مانکٹارو: تاریخ کی درستی

سندھ میں جس تاریخی مقام کو عام طور پر مانکٹارو کہا جاتا ہے، دراصل اس کا صحیح نام مانک دڑو ہے۔ یعنی مانک نامی سولنکی (سولنگی) قبیلے کی ریاست رہائش کا ٹیلہ۔ اس بستی کی بنیاد مانک رائے نے رکھی تھی، جو جیسر رائے سولنکی (سولنگی) کا بیٹا تھا۔ اس نے اس علاقے میں ریاست قائم کی اور وہ مقام تعمیر کیا جو بعد میں مانک دڑو یعنی ”مانک کا ٹِیلہ یا بستی“ کہلایا۔ مورخ یوسف میرک نے بھی اپنی

Read more

جیسے دیکھی جوہی

جوہی مونث ہوتی ہے۔ جوۂ شہر کہتے وقت مذکر میں استعمال ہوتی ہے۔ بہرحال، جوہی کا اصل اچار ”جُوہی“ ہے۔ جوہی ایک پھول کی قسم بھی ہے اور دنیا میں ایک برادری یا ذات بھی ہے، لیکن میری نظر میں شہر ”جُوہی“ کے نام کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی یہ مفروضہ درست ہے کہ اداکارہ جوہی چاؤلہ کے آبا و اجداد یہاں کے ہونے کی وجہ سے اس کا نام جوہی رکھا گیا۔ سوال یہ ہے

Read more

حُر کیمپ جوہی

سندھ کے عوام نے تاریخ کے ہر دور میں حب الوطنی کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ یہ جذبہ ان کی تہذیب، روایت، اور خاندانی ورثے میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ تاہم، اس کے باوجود ایک مکمل قومی شعور کی تشکیل یا اس کا وسیع پھیلاؤ سندھ میں مکمل طور پر نہیں ہو سکا۔ پھر بھی جب کبھی بیرونی جارحیت یا ظلم و ستم ہوا، سندھ کے مختلف قبیلوں نے انفرادی سطح پر بھرپور مزاحمت کی، جس کی تائید تاریخی شواہد

Read more

ستارے، شاہ لطیف اور وادی سندھ کی تحریر

ہزاروں سالوں سے سندھ کی لوک دانش میں ستاروں اور برجوں سے متعلق مختلف روایات موجود رہی ہیں۔ ان فلکی مظاہر میں ”کَتِی“ (سات ستار ے ) ، ”ٹیڑو“ (تین ستارے ) ، ”کھٹ“ (چارپائی، چار ستارے ) ، ”وچھوں“ (بچھو) ، ”کہکشاں“ (ملکی وے ) ، قطبی ستارہ، ”سہیل ستارہ“ (کینوپس) ، ”سُہاؤ ستارہ“ (صبح کا ستارہ) ، ”وِہاؤ تارو“ (شام کا ستارہ) ، اور ”لدھو“ یا ”لدھا تارا“ (جُڑواں ستارے ) شامل ہیں۔ شاہ لطیف نے اپنی شاعری

Read more

ڈاکٹر نجیبہ عارف: تخیل کی کہکشاؤں کی شاعرہ

شاعری محض علم عروض کے وزن بحر کے شکنجے یا جال میں لفظوں کو قید کرنے، جکڑنے یا پھنسانے کا نام نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ فنی لحاظ سے شاعری میں موزونیت، روانی اور موسیقی قائم کرنے کے لیے وزن بحر اہم ہیں مگر شاعری میں تخیل کی اڑان، احساس کی رنگینیوں کی عکس نگاری، خیالوں کی ندرت، غیر روایتی اور منفرد اندازِ بیان اور پیشکش، تخلیقی سطح پر زبان کا استعمال، نئی تشبیہات اور استعارے تخلیق کر کے

Read more

وادی سندھ کی تحریر میں مچھلی کی علامت کی تشریح: ایک نیا نقطہ نظر

وادی سندھ کی تہذیب کی دریافت کو ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس کی تحریر اب تک ایک ناقابل فہم معمہ بنی ہوئی ہے۔ اس کے غیر واضح رہنے کی بنیادی وجوہات پر وسیع پیمانے پر تحقیق کی جا چکی ہے۔ اسی طرح، وادی سندھ کی تحریر میں ”مچھلی“ کی علامت کی تشریح میں بھی ایسی ہی نوعیت کی مشکلات پیش آتی ہے۔ وادی سندھ کی تحریر آج تک ناقابل فہم رہی ہے، حالانکہ اس

Read more

وادی سندھ کی تہذیب کی معدوم زبان

دنیا کے ماہرین کی موجودہ تحقیق کے مطابق وادی سندھ کی تہذیب 8000 سال قدیم ہے۔ اس رائے کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ وادی سندھ کی زبان بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی وادی سندھ اور اس کی تہذیب قدیم ہے مگر آج تک یہ زبان معدومی کا شکار ہے۔ اس کی تحریر کو پڑھنے یا سمجھنے کے لیے دنیا کے ماہرین کی کوشش ناکام رہی ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین نے وادی سندھ کی زبان پڑھنے

Read more

سندھی اور دراوڑی زبانیں : ایک تقابلی جائزہ

سندھی زبان کے منبع کے سلسلے میں محققین کے متضاد مفروضے اور خیالات ہیں۔ کچھ محققین کا خیال ہے کہ سندھی زبان دراوڑی زبان ہے جب کہ کچھ اسے انڈو۔ آرین زبانوں کے گروہ میں شمار کرتے ہیں۔ جب تک تاریخی اور تحقیقی شواہد کی روشنی میں ثابت نہیں ہوتا کہ سندھی دراوڑی زبان ہے تب تک سندھی زبان انڈو۔ آرین زبانوں کے گروہ میں ہی رہے گی۔ جب دراوڑی زبانوں، تامل، تیلگو، گوندی، براہوی اور دوسری دراوڑی زبانوں کا

Read more

سندھی: وادی سندھ کی قدیم زبان

سندھی زبان کی دستاویزی قدامت نظر ڈالتے ہیں تو قدیم تحریروں میں سندھی زبان کی موجودگی نظر آتی ہے۔ تاریخی طور پر پروٹو دروڑی زبانوں، دراوڑی زبانوں، ویدک ثقافت یا دور اور سنسکرت کی پنینی کی لکھی گرامر دستاویزی حیثیت رکھتے ہیں۔ سندھی زبان کی جڑیں ویدک دور یا وادیٔ سندھ کی تہذیب کے دور کی دراوڑی زبانوں سے پہلے پروٹو دراوڑی زبانوں تک جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہو سکتا ہے کہ انڈس اسکرپٹ کے ساتھ بھی جڑی ہوں۔

Read more

ہاتھوں میں سے گرتی دعا (افسانہ)

دو دن پہلے بارش ہوئی تھی جس وجہ سے قصبے کا پارک گیلا ہو گیا تھا اور کیچڑ زیادہ تھی۔ شام کے وقت واک کرنا میرے معمول میں شامل تھا۔ اس دن میں پارک کے بجائے روڈ کے کنارے واک کرتے چلا آیا۔ روڈ قصبے سے تھوڑے فاصلے پر واقع ہے۔ ویسے یہ ہے قصبہ لیکن کسی چھوٹے شہر سے کم نہیں۔ ہمارے اس بڑی آبادی والے قصبے میں بوائز اور گرلز ہائی اسکول ہیں۔ بوائز ہائی اسکول میں سے

