کیا جاوید غامدی دہریت کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں ؟


یہ جملہ گزشتہ دنوں ایک زرخیز ذہن، کشادہ دل اور مائنڈ آرکیٹیکٹ ٹائپ مفکر سعید ابراہیم نے اپنی فیس بک وال پہ شیئر کیا تھا اور یہ ان کی زندگی کا تقریباً معمول بن چکا ہے وہ گاہے بگاہے کچھ ایسے جملے لکھتے رہتے ہیں جو غور و فکر کرنے والوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیتے ہیں اور بہت سے شوقین ایسے بھی ہوتے ہیں جو پڑھ کر غور کرنے کے بجائے فوری اپنا جذباتی سا ردعمل ظاہر کر دیتے ہیں۔ ہم ہمیشہ سے اتنی جلدی میں ہوتے ہیں کہ سوچنے کے عمل کو تھوڑی سی بھی اہمیت دینے کی بجائے فوری طور پر اول فول بکنا شروع کر دیتے ہیں صرف اس ڈر سے کہ کہیں ہمارے ایمان کی ٹرین ہم سے چھوٹ نہ جائے اسی لئے فوری طور پر گمراہ ذہن والے بندے کو منہ توڑ جواب دے کر اول درجے کا ثواب اپنی نیکیوں کی فہرست میں شامل کر لیتے ہیں۔ میں یہاں سعید ابراہیم کی کچھ پوسٹ شیئر کرنا چاہوں گا تاکہ ان کے اس جملے کی وضاحت اچھے سے ہو سکے وہ لکھتے ہیں کہ

” اس جملے کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ غامدی صاحب یہ کام جان بوجھ کر رہے ہیں بلکہ بتانا یہ مقصود تھا کہ غامدی صاحب جس ہتھیار سے مذہب کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بذات خود اس فلسفہ کا تیار کردہ ہے جس نے وحی کے مقابل دہریت کو جنم دیا۔ مسلمانوں میں سب سے پہلے یہ غلطی دوسری صدی ہجری میں معتزلہ نے کی وگرنہ اس سے پہلے مذہبی عقائد کو عقلی دلائل کی بنیاد پر سمجھنے کی کسی نے بھی کوشش نہیں کی تھی۔ مذہب میں یونانی فلسفے کا تعارف خلیفہ منصور کے زمانے میں کم و بیش 136 ہجری میں شروع ہوا جسے مامون رشید کے زمانے میں عروج ملا۔

یونانی فلسفے کے زیر اثر مسلمانوں میں جو طبیب، حکیم، سائنسدان اور ماہرین فلکیات و ریاضی و جغرافیہ پیدا ہوئے انہیں ان لوگوں نے بیک جنبش قلم کافر اور زندیق کہہ کر رد کر دیا۔ اس عقلی رواج کی بدولت ان کے پاس عقائد کی حفاظت کا سوائے فتوے کے کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ غور کیجیے تو آج بھی آرتھوڈوکس علماء اور مولوی عقائد کے دفاع کے لیے اسی ہتھیار کو کام میں لاتے ہیں۔ جب عقلی بنیادوں پر عقائد کو چھاننے کی رسم چل پڑتی ہے تو شروع میں تو یہ عقلی باتیں بہت مزہ دینے لگتی ہیں مگر جب انہی بنیادوں پر سوال سے سوال نکلنا شروع ہوتے ہیں تو بات بہت دور تک چلی جاتی ہے“

سعید ابراہیم کی اس پوسٹ کا جب ہم عقلی بنیادوں پر جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں تو ذہن میں بہت سے ”ڈاٹ“ یعنی نقطے ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ معتزلائی فکر، سر سید احمد خان، علامہ غلام احمد پرویز، مولانا مودودی، ڈاکٹر برق اور موجودہ دور میں جاوید غامدی جیسی شخصیات و فکر اپنے تئیں عقلی بنیادوں پر عقائد کو زمانہ و نئی تحقیق کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کی مخلصانہ بنیادوں پر کوشش کرتے رہے ہیں مگر ان کوششوں کے نتیجے میں جو نئے سوال پیدا ہوتے ہیں وہ بہت ہی ہوش اڑا دینے والے ہوتے ہیں اور ان چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے آخر کار انہی محققین مذہب کو پھر سے روایات کی طرف پلٹنا پڑتا ہے اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے جب کبھی بھی عقائد کو عقلی بنیادوں پر پرکھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اسی قسم کے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

اس لیے عقلی جواز ڈھونڈنے والے محققین مذہب کو بہت کم لوگ تسلیم کرتے ہیں اسی لیے غامدی صاحب کو ملک چھوڑنا پڑا، بنیادی وجہ ہمارے دیس میں عقل اور عقل والوں کا چلن ہی نہیں ہے۔ رہے ہمارے فرقہ باز قسم کے روایتی علماء جنہیں ان علمی بحثوں کی کوئی پروا نہیں ہوتی اور انتہائی معصومیت سے سائنسی فکر کو مذہبی فکر کے ساتھ نتھی کر کے مذہبی حقانیت ثابت کرنے کے چکروں میں پڑے رہتے ہیں۔ حالانکہ یہ دو بالکل ہی مختلف فکری دھاروں کو زبردستی ایک دوسرے میں گھسانے کی بچگانہ حرکت ہوتی ہے جس کا نتیجہ سوائے ذہنی انتشار کے اور کچھ نہیں نکلتا۔

عقائد کا تعلق چاہے کسی بھی مذہب کے ہوں ان کا تعلق ایمان و ایقان سے ہوتا ہے اس میں عقل کو دخل دینے کا مطلب ایمان سے ہاتھ دھونا ہیں اسی لئے ایمانیات کو ہر انسان کا ذاتی عقیدہ اور وشواس تصور کیا جاتا ہے اور ہر انسان کو اپنی ذاتی سوچ کے ساتھ جینے کی آزادی ہونی چاہیے چہ جائیکہ اس سے کسی کا جانی و مالی نقصان نہ ہو اور یہی آج کے گلوبل ورلڈ کا چلن ہے۔ سائنس خالص عقلی علم ہے جس کا سارا فوکس مادے پر ہوتا ہے اور یہ انہی چیزوں کو زیر بحث لاتی ہے جو بالکل واضح اور انسانی نگاہ کی دسترس میں ہوتی ہیں اس لئے ایمان بالغیب کو سائنس کے ساتھ مکس کرنا زیادتی ہے۔

باقی یہ سوال اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتا ہے کہ دنیا میں ملحدین کی تعداد اتنی تیزی سے کیوں بڑھ رہی ہے؟ اس بات کو جاوید احمد غامدی، احمد جاوید اور انجینئر محمد علی مرزا تسلیم کرتے ہیں، جاوید غامدی اور احمد جاوید انتہائی عاجزی سے اپنا نقطہ نظر عقلی بنیادوں پر بتانے کی کوشش کرتے ہیں اور جہاں صورتحال گمبھیر ہونے لگتی ہے وہاں پر کم ازکم ذہنی دیانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ

”میری ذاتی تحقیق اور سمجھ کے مطابق میری رائے یہی بنی ہے اور اہل علم ضرور اختلاف کر سکتے ہیں“

یہ اصحاب اپنے تئیں کھینچ تان کر اپنا موقف پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جہاں جہاں ان کی تان ٹوٹتی ہے اسے ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا صرف چند علم و فکر کے رسیا ہی جان پاتے ہیں اور اسی باریک بینی کو مدنظر رکھتے ہوئے سعید ابراہیم نے غامدی صاحب کے متعلق یہ جملہ لکھا تھا جسے بہت کم لوگ سمجھ پائے۔ کچھ عرصہ پہلے احمد جاوید سے کسی نے خدا کے وجود کے متعلق سوال پوچھتے ہوئے کہا تھا کہ جو لوگ عقلی بنیادوں پر خدا کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے ان کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

ان کا فرمانا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ سوال انتہائی پیچیدہ اور صبر آزما قسم کی سوچ و تحقیق کا تقاضا کرتا ہے اگر کسی کو یہ تحقیق و دلائل خدا کے وجود پر قائل نہ کر سکیں تو یہ فکری معذوری اور موجودہ ان باکس میٹریل کا کافی نہ ہونا ہو سکتا ہے اور اس بنیاد پر ماننے یا نہ ماننے والوں کو گنجائش دینی چاہیے ناکہ تنگ نظری کا مظاہرہ کیا جائے۔ انجنیئر محمد علی مرزا تو ملحدین سے الجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے کیونکہ ان کے نزدیک جو دہریت پھیل رہی ہے اس میں ملحدین کا اتنا زیادہ کردار نہیں ہے جتنا کہ ہمارے طبقے کے بڑوں اور انہی بڑوں کی کتابوں کا ہے اور ملحدین سے الجھنے کا مطلب ان کی نظر میں 42 سو وولٹ کی تار کو جان بوجھ کر چھونے کے مترادف ہے۔

میری نظر میں یہ ان کی مثبت سوچ ہے اور سمجھ داری کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ”اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیر نے“ یا اپنا محاسبہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ جب ہم خود سے نظریں ملانے کے قابل ہوں گے تو دوسروں سے ملا پائیں گے ورنہ ”شترمرغ ذہنیت“ کا رویہ یونہی چلتا رہے گا اور ہم اپنے ہی بندوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے۔ ہمیں سب سے پہلے علمی دیانت داری کا ہنر سیکھنا چاہیے اور علمی اجارہ دار بن کر دعوی کی زبان کو ترک کر کے اپنے ماحصل یا رائے کو عجز و انکساری اور علمی دیانت داری کے ساتھ پیش کر دینا چاہیے کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔

جس طرح سائنس یا سائنسدانوں کو جس بات کا مکمل شواہد کے ساتھ پتہ چلتا ہے تو وہ اسے بڑے اعتماد کے ساتھ پیش کر دیتے ہیں اور جس چیز کا پتہ نہیں ہوتا انتہائی عاجزی اور کھلے دل سے اپنی اس معذوری کو قبول کرتے ہیں اور خواہ مخواہ قسم کی پرسراریت قائم کرنے کی کوشش نہیں کرتے، بالکل اسی طرح مذہبی محققین کو بھی یہی رویہ اپنانا چاہیے اور آپ کی رائے سے اتفاق نہ کرنے والوں کے پیچھے لٹھ لے کر نہیں پڑنا چاہیے دراصل یہ لٹھ بازی کسی فلسفے کی سب سے بڑی کمزوری تصور ہوتی ہے۔

یہ تلخ حقیقت ہے کہ کوئی بھی فلسفہ حیات چا ہے مذہبی ہوں یا سیکولر اگر وہ وقت کا ساتھی نہیں بنتا تو اسے زوال کے پاتال میں اتر نے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ وقتی لفاظی کے سہارے یا گول گول دلائل سے کچھ دیر تک تو خود کو بہلایا جاسکتا ہے زیادہ دیر تک یہ ہتھیار کارگر ثابت نہیں ہو سکتا سوالات کے پیدا ہونے کا سلسلہ تو رکنے والا نہیں ہے اور یہی ارتقا کا سب سے بڑا سبق اور حقیقت ہے یا تو علمی دیانت داری کا مظاہرہ کر کے کھلے دل سے علمی خلا کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھتے جائیں یا پھر لفظوں کا مایا جال یونہی بنتے رہیں۔

ہمارا روایتی طبقہ تو فرقہ بازیوں میں الجھا رہتا ہے مگر امریکن مذہبی اسکالر یاسر قاضی اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے مفتی ابو لیث بارہا اپنی پریشانیوں کا تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہمارے لوگ بڑی تیزی سے دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور ہمارے پاس بہت ساری باتوں کا جواب نہیں ہے۔ جن مسلم سائنسدانوں کا ہم آج فخر سے حوالہ دیتے ہیں ہم نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا تھا وہ آپ پرویز ہود بائی کی کتاب اسلام اور سائنس پڑھ کر بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں ہم نے ابن رشد کی فکر کو رد کر کے ایک طرف کر دیا جب کہ یورپ نے اس فکر کو اختیار کیا اور کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا جاوید غامدی دہریت کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں ؟

  • 03/02/2022 at 8:53 شام
    Permalink

    یہ تلخ حقیقت ہے کہ کوئی بھی فلسفہ حیات چا ہے مذہبی ہوں یا سیکولر اگر وہ وقت کا ساتھی نہیں بنتا تو اسے زوال کے پاتال میں اتر نے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔
    یہ جملہ آپکی تحریر کی جان ہے۔

Comments are closed.