ایک فتنہ گر کی کچھ گذارشات: قائد اعظم اور مودودی صاحب کے بارے میں
آج "ہم سب” پر الطاف حسن قریشی صاحب کا ایک کالم پڑھا۔ اس کالم کا عنوان تھا "فتنہ گروں کے نام”۔ یہ ” فتنہ گر” کون ہیں ؟ الطاف حسن قریشی صاحب نے ابھی تک اس راز سے پردہ تو نہیں اُٹھایا لیکن اس کالم کو پڑھنے کے بعد اس بندہ ناچیز نے رضاکارانہ طور پر اپنا نام اس گروہ میں شمار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کے لیے سب سے پہلے الطاف حسن صاحب قریشی صاحب کے اصل الفاظ پیش کرنا ضروری ہے۔ وہ تحریر فرماتے ہیں :
” اس نظریاتی کشمکش کے دوران سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریریں کانگرسی نقطۂ نظر کے خلاف ایک مضبوط ڈھال بنی ہوئی تھیں اور ان سے متاثر ہو کر مسلمان جوق در جوق مسلم لیگ میں شامل ہو رہے تھے۔ اگست 1941 میں جماعت اسلامی قائم ہوئی، تو اس نے اپنا پورا وزن مسلم قومیت کے پلڑے میں ڈال دیا۔”
یعنی آزادی سے کچھ عرصہ قبل جب لوگ مسلم لیگ میں جوق در جوق شامل ہو رہے تھے ، اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ مودودی صاحب کی تحریروں اور ارشادات کو سن کر مسلم لیگ کی طرف راغب ہو رہے تھے۔ لیکن مسلم لیگ اور جماعت اسلامی تو علیحدہ جماعتیں تھیں۔ اس کے متعلق قریشی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے قیم قمرالدین صاحب اور قائد اعظم کے درمیان ایک ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے آخر میں قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ میں ایک ریاست کو بنانے کی کوشش کرتا ہوں اور مودودی صاحب ایسے افراد تیار کریں جو کہ اس اسلامی ریاست کو چلا سکیں۔
اس اہم ترین ملاقات اور اس میں طے ہونے والی تقسیم کارکا پہلا ذکر کہاں ملتا ہے؟ اس کا ذکر قائد اعظم نے کہیں نہیں کیا۔ اس کا ذکر مودودی صاحب نے کہیں نہیں کیا۔ پہلی مرتبہ اس کا انکشاف سابق امیر جماعت اسلامی طفیل محمد صاحب کی یاداشتوں میں ہوا تھا۔
مودودی صاحب لوگوں کو مسلم لیگ کی طرف راغب کرنے کے لئے کیا کاوشیں کر رہے تھے؟ مودودی صاحب سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا۔ چنانچہ خاکسار اس کالم میں مودودی صاحب کے اصل الفاظ درج کرے گا۔ جب دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو برصغیر میں آزادی ملنے کی امید نئے سرے سے پیدا ہوئی۔ اس پس منظر میں مودودی صاحب نے مسلم لیگ کے بارے میں لکھا
"جنگ کے موقع پر جو پالیسی لیگ نے اختیار نے کی ہے وہ اصول پرستی کے ہر نشان سے خالی ہے۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ درحقیقت یہی پالیسی مسلمانوں کے ذہن کی ترجمانی کرتی ہے تو اس کے آئینے میں ہر صاحب نظر دیکھ سکتا ہے کہ ان نام نہاد مسلمانوں پر پوری طرح اخلاقی موت وارد ہو چکی ہے۔"
[مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم صفحہ 29]
گویا مسلمانوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کے لئے کہ وہ مسلم لیگ میں شامل ہوں انہیں یہ یقین دلایا جا رہا تھا کہ ان کا کوئی اصول نہیں۔ یہ صرف نام کے مسلمان ہیں اور ان کی اخلاقی موت ہو چکی ہے۔ مودودی صاحب نے مسلمانوں کو مسلم لیگ کی حمایت پر آمادہ کرنے کے لئے مزید لکھا:
"مگر افسوس لیگ کے قائد اعظم سے لے کر چھوٹے مقتدیوں تک ایک بھی ایسا نہیں جو اسلامی ذہنیت اور اسلامی طرز فکر رکھتا ہو۔ یہ لوگ مسلمان کے معنی و مفہوم اور اس کی مخصوص حیثیث کو بالکل نہیں جانتے۔۔۔ حالانکہ ایسی ادنیٰ درجہ کی سیاست کو اسلامی سیاست کہنا اسلام کے لئے ازالہ حیثیث عرفی سے کم نہیں۔ "
[مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم صفحہ30]
مسلمانوں کو مسلم لیگ میں شامل کروانے کا ایک انوکھا انداز ہے کہ انہیں یہ یقین دلایا جائے کہ پوری مسلم لیگ میں ایک بھی ایسا نہیں جو کہ اسلامی سوچ رکھتا ہو۔ مسلم لیگ والے تو یہ بھی نہیں جانتے کہ مسلمان ہونے کے معنی کیا ہیں؟
میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ الطاف حسن قریشی صاحب نے یہ نتیجہ کس طرح اخذ فرمایا کہ مودودی صاحب نے اپنا پورا وزن "مسلم قومیت” کے پلڑے میں ڈال دیا تھا۔ مودودی صاحب نے تو اس پر شدید تنقید کی تھی کہ مسلمانوں کو ایک قوم قرار دیا جائے۔ ان کے الفاظ پیش کئے جاتے ہیں۔
"میں نے قرآن اور حدیث کی شہادت سے یہ ثابت کیا تھا کہ’ مسلمان’ کی اصطلاح جس گروہ کے لئے وضع کی گئی ہے وہ دراصل ایک ‘قوم’ نہیں بلکہ ایک جماعت ہے۔ "
[مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم صفحہ34]
یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ اس دور میں مسلم لیگ اور قائد اعظم یہ کوشش کر رہے تھے کہ ہندوستان کے جن صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، انہیں ایک علیحدہ ملک کی حیثیث سے آزاد کیا جائے۔ اس بارے میں مودودی صاحب لکھتے ہیں:
"مسلمان ہونے کی حیثیث سے میری نگاہ میں اس سوال کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ ہندوستان ایک ملک رہے یا دس ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے۔۔۔ یہ کونسا ایسا بڑا مسئلہ ہے جس پر مسلمان ایک لمحہ کے لئے بھی غور و فکر میں اپنا وقت ضائع کرے۔ "
[مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم صفحہ79]
بلکہ مودودی صاحب نے تو نظریہ پیش کیا تھا کہ "اسلامی تحریک” چلانے کے لئے تو ہمیں تقسیم ہند کا مطالبہ بھی چھوڑنا ہو گا۔ وہ لکھتے ہیں
"اگر ہم تناسب آبادی کے لحاظ سے تقسیم ملک کا مطالبہ کریں تو غیر مسلموں کو ہم میں اور خود اپنے آپ میں سرے سے کوئی فرق ہی محسوس نہ ہوگا کہ وہ اپنا مقام چھوڑ کر ہماری دعوت پر لبیک کہنے کی کوئی ضرورت سمجھیں۔ اگر ہم غیر اسلامی اصول پر مشترک وطنی حکومت قائم کرنے میں حصہ لیں تو ہمارے اس فعل میں اور ہماری اس دعوت میں ایسا صریح تناقص ہو گا کہ ہماری صداقت کیا معنی، صحت عقل تک مشتبہ ہو کر رہ جائے گی۔ اس راہ پر چلنے کے لئے ہمیں سب کچھ چھوڑنا ہوگا۔ بلاشبہ اس سے ہمیں بہت نقصان پہنچیں گے۔ مگر ایسے نقصانات اٹھائے بغیر اسلامی تحریک نہ کبھی چلی ہے اور نہ چل سکتی ہے۔ "
[مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم صفحہ93]
بہر حال اسی کتاب میں ایک علیحدہ ہیڈنگ ہے ” پاکستانی خیال کے لوگ”۔ اس عنوان کے تحت مودودی صاحب نے پاکستانی خیال کے لوگوں کے اوصاف بیان کئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں
"زیادہ تر اس طبقہ پر مشتمل ہے جس نے تمامتر مغربی طرز پر ذہنی تربیت پائی ہے"
پھر مودودی صاحب کانگرس والوں اور مسلم لیگ والوں کا موازنہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
"لیکن جس چیز نے ان کی نسبت ان کی روش کو اسلام کے لئے اور زیادہ مضر بنا دیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ تو وطن اور وطنی مفاد کے نام پر لڑتے ہیں۔ مگر یہ اپنی قومی اور دنیاوی لڑائی میں بار بار اسلام اور مسلمان کا نام لیتے ہیں جس کی وجہ سے اسلام ایک فریق جنگ بن کر رہ گیا ہے۔"
[مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم صفحہ106]
گویا مسلم لیگ جو تحریک چلا رہی تھی وہ تو اسلام کے لئے مضر تھی۔ پھر سیاسی میدان میں جہاد کون کر رہا تھا ؟ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ مودودی صاحب نے اشتراکی تحریک کی عالمگیر کاوشوں کے لئے جہاد کا لفظ استعمال کیا تھا۔ انہوں نے لکھا
"آپ کے سامنے اشتراکیت کی مثال موجود ہے۔ وہ ایک عالمگیر طاقت صرف اس لئے بنتی چلی گئی کہ اشتراکی لوگ صرف اشتراکیوں کےمفاد کے لئے نہیں بلکہ اشتراکیت کے اصول کے لئے جہاد کرتے رہے۔"
[مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم صفحہ43]
اس عاجز نے معین حوالے پیش کئے ہیں۔ میں بہت ممنون ہوں گا اگر الطاف حسن قریشی صاحب مودودی صاحب کہ وہ معین الفاظ بیان فرمائیں جن میں مودودی صاحب نے لوگوں کو مسلم لیگ میں شامل ہونے کے لئے تحریک کی ہو یا اس طرف راغب کرنے کی کوشش فرمائی ہو۔