Read more

پھولوں کی مرجھاتی پتیوں کا نوحہ

کربلا کیا ہے؟ ایک تاریخی المیہ ہے۔ ایک میدان ہے جو حق اور ناحق، ظلمت اور روشنی، ظالم اور مظلوم کے درمیان جنگ اور قربانی کا نام ہے۔ حسینیت اور یزیدیت میں معرکہ ہے کربلا۔ کرب و بلا یعنی تکلیف اور مصیبت! حسینیت علامتی انداز میں آج بھی موجود ہے اور یزیدیت بھی نہیں مٹ سکی! اب تو یزیدیت نفسیات بن چکی ہے۔ اور معصومیت اس یزیدی نفسیات کے پہاڑ کے نیچے آ کر نہ صرف کچلی جا رہی ہے

Read more

خستہ حال زرتشتی آتش کدہ، سکھر

زرتشتی مذہب ایران کا قدیم مذہب رہا ہے اس مذہب کے پیروکاروں نے بعد میں خود کو پارسی کہلوانا شروع کیا۔ اس مذہب کے لوگ آگ کی پوجا یا پرستش کرتے ہیں۔ ان کے مذہب میں دخمہ (Tower of silence) اور آتش کدہ ( Fire Temple) اہم ہوتے ہیں۔ اس مذہب میں گدھ پرندہ پاکیزہ سمجھا جاتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا پرٹینیکا ویب پیج کے مطابق زردشت ( 551۔ 628 ق۔ م) ایران کا فلسفی تھا جس کو کارل بیکس کی کتاب

Read more

صحرا میں کشتیاں دوڑ رہی ہیں

حالیہ بارشوں نے بھر سے پورے پاکستان بالخصوص سندھ میں شہر اور گاؤں کے علاوہ صحرائے کاچھو کو ڈبو دیا ہے۔ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ سیلاب کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ بارشوں کی پیشن گوئیوں کی وجہ سے ہر طرف خوف طاری ہو گیا ہے۔ صحرائے کاچھو میں 2022 ء کے سیلاب کے اثرات ختم ہی نہیں ہوئے۔ لوگ اب بھی خیموں میں رہ رہے ہیں۔ اب تک گھر بنا نہیں سکے۔ روڈ جوں کے توں ٹوٹے

Read more

تیرے جانے کے بعد!

جب کبھی بھی ذہن کے قرطاس پر گانا ”کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے“ گونجنے لگتا ہے تو دل میں تیری یاد ابلتی ہے۔ روح یاد کے جنگل کی آگ میں جھلسنے اور تڑپنے لگتی ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میرا وجود خاک ہونے والا ہو! میری ہستی کی کشتی آگ کے دریا کی لہروں پر تیرتے ڈوبنے والی ہو۔ جیسے۔ سوہنی مہینوال کی طرف جاتے ڈوب گئی ہو جس کے لیے شاہ عبداللطیف بھٹائی نے ایک

Read more

کامریڈ حیدر بخش جتوئی: عظیم وطن دوست کسان رہنما

کامریڈ حیدر بخش جتوئی ایک عظیم سندھ کے ساتھ ساتھ مزدور اور کسان دوست رہنما تھے۔ جس کی رگ رگ میں سندھ کے غریبوں ہاریوں کا درد تھا۔ ان کی دھڑکنوں میں سندھ سے محبت خون کی طرح دؤڑتی تھی، ان کی سانسوں میں مزدورں اور کسانوں کے حقوق کا درد شامل تھا۔ سندھ کے کسانوں سے محبت میں ان کا دل درد کا دریا تھا۔ انہوں نے ہاریوں اور ان کے حقوق کے لیے آخری دم تک لڑتے انگریز

Read more

گل حسن کلمتی: تحقیق، تاریخ اور مزاحمت کی علامت

وہ جو تحقیق، تاریخ اور مزاحمت کی علامت تھا۔ وہ پیکر محبت تھا۔ دوستی میں جان نچھاور کرنی ولا شخص تھا۔ حقوق کی حاصلات کے لیے پہاڑ سے ٹکرانے کی ہمت اور حوصلہ رکھتا تھا۔ اس کے قلم کی نوک سے تحقیق اور تاریخ کے موتی بکھرتے تھے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ ‏گل حسن کلمتی 5 جولائی 1957 ء میں گڈاپ کراچی کے چھوٹے سے گاؤں حاجی عرض کلمتی میں پیدا ہوئے۔ گل حسن کلمتی کے والد محمد

Read more

ہزاروں سال قدیم علاقہ میلوحا کہاں تھا؟

میلوحا کہاں تھا؟ اس سوال پر مؤرخین اور محققین نے خوب بحث کی ہے۔ ماہرین نے سومیری اور میسوپوٹیمیا تہذیبوں کے ساتھ میلوحا کے تجارتی تعلقات کی روشنی میں بحث کی ہے، کسی نے بھی میلوحا یا میلوہا کے صحیح محل وقوع یا جگہ کی وضاحت یا نشاندہی نہیں کی ہے۔ سمیرین کی تحریروں کے مطابق بحرین کے ڈلمون اور پاکستان کے مکران اس وقت سمیرین اور میلوحا کے درمیان تھے۔ جب کہ میسوپوٹیمیا کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے

Read more

جوہی شہر میں سیلاب کو للکارتی نڈر عورتیں

حالیہ موسلا دھار بارشوں نے پورے پاکستان میں سیلابی صورتحال پیدا کی ہے۔ اس سیلاب میں جنوبی پنجاب، بلوچستان با الخصوص سندھ کو مفلوج زیادہ بنا دیا ہے۔ اس کی وجہ حکومت کی مس مینجمنٹ اور پانی کے قدرتی نکاسی کو بحال اور مستحکم نہ کرنا ہے۔ یوں تو سندھ کے ہر ضلع کا ہر شہر اور گاؤں متاثر ہوا ہے اور گاؤں کے لوگ گھروں سے بے گھر ہو کر بے یار مددگار جلتی دھوپ میں روڈوں رستوں اور ندی

Read more

بارشوں کا روگ (افسانہ)

ساون کا موسم موج میں ہے۔ رات کا وقت ہے اور ہر طرف اندھیرا اور اندھیرے میں سناٹے کا راج! آسمان کی چھت کو بادلوں نے ڈھانپ لیا ہے۔ دوڑتے بادلوں میں گرج چمک۔ گرج کی آواز کے شور سے ماحول میں پھیلی ہوئی خاموشی میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ سارا دن بارش تھی۔ لگتا ہے اس وقت بھی بارش برسنے کو ہے۔ چھوٹا سا گاؤں جو مسلسل موسلا دھار بارشوں کے پانی میں گھرا ہوا ہے۔ رضیہ نے جس

Read more

گوبند رام دربار مانجھد: مستند تاریخی درستگی کی ضرورت

سندھ بھر میں ایسے بہت تاریخی اور ثقافتی مقامات ہیں جو ثقافت کے ساتھ ساتھ مذہبی اثاثہ بھی ہیں۔ ان تاریخی اثاثوں میں گوبند رام دربار مانجھند بھی ہے۔ یہ دربار سندھ کے موجودہ ضلع جام شورو میں ہے۔ مانجھند سندھ کا قدیم شہر ہے اور حیدرآباد سندھ سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر شمال میں واقع ہے۔ یہ شہر قدیم زمانے سے انگریز دور تک دریائے سندھ کے ذریعے تجارت کا مرکز رہا ہے۔ پروفیسر عبداللہ مگسی نے اپنی کتاب

Read more

سیلاب: چڑیوں کے خدا، بازوں کو پنکھ نہ دے

اے پرور دگار میں جھونپڑی میں رہنے والا اک غریب ہوں، محنت مزدوری کر کے کنبے کے لیے کمائی ہوئی روزی میں سے کاٹ کر مٹی کی کچی اینٹ اینٹ کر کے کچی دیواریں بنائیں اور تنکا تنکا کر کے اس کی چھت بنائی۔ دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ بارش کا پانی جھونپڑی کی چھت کے تنکوں سے ٹپک رہا ہے۔ رلیاں، رضائیاں اور سرہانے بھیگ گئی ہیں۔ اب ڈر ہے کہ جھونپڑی گر نہ جائے اور بچوں سمیت

