پشاور میں نامعلوم افراد کی دن دیہاڑے فائرنگ سے مسیحی پادری قتل


پشاور میں اتوار کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے ایک پادری ولیم سراج موقع پر ہلاک جبکہ ان کے ساتھی پیٹرک زخمی ہو گئے۔

گل بہار پولیس سٹیشن نے بتایا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ پشاور میں رنگ روڈ پر واقع مدینہ مارکیٹ کے پاس دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب دونوں پادری شہیدان آل سینٹ چرچ میں عبادات ختم ہونے کے بعد گھر جا رہے تھے۔ محرر قمر شہزاد نے بتایا کہ واقعے کی ایف آئی آر فی الوقت درج نہیں ہوئی البتہ مقتول اور زخمی پادری کے رشتہ داروں نے، جو ہسپتال کی کارروائیوں میں مصروف ہیں، تھانے سے رابطہ کر لیا ہے۔

چرچ آف پاکستان کے بشپ سرفراز پیٹر نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری دہشت گردی کے خلاف مکمل طور پر متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ولیم سراج اور پیٹرک ہزارخوانی کے پاس واقع ہمارے ایک چھوٹے سے چرچ ‘شہیدان آل سینٹس چرچ’ میں مذہبی فرائض ادا کرتے تھے۔ قاتل پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے تاکہ جیسے ہی وہ نکلیں تو حملہ کریں۔’

سرفراز پیٹر کے مطابق مقتول کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2013 میں پشاور کے کوہاٹی گیٹ چرچ میں بیک وقت دو بم دھماکوں کے نتیجے میں 127 مسیحی شہری ہلاک اور 250 زخمی ہوئے تھے۔

Facebook Comments HS