نواز شریف اور ان کی تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں

پاکستان کی سیاست میں جمود کا سماں ہے۔ ایسا لگتا ہے اپوزیشن کے پاس عوام کو بیچنے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں۔ ایک بعد ایک بیانیہ فلاپ ہوتا جا رہا ہے۔
نواز شریف صاحب بھی اپنے سارے کارڈ شو کر چکے۔ انھوں نے پچھلے چار سالوں میں وزیراعظم عمران خان سمیت اسٹیبلشمنٹ کو ڈرانے، دھمکانے کی خوب کوشش کی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب ان کی کسی بھی دھمکی میں جان نہیں رہی۔
پچھلا پورا سال نواز شریف صاحب اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے اپنے کارکنان ورکرز اپنے پارٹی نمائندوں کو یہ تاثر دے کر رکھا۔ کہ وہ سیاست میں آج بھی بہت اہم ہیں۔ پاکستان کے طاقتور حلقے آج بھی مسلم لیگ نون کو اقتدار دینے کے لئے تیار ہیں۔ ان کی واپسی کے لئے راستے بنائے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا سمیت میڈیا پر ان کی پارٹی نمائندوں نے کمال اداکاری کے جوہر دکھاتے ہوئے گویا سب کو یقین دلا دیا کہ ڈیل ڈن ہو گئی ہے۔ پاکستان کے سینیئر ترین صحافیوں نے لکھنا شروع کر دیا تاریخیں دی جانے لگیں۔ افواہوں کا ایسا ماحول بنا کہ وزیراعظم کو بھی یہ بیان دینا پڑ گیا کہ نواز شریف کے لئے راستے بنائے جا رہے ہیں۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ہماری اسٹیبلشمنٹ کو بھی احساس ہو گیا۔ کہ افواہوں کے اس گرد آلودہ طوفان کو روکنا ہو گا۔ ورنہ یہ گرد آلود ہوائیں سب کے دیکھنے اور سوچنے کی سکت کو کمزور کر دیں گی۔ اور اس کا نقصان سوائے اسٹیبلشمنٹ کے کسی کو نہیں ہو گا۔
تبھی ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب کو پریس کانفرنس میں صحافیوں کے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں کہنا پڑا۔ کہ اگر اپ کو کوئی ڈیل کا تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے تو اپ ان سے پوچھیں کون نواز شریف صاحب سے ڈیل کر رہے ہیں۔ ان کا نام بتایا جائے۔
اس پریس کانفرنس کے بعد تو مانو جیسے افواہوں کی گرد کہیں غائب ہی ہو گئی ہو۔ ڈیل ڈیل کرتے چیختے چلاتے چہرے جیسے ساکت ہو گئے ہوں۔ حکومت کی بھی جان میں جان آ گئی ہو۔ وزیر مشیر نواز شریف صاحب کی واپسی پر زور دینے لگے۔
مسلم لیگ نون کی طرف سے نواز شریف صاحب کی واپسی کی تاریخوں کو ڈاکٹر کے مشورے سے واپسی کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ اور جب سینٹ میں اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود حکومت بل پاس کروانے میں کامیاب ہو گئی تو حکومت گرانے اور اپوزیشن کے نمبر پورے ہونے کے دعوے گویا زمین بوس ہو گئے ہوں۔
لیکن شاید امیدیں ابھی ٹوٹی نہیں تھیں۔ امید کی کرن ابھی نواز شریف صاحب کے دل میں تھی اور وہ بلاوجہ بھی نہی۔ آخر سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون کا تاحیات نا اہلی کے فیصلے کو چیلنج کرنا معمولی بات تو نہیں تھی۔ شاید ان کو اس بار بھی یقین دلایا گیا تھا۔ کہ ہم ناممکن کو ممکن کر کے دکھائیں گے۔
