جمہوریت کو اس ملک میں کبھی استحکام نہیں مل سکا


جب 1971 ء کے بعد یہ ملک ایک جمہوری اور پارلیمانی نظام کی طرف چل پڑا تھا اور جس کے نتیجے میں ایک متفقہ آئین بھی معارض وجود میں آیا لیکن جلد ہی اس قوم کی بدنصیبی دیکھے کہ ایک ڈکٹیٹر نے اقتدار پر ایسا شب و خون مارا کہ اقتدار عوامی نمائندوں کے حوالے کرنے کی بجائے 10 سال تک اس قوم کو اپنے نام نہاد صدارتی نظام میں یرغمال بنا کر رکھا اور اس ملک کے لئے عوامی، جمہوری حکومتیں ایک خواب بن کر رہ گئی۔

نومبر 1988 ء میں جب انتخابات ہوئے تو یہی امید کی جاتی تھی کہ اب یہ ملک ایک جمہوری راستے پر چل پڑے گا لیکن اس نوخیز جمہوریت میں بھی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والے نمائندوں کے اوپر ایک غیر آئینی صدارتی تلوار لٹکائی گئی اور ایک مضبوط اسٹیبلشمنٹ کے نیچے یہ نوخیز جمہوری حکومتیں ڈھیل یا ڈیل کے چکروں میں دو، دو، تین، تین سال بھی پوری نہ کرسکیں۔ کبھی یہ ڈھیل میں حکومت میں آتے اور کبھی ڈیل میں حکومت سے باہر کر دیا جاتا۔ عوام کے ووٹوں کی بار بار توہین ہوتی رہی۔ کام ڈھیل اور ڈیل سے لیا جاتا رہا۔

پھر ایک ڈکٹیٹر نے ڈھیل اور ڈیل کی بجائے آئین کی خلاف ورزی کر کے خود اقتدار پر قابض ہو گیا جس کا کفارہ ہماری عدلیہ کے چند مفاد پرست ججوں نے نظریہ ضرورت ایجاد کر کے پورا کیا۔

طاقت کے اس کھیل کے سامنے نہ کوئی قانون کی حیثیت رہی نہ آئین کی۔ مہذب ملکوں میں یہی قانون اور آئین طاقت ور کو بھی سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کرتا ہے لیکن ہمارے پدر شاہی نظام میں سب الٹ ہوتا ریا ہمارے یہاں ہمیشہ طاقتور نے آئین کے ساتھ ہیرا پھیری کی۔

2006 ء میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے جو میثاق جمہوریت سائن کیا تھا وہ اس ملک کو جمہوری طریقے سے چلانے کے لئے ایک اہم دستاویز ہے۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں اور پی پی اس پر عمل کریں۔

موجودہ وزیراعظم اپنی کارکردگی اور رویوں کی وجہ سے نالائق اور غیر جمہوری صحیح۔ لیکن موجودہ وزیراعظم اور حکومت جیسے بھی ہو عوام کی طاقت نے جمہوری طریقے سے اپنے ووٹ کے ذریعے منتخب کیا ہے۔

اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اس حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دے۔ ہمارے سیاست دانوں کو اتنا کمزور اور بے صبرا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں نے کی بجائے اپنے مفادات کی خاطر پھر سے ڈھیل اور ڈیل کے چکروں سے موجودہ وزیراعظم کو مفاد پرست لوٹوں کی مدد سے فارغ کر دیا جائے۔ اب سیاست دانوں کو جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ سیاستدان 80 اور 90 کی دہائی کی طرح کمزور نہیں ہیں اب وہ مضبوط ہو چکے ہیں ان کے پیچھے عوام کی طاقت ہے جو اب سمجھ چکی ہے کہ آج تک ان کو کسے بے وقوف بنایا گیا ہے اگر سیاست دان کمزوری نہیں دکھائیں گے تو یہ عوامی طاقت جج بن کر ان کے پیچھے کھڑی ہو جائے گی۔

نئے انتخابات اپنے وقت اور آئینی طریقے سے ہو۔ اپوزیشن نئے انتخابات کی تیاری کریں۔ نون لیگ اور پی پی الیکشن میں حریف بنے کی بجائے حلیف بن کر حصہ لے۔ اقتدار میں بھی حلیف بن کر ایک دوسرے کو مضبوط کریں۔ لوٹا کریسی کو اپنی پارٹیوں میں شامل کرنے یا اقتدار میں شیئر دینے کی بجائے ان کو اپوزیشن کی بنچوں میں بیٹھنے دے۔ اس طرح ایک آئینی، جمہوری اور اصولی سیاست کا آغاز کریں۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ کو مضبوط کریں۔ یہ سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نظریہ ضرورت، ڈیل یا ڈھیل کو ہمیشہ کے لئے دفن کریں۔ اگر سیاستدان ایسا نہیں کریں گے تو نظریہ ضرورت بھی زندہ رہے گا۔ عوام کے حقوق بھی پامال ہوتے رہیں گے۔ سیاستدان بھی مار کھاتے رہیں گے۔ غریب غریب تر اور امیر میر تر ہوتا رہے گا اور یہ ملک بھی ایسے ہی چلتا رہے گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “جمہوریت کو اس ملک میں کبھی استحکام نہیں مل سکا

  • 30/01/2022 at 6:57 شام
    Permalink

    Very good.

Comments are closed.