بلوچستان: نوشکی اور پنجگور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملے، کم از کم ایک شخص ہلاک
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نوشکی اور پنجگور میں بم دھماکوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ پنجگور میں ہونے والے دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پنجگور میں دھماکہ فرنٹیئر کور کے کیمپ کے قریب ہوا، جس میں چھ اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوشکی میں دھماکے کے بعد آپریشن کلین اپ کا سلسلہ جاری ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد جانی نقصانات کے بارے میں بتایا جا سکے گا۔
میر ضیا اللہ نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے سکیورٹی فورسز کے اہلکار دہشت گردی کے سامنے سینہ سپر ہیں اور دہشت گردوں کے تمام عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔
نوشکی میں ایف سی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کی فرحت جاوید کو بتایا کہ ’دہشت گرد کیمپ کے اندر داخل نہیں ہو سکے اور گیٹ پر موجود گارڈز نے متعدد حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا جن کی لاشیں ایف سی گیٹ پر بکھری پڑی ہیں۔‘
دوسری جانب بلوچ لبریشن آرمی کے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بی ایل اے کے مجید بریگیڈ نے نوشکی اور پنجگور میں ایف سی ہیڈکوارٹروں پر حملہ کیا ہے۔
ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بلوچ فدائین کامیابی کے ساتھ درجنوں فوجی اہکاروں کو ہلاک کر کے کیمپ میں داخل ہو گئے ہیں اور تین گھنٹے سے مضبوط پوزیشن میں مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم حکام کی جانب سے اس دعوے کی تاحال تصدیق نہیں کی گئی۔
نوشکی میں پولیس کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ کلی شریف خان روڈ کی جانب سے فرنٹیئرکور کے مین گیٹ پر زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس نے قریب میں واقع پولیس سٹیشن، سول ہسپتال اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی عمارتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
پولیس اہلکار نے بتایا کہ دھماکے کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو دیر تک جاری رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف سی کے ہیڈ کوارٹر سے فائرنگ کی آوازیں بھی آنے لگیں اور یوں محسوس ہوا کہ زوردار دھماکے کے بعد ایف سی کے ہیڈ کوارٹر پر کوئی حملہ ہوا ہے یا پھر ایف سی کے اہلکاروں نے حفظ ماتقدم کے طور پر فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
نوشکی میں عینی شاہدین کے مطابق بڑے دھماکے کے بعد انھوں نے ایف سی کے ہیڈکوارٹر کے اندر ایک چھوٹے دھماکے کی آواز بھی سنی اور اس کے ساتھ شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ دیر تک جاری رہا۔
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کی آوازیں ایف سی ہیڈکوارٹر کے اندر سے آتی رہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکوں اور فائرنگ کے باعث ایف سی کے ہیڈکوارٹر کے گردونواح کے علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ دھماکے کے بعد شہر میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہو گئے ہیں۔
بعض عینی شاہدین نے بتایا کہ بم دھماکے اور فائرنگ کے چند گھنٹے بعد انھوں نے شہر کی فضا میں دو ہیلی کاپٹروں کو بھی پرواز کرتے دیکھا۔
ایف سی ہیڈکوارٹر میں دھماکے کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر سے جو تصاویر سوشل میڈیا پر آئیں ان میں نظر آرہا ہے کہ قرب و جوار کے دفاتر اور گھروں کو دھماکے سے نقصان پہنچا۔
یہ بھی پڑھیے
کیچ میں 10 فوجیوں کی ہلاکت: ‘ہم پاکستان سے ہر قسم کی دہشتگردی مٹانے کے لیے پرعزم ہیں‘
سبی: شدت پسندوں کے حملے میں پانچ اہلکار ہلاک، ایف سی بلوچستان پر حملے کیوں بڑھ رہے ہیں؟
واشک میں سکیورٹی فورسز پر حملہ، کیپٹن ہلاک، دو فوجی اہلکار زخمی
نوشکی کوئٹہ شہر سے تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر مغرب میں واقع ہے اور ضلع نوشکی کی سرحد شمال میں افغانستان سے لگتی ہے۔
نوشکی میں ماضی میں بھی بم دھماکوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم منگل کی شب جو واقعہ پیش آیا وہ نوشکی شہر کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

