پاکستان میں جاری انجینئرنگ بمقابلہ ٹیکنالوجی حقوق کی جنگ پر ایک جائزہ


یوں تو پاکستان میں انجینئر اور ٹیکنالوجسٹ پرانے حریف ہیں۔ دونوں کی پیشہ وارانہ مخالفت بھی چلتی رہتی ہے۔ نوکری کی جگہوں پر دونوں فریقین کی دھڑا بندیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انجینئر نوکری پر اپنی برادری کو ترجیح دیتا ہے اور ٹیکنالوجسٹ بھی حسب توفیق اپنی برادری کا ساتھ دیتا ہے (یہ مخالفت ہر جگہ پر لاگو نہیں ہوتی) ۔ دونوں برادریوں کے ایک دوسرے کی کردارکشی کے درجنوں واقعات ہیں۔ یہاں تک کہ نوکری کی جگہ پر باقاعدہ مقابلہ بازی ہوتی ہے (انجینئر سمجھتا ہے کہ ٹیکنالوجسٹ کو میرے نیچے رہ کر کام کرنا چاہیے جب کہ ٹیکنالوجسٹ سمجھتا ہے کہ میں اس سے بالاتر ہوں ) ۔

جب سے ’ہائر ایجوکیشن کمیشن‘ نے بھرتی کے لئے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کو برابر قرار دیا ہے، تب سے یہ معاملہ زیادہ سنگین ہو گیا ہے۔ انجینئرنگ برادری کا کہنا ہے کہ ان کا حق سلب ہو رہا ہے۔ اسی بنا پر ’ینگ انجینئرز ایسوسی ایشن‘ نے گزشتہ روز ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے ۔ ’ٹیکنالوجی ایسوسی ایشن‘ نے انجینئرز مخالف ٹویٹر ٹرینڈز چلائے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ دونوں فریقین بشمول پاکستان انجینئرنگ کونسل اور ہائر ایجوکیشن کمیشن عدالت میں بھی آمنے سامنے ہیں۔

جائزہ:

بات فرق کی ہو تو اس کی ابتداء داخلے کی شرائط سے ہی ہو جاتی ہے۔ انجینئرنگ میں داخلے کے لئے کم از کم 60 فیصد نمبروں کا ہونا لازمی ہے، جب کہ ٹیکنالوجی میں داخلے کا معیار محض آپ کا پاس ہونا ہے۔ یہیں سے طلباء کی ذہن سازی کا آغاز ہو جاتا ہے اور ذہین طلباء برتری کی بنیاد پر انجینئرنگ کا چناؤ کرتے ہیں۔ جب کہ جن طلباء کا انجینئرنگ میں داخلہ نہیں ہو پاتا، وہ ٹیکنالوجی یا دیگر شعبوں کا چناؤ کرتے ہیں۔

یوں تو ہمارا تعلیمی معیار ویسے ہی پست ہے۔ مگر بہت سی یونیورسٹیاں ٹیکنالوجی کی کلاس اتوار کو پڑھا رہی ہیں۔ ایسا نہیں کہ انجینئرنگ کے سارے ادارے بہت اچھے ہیں مگر کوئی بھی ادارہ انجینئرنگ کی کلاس ہفتے کے ایک دن میں نہیں کروا رہا۔ کیونکہ انجینئرنگ کونسل اس کی اجازت نہیں دیتی۔ ہر یونیورسٹی میں ٹیکنالوجی کی فیس بھی انجینئرنگ کی نسبت خاصی کم ہونے کی وجہ سے ان کی فیکلٹی بھی قدرے کم قابل ہوتی ہے۔ ان کے تعلیمی نصاب بھی مختلف ہوتے ہیں۔ انجینئرنگ میں مینجمنٹ، تحقیق، تخلیق اور جدت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ جب کہ ٹیکنالوجی میں ان کے نفاذ پر توجہ ہوتی ہے۔

اعتراضات:

ٹیکنالوجسٹ کا اعتراض ہے کہ ہماری تعلیم انجینئرز سے زیادہ ہے۔ ہم تین سال کا ڈپلومہ کرتے ہیں اور انجینئرز دو سالہ ایف ایس سی، یہ اعتراض تو اسی روز ختم ہو گیا تھا جب پہلے اچھے نمبروں سے ڈپلومہ کرنے والے طالب علم کو انجینئرنگ میں داخلہ ملا اور ایک کم نمبر سے ایف ایس سی پاس کرنے والے کو ٹیکنالوجی میں داخلہ ملا۔

کچھ انجینئرز کا خیال ہے کہ سرکاری سطح پر ٹیکنالوجسٹ کو سروس اسٹرکچر اور ٹیکنیکل الاؤنس نہیں ملنا چاہیے، اس پر صرف انجینئرز کا حق ہے۔ یہ اعتراض بھی بے بنیاد ہے، ٹیکنیکل الاؤنس اور سروس اسٹرکچر ٹیکنالوجسٹ کا بھی حق ہے۔ انہیں ان کے عہدے اور کام کے مطابق سہولت و مواقع ملنا چاہئیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ انجینئرز کے علاوہ باقی سب اس سے محروم ہیں۔

