سکردو کے سفر میں ایک چھوٹی سی قیامت
ان دنوں پاکستان میں ابھی کرونا کی وبا ایک نومولود بیماری کی شکل میں نمودار ہوئی تھی، ہم 13 مارچ کی رات کو پاک سٹڈیز کی اسائنمنٹ تیار کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ واٹس ایپ میں کلاس آفیشل گروپ کی ایک نوٹیفیکیشن آئی جلدی سے کھول کے دیکھا تو دوسرے چند یونیورسٹیز کی طرح ہماری یونیورسٹی نے بھی تقریباً 25 دنوں کی چھٹی کا اعلان کر دیا ہے اور انٹرنل ہاسٹل میں مقیم طلباء کو ہاسٹلز خالی کرنے کی نوید بھی سنائی ہے۔
خیر ہم تو پہلے ہی ہاسٹل سے نکل چکے تھے لیکن کچھ دوست اب بھی وہیں مقیم تھے اس لیے ان کی فکر ہو رہی تھی، اگلے دن انہوں نے بھی پیغام بھیجا کہ ہم گھروں کی طرف رخت سفر باندھ چکے ہیں سانسوں نے وفا کی تو واپس آ کر ملیں گے اور ہم نے ریپلائی دیا چلو ٹھیک ہے تم لوگ جاؤ اور فیملی کے ساتھ خوب چھٹیاں انجوائے کرو ہمارے نصیب میں تو پردیس اور ہجر کی لمبی لمبی راتیں ہیں ویسے بھی ہمیں گھر سے نکلے تقریباً 9 مہینے ہو چکے ہیں کچھ گنتی کے دن اور سہی۔ اس طرح انہیں الوداع کیا۔
اگلے دو دن بعد ہمارے ایک اور واٹس ایپ گروپ میں میسج آئی کہ جو بھی یونیورسٹی کے طلباء گلگت بلتستان کی طرف جانا چاہتے ہیں وہ فوراً ہاسٹل لان میں حاضر ہو جائیں، یہی سننا تھا کہ ہم فرط جذبات میں ہوش کھو بیٹھے اور ہینڈ بیگ اٹھا کے جھٹ یونیورسٹی پہنچ گئے، وہ تو گھر پہنچ کے چیزوں کی عدم حاضری کا شدت سے احساس ہوا ورنہ ہم تو بالکل بے فکری سے صرف ہینڈ بیگ اٹھا لائے تھے۔ اور تقریباً رات کے سات بجے یونیورسٹی بس میں وہاں سے روانہ ہو گئے، اس وقت تک کسی دوست یا گھر والوں کو بھی خبر نہیں تھی اور ہمیں بھی یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ہم واپس گھر جا رہے ہیں، ایسا لگ رہا تھا کہ یہ کوئی سہانی خواب ہو جو اکثر ہم دیکھا کرتے تھے، گاؤں کے پرسکون ماحول میں کہیں خوشگوار موڈ میں ہوتے لیکن اچانک آنکھ کھل جاتی اور خود کو کمرے میں تنہا پاکر جو کیفیت ہوتی وہ ناقابل بیان ہے۔
اب یہاں تو واقعی ہم بس میں سوار تھے اور محو سفر بھی تھے، آنکھ مل مل کے آگے پیچھے، دائیں بائیں غور کیا تو اندازہ ہوا کہ یہ تو حقیقت ہے، سو تمام دوستوں کو میسج کیا کہ آن کی آن میں مجھے جانا ہوا۔ GBSC کے تمام ذمہ داران جن کا ایڈمن جا کے پرووسٹ وغیرہ سے مل کے ہمارے طلباء کے لئے مشکل گھڑی میں سہولت فراہم کرنا واقعی قابل داد کارنامہ تھا، چونکہ ان دنوں ساری بس کمپنیوں نے احتجاجاً مکمل ہڑتال کر رکھی تھی اس لیے اگر ہمارے نمائندوں کی محنت نہ ہوتی تو ہم بھی وہیں پھنس جاتے۔
ہمارے ساتھ ایک تجربہ کار ڈرائیور جو کہ اس خطرناک روڈ پر پہلے بھی ڈرائیو کر چکے تھے، انتہائی ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ گاڑی چلا رہے تھے اور اس کی ڈرائیونگ سٹائل سے واقعی وہ اس روڈ کے ساتھ شناسا لگ رہا تھا بالکل ہمارے کے ٹو بس کے ڈرائیورز کی طرح، ایک اور ڈرائیور جس کا اس روڈ پر کوئی تجربہ نہیں تھا لہذا صرف میدانی علاقوں پہ ہی انہوں سے سٹیرنگ سنبھالی، آگے پہاڑی سلسلے شروع ہوئی تو ان کی نیند بھی بالکل غائب ہو چکی تھی حالانکہ وہ خالی سیٹ پہ آرام کر رہے تھے، ایک کنڈکٹر بھی تھا جو بہت بولتا تھا اور بڑی بڑی پہاڑی سلسلوں، جنہیں وہ زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا، کے درمیان اس پرخطر سفر کو خوب انجوائے کر رہا تھا۔ اس کا نام مجھے اچھی طرح یاد نہیں، اور ایک سکیورٹی گارڈ بھی ساتھ بھیجا تھا جو کہ انتہائی نرم مزاج اور با اخلاق شخصیت کے مالک تھے اور وہ بالکل خاموشی کے ساتھ صرف سانسیں لیتے دکھائی دیتا تھا، لیکن ان کے انداز سے معلوم ہو رہا تھا کہ اس روڈ پہ سفر کرنا ایسا ہے کہ جو کھائے پچھتائے نا کھائے بھی پچھتائے۔
چلتے چلتے اگلی شام کو ہم گلگت سٹی پہنچ گئے، گلگت مین بس اڈے پر گلگتی سارے بھائی اتر گئے، ڈرائیور کو معلوم تھا کہ اصل قیامت تو اب شروع ہونے والی ہے کیونکہ گلگت ٹو سکردو روڈ کی مرمت زوروں پر تھی اور تاریخ کی بدترین خستہ حالی ان دنوں عروج پر تھا لہذا ڈرائیور صاحب پہلے ہی ارادہ تبدیل کر چکے تھے، ہمارے طلباء کی بار بار اصرار کے باوجود وہ انکار کر رہے تھے اور یہ جواز دے رہے تھے کہ یہ بس اس روڈ پہ چلنے والی بسوں سے کافی بڑی ہے اور اس کی چوڑائی تو ان سے اچھی خاصی بڑی ہے۔
لیکن ہمارے بلتی بھائی لوگ بضد تھے کہ ہم نے سکردو تک ایگریمنٹ کیا ہوا ہے لہذا ہمیں اپنے منزل مقصود تک پہنچایا جائے، اور پرووسٹ کے ساتھ ڈرائیور کی بات کرائی، ڈرائیور بیچارا کیا کرتا حکم کی تعمیل کرنا پڑتا ہے سو جو حکم سرکار کہہ کر اس چھوٹی سی قیامت کو قبول کر لی اور نوکری بچالی لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ روڈ پہ چائنہ والے نہیں بلکہ ہمارے ایف ڈبلیو او والے کام کر رہے ہیں اور تاریخ کی انتہائی بدترین حالت پہ پہنچی ہوئی ہے، جگہ جگہ کھنڈرات، بڑے بڑے پتھروں کے ڈھیر، اور کام کرنے کے بعد مشینیں کئی جگہوں پہ سڑک کے درمیان ہی چھوڑ کے گئے ہیں، کئی جگہوں پہ تو بلاسٹنگ کر کے چھٹی کر دیے ہیں اور ایک سائیڈ سے صرف ایک گاڑی بمشکل نکل سکتی ہے۔ انہیں اندازہ تھا کہ روڈ کافی خستہ حالی کا شکار ہے لیکن اتنا اندازہ بالکل بھی نہیں تھا کہ اس قدر بری طرح مرمت ہو رہی ہے۔
بالآخر اس نے رضامندی کا اظہار کیا اور کہا کہ رات 12 بجے کے بعد ہی پٹرول کے لئے کارڈ ایشو ہوتی ہے تب تک ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔ ہم پھر سے منٹس کی گنتی شروع کرنے ہی والے تھے کہ ایک گاڑی آ رکی اور اس پر پولیس سائرن جل رہی تھی، اتنے میں ہمارے دوست مشہود بھائی اور وصیت مجید بھائی دونوں گاڑی سے اترے، یہ گاڑی مشہود بھائی کے ابو جان جناب ایس پی عبداللہ خان صاحب کی تھی۔ مشہود بھائی بہت اصرار کر رہا تھا کہ میں بس اڈے سے سیدھا گھر گیا ہوں اور گاڑی لے کے آپ دونوں کو لینے آیا ہوں، رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھا کے پھر جانے دینا ہے لیکن ہم نے ٹائم کا بہانہ کیا اور ان کی دعوت پر معذرت کر لی، پھر بھی مشہود بھائی چھوڑنے والا نہیں تھا سامنے چائے خانے لے گئے، گلگت بلتستان کی یخ بستہ موسم میں چائے خانے میں بیٹھ کر چائے کے ساتھ گرما گرم پکوڑوں کا الگ سواد ہوتا ہے، چائے کے بعد ہم دونوں (میں اور عبدالعزیز) کو بٹھا کے پورے گلگت سٹی، امپیریل مارکیٹ، جامع مسجد، کنوداس پل اور جس سکول اور کالج میں ان کی پچپن اور عنفوان شباب کے دن گزرے تھے سب دکھاتے ہوئے دلچسپ واقعات اور انمول شرارتوں کا تذکرہ بھی کرتے اور خوب مسکراتے، یقیناً ان دنوں کی شرارتیں بھی یادگار ہوتی ہیں۔
رات کے ٹھیک بارہ بجے ہم گلگت سے سکردو کی طرف نکلے تھے، انتہائی دشوار گزار سڑک، ایک طرف انتہائی گہرائی میں پرسکون دریا دکھائی دیتا تو دوسری طرف سنگلاخ پہاڑ، ایسا لگ رہا تھا کہ یہ چٹان کا ٹکڑا ابھی آ گرے گا اور ہمارے ٹکڑے کر دیں گے چونکہ گلگت سے آگے روڈ کا زیادہ حصہ انہی سخت پہاڑوں کو تراش کے بنایا گیا ہے چنانچہ ایسا خیال تو لازم تھا۔
ہمارے ڈرائیور صاحب بہت ہی احتیاط کے ساتھ گاڑی چلا رہے تھے اور جوں جوں آگے کی طرف بڑھتا سڑک کی خستہ حالی بھی بڑھتی جاتی، تقریباً رات کے 4 بج چکے تھے جب ہم ”شینگوس“ مقام کے قریب ہی کسی تنگ پہاڑی سڑک پر پھنس گئے تھے، سب اترے، ہم بھی اتر گئے اور دیکھا تو اگلا ایک پہیہ بالکل خلا میں جا رہا تھا، اس جگہ سے ’روڈ باؤنڈری‘ سلائیڈ ہو گئی تھی نیچے گہری کھائی اور بہت نیچے دریا جبکہ دوسری طرف تو مضبوط اور سخت چٹان۔
اب یہاں سے آگے جانا بالکل محال تھا پیچھے بھی کسی خطرے سے کم نہ تھا کیونکہ پہاڑوں کو چیڑ کے نکالی گئی سڑک پر دو گاڑیاں بمشکل کراس ہوتی ہے، کئی جگہوں پہ تو کراس کرنے کے لئے مخصوص جگہ بنایا ہوا ہے اور وہاں تک ریورس میں لے جانا پڑتا ہے، لیکن یہاں معاملہ کچھ اور تھا، اتنی بڑی بس اور اتنی تنگ سڑک! مجھے تو رہ رہ کر ڈرائیور صاحب کے الفاظ یاد آرہے تھے ”یہ بس آپ کے لوکل بسوں سے مختلف ہے اور کافی بڑی بھی ہے، آپ کے لوکل بسوں کو اس سڑک کے حساب سے بنایا ہوا ہے۔ یہ بس تو صرف میدانی علاقوں کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے یہ اس روڈ پہ چلنا بہت مشکل ہے“ ۔ اور وہ خود بھی بہت افسردہ لہجے میں بار بار دھرا رہا تھا کہ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا اب یہاں سے کیا کروں۔ ہم نے مان لیا اور ڈرائیور کو حوصلہ دیا کہ آپ ریورس کریں ہم سب ڈائریکشن دیں گے، اس طرح ڈرائیور نے ہمت کی اور ہم سب نے رات کی تاریکی میں اشارے دیے اور ساتھ ساتھ پیچھے چلتے گئے یہاں تک کہ ایک جگہ مل ہی گیا جہاں سے بمشکل ٹرن ہو سکتا تھا، ٹرن کر رہے تھے تو اگلا ٹائر باؤنڈری کی آخری حد پر تھی اور ڈرائیونگ سیٹ اس سے کافی آگے، یعنی ڈرائیور تو خلا میں، سیدھا نیچے دیکھو تو گہری کھائی!
