احسان کا بدلہ
گاڑی کو ٹو کر لے جانا میری زندگی کا یہ کوئی پہلا تجربہ نہیں، ایک دفعہ جب نئی نئی گاڑی چلانا سیکھی تھی تو پہلی دفعہ ابو کے ساتھ ہی تھی مجھے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوئی بلکہ گاڑی چلانے کا نیا تجربہ حاصل ہوا۔ اور ایک دفعہ ایک رکشہ والے نے پیر سے دھکا لگا کے گاڑی گھر تک پہنچائی تھا۔ مگر آج جو تجربہ ہوا وہ کافی جان لیوا تھا۔
سردیوں میں گاڑی ایک دفعہ سڑک پہ کھڑی نہ ہو ایسا ممکن نہیں آج بھی یہی ہوا گاڑی پہلے رکی پھر اللہ اللہ کر کے اسٹارٹ ہوئی چونکہ دیر ہو چکی تھی تو بچوں کو گھر واپس چھوڑنے کے لیے یو ٹرن لینا پڑا اور عین پل کے بیچ گاڑی رک گئی دیکھا تو دھواں نکل رہا تھا گاڑی بہت گرم ہو چکی تھی اور گاڑی میری تھی بھی نہیں اس لیے مسئلہ سمجھنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔
سخت سردی میں پل پہ کھڑے ہو کے بس فون پہ چیزیں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اچانک ہماری گاڑی کے پیچھے ایک سوزوکی رکی اور اس میں سے ایک لڑکا اترا۔
پہلی نظر میں مجھے وہ بالکل پسند نہیں آیا۔
سنہری زنجیر جو اس کے گلے میں سب سے نمایاں تھی، ہاتھوں میں انگوٹھیاں اور کڑے
لیکن یہ حقیقت ہے ظاہری حلیہ کچھ نہیں ہوتا وہ ہمارے لیے فرشتہ بن کے آیا تھا (اللہ کراچی کے لوگوں کو ہمیشہ ایسا ہی رکھے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں سڑک پہ کھڑی ہوں اور کوئی مدد کے لیے نہ آیا ہو) کوئی آدھا گھنٹہ اس نے گاڑی کو اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی آخر میں گاڑی کو ٹو کر کے لے جانے کا ہی فیصلہ کیا گیا۔
بس یہیں سے میرا امتحان شروع ہوا اس لڑکے نے گاڑی چلائی الامان الحفیظ اور پہلے ہی کہہ دیا باجی بریک مت لگائیے گا مطلب سو کی رفتار! اور اگر وہ گاڑی روکتا ہے تو میں آرام سے اس کی گاڑی کو ٹھوک دوں۔
مجھے پورے راستے کی سڑک حفظ ہے کہاں کھڈے ہیں کہاں اسپیڈ بریکر۔
مگر میری حالت، میری پوری پیٹ اور سر سیٹ سے لگا تھا اسٹیئرنگ کو میں نے اتنا کس کے پکڑا تھا کہ لگ رہا تھا کہ ٹوٹ جائے گا آنکھیں میری باہر ابلی ہوئی ٹانگیں تو ایسا لگ رہا تھا کہ میرے قابو میں نہیں ہر تھوڑی دیر کے بعد بریک یا کلچ پہ جانے کے لیے بے تاب، اور مسلسل درود شریف کا ورد ویسے کراچی کی سڑکوں پہ آپ کتنے ہی ماہر ڈرائیور کیوں نہ ہو اللہ ہی آپ کو اور بائیک والوں کو آپ کی گاڑی سے ٹکرانے سے بچاتا ہے۔ عائشہ منزل پہ جیسے ہی اس کی گاڑی نے لال بتی جلائی بریک تو لگا خود بخود لگ گیا۔
پر رسی بھی ٹوٹ گئی پورے راستے ایمبولنس کے ہارن نے الگ پریشان کر رکھا بعد میں پتا چلا کہ یہ ہارن بھی اس لڑکے کی گاڑی کا تھا۔
مجھے دو دن کے بعد یاد آیا سارے وین ڈرائیور جن کے بونٹ نہیں ہوتے وہ ایسے ہی گاڑی چلاتے ہیں خیر زندگی کا ایک اور تجربہ حاصل ہوا۔
آخر میں ہم نے فیصلہ کیا اسے پیسے دینے کا، پیسے لینے سے وہ انکاری۔ مگر میں نے اور آپی نے بڑی بہن بن کے اسے تھما ہی دیے
بعد میں لگا کچھ زیادہ ہی دے دیے ہیں۔ انسانی فطرت مصیبت سے نکلنے کے بعد کم اور زیادہ کا تخمینہ لگانا شروع مگر مجھے امی کی ایک بات یاد آ گئی۔
وہ کہتی تھیں احسان کا بدلہ تو آپ کبھی نہیں چکا سکتے اس لڑکے نے ہماری ایک کڑے وقت میں مدد کی تھی وہ بھی گزر سکتا تھا صبح کے وقت ہر کسی کو اپنے روزگار کی فکر ہوتی ہے۔
وہ بس اپنے مسافروں کو ان کی منزل پہ پہنچا کے گھر کی راہ ہی جا رہا تھا اور مدد کی غرض سے رک گیا اس نے مانگا کچھ نہیں لیکن ہمیں لگا کہ نہ دیا تو کتنے چھوٹے پڑ جائیں گے۔
بس یہی زندگی اور اس کے طریقے ہیں کہیں کمزور لمحوں کا فائدہ اٹھا یا جاتا ہے تو کہیں لمحوں میں زندگی بانٹ دی جاتی ہے کاش یہ بات مری والے سمجھ لیتے۔ ہمیں تو سب کچھ بس اللہ ہی کی طرف سے ملتا ہے لوگ تو تو صرف وسیلے ہیں
جس نے احسان کر دیا بس کر دیا بدلہ ہم کیا دے سکتے ہیں