تضاد ہے کہ انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کا بہت سے ممالک میں فرق نہیں تو پاکستان میں کیوں؟ ہاں بالکل ایسا ہے۔ لیکن وہاں ان کے تعلیمی معیار اور نصاب میں بھی فرق نہیں۔

تضاد ہے کہ جیسے نرس ڈاکٹر نہیں بن سکتی ویسے ٹیکنالوجسٹ انجینئر نہیں بن سکتا۔ ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔ ٹیکنالوجسٹ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ انجینئرز کو کچھ آتا نہیں وہ فنی تربیت میں ہم سے پیچھے ہیں۔ جائزہ لیا جائے تو بخوبی علم ہوتا ہے کہ پاکستان میں جس کو موقع ملا اس کی فنی تربیت میں اضافہ ہوا۔ بغیر پریکٹس کے ڈاکٹر بھی نرس سے فنی میدان میں کم علم ہو سکتا ہے۔ یہ ملنے والے مواقع ہی ہیں جو کسی بھی شخص کی تربیت میں نکھار لاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کو ایک عظیم انجینئر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی فنی مہارت کی بنا پر ناقابل تسخیر بنایا۔ اس مہارت کا موقع انہیں یورپ میں میسر آیا۔ دیگر کئی مثالیں بھی موجود ہیں۔

’پاکستان انجینئرنگ کونسل‘ کا موقف ہے کہ بھرتی میں انجینئر اور ٹیکنالوجسٹ کو برابری کا درجہ دینا ’ہائر ایجوکیشن کمیشن‘ کا اختیار نہیں۔

انجینئرز کو بھی خدشات ہیں کہ بھرتی میں انجینئر اور ٹیکنالوجسٹ کی برابری سے ان کا حق صلب ہوتا ہے۔ جب کہ ٹیکنالوجسٹ کا کہنا ہے کہ یہ برابری ان کا حق ہے اور اسے حاصل کر کے رہیں گے۔

پاکستان میں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی دونوں ہی مختلف ترتیب کے تعلیمی نصاب ہیں۔ انجینئرنگ کا کام تحقیق، تخلیق، انتظام اور جدت کا فروغ ہے، جب کہ ٹیکنالوجسٹ کا کام میدان میں اس تحقیق و تخلیق پر عملدرآمد کرنا ہے۔ بے روزگاری کے بڑھنے اور پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی پر عدم توجہ کی بنا پر دونوں کو ان کے نصاب کے مطابق نوکری ملنا ناممکنات میں سے ہے۔ ایسے میں جس کو جو موقع میسر آتا ہے، وہ اس سے مستفید ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ باقی کام بڑی سطح پر بیٹھے پالیسی سازوں کا ہے جو دونوں فریقین کے بے روزگار ممبران کو کسی نہ کسی الجھن میں پھنسا کر رکھتے ہیں۔ باقی کون کتنا قابل ہے، اس کا دار و مدار سراسر مواقع اور محنت پر منحصر ہے۔

جہاں دنیا بھر میں انجینئرز اور ٹیکنالوجسٹ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، وہیں پاکستان میں سرکاری و نجی سطح پر ان کے لئے خاطر خواہ مواقع میسر نہیں۔ یہ شعبہ کسی بھی قوم کے لئے معمار کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج امریکہ، روس، چائنہ، جاپان اور جرمنی انہیں معماروں کی بدولت دنیا میں نمایاں ہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے ملک کے یہ معمار اپنے وطن کی بجائے دیگر ممالک کو اپنی صلاحیتوں سے مستفید کرنے پر مجبور ہیں۔

اگر ہائر ایجوکیشن کمیشن برابری کا درجہ دینا چاہتی ہے، تو اس کا آغاز یکساں تعلیمی نصاب اور اداروں سے کرے۔ آغاز ہی سے یکساں تربیت اور برابری کی روایت ڈالنی چاہیے۔ اگر آغاز پر ہی فرق رہے گا تو اعتراضات ختم ہونے کی بجائے بڑھتے چلے جائیں گے۔

دوسرا حل یہ ہے کہ دونوں کا علیحدہ سے دائرہ اختیار وضع کر دیا جائے۔ اور انہیں ان کے دائرہ اختیار کے مطابق مواقع فراہم کیے جائیں۔ تاکہ کسی بھی فریق کی حق صلبی نہ ہو سکے۔

یہ مسئلہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت پالیسی سازوں کے لئے بڑا چیلنج ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کر پاتے ہیں یا نہیں۔

نوٹ:مصنف مکینیکل انجینئر ہیں اور سال 2019 میں توانائی کی درجہ بندی میں آگاہی ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments