ننہں جھڈڑو: سندھ میں پتھروں پر نقش نگاری کا مقام

پہاڑوں پر قدیم نقش نگاری میں پاکستان بھی دنیا کی طرح مالامال ہے۔ گلگت بلتستان سے لے کر کراچی تک پاکستان کی سرحدوں میں موجود پہاڑوں میں پتھروں پر قدیم نقش نگاری دریافت کی گئی ہے۔ پہاڑوں میں پتھروں پر قدیم نقش نگاری (Rock Carving) کے بہت سارے مقامات پاکستان کے دوسرے صوبوں میں بھی دریافت کئی گئے ہیں مگر سندھ میں کھیرتھر پہاڑی سلسلے میں ضلع جیکب آباد سے لے کر جنوب کی طرف کراچی تک پہاڑوں ہر منفرد نقش نگاری کے کئی مقامات دریافت ہو چکے ہیں۔ سندھ میں دریافت شدہ پتھروں پر نقش نگاری پاکستان کے دوسرے صوبوں میں ملنے والی نقش نگاری سے الگ اور مختلف ہے۔ سندھ میں قدیم دور کی راک کارونگ (Rock Carving) یا راک آرٹ (Rock Art) کے مقامات ضلع دادو میں سب سے زیادہ پائے گئے ہیں۔
سندھ کے ضلع دادو میں وافر مقدار میں پتھروں پر نقش نگاری ملنے کی تین اہم وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں پہاڑوں میں قدرتی پانی کے چشموں کا وافر مقدار میں موجود ہونا، دوسری وجہ یہ ہے کہ ان چشموں کے قریب قدیم بستیوں کے آثار ملے ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ قدیم زمانے میں لوگ یہاں رہائش پذیر تھے اور تیسری وجہ یہ ہے کہ قبل از مسیح دور میں یہاں سے بیوپاری راستوں (Trade Roots) سے قافلے مغربی ممالک کی طرف گزرتے تھے جو اب صوبہ بلوچستان تک محدود ہیں۔
ان اہم اسباب کی وجہ سے یہاں پتھروں پر نقش نگاری زیادہ ہے۔ یہاں سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل جوہی کے شہر واہی پاندھی کے قریب کھیرتھر پہاڑی سلسلے میں گاج ندی اور نلی ندی کے ارد گرد پتھروں پر نقش نگاری کے بہت مقامات ہیں جن میں سے ننہں جھڈڑو کا مقام تھا جو اب زلزلوں میں پہاڑ گرنے سے صفحہ ہستی سے مٹ کر گم ہو گیا ہے۔ ننہں جھڈڑو سندھی زبان کا مرکب ہے۔ ننہں کا مطلب ناخن اور جھڈڑو کا مطلب ہے تالاب۔ نام کا مطلب ہوا ناخن کی طرح تالاب۔
پتھروں پر نقش نگاری کا یہ مقام میں نے ہی پہلی بار 2005 ء میں دریافت کیا تھا۔ کسی اور نے یہ مقام نہیں دیکھا۔ جب دوسری بار اس سائیٹ کی فوٹوگرافی کے لئے گیا تو پہاڑ گرا ہوا تھا اور نقش نگاری والے پتھر ریزہ ریزہ ہو کر بکھرے پڑے تھے۔ اب یہ مقام محض فوٹو گرافی اور میری شایع شدہ کتابوں میں محفوظ ہے۔ اس مقام پر پتھروں پر نقش نگاری گاج ندی اور نلی ندی کے دوسرے چشموں سے بالکل منفرد ہے۔ یہاں ابھرے (Raised) ہوئے انداز یا ٹیکنک سے نقش نگاری ملی تھی جو اب غائب ہو چکی ہے۔ یہ نقش نگاری نقش نگار کی فن پر مہارت کی اعلی مثال ہے۔
اس سائٹ پر سندھ آئی بیکس (Sindh Ibex) کی بہترین تصویر نقش کی گئی تھی جو نقش نگار کے فن کے کمال کا مظہر ہے۔ یہاں شکار کا ایک منظر نقش کیا گیا تھا۔ شکاری کے ہاتھ میں بندوق ہے اور فائر کرتے دکھایا گیا ہے۔ بندوق سے نکلتے کاتوس کے چھوٹے گولے پتھر پر نقطوں کی صورت میں نقش کیے گئے ہیں جو سندھ آئی بیکس کے جسم میں بھی داخل ہوتے دکھائے گئے ہیں۔ زخمی سندھ آئی بیکس پوری قوت سے دوڑتے دکھایا گیا ہے۔
ننہں جھڈڑو کے مقام پر پرانے زمانے کی برہمی رسم الخط میں تحریریں بھی نقش کی گئی تھیں۔ یہ تحریریں فقروں کی شکل میں بھی ہیں تو کچھ الفاظ بھی نقش ہیں۔ قدیم برہمی الفابیٹ میں حروف علت اور حروف صحیح کی نقش نگاری ملی تھی جو بعد کی برہمی اسکرپٹ سے بڑی مماثلت رکھتی ہے۔ یہاں پر ملنے والی قدیم برہمی کے حروف علت میں ”ا“ اور ”ا“ کے علاوہ حرف صحیح میں ”ن“ یا ”نا“ نقش ہیں۔
یہاں پر برہمی تحریریں نلی ندی کے پانی کے چشموں قریب دوسرے مقامات پر نقش کردہ تحریروں سے بالکل مختلف ہیں یہاں پتھروں پر نقش نگاری میں برہمی اسکرپٹ بعد کا معلوم ہوتا ہے۔
ننہں جھڈڑو مقام پر پتھروں پر نقش نگاری کتنی قدیم ہے اس سلسلے میں حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ بندوق کی نقش نگاری سے اندازہ کیا سکتا ہے کہ اس مقام پر تاریخ کے وسطی دور (Medieval Period) میں پہاڑ پر نقش نگاری کی گئی ہوگی۔ تاریخ کے ماہرین نے تاریخ کا وسطی دور 5 ء سے 15 ء تک بتایا ہے۔ سندھ میں ننہں جھڈڑو مقام پر پتھروں پر کی گئی قدیم نقش نگاری اب مٹ یا گم ہو گئی ہے جو سندھ پاکستان کا تاریخی اور ثقافتی ورثہ تھا۔ اب خدشہ ہے کہ کہیں دوسرے مقامات بھی قدرتی آفتوں کی زد میں نہ آجائیں۔






