شعیب ملک اور حسین طلعت کی عمدہ کارکردگی، پی ایس ایل کے دوسرے میچ میں پشاور زلمی فاتح


غیر متاثرکن افتتاحی تقریب اور پہلے میچ میں ٹی ٹوئنٹی کے مزاج سے ہٹ کر تیار کردہ پچ پر معمولی سکور کے بعد پاکستان سپر لیگ کو ایک ایسے میچ کی اشد ضرورت تھی جو لیگ میں دلچسپی پیدا کرسکے۔ پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے میچ نے یہ موقع فراہم کر دیا۔

پاکستان سپر لیگ کے اس دوسرے میچ میں پشاور زلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پانچ وکٹوں سے شکست دے دی۔

پاکستان سپر لیگ کی ان دو روایتی حریف ٹیموں کے درمیان یہ 19واں مقابلہ تھا، جس میں پشاور زلمی نویں بار سرخرو ہوئی ہے۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بھی نو میچ جیت چکی ہے جبکہ ایک میچ نامکمل رہا۔

وِل سمیڈ کیا خوب کھیلے

شعیب ملک ٹاس کے معاملے میں اپنے حریف کپتان سرفراز احمد سے خوش قسمت رہے اور انھوں نے بھی پی ایس ایل کے ٹرینڈ پر عمل کرتے ہوئے پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا لیکن وِل سمیڈ اور احسان علی کی عمدہ بیٹنگ زلمی کے بولرز کے صبر کا امتحان لیتی رہی۔ ان دونوں نے پاور پلے میں 62 رنز سکور کیے۔

اس شراکت کی سنچری گیارہویں اوور میں مکمل ہوئی اور جب احسان علی کی شکل میں زلمی نے پہلی وکٹ حاصل کر کے سکون کا سانس لیا تو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا سکور پندرہ اعشاریہ تین اوورز میں 155 رنز ہوچکا تھا۔

یہ 155 رنز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی پی ایس ایل میں کسی بھی وکٹ کی سب سے بڑی شراکت کا نیا ریکارڈ ہے۔

انگلینڈ کے 20 برس کے نوجوان بیٹسمین وِل سمیڈ نے میچ کی دوسری ہی گیند پر چوکے سے اپنے خطرناک عزائم ظاہر کردیے تھے۔ میچ کے دوسرے اوور میں سہیل خان کی تواضع ایک چھکے اور ایک چوکے سے کرنے کے بعد سمیڈ نے رنز کی ایسی رفتار پکڑی جس کی زد سے کوئی بھی بولر نہ بچ سکا۔

سہیل خان اس میچ کے سب سے ناکام کھلاڑی اس اعتبار سے رہے کہ وہ نہ رنز روک سکے اور نہ ہی سمیڈ کا کیچ لے سکے جو اُس وقت 37 رنز پر تھے۔ انھوں نے اپنے چار اوورز میں 51 رنز دے ڈالے۔

سمیڈ کا ٹیلنٹ اپنے پہلے ہی ٹی ٹوئنٹی میچ میں خوب سامنے آیا۔ انھوں نے 97 رنز کی شاندار اننگز کے لیے صرف 62 گیندیں کھیلیں۔ ان کی اننگز میں 11 چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔

اگر محمد نواز اپنی پہلی گیند پر سنگل لے لیتے تو وِل سمیڈ کے لیے سنچری مکمل کرنے کے لیے دو گیندیں مل جاتیں لیکن انھیں اننگز کی آخری گیند کھیلنے کو ملی جس پر وہ کیچ ہوگئے۔

احسان علی بھی کسی طور پر پیچھے نہ رہے۔

ان کی انٹرنیشنل کرکٹ دو سال پہلے صرف دو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں کے بعد ہی ختم ہوگئی تھی۔ انھوں نے 8 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے 73 رنز کی اننگز کھیلی جو محض 46 گیندوں پر مشتمل تھی۔

عثمان قادر ایک اوور میں احسان علی اور افتخار احمد کی وکٹیں حاصل کرکے زلمی کے سب سے کامیاب بولر ثابت ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

’لیگوں‘ کے دور میں ’کچھ الگ‘ سی پی ایس ایل

دفاعی چیمپیئن ملتان سلطانز کی اجارہ داری برقرار: ’کراچی کنگز رضوان کو نہ رکھنے پر پچھتا رہے ہوں گے‘