لیکن ایسے لگتا ہے ان کی سب تدبیریں الٹی پڑ رہی ہیں۔ دعاؤں نے جیسے اثر کرنا چھوڑ دیا ہے۔
صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون کی طرف سے دائر تاحیات نا اہلی کی درخواست پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے اعتراض لگا کر مسترد کر دی کہ انفرادی درخواست 184 / 3 کے اختیار سماعت میں نہیں آتی۔
بار متاثرہ فریق نہیں اور پانچ رکنی بنچ تاحیات نا اہلی کا فیصلہ دے چکا ہے۔ اور بار کی درخواست میں متضاد استدعائیں کی گئیں ہیں۔
دوسری طرف نواز شریف صاحب کی لاہور ہائی کورٹ میں میڈیکل پیش کر دی گئی۔ جس میں نواز شریف صاحب کے امریکی معالج ڈاکٹر فیاض شال نے سفر کرنے سے روک دیا تھا۔ انٹرنیشنل کارڈیالوجی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیاض شال کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا تھا۔
کہ انجیو گرافی کرائے بغیر لندن سے نہ جائیں۔ اگر وہ علاج کے بغیر پاکستان گئے۔ تو ان کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے۔ نواز شریف مرحومہ بیگم کلثوم نواز کی وفات کے بعد شدید ذہنی دباؤ میں ہیں۔ تنہائی کا شکار ہیں۔ ذہنی دباؤ سے ان کی بیماری مزید بگڑ سکتی ہے۔ وہ کھلی فضا میں سرگرمیاں جاری رکھیں۔ چہل قدمی جاری رکھیں۔ اور ہاسپیٹل کے قریب ہی رہیں۔ ادویات لیتے رہیں لہذا پاکستان سفر نا کریں ورنہ انھیں ہارٹ اٹیک آ سکتا ہے۔ اور اس کے علاوہ کوئی سوال ہو تو میرے ساتھ رابطہ کر سکتے ہیں۔
یہ ڈاکٹر کی رپورٹ نہیں پاکستان کی سیاست میں بھونچال تھا۔ سوشل میڈیا پر ہر طرف ان کا مذاق اڑایا جانے لگا۔ کہ اپ تو پاکستان واپسی کی تاریخیں دے رہے تھے۔ اور اب اپ برطانیہ کے کسی ڈاکٹر یا ہاسپٹل کی رپورٹ نہیں ایک امریکی ڈاکٹر کی رائے کو اپ میڈیکل رپورٹ بنا کر پاکستان کی ہائی کورٹ میں پیش کر رہے ہیں۔
اپ تو تین سال پہلے پاکستان سے اس لئے گئے تھے کہ اپ کی جان کو خطرہ ہے۔ اپ کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں۔ برطانیہ کے بہترین ڈاکٹرز کے پاس اپ کی تمام میڈیکل ہسٹری ہے۔ ان کے سوا اپ کا علاج ممکن ہی نہی۔ اپ ان تین سالوں میں ایک دن بھی یوکے کے کسی ہاسپٹل میں اپ رہے نہی۔ چلیں ان سب کو تو چھوڑیں اپ نے برطانیہ کے ڈاکٹرز کی بنی میڈیکل رپورٹس بھی جمع کروانا گوارا نہیں کیا؟
کیا برطانیہ کے ڈاکٹرز سے بہتر امریکی مقبوضہ جموں کشمیر کا ڈاکٹر شال بہتر اور قابل نکلا؟ کیا اپ کا بھروسا برطانیہ کے ہیلتھ سسٹم پر سے اٹھ گیا ہے؟
کیا نواز شریف صاحب کی تنہائی اور راتوں کو خواب میں ڈر جانا اب اتنا خطرناک مرض بن گیا ہے کہ انھیں سفر کرنے سے بھی روک دیا گیا؟
یا پھر نواز شریف صاحب کے پاس عوام کو بیچنے کے لئے کچھ نہیں رہا۔ انھوں نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ اب وہ پاکستان واپس کبھی نہیں جائیں گے؟
سیاست کی ریس میں اپنے آپ کو بادشاہ کہلوانے والا، کیا اب سیاست کی ریس سے آؤٹ ہو چکا؟
ابھی بہت سارے رازوں سے پردہ اٹھنا باقی ہے آگے سیاست میں کیا ہونے جا رہا ہے بتانا بہت کچھ باقی ہے۔

