نصابی تعلیم


میرے ذہن میں ایک سوال ہمیشہ آتا ہے کہ کیا جو ہم پڑھ کر آئے ہیں وہ تعلیم ہم اپنے آنے والی نسل کے لیے کافی سمجھتے ہیں؟ تو اس سوال کا جواب میں خود کو "نہیں” کی صورت میں دیتا ہوں۔ اور بد قسمتی ہے کہ وہی نصاب اور طریقہ تعلیم آج بھی رائج ہے جو پچھلی نسل کے لیے تھا۔ ایک بات میں واضح کر دوں کے میری کسی بھی بات کا مطلب استاد کی عزت اور اہمیت کے خلاف نہیں ہے۔ ایک بچہ جب اسکول میں پہلا قدم رکھتا ہے تو وہ خالی کاغذ ہوتا ہے جس پر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے ماحول ارد گرد کے لوگوں اور کتابی علم کی تحریر درج ہوتی جاتی ہے۔

ذہن سازی کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا مشکل کام ہے جس کے لیے معلم کا انتخاب کیا گیا ہے اور اس لیے استاد کی اتنی قدر ہے دنیا کے کسی بھی معاشرے میں۔ ہمارا نظام تعلیم ایسا ہے کہ یہاں حکومتی سطح پہ دی جانے والی تعلیم صرف موجودہ دور کے تقاضوں سے دور نظر آتی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ملک میں چند فیصد لوگ نجی تعلیم کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں۔ یہاں ہر بچے کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے۔ ہم نے بچوں کی عزت کبھی کی ہی نہیں نہ گھر پہ نہ اسکول میں۔

عزت نفس اور خود اعتمادی ہی انسان کو بڑا اور دلیر انسان بناتی ہے اور یہ خصوصیت انسان پڑھتا نہیں سیکھتا ہے۔ جب ہم موازنہ کرتے ہیں کس نجی مہنگے اسکول سے یہ باہر کی دنیا کے نظام پہ تو وہاں سارا زور ہی بچے کے کانفیڈنس کی گروتھ پہ ہوتا ہے اور اس کا اثر ہم اپنی عملی زندگی میں دیکھتے ہیں ان دو بچوں کی زندگی کی طرف اپروچ میں۔ بچہ گھر کے بعد اسکول میں استاد کو والدین کی طرح دیکھتا ہے۔ اور اس معا شرے میں نہ ہم نے کبھی لوگوں کو تربیت دی ہے والدین بننے کی اور نہ اسکول کا نظام صرف نمبروں کے حصول کے علاوہ بنایا یا چلایا ہے۔

ایک غریب کا بچہ ہمیشہ ٹوٹا پھوٹا اعتماد لے کر ہی جیے گا ایسا کیوں ہے۔ کچھ باغی دماغ ہر جگہ ہوتے ہیں جو اپنے بل بوتے پر آگے جا کے کچھ کر لیتے ہیں لیکن وہ بھی زیادہ تر ایک اچھی نوکری کی حد تک۔ کتابی علم بہت پڑھ رہی ہے ہماری قوم ضرورت یہ ہے کہ بچوں کی ذہن سازی کریں۔ خود اعتمادی پیدا کریں۔ بچوں کی عزت کریں تبھی معاشرہ آگے بڑھے گا۔

Facebook Comments HS