سرینا عیسیٰ نظر ثانی کیس کا فیصلہ: ’صرف جج کی اہلیہ ہونے پر ان کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا‘
پاکستان کی سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی کی نظرثانی درخواستیں اکثریت سے منظور کر لی ہیں۔
عدالت نے 9 ماہ 2 دن کے بعد نظر ثانی درخواستوں پر جاری تحریری فیصلہ میں کہا کہ یہ فیصلہ واضع الفاظ کے ساتھ سنایا جاتا ہے کہ اس عدالت کے جج سمیت کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔ ’دوسری طرف کوئی بھی شخص چاہے وہ اس عدالت کا جج ہی کیوں نہ ہو اس کو قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔‘
سپریم کورٹ کے جسٹس مقبول باقر، جسٹس مظہر عالم، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین نے فیصلہ تحریر کیا۔
فیصلہ میں سرینا عیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں اکثریت سے منظور کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ فیصلہ واضع الفاظ کے ساتھ سنایا جاتا ہے کہ ہر شہری اپنی زندگی، آزادی، ساکھ، جائیداد سے متعلق قانون کے مطابق سلوک کا حق رکھتا ہے۔
تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 9 سے 28 ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں، اگر کوئی شہری پبلک آفس ہولڈر ہے تو اسے بھی قانون کا تحفظ حاصل ہے، قطع نظر کسی عہدہ یا پوزیشن کے ہر پاکستانی قانون کے مطابق سلوک کا حقدار ہے۔
دس رکنی لارجر بینچ نے چھ چار کے تناسب سے سرینا عیسی کے حق میں فیصلہ سنایا جس میں جسٹس یحی آفریدی نے اضافی نوٹ تحریری کیا۔ سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ 26 اپریل 2021 کوسنایا تھا اور 9 ماہ دو دن بعد نظرثانی درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کیس ایف بی آر کو بھجوانے پر سیرینا عیسی کا موقف نہیں سنا گیا تھا اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو اہم ترین معاملے پر سماعت کا پورا حق نہیں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیئے
سرینا عیسیٰ کے بیان سے مطمئن ہیں مگر فیصلہ متعلقہ اتھارٹی کرے گی: سپریم کورٹ
سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر میں جمع کروائے گئے جواب میں کیا کہا ہے؟
ایف بی آر کا سرینا عیسیٰ کو ساڑھے تین کروڑ روپے ٹیکس جمع کروانے کا نوٹس
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ آئین کے تحت شفاف ٹرائل ہر خاص و عام کابنیادی حق ہے، صرف جج کی اہلیہ ہونے پر سیرینا عیسیٰ کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا، قانون کے مطابق فیصلوں سے ہی عوام کا عدلیہ پر اعتماد بڑھے گا۔
تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سرینا عیسیٰ اور ان کے بچے عام شہری ہیں، ان کے ٹیکس کا 184/3 سے کوئی تعلق نہیں، ان کے ٹیکس کا کیس سپریم جوڈیشیئل کونسل کو نہیں بھیجا جا سکتا، سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار صرف ججز تک محدود ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ جوڈیشیئل کونسل کی کارروائی پر ایف بی آر کے خلاف اپیل اثرانداز نہیں ہو گی، ایسا بھی ممکن تھا کہ چئیرمین ایف بی آر کی رپورٹ پر جسٹس فائز عیسی برطرف ہوجاتے، جج کی برطرفی کے بعد ایف بی آر کے خلاف اپیل سیرینا عیسی کے حق میں بھی آ سکتی تھی، برطرفی کے بعد اپیل میں کامیابی کا فیصلہ ہونے تک جسٹس فائز عیسی ریٹائر ہو چکے ہوتے۔
سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ایسا بھی ممکن تھا کہ سپریم جوڈیشیئل کونسل ایف بی آر کی رپورٹ تسلیم نہ کرتی، سوموٹو لینے کی ہدایت دینا سپریم جوڈیشیئل کونسل کی آزادی کے خلاف ہے، آئین کے تحت سرکاری افسران ججز کے خلاف شکایت درج نہیں کروا سکتے، چیئرمین ایف بی آر کی رپورٹ دراصل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف شکایت ہی تھی۔