Read more

میرے دوست رزاق مہر میں تمہیں نہیں بھولا

میرے دل کی دھڑکنوں کی طرح میرے پیارے محسن دوست رزاق مہر 15 اگست 2002 ء تیری وفات کا دن ہے مگر میرا دل نہیں مانتا کہ تم ہم میں نہیں۔ تم ہم میں ہو۔ ہماری روح میں بستے ہو۔ سندھی ادب کے دل کی دھڑکنوں میں آج بھی دھڑکتے رہتے ہو۔ تاریخی اوراق میں جدیدی سندھی ادب کے منفرد شاعر، افسانہ نگار اور ڈراما نویس کے روپ میں موجو ہو۔ زندہ ہو تم اپنی تحریروں کے روپ میں۔ جب

Read more

میری ماں! وادیٔ پلیماز تجھے بلا رہی ہے

میری ماں! سندھ میں رہتے ہوئے تو وڈھ اور وافیٔ پلیماس کے لیے ترستی تھی۔ وڈھ پلیماس کی مٹی کی خوشبؤ کے لیے تڑپتی تھی۔ وڈھ پلیماس کے پانی کو جنت کی نہر کا پانی سمجھتی تھی۔ کیوں کہ یہ تیری پیدائش کی جنت نظیر سرزمین ہے۔ یہ نصیب کی بات ہے کہ تیرا رشتہ سندھ میں ہوا۔ کہا جاتا ہے ناں کہ رشتے آسمانوں میں جڑتے اور بنتے ہیں۔ یہ قسمت کی بات ہے کہ تیرا رشتہ سندھ میں

Read more

شیخ ایاز: ہر صدی کے شاعر اور ادیب

عالمی شہرت یافتہ شاعر شیخ ایاز سندھی زبان کے غیرمعمولی، غیر روایتی بڑے جدید، لبرل اور ترقی پسند شاعر، ادیب اور دانشور ہیں۔ شیخ ایاز بلاشبہ 20 ویں صدی کے اعلی پایہ کے جدید، روشن خیال، وطن دوست، انقلابی، ترقی پسند لیجنڈری شاعر اور ادیب ہیں۔ شیخ ایاز: کی زیادہ وجہ شہرت شاعر کے طور پر ہے مگر شیخ ایاز افسانے، اوپیرا، منظوم ذرامہ نگاری اور نثر نویسی میں بھی بہت بڑا اور اعلی مقام رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں

Read more

انور ابڑو: جدید سندھی ادب کے چمکتے ستارے

سندھی ادب کے اہم نام انور ابڑو اس وقت سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کراچی میں ایڈمنسٹریٹو شعبے میں اہم عہدے پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مگر ان کی پہچان ان کی ادبی خدمات ہیں۔ انور ابڑو کا شمار سندھ کے معروف جدید شعراء، افسانہ نگاروں اور ڈراما نگاروں میں ہوتا ہے۔ انور ابڑو سندھی ادب کے ایسے جدید، ترقی پسند اور روشن خیال ادیب اور شاعر ہیں جن کی شاعری، افسانوں اور ڈراموں میں خیالوں کی رنگین کائنات میں

Read more

صحرائے کاچھو ڈوب گیا

صحرائے کاچھو حالیہ موسلا دھار بارشوں اور پہاڑی ندی نالوں میں زبردست تغیانی کی وجہ سے اس صحرائی علاقے میں سیلاب کی صورتحال ہو گئی ہے۔ ندی نالوں کا تیز بہاء نے سارے بند توڑ کر سارے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بلوچستان کے ضلع خضدار کے پہاڑوں میں سے کولاچی ندی، کوشک ندی، سمان تنگ ندی، کرخ ندی اور دوسری بارانی ندیاں گاج ندی کی طرف بہتی ہیں اور گاج دریائے سندھ بن کر کاچھو کے

Read more

اعجاز مینگل: پسماندگی کے اندھیرے میں علم و ادب کا چراغ

وادیٔ پلیماس ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ میں ایک قدیم اور حسین ترین وادی ہے۔ اس وادی کے قریب پہاڑوں میں واقع غار میں قدیم زمانے کی نقش گاری بھی ملی ہے جس پر پہلے لکھ چکا ہوں۔ اس کے علاوہ وادیٔ پلیماس میں ایسے کیے تحقیق طلب ٹیلے ہیں جن پر قدیم تہذیب کے آثار ملے ہیں جو بلوچستان کی نال اور کلی تہذیب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ویسے تو وادیٔ پلیماس قدرتی نظاروں کی دلکشی، حسن اور خوبصورتی

Read more

جاکھی بندر در اصل دیبل بندر ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کی سرزمین قدیم زمانے سے خشکی کے راستوں کے علاوہ سمندری راستوں کے ذریعے دنیا کے مشرقی اور مغربی ممالک کے ساتھ تجارت میں مصروف تھی۔ سندھ میں سمندر کے کناروں پر قدیم زمانے سے بہت سی بندرگاہیں تھیں جو دنیا سے تجارت کے حوالے سے اہم تھیں۔ تاجر اور جہاز ران اس زمانے کی حکومت کے مقرر کردہ سرکاری کارندوں کی نگرانی میں خاندانوں کے ساتھ بندرگاہوں کے قریب رہتے تھے۔ ان بندرگاہوں کے قریب

Read more

سندھ کا قدیم ترین ماتلی شہر ماہ تلی کا بگاڑ ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سینکڑوں شہر ایسے ہیں جو آج بھی صفحہ ہستی پہ موجود ہیں مگر ان کے نام بگڑتے یا تبدیل ہوتے آئے ہیں۔ ایسے ہر ایک شہر کا تفصیل سے بیان کیا نہیں جا سکتا۔ مگر یہاں صرف ایک مثال ہی کافی ہے کہ جب سکندر اعظم نے 327 ق۔ م میں سندھ پر حملہ کیا تھا تو سیہون شریف کا اس وقت نام سدوسان تھا جس کا حکمران سامبس نامی ایک سمہ تھا اور جس نے

Read more

بدھیہ علاقہ:سندھ میں بدھ مت کی حکمرانی کا مرکز

سندھ میں بدھ مت قبل از مسیح میں پھیلا تھا۔ بدھ مت مذہب کو پھیلانے والے موریا خاندان کے آسوکا یا اشوکا ( 234۔ 268 ق۔ م) تھے۔ آسوکا کے زمانے میں سندھ کے بھکشو یا شمنی اس وقت بدھ مت کی ہونے والی کانفرنسوں میں شرکت کیا کرتے تھے اور انہیں بڑی اہمیت حاصل تھی۔ موریا خاندان سے رائے خاندان اور برہمن خاندان کی حکمرانی تک بدھ ازم عروج پر تھا۔ خود راجا چچ کا بھائی اور راجا داہر

Read more

امجد اسلام امجد: عالمی شہرت یافتہ شاعر اور ڈرامہ نگار

امجد اسلام امجد پاکستان کے ان لیجینڈری ادیبوں میں سے ہیں جن کے آگے خود شہرت محتاج ہے! وہ ہمیشہ تخلیقی کام کرتے آگے بڑھتے رہے اور کہتے رہے ہیں اور بلائیں لیتی شہرت ان کے پیچھے بھاگتی دوڑتی رہی ہے۔ انہوں نے کبھی پلٹ کر بھی شہرت کی طرف نہیں دیکھا۔ وہ محض اپنے اعلی، منفرد اور غیر معمولی تخلیقی عمل میں مصروف رہے ہیں۔ جن کی قلم سے تخیل اور تخلیق کا بہتا سمندر موجزن رہا اور یہ

Read more

میں دودھ پلاتی ہوں تم گولی چلاتے ہو

میں صحرائے تھر کی ماں ہوں۔ اپنے بچے کا دودھ ہرن کے بچوں کو روز پلاتی ہوں۔ ہرن کے بچے کو اپنا بچا سمجھتی ہوں۔ اپنے بچے کی طرح اسے اولاد سمجھ کر میں پال پوس کر بڑا کرتی ہوں۔ اسے صحرائے تھر کا ہی بچا سمجھتی ہوں۔ اسے انسان سمجھ کر میں حفظ میں رکھتی ہوں! تجھے انسان نہیں اک درندہ سمجھی ہوں جو چند پیسوں کی لالچ میں یا شوق شکار کے ہوس میں یا اپنے آقاؤں کو خوش

Read more

میں جلتا صحرائے کاچھو ہوں!

میں تپتا صحرائے کا چھو ہوں۔ میں صدیوں سے پیاسا ہوں۔ بارش نہیں پڑے تو میں ایک بوند کو ترستا ہوں۔ میرے لیے سندھی زبان میں محاورہ ہے کہ بارش برسے تو کا چھو امیر ورنہ غریب سے بھی غریب۔ میں کیرتھر پہاڑی سلسلے کے قریب تر ہوں۔ سمجھو کہ اس کی گود میں قدیم زمانے سے تپتی جلاتی دھوپ میں تپتے جلتے بھی صدیوں سے تاریخ، تہذیب اور زرخیزی کی علامت رہتا آیا ہوں۔ میرا اور منچھر جھیل کا

Read more

غازی شاہ ٹیلہ: وادیء سندھ کی تہذیب کا قدیم ورثہ

غازی شاہ المعروف گاجی شاہ ٹیلہ سندھ کے موجودہ ضلع دادو کی تحصیل جوہی کے علاقے ٹوڑی کی وادیٔ دھونک میں برساتی ندی یا نالے نئیگ کے کنارے پر واقع ہے۔ اس ٹیلے کے ہر سو میں قدیم زمانے سے دیوار کی طرح خندق کھودی ہوئے ہے۔ اس خندق کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک وجہ یہ ہو سکتی کہ اس قدیم بستی کو بارانی ندی نالوں کی تغیانی سے سیلاب کا خطرہ ہو گا اس کے دفاع کے

Read more

شگفتہ خورشید: بہترین جدید شاعرہ، نقاد اور محقق

اردو ادب، شاعری، ادبی تنقید اور تحقیق میں عورت ادیباؤں کی فہرست بڑی طویل ہے۔ مگر جس طرح ہر پھول کی اپنی خوشبؤ ہوتی ہے اس طرح ہر عورت ادیبہ کی تخلیق کی خوشبؤ اپنی انفرادیت کی حامل ہے۔ جس طرح ہر پھل (Fruit) کا اپنا ذائقہ ہوتا ہے اس طرح ہر ادیبہ یا شاعرہ کی تخیل اور تخلیق کا اپنا زاویہ ہوتا ہے۔ ہر ایک کی تخلیق میں جذبات کے اظہار کی مٹھاس شہد کی طرح اپنی اپنی ہوتی

Read more

سندھ کی مسخ تاریخ کون درست کرے گا

سندھ کی پوری لکھی گئی تاریخ مسخ ہے۔ ہم لکیر کے فقیر بنے پڑھتے رہے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا مناسب ہے کہ ہمیں مسخ تاریخ گھول کہ پلائی گئی ہے۔ ایک ڈاکٹر مبارک علی ہیں جنہوں نے جب مسخ تاریخ سے پردا اٹھایا تو اسے سندھ میں رنجشوں کے تیر بھگتنے پڑے۔ دوسرے ایم ایچھ پہنور تھے جنہوں نے مسخ تاریخ پر غیر متنازعہ قلم اٹھایا تو وہ نظر اندازی کے گہرائی میں ڈبو دیے گئے۔ تیسرا کس قدر علی

Read more

خلیل عارف سومرو: معروف جدید غزل گو شاعر

خلیل عارف سومرو سندھی زبان کے جدید شعرا میں نمایاں اور جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ اپنے منفرد لہجے کے حسین شاعر ہیں۔ عارف سندھی زبان کے ان جدید شعراء میں سے ہے جنہوں نے روایتی شاعری کی پگڈنڈی پر چلنے کے بجائے اپنے خیالات کے اظہار کا الگ اور منفرد راستہ چن لیا۔ یہ ہی وجہ ہے کے عارف سومرو نے بہترین شاعر ہونے کا مقام حاصل کیا ہے۔ خلیل عارف سومرو سندھ کے سرائیکی زبان اور سندھی زبان کے

Read more

سندھ میں پہاڑوں پر انڈس اسکرپٹ کی نقش نگاری

سندھ میں کیرتھر پہاڑی سلسلے میں پہاڑوں پر قدیم تحریروں کی نقش نگاری میں انڈس اسکرپٹ کی نقش نگاری بھی ملی ہے۔ یہاں پہاڑوں پر قدیم نقش نگاری میں انڈس اسکرپٹ کی علامتوں کی نقش نگاری سندھ میں پہلی بار موہنجو دڑو سے باہر سندھ کے پہاڑوں میں ملی ہے۔ انڈس اسکرپٹ کی یہ نقش کی گئی علامیں میں نے دریافت کی ہیں اور 2019 ء میں انگریزی میں میری کتاب ’انڈس اسکرپٹ ان اسٹونز‘ چھپی ہے۔ پتھروں پر نقش

Read more

ظاہر سہراب فقیر کنگرانی: ایک تاریخی بزرگ شخصیت

سندھ کے مورخین نے ظاہر سہراب فقیر کنگرانی کا تعلق یا حسب نسب مری قبیلے سے بتایا ہے۔ تاریخ دانوں نے کنگرانی جو اب بھی مری قبیلے کی شاخ یا ذیلی ذات (Subcaste) ہے اور سندھ میں ضلع سانگھڑ، ضلع دادو، ضلع گھوٹکی، ضلع قمبر۔ شہدادکوٹ، ضلع جیکب آباد، نواب شاہ اور دوسرے اضلاع میں اب بھی مقیم ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان سبی اور نصیرآباد ضلعوں میں بھی کنگرانی مقیم ہیں اور پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں شہر

Read more

انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک اور حر کیمپ

سندھ میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی کئی تحریکیں متحرک تھیں ان میں سے حر تحریک بھی اہم ہے۔ پیر پگاڑا کے مریدوں کی آزادی کے لیے یہ تحریک انگریزوں کے خلاف متحرک ہوئی تو انہیں کنبوں (Families) کے ساتھ اجتماعی جیلوں میں قید کیا گیا جن کو سندھی زبان میں ’حرن جا لوڑھا‘ اور انگریزی میں حر کئپیں (Concentration camps) کہا گیا جن میں بال بچوں کے ساتھ حر مجاہد قید کیے گئے تھے۔ ان کیمپوں میں حروں کے

Read more

صحرائے کاچھو کی پنجوتھو نہر اور تاریخی درستگی

سندھ کے کلہوڑا حکمرانوں نے زراعت کو فروغ دینے کے لیے سندھ میں کئی نہریں کھدوائیں۔ سندھ دریاء کے پانی کو زرخیز زمینوں تک پہنچایا اور زراعت کو بڑا فروغ دیا۔ دریائے سندھ کے پانی کے علاوہ پہاڑی علاقوں میں سے آنے والی بارانی ندی نالوں کے پانی کو بھی زرعی مقاصد یا زرعی استعمال کے لیے ان ندی نالوں پر نہریں کھدوائیں اور ہزاروں ایکڑ زمین سیراب کر کہ فصلیں اگوائیں۔ صحرائے کاچھو سندھ کے ضلع دادو سے شروع ہوتا

Read more

آپ بیتی، کیسے بیتی؟

آپ بیتی کیسے بیتی؟ کیسے لکھوں؟ یہاں لکھنی بھی چاہیے کہ نہیں؟ لکھوں تو کہاں سے شروع کروں کہاں تک سناؤں؟ کوزے میں دریا بند کرنا آسان کام نہیں۔ مگر دل نے کہا کہ لکھوں! بچپن سے آج تک زندگی کی کانٹوں بھری پگڈنڈی سے گزرا ہوں۔ زندگی کی پگڈنڈی پر بکھرے مضطرب حالات کے کانٹے چنتے، چگتے بھی ذاتی، تعلیمی اور ادبی زندگی کا سفر جاری رکھا۔ میں منٹو نہیں جو گنجے فرشتے جیسی کتابیں لکھ سکوں۔ جو بھی

Read more

علی دوست عاچز: حسن پرست اور عشق کے عمیق شاعر

علی دوست عاجز کا سندھی زبان کے معروف جدید، ترقی پسند، وطن دوست اور جمالیات کے اہم شعراء میں شمار ہوتا ہے۔ طبع میں نفاست کے یہ سمندر شخص نفیس احساسات کا شاعر بھی ہے۔ احساسات کے رنگین اور خوشبودار دھاگوں کو شعر کے تانے بانے میں تشبیہات اور استعاروں کی رنگینیوں سے ایسی شاعرانہ صلاحیت اور مہارت سے بنتے ہیں کہ شعر میں وہ خوبصورت احساس صرف شاعر کے نہیں رہتے پر ہر پڑھنے اور شعر سننے والے کے

Read more

پیر لاکھیو: وزیر اعلی سندھ کے حلقے میں خستہ حالی کا شکار قدیم مقام

سندھ میں سندھو تہذیب یعنی ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی تہذیب کے دور کے جو مقامات دریافت ہوئے تھے ان میں زیادہ تر سندھو دریاء کے دائیں کنارے واقع ہیں۔ ان مقامات کی اکثریت اب سندھ کے دوسرے بڑے صحرا کاچھو اور اس کے آس پاس میں ہے۔ موہنجو دڑو کی تہذیب کے دور کے ان مقامات میں سے پیر لاکھیو کا مقام بھی ہے جو سندھو تہذیب کا قدیم مقام ہے جس کی بنگالی آرکیولاجسٹ این جی مجمدار نے

Read more

پیر لاکھیو: موہنجو دڑو کا دوسرا مرکزی ہم عصر مقام

سندھ میں سندھو تہذیب یعنی ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی تہذیب کے دور کے جو مقامات دریافت ہوئے تھے ان میں زیادہ تر سندھو دریا کے دائیں کنارے واقع ہیں۔ ان مقامات کی اکثریت اب سندھ کے دوسرے بڑے صحرا کاچھو اور اس کے آس پاس میں ہے۔ موہنجو دڑو کی تہذیب کے دور کے ان مقامات میں سے پیر لاکھیو کا مقام بھی ہے جو سندھو تہذیب کا قدیم مقام ہے جس کی بنگالی آرکیالوجسٹ این جی مجمدار نے

Read more

علی آکاش: انسانیت اور محبتوں کا سفیر شاعر

شاعری وہ بھی غیرمعمولی، غیر روایتی، منفرد، جدت سے بھرپور، عوام کے احساسات کی عکاس، انسانیت کے جذبات کی ترجمان اور محبتوں اور روشن خیالی کی رنگینیوں کی سفیر شاعری ہر کسی کے ناں بس کی بات ہے اور ناں ہی ہر کسی کے حصے میں آتی ہے۔ علی آکاش ان شعراء میں سے ہے جس کے پاس ایسی شاعری خود چلی آتی ہے۔ علی آکاش الہامی شاعر نہیں جس پر شاعری نازل ہوتی ہو مگر اس انسانی سماج میں

Read more

علی زاہد: معروف جدید اور روشن خیال شاعر

علی زاہد کا سندھی زبان کے مشہور جدید، ترقی پسند روشن خیال اور منفرد شعرا میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے سندھی زبان میں باکمال شاعری کی ہے۔ سندھی زبان کے علاوہ اس نے جو اردو میں شاعری کی ہے وہ بھی منفرد اسلوب اور منفرد انداز بیان کی خصوصیت سے سرشار ہے۔ اس لیے اس کو ہمعصر شعراء میں منفرد شاعر کا مقام حاصل ہے۔ دوسرے سندھی زبان کے شعراء جنہوں نے اردو میں شاعری کی ہے ان کی

Read more

سندھ میں ٹوڑ کی جنگ اور تاریخی درستگی

سندھ کی تاریخ میں ٹوڑ کی جنگ کو ’کور‘ ، ’کھور‘ یا ’کھوڑ‘ کی جنگ لکھا گیا ہے۔ یہ جنگ مغلوں اور کلہوڑوں کے درمیاں تقریباً 1699 ء یا 1700 ء میں لڑی گئی تھی۔ یہ لڑائی پاکستان کے صوبہ سندھ کے موجودہ ضلع دادو کی تحصیل جوہی کے کاچھو کے صحرا میں موجودہ گاؤں ٹوڑ کے قریب گاج ندی کے کنارے پر لڑی گئی تھی جو اس وقت کلہڑوں کے مرکزی گاؤں گاڑھی کے قریب ہے۔ ٹوڑ گاؤں اب جوہی

Read more

استاد بخاری: وقت رواں کا شاعر

سید احمد شاہ بخاری المعروف استاد بخاری سندھی زبان اور سرائیکی زبان کے بہت بڑے جدید قومی اور عوامی شاعر ہیں۔ استاد بخاری عوامی لب لہجے کے ایسے منفرد شاعر ہیں جو عام اور خاص میں یکساں مقبول ترین شاعر ہیں۔ ان کی سادی شاعری میں خیالات اور فکر کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر شامل ہے۔ استاد بخاری نے اپنی شاعرانہ مہارت سے سندھی زبان اور سرائیکی زبان کے متروک لفظوں کو زندہ کیا ہے اور نئے الفاظ، اصطلاحات، استعارے اور

Read more

شوکت شورو: جدید سندھی ادب کے لیجنڈ لکھاری

شوکت حسین شورو اپنے مزاج اور شخصیت میں خاموش سمندر تھے۔ بہت کم اور دھیرج کے ساتھ بولتے تھے۔ مگر جب بولتے تھے تب اس کی باتوں میں موضوع کے لحاظ سے سمندر کی گہرائی اور ساون میں بہتے دریا کی تغیانی ہوتی تھی۔ وہ اپنی روش اور باتوں میں شہد کی مٹھاس رکھتے تھے۔ شوکت شورو سے کوئی نیا ادیب یا شخص ملتا تھا تو شوکت شورو کی خاموش طبع اور کم بولنے کی وجہ سے حیران و پریشان

Read more

شاہ عبداللطیف بھٹائی کا سر سامونڈی اور بنجاری کا درد

سر بنیادی طور پر موسیقی یا سنگیت کے سروں یا سرود سے منسلک ہے مگر سندھی زبان کی کلاسیکی شاعری میں سر موسیقی کے علاوہ شاعری کی موضوعاتی حوالے سے الگ ترتیب کو کہا جاتا ہے۔ سندھی زبان میں سر کسی ایک موضوع پر کی گئی شاعری کو بھی کہا جاتا ہے۔ سندھی کلاسیکی شاعری کے موضوع کے لحاظ سے الگ الگ سر ہوتے ہیں۔ یہ روایت محض سندھی زبان کی کلاسیکی شاعری میں ہی مروج ہے۔ کسی دوسری زبان