خیر رات کا وقت تھا اس لئے اتنا اندازہ نہیں ہوا! لیکن ایسے موقعوں پہ ڈرائیورز کو ہمت اور حوصلے سے کام لینا چاہیے اور اپنے آپ کو مکمل قابو میں رکھنا چاہیے، باہر ہماری تو حالت یہ تھی کلیجہ منہ کو آ رہا تھا لیکن ڈرائیور صاحب نے خوب حوصلے سے کام لیا اور بس ٹرن ہو گئی۔ ہم نے ایک بار پھر واپس گلگت کی طرف رخ کر کے سفر شروع کیا۔
تقریباً صبح سات بجے ہم واپس گلگت مین بس اڈہ پہنچ گئے حالانکہ پلین کے مطابق ہمیں اس ٹائم استک نالہ پہنچنا چاہیے تھا، گلگت پہنچ کر ہمارے مہمانان، ڈرائیورز، کنڈکٹر اور سکیورٹی گارڈ ہمیں الوداع کر کے واپس اسلام آباد کی طرف نکل پڑے۔
اب کیا تھا، ہم بے یار و مددگار وہیں اڈے پر ہی ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے، ساری بس کمپنیوں کے آفسز کے دروازے کھٹکھٹائے، ویگن سروسز کے دفاتر کے بھی چکر لگائے لیکن کوئی ہماری التجا سننے کے لئے تیار نہیں تھا بالکل وہی پیر ودھائی والا سین تھا، سکردو جانے والے مسافر مجبور تھے، روزانہ کی بنیاد پر جانے والی بسیں اور ویگنز بھی احتجاج کے نام پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے تھے لیکن مجبور مسافروں کی آواز سننے والا کوئی نہیں تھا۔ کتنے ہی احتجاج ہوئے اور کتنے مسافر اسی طرح مجبور ہوتے رہے اور مشکلات کا سامنا کرتے رہے، یہی اس معاشرے کا اہم ترین المیہ ہے کہ غریب عوام ہر جگہ مجبور ہو کر پستے رہتے ہیں۔
گلگت کی سنگلاخ اور برف پوش دیو ہیکل پہاڑوں پر سورج کی پو پھٹنے کے بعد تیز ترین کرنیں پڑ رہی تھی، پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف جمی ہوئی تھی اور اس پر سورج کی شعائیں آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ نیلا آسمان بھی بالکل صاف تھا اور درمیان میں بادلوں کے ٹکڑے سجائے ہوئے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ یہ ایک مہان آرٹسٹ کی کوئی آرٹ ورک ہو۔ چاروں اطراف میں بڑے بڑے پہاڑ اور بیچ میں گلگت سٹی، مجھے کمال الہامی مرحوم کا شعر بار بار یاد آ رہا تھا کہ
”پہاڑی سلسلے چاروں طرف اور بیچ میں ہم ہیں۔
مثال گوہر نایاب ہم پتھر میں رہتے ہیں۔ ”
واقعی کمال صاحب نے کمال کر دیا تھا، ہم وہ گوہر نایاب ہیں جو پتھر کے اندر چھپا ہوتا ہے اگر احتیاط کے ساتھ توڑ کے باہر نکالا جائے تو دنیا والوں کے ہاں اس کی بہت زیادہ قیمت ہے بس ہمیں اپنے علاقے کو ایکسپلور کرنے کی ضرورت ہے۔
ہم سامنے والے کیفے میں ناشتہ کر ہی رہے تھے کہ بلاوا آ گیا تو جھٹ سے ساتھیوں کے پاس چلے گئے۔ نثار بھائی جو کہ اس وقت پریس کلب گنگچھے کے صدر ہیں، نے ایک ویگن والے سے بات کی تھی لیکن یہاں بھی ہماری مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ویگن مالک نے کہا کہ اگر ویگن چاہیے تو عام کرایہ سات سو روپے ہے تم لوگوں کو ایک ہزار فی نفر دینا ہو گا اور ہر چیک پوسٹ پہ پولیس والے سے کہنا ہے کہ ہم سے سات سو لیا ہے، اس پر راضی ہے تو ویگن بھیجتا ہوں نہیں تو تم لوگوں کی مرضی۔ ہم نے مشورہ کیا اور یہ سوچ کر کہ اگر اس آفر کو ٹھکرا دیا تو ہم آج بھی سکردو نہیں پہنچیں گے، قبول ہے کا فیصلہ کر دیا، یوں مجبوری میں مجبور ہو کر ہم اس بے ایمانی میں شریک ہوئے کیونکہ مرتا کیا نہ کرتا۔
