وزیرستان: چراغ کس کی ہتھیلی پر دھرا ہے؟

اسی باجوڑ اسی وزیرستان اور اسی خیبر ایجنسی سمیت ان تمام فاٹا اضلاع میں ایک عرصے تک دوستوں کی دعوتیں اڑاتا اور گھومتا رہا لیکن ان علاقوں کی پسماندگی غربت اور وسائل کی کمیابی دیکھ کر ہمیشہ ایک دکھ اور رنج کے ساتھ لوٹ آتا۔
یہاں صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کے مسائل ان علاقوں کے بلند و بالا پہاڑوں سے بھی کہیں زیادہ بلند اور بھاری ہوتے
اور یہی وجہ تھی کہ ان علاقوں کے بچے شدید غربت اور تعلیمی ادارے نہ ہونے کے سبب دور افتادہ شہروں کا رخ کرتے جہاں ان کی زندگی کسی فٹ پاتھ پر جوتے پالش کرتے کسی بنگلے کی گیٹ پر چوکیداری کرتے یا کسی فیکٹری کا ایندھن بنتے خس و خاشاک کی مانند گم ہوتی۔
کئی سال پہلے میں نے ان اضلاع میں زچہ و بچہ کیسز سے متعلق اموات کی ڈیٹا نکال لی تو رات بھر سو نہیں پایا کیونکہ حقائق انتہائی خوفناک اور رنجیدہ کر دینے والے تھے
لیکن ہسپتال ڈاکٹر اور علاج معالجے کا تصور ہی نہ ہو تو ناسازگار حالات میں موت سے لڑا کیسے جائے؟
اگلے دن ایک قریبی دوست جو فاٹا اضلاع میں ہیلتھ اور ایجوکیشن سیکٹر میں کام کے حوالے سے وسیع تجربہ رکھتے ہیں نے ماضی میں تعلیم اور صحت سمیت تمام بنیادی ضرورتوں سے بے بہرہ ان اضلاع میں نئے بننے والے جدید طرز کے تعلیمی اداروں ہسپتالوں اور تعمیر و ترقی کے دوسرے کاموں کے حوالے سے ایک مفصل رپورٹ بھیجی تو مجھ جیسا امید پرست آدمی ایک سرشاری کی کیفیت میں رہا۔
یہ تمام پراجیکٹس عمومی طور پر پاک فوج کے زیر انتظام پایہ تکمیل کو پہنچے یا تکمیل کے قریب ہیں
میرے قارئین گو کہ اس تحریر سے چونک جائیں گے لیکن میرا مسلک یہی ہے کہ چراغ کا مطلب روشنی ہی ہوتا ہے کیونکہ یہ سوال بے معنی ہے کہ چراغ کس کی ہتھیلی پر دھرا ہے۔
میری سرشاری تو یہی ہے کہ مہمند ایجنسی کے جس مامد گٹ میں پرندے پیاس سے تڑپ تڑپ کر مرنے لگتے وہاں اب ایک شاندار عمارت میں قائم کیڈٹ کالج میں میری آئندہ نسلیں جدید دنیا کے علوم پڑھیں گے
اسی طرح وزیرستان کے پسماندہ علاقے سپینکئی میں کیڈٹ کالج کا قیام باجوڑ (خار) میں پبلک سکول اور گورنر ماڈل سکول اور سوات اور پارہ چنار میں آرمی پبلک سکولز کے ساتھ ساتھ بننے والے بہت سے تعلیمی ادارے قطار در قطار چراغ روشن کرتے جائیں گے
تو دوسری طرف ہسپتال اور علاج سے ناواقف ان اضلاع میں نئے بننے والے جدید طرز کے ہسپتال مجھے امید دلا رہے ہیں کہ اب مہمند خیبر وزیرستان اور باجوڑ وغیرہ میں زچہ و بچہ کیسز سے ہونے والی اموات کی ڈیٹا اس سے یکسر مختلف اور مثبت ہوگی جس ڈیٹا نے ماضی میں مجھے دکھ اور رنج سے رات بھر سونے نہیں دیا تھا
میران شاہ کے ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال یا شولم (وانا ) ہسپتال کے بارے میں صرف سنا ہے لیکن کچھ عرصہ پہلے صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ مہمند ایجنسی (ضلع ) کا ہیڈ کوارٹر ہسپتال دیکھا تو دنگ رہ گیا
ایک نوجوان صحافی نے شرارت آمیز لہجے میں میرے کان میں کہا کہ سر یہ ہسپتال اتنا خوبصورت ہے کہ میں تو یہاں خاکروب کی نوکری بھی بخوشی قبول کر لوں گا
وزیرستان میں میران شاہ بس ٹرمینل اور مکین مارکیٹ کی شاندار تعمیر پر حیرت زدہ تھا کہ نگاہ یونس خان کرکٹ سٹیڈیم پر پڑی اور امید اور سرخوشی نے حیرت کی جگہ لے لی
سال بھر پہلے کی بات ہے کہ خیبر ایجنسی (اب ضلع ) کے یخ بستہ علاقے تیراہ کے نواح میں بلند و بالا اور سرسبز پہاڑوں میں گھرے پیندہ چینہ کے ایک شاندار کمپلیکس میں ہم (صحافی ) داخل ہوئے تو دل ہی دل میں کہا کہ کوئی فوجی عمارت ہے لیکن تھوڑی ہی دیر بعد پتہ چلا کہ عمارت مقامی بچوں کے لئے بنایا گیا ایجوکیشن کمپلیکس ہے
ایک بد لحاظ صحافی کے ہاتھ سے تنقید تو جاتی رہی لیکن امید اور سرخوشی نے بھی دامن دل تھام لیا
میں نے کہا نا کہ میرے لئے چراغ اور اس کی روشنی ہی معتبر ہیں
یہ نہیں دیکھتا کہ وہ کس کی ہتھیلی پر دھرا ہے لیکن چراغ اٹھانے والا ہتھیلی کوئی بھی ہو کم از کم اس حوالے سے روشنی کا پیامبر بھی ہے اور تکریم کا قابل بھی۔