Read more

اسحاق سمیجو: اردو کے منفرد جدید شاعر

  اسحاق سمیجو اس وقت جامعہ سندھ جامشورو میں سندھی ادب کے پروفیسر اور سندھی شعبے کے چیئر مین ہیں۔ اس سے پہلے ڈائریکٹر سندھیالوجی کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں۔ کم عمر میں سمیجو نے جہد مسلسل اور وسیع مطالعہ کے ذریعے اپنی علمی قابلیت اور صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بہترین شاعر اور نقاد بھی ہیں۔ اس نے شاعری کے میدان میں بھی اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کی وجہ سے عہد حاضر میں نمایاں مقام

Read more

گبر بند: زرتشتیوں کے آثار

سندھ میں کیرتھر پہاڑی سلسلے میں برساتی ندی نالوں کے بہاء کے آگے پتھروں سے بنے بند موجود ہیں. یہ پتھروں سے بنے ہوئے  بند اب خستہ حالی کا شکار ہیں. پتھروں سے بند باندھ کر پانی جمع کیا جاتا ہوگا اور وہ پانی پینے کے علاوہ قریب تر وادی کی زمین میں فصل اگانے میں استعمال ہوتا ہوگا۔ یہ بند  پانی جمع کرنے کے لیے بنائے گئے ہونگے. گبر بند قدیم لوگوں کی ذہانت، پلاننگ اور انجینئرنگ کی نشاندہی

Read more

سوہنی مہینوال داستان: عورت کی سماجی بغاوت کی علامت

محبت کی لوک داستانوں کا رواج پوری دنیا بالخصوص جنوبی ایشیا میں موجود تھا۔ یہ رومانوی داستانیں سندھ، پنجاب، بلوچستان، ایران، عربستان، ہندستان اور دوسرے خطوں میں رائج تھیں۔ سندھ میں ان رومانوی داستانوں یا پیار کی لوک کہانیوں کو ایک کردار کی نسبت سے نیم تاریخی سمجھا جاتا ہے مگر ان داستانوں میں جن کرداروں کو تاریخی سمجھا جاتا ہے ان کی خود تاریخی صحت ہی درست یا قابل قبول نہیں۔ یہ بحث الگ ہے اور طول پکڑ جائے

Read more

سزو مزو ڈرہ: سندھ میں پتھروں پر نقش نگاری کا قدیم مقام

سزو مزو یا سدو مدو ڈرہ کیرتھر پہاڑی سلسلے میں پتھروں پر نقش نگاری کا قدیم مقام ہے۔ ڈرہ بلوچی زبان میں ٹیلے یا چھوٹے پہاڑ کو کہتے ہیں۔ اس مقام کے قریب قدرتی چشموں کے پانی کا گہرا چشمہ ہے جسے بھی سزو مزو کنب (چشمہ) کہتے ہیں۔ اس مقام کے نام کے سلسلے میں مقامی روایت ہے کہ یہ دو عورتوں کے نام سے منسوب ہے۔ اس مقام کے قریب چاکر گھٹ (گزرگاہ) ہے حو میر چاکر رند

Read more

سندھ کےشہر واہی پاندھی کے قریب زرتشتی آثار

سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل جوہی میں شہر واہی پاندھی قدیم شہر ہے۔ یہ شہر دادو شہر سے 45 کلومیٹر اور شہر جوہی سے 28 کلومیٹر مغرب میں کیرتھر پہاڑی سلسلے کے قریب تر واقع ہے۔ واہی سندھی زبان میں پانی کے چھوٹے سے نالے یا ندی کو کہتے ہیں جس میں پہاڑوں میں سے قدرتی چشموں کا پانی میدانی علاقے کی طرف مستقل بہتا ہے۔ واہی قدیم ہے مگر بعد میں پاندھی نامی شخص نے اس واہی کے

Read more

وہ جو لکھتی ہے شعروں میں ردھم آ جاتا ہے

سیما عباسی سندھی زبان کی شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نویس ہیں مگر اس کی اردو شاعری بھی کمال کی ہے۔ اس کی اردو شاعری میں روانی دریا جیسی اور تخیل میں جنبش سمندر کی لہروں جیسی ہوتی ہے۔ ایک سندھی شاعر کا اردو میں غزل جیسی کلاسک، اعلی اور مشکل صنف سخن پر خوبصورت انداز میں طبع آزمائی کرنا اور معیار کو چھونا معمولی نہیں غیر معمولی بات ہے۔ اس کی غزلیں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے اردو کے

Read more

عمرکوٹ قلعہ سندھ میں سومرہ دور سے بھی قدیم ہے

سندھ کے عمرکوٹ شہر اور قلعہ کی قدامت کے بارے میں مورخین کی متنازعہ رائے پائی جاتی ہیں۔ مورخین کی متنازعہ رائے نے شہر اور قلعہ کی اصل تاریخ کو الجھا دیا ہے۔ کچھ مورخین عمرکوٹ شہر اور قلعہ کو سندھ میں سومرہ دور کے حکمران عمر سومرو سے منسوب کرتے ہیں۔ عمر بادشاہ کی نسبت سے شہر اور قلعہ کو سندھ میں سومرا دور ( 1353 ء۔ 1050 ء) میں تعمیر کردہ بتاتے ہیں۔ کچھ اس رائے سے اختلاف

Read more

رومانوی داستان کی کردار نوری کی اصل قبر کہاں ہے

سندھ پاکستان میں نوری جام تماچی کا روایتی رومانوی داستان صدیوں سے آج تک مقبول ہے۔ اس روایتی رومانوی داستان کا تعلق سندھ میں سمہ خاندان کے دور حکومت ( 1521۔ 1353 ) سے بتایا جاتا ہے۔ سمہ حکمران جام تماچی کا کینجھر جھیل کے کنارے رہنے والے ملاحوں (مچھیرے ) کے ایک خاندان کی نوری نامی لڑکی سے عشق ہو گیا تھا۔ ملاحوں کے غریب خاندان کے پاس ماسوائے ماہگیری کے کوئی ذریعۂ معاش نہیں تھا۔ کینجھر کے کنارے مچھلی

Read more

میاں نصیر محمد کلہوڑو کی میری کے کھنڈرات

میری (Miri) کا مطلب کسی رہنما یا امیر کی رہائش گاہ ہے۔ ماہر لسانیات کے مطابق میر سے میری ماخوذ ہے۔ اردو لغت فیروزالغات میں میر کا مطلب امیر، امیر دیا گیا ہے جس سے میری ہوا یعنی امیر کی رہائش گاہ۔ سندھی لینگویج اتھارٹی حیدرآباد سندھ نے ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کی یک جلدی لغت شایع کی ہے جس میں بھی میر کا مطلب امیر اور میری کا مطلب امیر یا رہنما کی رہائش گاہ دی گئی ہے۔ میان نصیر

Read more

کوریانی کا ٹیلہ: جنوبی سندھ میں بدھ مت کا مرکزی مقام

وادیٔ سندھ قدیم زمانے سے مختلف مذاہب کا مرکز رہی ہے جن میں سے بدھ مت بھی اہم مذہب رہا ہے۔ سندھ میں بدھ مت قبل مسیح میں موریہ خاندان کے حکمران آسوکہ یا اشوکہ عظیم ( 232۔ 268 ق۔ م) کے زمانے میں بڑے پیمانے پر پھیلا تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سندھ میں سیکڑوں مقامات ہیں جو بدھ ازم کا مرکز رہے جن میں کوریانی کا ٹیلہ (کوریانی جو دڑو) بھی شامل ہے۔ کوریانی کا ٹیلہ (کوریانی