چلاسی بابے نے ویگن سامنے پارک کر دی تھی۔ ہم اٹھارہ بندے تھے اوپر سے سب کے ساتھ بیگز بھی۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ سامان بھی بہت زیادہ اور افراد بھی سارے جوان تھے۔ میں نے کہا ’یار اس چھوٹی سی ویگن میں یہ سارے کیسے آئیں گے؟‘ عزیز بھائی کہنے لگے ’مجبوری ہے کسی بھی طرح ہم سکردو پہنچ جائیں گے‘ ۔ سامان پیکنگ کرنے کے بعد تقریباً آٹھ بجے گلگت مین اڈے سے روانہ ہوئے۔
تقریباً دن کے بارہ بجنے والے تھے، سارے ساتھی خرگوش کی نیند سو رہے تھے اور کچھ تو زوردار آواز کے ساتھ خراٹے لے رہے تھے اتنے میں ’ٹررراخ‘ کی ایک عجیب آواز کے ساتھ سب بیدار ہو گئے اور سارے ایک دوسرے کی طرف حیران و پریشاں دیکھنے لگے۔ فرنٹ سیٹ پہ براجمان الیاس بھائی نے ڈرائیور سے استفسار کیا تو وہ کچھ بڑبڑا رہا تھا در اصل وہ اپنی پوری توجہ گاڑی کو کنٹرول کرنے میں لگا رہے تھے، تھوڑی ہی دیر میں بریک لگ گئی اور وہ کہہ رہا تھا کہ کلچ کٹ پھٹ چکی ہے۔ ہم سب بالکل بے بس اور لاچار ایک دوسرے کو تکتے رہ گئے کہ اس سنسان اور بے آب و گیاہ پہاڑوں کے بیچ ہم کلچ کٹ کہاں سے ڈھونڈ لائیں۔
سب بہت پریشان تھے اور اس پریشانی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب میں نے ڈرائیور صاحب سے کہا کہ اسی کٹ پر کچھ باندھ کے آگے آبادی آنے تک جگاڑ کر لیں تو کہنے لگے کہ مجھے ویگن کے متعلق کچھ بھی معلومات نہیں ہے میں کچھ بھی نہیں کر سکتا کیونکہ میں ایک ”ٹریکٹر ڈرائیور“ ہوں اور حال ہی میں گلگت ٹو چلاس ویگن کی ڈرائیوری شروع کی ہے آپ میں سے کوئی ان چیزوں کے بارے میں جانتے ہو تو کچھ کر لو میں تو اس روڈ پر بھی پہلی دفعہ ڈرائیو کر رہا ہوں۔
یہ سنتے ہی ساروں کے رنگ زرد پڑنے لگے اور ہر کوئی سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ کچھ ساتھی اس ڈرائیور کو ڈانٹ رہے تھے جو پہلے ہی خوفناک سڑک کو دیکھ کر گھبرایا ہوا تھا اور وہ دل ہی دل میں کہہ رہا تھا کہ الہی میں نے ایسا کیا گناہ کیا تھا جس کی پاداش میں مجھے سکردو روڈ پر ڈرائیو کرنا پڑ رہا ہے۔
میں نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ بسم اللہ کہہ کر سٹارٹ کر لیں اور بریک دبائے رکھیں، ایکسلیریٹر بالکل زیرو رکھیں پھر گیئر لگائیں انشاء اللہ کوئی مسئلہ نہیں ہے لوگ بغیر کلچ کے لمبی لمبی سفر کرتے ہیں اور جب گئیر تبدیل کرنی ہو تو پھر ایکسلیریٹر بالکل زیرو کر کے کر لیں، بس شروع میں ہلکا سا جھٹکا لگے گا اسی کے ساتھ ہی آپ نے ایکسیلیٹر تیز کرنا ہے اور آپ نے بالکل بھی نہیں گھبرانا ہے۔
اس نے ایسا ہی کیا ویگن سٹارٹ ہو گئی اور میں پیچھے لٹک گیا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں چھلانگ لگا کے اتر سکوں۔
باقی ساتھیوں نے کہا کہ ہم رسک نہیں لے سکتے، ہم پیدل آتے ہیں تم لوگ جا کے جہاں سے بھی کام ہو جائے اسی وقت واپس ہمیں لینے آجانا تب تک ہم پیدل بہت آگے نکل چکے ہوں گے ۔
پہلا گیئر لگاتے ہوئے ایک جھٹکا ضرور لگا اور باقی گیئرز بھی چینج کرتے وقت جھٹکا لگتے تھے لیکن ڈرائیور کی دماغی حالت ان سب چیزوں کے لئے بالکل تیار نہیں تھا، اس کا رویہ زیادہ پریشان کن تھا۔
وہ عام معمول سے ہٹ کر گاڑی چلا رہا تھا اس کا انداز اب بالکل بدل چکا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ کسی بھی لمحہ کچھ بھی ہو سکتا ہے اتنے میں ”ٹررراخ“ کی آواز کے ساتھ گاڑی رک گئی اور انجن بھی بند ہو گیا تھا۔
میں چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور دیکھا تو ایک انتہائی خطرناک موڑ ہے اور سامنے ایک ٹرک ہے۔
ایک طرف گہری کھائی ایک طرف چٹان
سامنے سے نمودار ہوا ٹرک والا پٹھان!
