کہ ان کو دیکھتے ہی آپ کے منہ میں پانی بھر آتا ہے اور یعنی ان کو کھانے سے پہلے بھی آپ کی رال ٹپکتی ہے اور ان کو کھانے کے بعد بھی یہ ٹپکتی رہتی ہے اور آپ کے منہ سے سو سو کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔

مری میں کسی شے کی کوئی فکس قیمت نہیں۔ جہاں فٹ ہو جائے۔ ایک دن وہی شے آپ کو دو سو کی مل رہی ہو گی تو اگلے دن وہی آپ کو پچاس روپے میں بھی مل سکتی ہے۔ یہی حال کمروں کے کرایوں کا ہے۔ اس لیے ہمارے خیال میں مری سے کچھ لینے سے اجتناب کریں اگر کسی کو تحفہ دینا ہے تو اپنے شہر سے خرید کر دے دیں اور کہیں کہ مری سے خرید کر لائے ہیں۔ اس طرح آپ کو کافی بچت ہو جائے گی

مری کے باسی کوئی شے مفت نہیں دیتے۔ اگر کہیں قدرت نے نظاروں کا انتظام کیا ہے وہاں ایک عدد مری کا باسی کھڑا ہو گا اور اس جگہ پر فوٹو بنانے کے پیسے وصول کرتا نظر آئے گا جیسے اکثر سرکاری بیت الخلاء کے باہر کوئی ٹھیکیدار بیٹھا پیسے وصول کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہمارا ملک ٹھیکیداروں سے بھرا ہوا ہے۔

اگر آپ نئے شادی شدہ اور کھل کھیلنا چاہتے ہیں یا ویسے کھیل کھیلنا کا ارادہ ہے، مری ایک بہترین جگہ ہے جہاں یہ کام آسانی سے کیا جا سکتا ہے

نوٹ یہ مضمون مری کے حادثہ سے پہلے لکھا گیا تھا۔

Latest posts by ڈاکٹر محمد کلیم (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments