پرتعیش شادیاں کیوں؟


ہمارے یہاں شادیوں کے موقع پر بے جا اخراجات کی روایت پڑ گئی ہے اور کوئی نہیں سوچتا کہ آخر اس بدعت کو جاری رکھنے کی کیا تک ہے؟ مثال کے طور پر آپ نے چند دن پہلے بی بی سی اردو پر یہ خبر پڑھی ہی ہو گی کہ ہندوستان میں ایک گھرانے نے اپنے ہونے والے داماد کی سو سے زائد میٹھے کھانوں سے ضیافت کی۔ اسی طرح کچھ دن قبل پنجاب سے یہ خبر آئی کہ ایک شادی کی تقریب میں مہمانوں پر سلامی میں نوٹوں کے ساتھ ساتھ موبائل فون بھی گرائے گئے۔ جبکہ کچھ عرصہ قبل گجرانوالہ کے ایک امیر گھرانے میں مہمانوں پر ڈالرز اور پاؤنڈ گرائے گئے۔ جبکہ پڑوسی ملک ہندوستان میں لالو پرشاد یادیو کے بیٹے کی شادی پر کروڑوں روپے لٹائے گئے اور شادی چھ ماہ بھی نہ چل سکی۔

ایسی تقریبات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شادی کے بجائے دولت کی نمائش کی تقریب چل رہی ہے کہ کون زیادہ دولت لٹا سکتا ہے۔ ایسی شادیوں کو دیکھ کر عام لوگ بھی ایسی ہی شادی کی خواہش کرلیتے ہیں۔ غریب لوگ ایسی شاہ خرچیوں کو دیکھ کر قرضے لے کر ایسا ہی بیاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جلد ہی ان کا بال بال قرضے میں جکڑ جاتا ہے۔ یعنی کہ کواء چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا۔ لوگ اتنا جہیز مانگتے ہیں کہ لڑکا چاہیے پھٹیچر سی موٹر سائیکل یا کار پر گھوم رہا ہو لیکن وہ شاندار گاڑی مانگتے ہیں۔ اسی طرح لڑکی والے بھی دل کھول کر مختلف اقسام کے زیورات مانگ لیتے ہیں۔ ایسی بے جوڑ شادیاں اگر ہو جاتی ہیں تو دونوں میں سے کسی ایک فریق کی خواہش اس رشتے کو ختم کرنے کی ہوتی ہے اور وہ دوسرے فریق کو کیڑے مکوڑے سمجھنے لگتے ہیں۔ کیونکہ ایسی شادی صرف دولت کے لالچ میں ہوتی ہے۔

ان شادیوں کی تقریبات میں جو زرق برق ریشمی لباس پہنے جاتے ہیں، وہ چند دنوں بعد پرانے ہو جاتے ہیں جنھیں عموماً کوڑے دان پر پھینک دیا جاتا ہے۔ اور پھر وہاں انہیں آگ لگا دی جاتی ہے یعنی اس سے فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

دوسری طرف یہ بھی دیکھا جائے کہ ایسی تقریبات سے غریبوں کے دل پر کیا بیتتی ہو گی۔ بظاہر تو شادی کی تقریبات میں بہت سے کھانے دوستوں رشتہ داروں کی دعائیں لینے کے لیے ہوتی ہیں لیکن اصل میں ایسی دعا غریب، مستحق اور یتیم خانے کے بچے ہی دے سکتے ہیں۔ لیکن ان کو تو ایسی تقریبات کے ذریعے اذیت ہی دی جاتی ہے۔ اگر سادگی سے شادی کی جائے تو اس کے لیے دولہا دلہن کے والدین اور بہن بھائی اور ایک نکاح خواں کافی رہتے ہیں۔

موجودہ وبا کے دور میں کچھ لوگوں نے با امر مجبوری سادگی سے شادی کی لیکن اگر ایسی مستحسن روایت کو عام دنوں میں جاری رکھا جائے تو کتنی اچھی بات ہو گی! منفی روایات کی تقلید تو کی جاتی ہے لیکن اگر مثبت روایت کی تقلید کی جائے تو کیا ہی اچھا ہو!

Facebook Comments HS