Read more

جامع مسجد خداباد: درستحالی کے نام پر فریسکو نقش نگاری کا بگاڑ

سندھ میں کلہوڑا حکمرانی کے باقاعدہ بانی میان یار محمد کلہوڑو نے 1718 ء میں پنہور قبیلے سے شکارپور پنہور کی نامی بستی چھین کر اس کا خداباد نام رکھا اور اس کو صدر مقام یا گادی کا شہر بنایا۔ یہ تاریخی شہر خداباد اول سندھ میں کلہوڑا حکمرانی کا پہلا صدر مقام رہا۔ خداباد اول سندھ کے ضلع دادو میں واقع ہے جہاں کلہوڑا دور میں تعمیر کی گئی تاریخی جامع مسجد اب بھی صفحہ ہستی پر موجود ہے۔

Read more

سندھ کے شہر ڈرگھ بالا میں سندھولاجی

ڈرگھ بالا ضلع دادو کی تحصیل کے کاچھو کے صحرا میں تاریخی شہر ہے۔ یہ شہر سندھ میں میاں نصیر محمد کلھوڑو ( 1692 ء۔ 1657 ء) کے دور میں میانوال تحریک کے سرگرم کارکنوں اور سپہہ سالاروں تالپور امیروں نے قائم کیا تھا۔ کلھوڑوں سے تالپوروں کے دور تک میاں نصیر کلھڑو کا مرکزی گاؤں گاڑھی ضلع دادو تحصیل خیرپور ناتھن شاہ کے بعد شہر ڈرگھ بالا مسجدوں اور مقبروں کی تعمیرات اور ان کی دیواروں پر فریسکو نقش

Read more

منچھر جھیل مر رہی ہے!

ایشیا کی میٹھے پانی کی بڑی جھیل سمجھی جانے والی منچھر جھیل اب سیم اور تھور کی جھیل بن گئی ہے۔ ماضی میں منچھر جھیل کو تین وسیلوں سے میٹھا پانی ملتا تھا۔ ایک بڑا ذریعہ برساتی ندی نالے تھے جس میں گاج ندی اہم ہے۔ علاوہ ازیں سول، تکی، سوری، نلی، ککڑانی، ہلیلی، کھندھانی، انگئی اور نئیگ وغیرہ بھی ہیں جن کا بارشوں کے موسیم میں پانی منجھر جھیل میں پڑتا تھا۔ دوسرا وسیلا ایم این وی ڈرین (Main

Read more

موہنجو دڑو: نام اور کروڑوں کے بجٹ کا المیہ

وادیٔ سندھ کی شاندار اور عظیم تہذیب موہینجو دڑو دنیا میں سندھ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی پہچان ہے کہ ہزاروں سال پہلے یہ خطہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا ہے۔ عالمی ورثے میں شامل موہنجو دڑو پر بہت لکھا کیا ہے۔ مگر اس کے درست نام تعین نہیں کیا گیا اور نہ ہی کروڑوں روپے کی ملنے والی عالمی بجٹ ہڑپ ہونے کے بارے میں کسی نے لکھا۔ موہنجو دڑو کا سندھی زبان میں حقیقی تلفظ ’مہیں جو

Read more

واہی پاندھی: وادیٔ سندھ کی تہذیب کے مٹتے ٹیلے

وادیٔ سندھ کی تہذیب وسیع علاقے پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے آثار ہندستان اور پاکستان کے صوبہ پنجاب اور دوسرے صوبوں میں ملے ہیں، واہی پاندھی سندھو تہذیب کا اہم مقام ہے۔ واہی پاندھی ضلع دادو، سندھ پاکستان کا تاریخی قصبہ ہے۔ وادی سندھ کی تہذیب کے واہی پاندھی کے ٹیلے بے دھیانی کی وجہ سے صفحہ ہستی سے مٹ رہے ہیں۔ مقامی طور پر، واہی پاندھی کے ٹیلے کوٹیرو ٹیلے یا کوٹیرو دڑو کے نام سے مشہور ہیں۔

Read more

رنی کوٹ قلعہ دراصل قدیم نیرون کوٹ قلعہ ہے

رنی کوٹ قلعہ کو کچھ لوگ اردو میں رانی کوٹ لکھتے ہیں جو درست نہیں۔ اس قلعہ پر نام کسی رانی (Queen) کے حوالے سے نہیں پر قلعہ میں سے بہتی ہوئی برساتی ندی کی وجہ سے پڑا ہے۔ عظیم دیوار سندھ رنی کوٹ قلعہ سندھ کے موجودہ ضلع جامشورو کے شہر سن کے مغرب میں 35 کلومیٹر کے فاصلے پر کیرتھر سلسلے کی لکی پہاڑیوں پر موجود ہے۔ اس قلعہ کا احاطہ یا لمبائی 32 کلومیٹر ہے۔ رنی کوٹ

Read more

سندھ میں پتھروں پر یونی۔ لنگم کی قدیم نقش نگاری

سندھ میں کیرتھر پہاڑی سلسلے، خاص طور پر ضلع دادو کی سرحدوں میں پہاڑی علاقوں میں پتھروں پر نقش نگاری زیادہ پائی گئی ہے۔ سندھ کی پہاڑوں پر قدیم نقش نگاری پاکستان کے دیگر صوبوں میں پائے جانے والی نقش نگاری سے منفرد ہے۔ یہاں پہاڑوں پر نقش نگاری میں بدھ مت، زرتشت اور ہندو مذہب کی علامتیں بڑے پیمانے پر پتھروں پر نقش کی گئی ہیں۔ ہندومت میں یونی۔ لنگم کی علامت زیادہ نقش ہے۔ یونی۔ لنگم کی علامت

Read more

سمیری تحریروں میں میلوحا اور موہنجودڑو

میلوحا یا میلوہا کہاں تھا؟ اس سوال پر مؤرخین اور محققین نے خوب بحث کی ہے۔ مورخوں نے قدیم زمانے میں سمیری اور میسوپوٹیمیا تہذیبوں کے ساتھ میلوہا کے تجارتی تعلقات کی روشنی میں بحث کی ہے، لیکن کسی نے بھی میلوہا یا میلوحا کے صحیح محل وقوع کی وضاحت یا نشاندہی نہیں کی۔ البت مورخ گوز کی کتاب میں میلوحا کو ملک لکھا ہے جو وادیٔ سندھ کو ظاہر کرتا ہے۔ سمیرین کی تحریروں کے مطابق بحرین کے دلمون

Read more

کیا مکلی واقعی ماں کالی کا بگاڑ ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر ٹھٹھہ کے قریب تر مکلی کا بہت بڑا اور قدیم قبرستان ہے۔ مورخین اور محققین کی تحقیق کے مطابق مکلی کا قبرستان 13 یا 14 کلومیٹر کی اراضی پر پھیلا ہوا ہے۔ مکلی کا قبرستان مختلف دور کی تاریخ کا گہوارا ہے۔ مقبروں کی طرز تعمیر بھی مختلف ادوار کی نشاندہی کرتی ہے۔ سندھ میں یہ واحد قبرستان ہے جو عالمی تاریخی اور ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ اس قبرستان پر معروف محققین نے

Read more

ویرناتھ: سندھ کا منفرد تاریخی مقام

ویرناتھ کا تاریخی مقام سندھ کے دادو ضلع کے خیرپور ناتھن شاہ تجصیل میں شہر خیرپور ناتھن شاہ سے تقریباً 5 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ اس مقام کے قریب اب ایک ویرل نامی گاؤں بھی ہے جو ویرناتھ کے نام کا ہی بگاڑ لگتا ہے۔ ویرناتھ کے آخر میں لفظ ”ناتھ“ کے توسط سے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ویرنانڈو کا تعلق گرو گورکھ ناتھ کے سلسلے سے تھا۔ ممکن ہے کہ ویرناتھ کے یوگ کی جگہ