ہم چٹان والے سائیڈ پہ تھے اس لئے مزید کٹنگ کی گنجائش نہیں تھی اور اترائی بھی تھی اوپر سے انجن بند تھا۔ میں آگے بڑھا اور پٹھان بھئی سے کہا کہ آپ تھوڑا پیچھے لے جائیں یا اگر آپ کے سائیڈ پہ گنجائش ہے تو آگے نکل جائیں، اس نے کہا ہم کیوں جاؤں مڑا تم پیچھے جاؤ اور ہم کو راستہ دو۔
میں نے کہا پیارے بھائی ہم بخوشی پیچھے ہٹتے لیکن اس گاڑی کا کلچ کٹ خراب ہے اس لیے مجبور ہیں اور آپ کو زحمت دے رہے ہیں۔ یہ سن کر انہوں نے کہا ”اچا چلو ٹیک ہے ہم آگے جاتا ہے“ ۔ (اس روڈ پر میں نے ہمارے اکثر بس ڈرائیورز کو پٹھانوں سے لڑتے دیکھا ہے حالانکہ ان سے اگر نرمی کے ساتھ اچھی طرح بات کریں تو یہ لوگ دل کے بہت اچھے ہوتے ہیں ) ۔ جگہ بالکل تنگ تھی اور بمشکل دو گاڑیاں گزر سکتی تھیں۔
تقریباً چار بجے ہم ایک گاؤں کے احاطے میں پہنچے جہاں سے تھوڑا آگے حال ہی میں کوسٹر حادثہ ہوا تھا اور بہت ساری قیمتی جانیں بھی لقمہ اجل بن گئی تھیں۔ اس کوسٹر ڈرائیور کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اس روڈ پہ پہلی بار آ رہا تھا شاید خوف و ہراس میں وہ گاڑی کنٹرول نہیں کر سکا ہو کیونکہ جو شہروں میں بس چلاتے ہیں ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ اس قسم کے بھی روڈ ہوں گے اور یہاں آ کر اکثر ان کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں اور وہ خود کو قابو نہیں کر پاتے۔
سڑک کے دائیں طرف ایک دکان اور مسجد، اور بائیں جانب ایک ورکشاپ اور پنکچر کی دکان تھی۔ ورکشاپ والا کافی بوڑھا سا جو کہ بلتی بھی اچھی طرح بولتا تھا ہم نے کلچ کٹ کے بارے پوچھا اور ساری صورتحال سے آگاہ کیا تو اس نے کہا کہ ویسے تو میں یہ کام کئی سال پہلے چھوڑ چکا ہوں لیکن میرے قوم کے مستقبل، آپ طلباء کے لئے میں گاڑی کے نیچے لیٹ کر کلچ بنا سکتا ہوں۔ یہ کہہ کر باریش بزرگ نے پانچ منٹ کے اندر ٹھیک کر دیا اب ڈرائیور واپس باقی ساتھیوں کو لینے گئے تھے، بھوک سے میں بالکل نڈھال تھا کیونکہ ناشتہ بھی صحیح طرح نہیں کر سکا تھا اور اب ٹائم بھی ساڑھے چار بج رہے تھے اس لیے موقع غنیمت جان کر دکان سے جوس بسکٹ وغیرہ لیا اور بھوک مٹانے کی ناکام سی کوشش کی۔
کچھ ہی لمحوں میں باقی تمام ساتھی بھی وہاں پہنچ گئے انہوں نے بھی ہلکا پھلکا کھایا پیا اور پھر آگے سفر شروع کیا۔
ڈرائیور کی اصلیت جان کر اور ویگن کی حالت دیکھ کر اب سب کی نیندیں بالکل غائب ہو چکی تھی اور سب کے زبان مبارک پر کلمے کا ورد تھا۔ استک پہنچنے کے قریب ہی ایف ڈبلیو او والوں نے بلاسٹنگ کی تھی جس کا ملبہ صاف ہونے تک تقریباً ایک گھنٹے کے لئے ہمیں روکا گیا۔ ڈیوٹی پر موجود فوجی افسر سے میں نے پانی کا پوچھا کہ وضؤ کے لئے درکار ہے تو انہوں نے پہاڑی کی طرف اشارہ کیا میں وہاں چڑھ کے گیا تو تھوڑا سا پانی جما ہوا تھا جو کہ وضو کے لئے کافی نہیں تھا۔
میں بہت بے چین تھا کیونکہ ظہر کی نماز بھی نہیں پڑھی ہے اور عصر کا ٹائم ختم ہو رہا تھا، میں واپس نیچے آیا اور سوچا کہ تیمم کر کے پڑھ لیتا ہوں، چٹان کے سایہ میں موجود ٹرک کی آڑ میں بیٹھ کر زمین پر ہاتھ رکھنے ہی والا تھا کہ اتنے میں چٹان کے اوپر سے پانی کی بوندیں گرنا شروع ہو گئی۔ میں نے سوچا کہ جب بندہ اللہ کے حکم کی تعمیل کے لئے ہمت باندھ کر نکلتا ہے تو اللہ اس کے لئے راستے آسان فرماتا ہے۔ اسی پانی سے وضو کیا اور اسی سڑک کنارے ظہر اور عصر کی نمازیں پڑھ لی۔
شام ڈھلتے ہی ہم استک نالہ پہنچے تھے، استک کا سوپ بہت لذیذ اور مشہور ہے، ہم نے سوپ چپاتی خوب تناول کیا اور بقیہ سفر کے لئے ویگن میں بیٹھ گئے۔
ڈامبوداس کراس کر کے آگے پہنچے تو گاڑیوں کی لامتناہی قطار دکھائی دیا اور تھوڑی دیر بعد ہم بھی اس قطار کا حصہ بن گئے اور انہی کے درمیان رک گئے۔ دراصل یہاں بھی ایف ڈبلیو او والوں کی بلاسٹنگ چل رہی تھی اور کہہ رہے تھے کہ دو گھنٹے کم از کم لگ جائیں گے۔
ہمارے دوسرے تمام ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ وقت گزاری کے لئے ایک محفل رکھتے ہیں چونکہ بلتی قوم ازل سے ہی روایتی رقص و سرور کے دلدادہ ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا شروع کرنا تھا کہ آگے پیچھے سے بہت سارے لوگ آتے گئے اور دائرہ وسیع ہوتا گیا، ہم تو ویگن کے اندر سونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن شور اتنا بڑھ گیا کہ اب وہاں رکنا محال ہو گیا بقول پروین شاکر
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال ہو گیا
میں اترا اور آگے نکل گیا، نسیم بھائی کو ڈھونڈنا شروع کیا، ان سے میسجنگ ہو رہی تھی لیکن رات کی تاریکی میں دکھائی نہیں دے رہا تھا، میں ان کے کوسٹر پہچان گیا اور وہاں جا کر ان سے مل لیا، وہ لوگ ہم سے ٹھیک ایک دن بعد پنڈی سے نکلے تھے اور بخیر و عافیت ہمارے ساتھ وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
دو گھنٹے گزرنے کے بعد اعلانات کانوں تک پہنچ رہی تھی کہ مزید دو گھنٹے انتظار کرنا ہو گا۔ یہ سن کر ہم نے ارادہ کیا کہ یہ دو گھنٹے ضرور سو کے گزاریں گے، ہم ویگن کی طرف چل پڑے وہاں اب کافی سنسان ماحول تھا، سارے حاضرین محفل تھک ہار کر اپنی اپنی گاڑیوں میں سو رہے تھے میں بھی چپکے سے گیا اور گاڑی میں بیٹھ گیا کچھ دیر بعد میں بھی اس ماحول کا حصہ بن چکا تھا جہاں صرف لوگوں کے خراٹے سنائی دے رہے تھے۔
رات کے تقریباً 1 بجے روڈ صاف ہو گیا اور ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ ابھی ایک گھنٹہ ہی چلا تھا کہ اس بدنصیب ویگن کے لائٹس بجھ گئے! اب کیا تھا، ایک تو اتنا لمبا سفر دوسرا یہ کہ بالکل ان ٹرینڈ ڈرائیور جو پہلی دفعہ اس سڑک پہ ڈرائیو کر رہا ہو تیسری اور سب سے خطرناک بات کہ رات کو لائٹس خراب ہو اور ڈرائیور بے چارا گاڑی کی الف ب تک نہیں جانتا ہو!
