کالی شلوار: فحاشی کا پلندا یا حقیقت کی روداد

کالی شلوار سعادت حسن منٹو کا وہ افسانہ ہے جو 1942ء میں شاہد احمد دہلوی کے جریدے ” ساقی ” میں شائع ہوا۔ اس افسانہ پر فحاشی کے الزام میں لاہور کی کسی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا جہاں یہ افسانہ فحاشی پر مبنی داستان ٹھہرا مگر سیشن کورٹ لاہور میں سزا کے خلاف اپیل کی گئی تو اسے غیر فحش قرار دے کر منٹو کو بری کر دیا گیا۔ عدالتی ریکارڈ ناپید ہونے کے سبب اس بات کا ثبوت پیش کرنا کہ کن وجوہات کی بنا پر اسے فحش اور غیر فحش قرار دیا گیا تھا ناممکن ہے۔ مگر اس پارہ میں میں نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر بحث کی ہے۔
کالی شلوار کا پس منظر ویشیا عورت، جس کا نام سلطانہ ہے جو خدا بخش (سلطانہ کا چاہنے والا اور سلطانہ کے نزدیک خوش بختی کی علامت) کے ہمراہ انبالہ چھوڑ کر دہلی میں آن بسی، کا گھر ہے۔ دہلی میں سلطانہ کا کاروبار نہیں چلتا مگر آہستہ آہستہ وہ سرمایہ بھی ختم ہو جاتا ہے جو وہ انبالہ سے کما کر لائی تھی۔ محرم قریب ہوتا ہے مگر اس کے پاس محرم کے دنوں میں پہننے کے لئے کالے کپڑے موجود نہیں ہوتے۔ وہ سفید دوپٹہ اور قمیض رنگوانے کے لیے دکان پر دے دیتی ہے مگر کالی شلوار کا کچھ بندوبست نہیں ہو پاتا۔ آخر شنکر نامی شخص سلطانہ کے چاندی کے بُندے لے جاتا ہے اور کچھ دنوں بعد ایک کالی شلوار دے جاتا ہے۔ جب سلطانہ کالے کپڑے پہن لیتی ہے تو اس کی دوست مختار آتی ہے جس کے کانوں میں وہی بُندے ہوتے ہیں جو سلطانہ سے شنکر لے گیا تھا۔ یہاں پر افسانے کا اختتام ہو جاتا ہے۔
تنقیدی نکتہ نگاہ سے کوئی بھی حتمی رائے قائم کرنے سے قبل افسانہ کے متن کا عمیق نظر سے تجزیہ کرنا لازمی ہے۔
افسانہ کے شروع میں ہی یہ معلوم ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ افسانہ کی کہانی چکلہ کی عورت پر مبنی ہے اور جوں جوں کہانی آگے بڑھتی ہے یہ یقین اور پختہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
افسانہ میں منٹو لکھتے ہیں کہ، "تین چار گھنٹوں ہی میں آٹھ دس گوروں کو نپٹا کر بیس تیس روپے پیدا کرتی تھی۔” اور اقتباس ملاحظہ ہو، ” ان چھ گاہکوں سے اس نے ساڑھے اٹھارہ روپے وصول کئے۔ تین روپے سے زیادہ پر کوئی مانتا ہی نہیں تھا۔” دونوں اقتباسات کے متن پر گہرائی سے سوچنے پر یہ فحش معلوم پڑتے ہیں مگر بظاہر ایسے الفاظ کا استعمال نظر نہیں آتا جو کہ فحاشی کا عنصر نمایاں کرسکیں۔ بلکہ حقیقت کا بیان ملتا ہے کیونکہ معاشرے کے ہر چکلہ کی عورت کے پاس لوگ آتے اور پیسے ہی کے عوض نفسانی لذت حاصل کرتے ہیں۔
اقتباس، ” خدا بخش کے آنے سے ایک دم سلطانہ کا کاروبار چمک اٹھا۔ عورت ضعیف الاعتقاد تھی اس لئے اس نے سمجھا کہ خدا بخش بڑا بھاگوان ہے جس کے آنے سے اتنی ترقی ہو گئی۔” منٹو نے اس جملہ کے ذریعے اس حقیقت کو عیاں کرنے کی سعی کی ہے کہ لوگ کیسے عقل کو توہم پرستی کی لونڈی بنا کر فضول عقائد کو اعلی مقام بخشتے ہیں۔
اقتباس دیکھیے، ” جب نیچے لانڈری والے نے اپنا بورڈ گھر کی پیشانی پر لگایا تو اس کو ایک پکی نشانی مل گئی۔ ” یہاں میلے کپڑوں کی دھلائی کی جاتی ہے۔” یہ بورڈ پڑھتے ہی وہ اپنا فلیٹ تلاش کر لیا کرتی تھی۔” اقتباس میں بیان کردہ بورڈ پر کندہ الفاظ اک عجب حقیقت کا بیان ہیں۔ سلطانہ کی عین مکان کے نیچے کپڑوں کی دھلائی اور عین مکان میں گناہ کا پلندا ایک جنس سے دوسری جنس میں منتقل ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں نیچے گندے کپڑے اور اوپر گندے آدمی آتے ہیں۔
اقتباس، ” سلطانہ نے غور سے اس کی طرف دیکھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ یہ خیال اس کے دماغ میں آیا کہ انجن نے بھی کالا لباس پہن رکھا ہے۔” جیسی انسانی اندرونی کیفیت ہوتی ہے انسان کو بیرونی دنیا بھی ویسے ہی نظر آتی ہے کیونکہ سلطانہ کو محرم کے لیے کالے کپڑے درکار ہوتے ہیں اور وہ ان کے متعلق سوچ رہی ہوتی ہے اس لیے اسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریل گاڑی کا انجن بھی کالا لباس زیب تن کیے کھڑا ہے۔
اقتباس، ” تم عورت ہو۔۔۔۔۔کوئی ایسی بات شروع کرو جس سے دو گھڑی دل بہل جائے، اس دنیا میں صرف دکانداری نہیں، کچھ اور بھی ہے۔” صنفِ نازک اس کائنات میں صنف کرخت کا دل بہلانے اور بے رنگ صفحہ قرطاس میں رنگ بھرنے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ اسی حقیقت کا ادراک درج بالا سطر میں منٹو کرتے نظر آتے ہیں۔
ان تمام اقتباسات جو میں نے آپ جیسے قارئین کے سامنے پیش کیے کہ علاوہ اور کئی ایسے جملے ہیں جو اس بات پر گواہی پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ افسانہ کالی شلوار فحاشی کا پلندا نہیں بلکہ معاشرے کی سچائیوں پر مبنی حقیقت کی روداد ہے۔ مگر پھر بھی فحاشی اور حقیقت کا سوال میں اپنے قارئین پر چھوڑتا ہوں۔ کیونکہ قاری ہی بہتر فیصلہ کر سکتا ہے کہ افسانہ کالی شلوار حقیقت پر مبنی روداد ہے یا فحاشی کا پلندا۔