Read more

مندر کو بیٹھک بنانا کہاں کا انصاف ہے؟

پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایک تاریخی مندر کو بیٹھک بنایا کیا ہے جو تاریخی بگاڑ کے ساتھ ساتھ بڑی نا انصافی بھی ہے۔ اس طرح سندھ میں بہت سے تاریخی مقامات کی اصلیت گم کی گئی ہے۔ محققین اور مورخین کی غیر سائنسی تحقیق اور غیر حوالہ شدہ رائے کی وجہ سے ان قدیم مقامات کی اصلیت اور پس منظر معدوم بنا دیا گیا ہے۔ یہی حال جامشورو سے 65 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع جامشورو میں گوپانگ ریلوے اسٹیشن

Read more

این جی مجمدار قتل کیس، ایک معمہ

برصغیر کے آثار قدیمہ کے معروف ماہر، قدیم سندھ کے ایکسپلورر اور کتاب ’ایکسپلوریشنس ان سندھ‘ کے مصنف نونی گوپال مجمدار المعروف این جی مجمدار دراصل بنگالی تھے۔ موہنجو دڑو کی دریافت کے بعد انگریز سرکار نے 1926 ء میں اسے سندھ میں مزید کھوج کے لیے بھیجا اور اس نے وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب کے 63 قدیم مقامات دریافت کیے ۔ این جی مجمدار نے وادی سندھ کی قدیم تہذیب کی کھوج دو حصوں میں کی تھی۔ پہلی

Read more

سندھ کے پہاڑوں پر قدیم تحریروں کی نقش نگاری

پاکستان سمیت دنیا بھر سے پتھروں پر نقش نگاری دریافت ہوئی ہے۔ پاکستان کا صوبہ سندھ بھی اس نقش نگاری میں مالا مال ہے۔ سندھ میں پتھروں پر نقش نگاری میں دوسری نقش نگاری کے ساتھ ساتھ قدیم تحریریں بھی ملی ہیں۔ یہ تحریریں ضلع دادو میں کیرتھر پہاڑی سلسلے اور ٹھٹھہ کے قریب ٹھارو پہاڑی پر زیادہ دریافت ہوئے ہیں۔ سندھ کا پہاڑوں پر نقش نگاری کا فن خاص طور پر پاکستان کے دیگر صوبوں میں دریافت ہونے والے

Read more

پپراسر: ایک خوبصورت آبشار

سندھ پاکستان کے کیرتھر پہاڑی سلسلے میں بہت سے خوبصورت پانی کے چشمے اور آبشار ہیں۔ پپراسر ان میں سے ایک چشمہ اور دلفریب آبشار ہے۔ پپراسر کا آبشار سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل جوہی کے تاریخی شہر واہی پاندھی کے مغرب میں کیر تھر پہاڑی سلسلے میں قدیم قلعوں، میاں جو کوٹ اور کارو کوٹ قلعہ کے درمیاں برساتی ندی نلی یا نری کے بہاؤ کے قریب تر ہے۔ نلی ندی میں بارش کے پانی کے علاوہ پہاڑوں سے

Read more

سندھ کی قدیم اجتماعی قبریں

اجتماعی قبریں دنیا بھر میں پائی گئی ہیں۔ اجتماعی قبروں پر دنیا کے ماہرین نے سائنسی تحقیقات کی ہیں دنیا کے محققین نے تحقیق کے ذریعے اہم نتیجے اخذ کر کے کتابیں لکھی ہیں۔ لیکن میری ذاتی معلومات کے مطابق پاکستان، خاص طور پر سندھ میں اجتماعی قبروں پر تحقیق نہیں کی گئی اور نہ ہی ان پر کچھ لکھا گیا ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب، بلوچستان اور بالخصوص صوبہ سندھ میں واقع قدیم اجتماعی قبروں کے متعلق کسی ریسرچ اسکالر

Read more

کائی نئیگ: سندھ کی تاریخی اور سیاحتی پہاڑی وادیاں

سندھ میں بہت سے غیر دریافت شدہ ثقافتی، سیاحتی اور تاریخی پہاڑی وادیاں ہیں جنہیں سندھ کے ساتھ پاکستان کی مرتی ہوئی سیاحتی صنعت کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان وادیوں میں عظیم وادیٔ سندھ کی تہذیب کے آثار بھی ہیں تو ان وادیوں کی دلکشی سیاحت میں اضافہ بھی کر سکتی ہے۔ ان حسین وادیوں میں سندھ کے ضلع جامشورو کی تحصیل سیہون میں کائی اور نئیگ پہاڑی وادیوں کے خوبصورت مقامات شامل ہیں۔ ضلع

Read more

ننہں جھڈڑو: سندھ میں پتھروں پر نقش نگاری کا مقام

پہاڑوں پر قدیم نقش نگاری میں پاکستان بھی دنیا کی طرح مالامال ہے۔ گلگت بلتستان سے لے کر کراچی تک پاکستان کی سرحدوں میں موجود پہاڑوں میں پتھروں پر قدیم نقش نگاری دریافت کی گئی ہے۔ پہاڑوں میں پتھروں پر قدیم نقش نگاری (Rock Carving) کے بہت سارے مقامات پاکستان کے دوسرے صوبوں میں بھی دریافت کئی گئے ہیں مگر سندھ میں کھیرتھر پہاڑی سلسلے میں ضلع جیکب آباد سے لے کر جنوب کی طرف کراچی تک پہاڑوں ہر منفرد

Read more

چارو ماچھی: خوبصورت آبشاروں کا سیاحتی مقام

بلوچستان پاکستان میں بہت سے ایسے مقامات ہیں جو سیاحتی حوالے سے بہت دلفریب ہیں۔ ویسے پورا بلوچستان صوبہ حسین مقامات اور آبشاروں میں شاہوکار ہے مگر چارو ماچھی آبشار ایک منفرد سیاحتی مرکز ہے جو بڑا دلکش اور بہت سحر انگیز ہے۔ چارو ماچھی ایک آبشار نہیں مگر آبشاروں کے ایک سلسلے کا نام کہہ سکتے ہیں۔ یہاں قدم رکھنے والے سیاح کا دل بار بار آنے کو کہے گا۔ چارو ماچھی آبشار کے مقناطیسی مناظر بار بار گھومنے

Read more

جوہی مندر – سندھ کا تاریخی ورثہ

جوہی سندھ کے ضلع دادو کا تاریخی شہر اور تحصیل ہے۔ جوہی شہر دادو شہر سے 17 کلومیٹر کے فاصلے پر مغرب میں سندھ کے صحرائی علاقے کاجھو کے قریب ترین واقع ہے۔ جوہی شہر میں بدھ مت کے اسٹوپا کے علاوہ ایک تاریخی ہندو مندر بھی ہے۔ منفرد طرز تعمیر کے حوالے سے یہ مندر سندھ کا منفرد تعمیراتی یادگار ہے جو اب جوہی شہر کے وسطی علاقے میں موجود ہے۔ مندر فن تعمیر کی نادر مثال ہے۔ اس

Read more

تھریا غار کی قدیم نقش نگاری

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کسی بھی سمت سے داخل ہونے والا کوئی بھی شخص اس کے مقناطیسی قدرتی دلکش نظاروں سے مسحور ہو کر اس کی سحر انگیزی کی گرفت میں آ جاتا ہے، کیوں کہ یہ پورا صوبہ بلوچستان منفرد قدرتی کشش کی وجہ سے گھومنے کی حسین سیر گاہ کی طرح لگتا ہے۔ اس کا وسیع ساحلی علاقہ، حیرت انگیز پہاڑی وادیاں، آبشاریں، ناقابل شکست بلند پہاڑی سلسلے اور پہاڑیاں، شاندار چشمے اور آب و ہوا انسان

Read more