یہ ایک انتہائی خوفناک صورتحال تھا۔ ہم اگر چاہیں تو لائٹس کو ڈائریکٹ بیٹری کے ساتھ کنکٹ کر سکتے تھے لیکن خیال آیا کہ کچھ گڑبڑ ہو جائے تو اس بیچارے ڈرائیور کا کیا بنے گا، ویسے بھی گاڑی اس کی اپنی نہیں تھی۔
گاڑیوں کی قطار آگے نکل جانے تک تو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آہستہ آہستہ چلتے رہے لیکن جب ساری گاڑیاں نکل گئی تو پھر سے بریک لگایا اور اللہ پر توکل کر کے بیٹھ گئے۔
میرا یہ ایکسپیرینس ہے کہ ڈرائیورز اور سگریٹ پینے والے ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے ہیں یہاں تک کہ وہ دونوں ڈرائیور ایک دوسرے کو کبھی جانتا تک نہ ہو، اگر کہیں کسی کی گاڑی خراب ہو جائے تو دوسرا ڈرائیور اتر کے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔
ہم وہیں بیٹھے ایسے ہی کسی مسیحا کے منتظر تھے کہ ایک ٹرک والا آ کر قریب سے سلو کیا، میں نے ہاتھ ہلا کر کہا کہ اس کی لائٹس خراب ہو گئی ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے آگے آگے چلو اس کی لائٹ تیز ہے اور ہم پیچھے آئیں گے۔ سب نے شکر ادا کیا اور ویگن ایک بار پھر سے سکردو کی طرف دوڑ رہی تھی۔ یقیناً یہ ٹرک والے پٹھان بھائی ہمارے لئے مصیبت کے وقت فرشتہ بن کر نمودار ہوا تھا جس نے پورے تین گھنٹے، کچورا پہنچنے تک ہمارا ساتھ دیا۔ اللہ تمام ٹرک ڈرائیورز کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔
کچورا پہنچ کر ٹرک آگے نکل گیا اور ایک ویگن نے ہمیں سہارا دیا یہاں تک کہ رات کے پانچ بجے ہم سکردو مین بس اڈہ پہنچ گئے۔ یہاں پہنچ کر ہم نے ڈرائیور سے کہا کہ اب رات کے اس ٹائم ہم ادھر سے کہاں جائیں؟ آپ تھوڑی سی مہربانی فرمائیں کہ ہمیں مین بازار تک چھوڑ آئیں۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں یادگار چوک تک پہنچاتا ہوں۔
ہمیں یادگار چوک پہنچا کر وہ واپس چلا گیا، میں نے ماموں طاہر صاحب کو کال کیا، دوران سفر انہوں نے کئی بار کال کر کے پوچھا تھا کہ کہاں پہنچے ہو سکردو پہنچ کر مجھے اطلاع دیں میں لینے آتا ہوں۔ حسب سابق ماموں مجھے لینے آئے اور ہم ان کے گھر پہنچنے تک رات کے ساڑھے پانچ بج چکے تھے۔ اس طرح تقریباً 58 گھنٹوں کا یہ طویل، ایڈونچرس اور تھکا دینے والا سفر ختم ہوا۔
یہ ایک پرانی تحریر تھی لیکن اب سکردو روڈ مکمل ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں صرف 15 سے 20 گھنٹوں میں پنڈی سے سکردو بآسانی پہنچ سکتا ہے، یہ سیاحت کے حوالے سے خوش آئند بات ہے۔