سپاٹ فکسنگ، عدالتی معاملات اور بند فائل: مگر پھر سیٹی ایسی بجی کہ پی ایس ایل دلوں میں بس گئی

شعیب اور طلعت کی اہم شراکت

پشاور زلمی نے 191 رنز کے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو اسے کوئٹہ جیسے سٹارٹ کی ضرورت تھی۔ خیبر پختون خوا کی سیکنڈ الیون سے پی ایس ایل میں آنے والے 19 برس کے یاسر خان کا ٹیلنٹ بھی سامنے آیا۔ انھوں نے بڑے اعتماد سے سٹروکس کھیلے لیکن چار چوکوں اور دو چھکوں سے 30 رنز کی ان کی اننگز محمد نواز کے ہاتھوں ختم ہوئی تو مجموعی سکور 43 رنز تھا۔

محمد نواز نے پاور پلے کی آخری گیند پر ٹام کولر کیڈمور کو بھی 22 رنز کو واپسی کی راہ دکھائی اور پھر اپنے تیسرے اوور میں حیدر علی کو بھی 19 رنز پر وکٹ کیپر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔

محمد نواز اگرچہ چار اوورز میں چوالیس رنز دینے کے قصور وار تھے لیکن اس کے بدلے انھوں نے اپنی ٹیم کو تین اہم وکٹیں بھی لے کر دے دیں۔

77 رنز پر تیسری وکٹ گرنے کے بعد شعیب ملک اور حسین طلعت کی کریز پر موجودگی زلمی کے لیے بڑی اہمیت اختیار کرگئی تھی۔ 141 کے سکور پر زلمی کی خوش قسمتی رہی کہ حسین طلعت رن آؤٹ ہونے سے بال بال بچے۔

یہ دونوں چوتھی وکٹ کی شراکت میں قیمتی 81 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔

حسین طلعت پانچ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 52 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو زلمی کو جیتنے کے لیے 19 گیندوں پر 33 رنز دکار تھے۔

شعیب ملک اور شرفین ردر فرڈ نے اننگز کے انیسویں اوور میں جو جیمز فاکنر نے کیا 22 رنز بناکر زلمی کو آخری اوور میں جیتنے کے لیے صرف چار رنز بنانے کا موقع فراہم کردیا۔ آخری اوور کی پہلی ہی گیند پر نسیم شاہ نے ردر فرڈ کو آؤٹ کیا تو زلمی کو پانچ گیندوں پر 3 رنز درکار تھے۔

شعیب ملک نے چوتھی گیند پر ایک رن لے کر زلمی کو جیت دلادی۔

انھوں نے 32 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 48 رنز ناٹ آؤٹ کی میچ وننگ اننگز کھیلی، جس میں ایک چوکا اور چار چھکے شامل تھے۔ شعیب ملک نے یہ ثابت کردیا کہ تجربے کا کوئی بدل نہیں ہوتا۔

بہترین کھلاڑی قرنطینہ میں

پشاور زلمی جو پاکستان سپر لیگ میں سب سے زیادہ 71 میچ کھیلنے اورسب سے زیادہ 39 میچ جیتنے والی ٹیم ہے اور جس نے پی ایس ایل لیگ کے سب سے زیادہ چار فائنل کھیلے ہیں اس میچ میں اپنے بہترین کھلاڑیوں کپتان وہاب ریاض، کامران اکمل اور حضرت اللہ ززئی کے بغیر میدان میں اتری جو کووڈ میں مبتلا ہیں۔

جبکہ لیئم لونگ سٹون اور ثاقب محمود ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں مصروف ہونے کے سبب ابھی لیگ میں شامل نہیں ہوسکے ہیں۔ وہاب ریاض کی غیرموجودگی میں قیادت کی ذمہ داری شعیب ملک نے نبھائی۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بھی شاہد آفریدی کے بغیر یہ میچ کھیلی جو کووڈ میں مبتلا ہیں۔

شاہد آفریدی کراچی کنگز، پشاور زلمی اور ملتان سلطانز سے ہوتے ہوئے اب پی ایس ایل میں چوتھی ٹیم میں شامل ہوئے ہیں۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp