نمازیں ہماری، حساب ہمارے
کاروبار کے دیو کی مورتی کو دل کی مسند پر بٹھائے خدائے عالم کے گھر کی نرم و ملائم صف پر خدائے واحد کی بارگاہ میں مؤدب کھڑے ہو کر قلبی صنم کے قدموں پر سر ٹیکنا معاشرے کا عام چلن ہے۔ میں وعظ ہوں نہ کوئی ناصح مگر تصوراتی صنم کو سر بازار لا کر پاش پاش کرنے کو اپنا فرض عین گردانتا ہوں۔ موجودہ معاشرے میں رہتے ہوئے مسجد کے اندر کھڑے ہو کر تجربہ اور اس تجربہ کا تجزیہ کرنے سے ایک درپردہ مگر کھلی تلخ حقیقت آشکار ہوتی ہے وہ یہ کہ میں، ہم اور آپ سب مسجد میں پندرہ منٹ کے لیے عبادت خدا لم یزل کی کرنے جاتے ہیں مگر کاروبار، پیسہ، گھر اور دکان کے مسائل میں ذہن کو مدہوش کیے رکھتے ہیں۔ با جماعت نماز ہو رہی ہوتی ہے مگر ہر رکعت میں ایک الگ مسئلہ کی گتھی سلجھانے میں ہی ہمارا سارا دھیان لگا رہتا ہے اور یہ بالکل بھول جاتے ہیں کہ بس پندرہ منٹ ہی نکال سکے تھے مسائل سے خدا کی عبادت کی خاطر مگر وہ پندرہ منٹ بھی ایسے ہی اکارت جاتے ہیں جیسے بھینس کے سامنے بانسری کے سر۔
بات کچھ اور ہی تخیل میں محو گردش تھی مگر ایک واقعہ یاد آ گیا، چلو آپ سے بیان کرتا ہی چلوں۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک مسجد میں باجماعت نماز مکمل ہونے کے بعد کچھ افراد نے کہا کہ ابھی تین رکعات ہوئی ہیں اور ایک باقی ہے جبکہ کچھ افراد اس خیال ( جو یقین کی حد تک پختہ تھا) پر متفق ٹھہرے کہ نماز مکمل ہو چکی۔ مولوی صاحب کی نظر اچانک مسجد کے گوشہ میں بیٹھے باریش بزرگ پر پڑی۔ مولوی صاحب سب نمازیان نظر سے گویا ہوئے، ”آپ سب خاموش رہیں ہم اس بزرگ، جو مسجد کے گوشہ میں تشریف رکھتے ہیں، سے دریافت فرما لیتے ہیں کیونکہ وہ معتبر معلوم پڑتے ہیں“ ۔
جب بزرگ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا، ”ابھی تین رکعات ہی ہوئی ہیں اور ایک باقی ہے۔“ زاہدوں نے استفسار کیا کہ آپ اتنے یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایک رکعت باقی ہے تو موصوف ریش سفید پر ہاتھ پھیرتے ہوئے لب کشا ہوئے، ”بازار کے کونے پر میری چار دکانیں ہیں، ہر رکعت میں ایک ایک دکان کا حساب کرتا ہوں مگر آج صرف تین دکانوں ہی کا حساب ہو پایا تھا کہ سلام پھیر دیا گیا جبکہ ایک دکان کا حساب کرنا ابھی باقی ہے، اس لحاظ سے تین رکعات ہوئی ہیں۔“
ہاں علامہ اقبال کا ایک شعر تخیل کی دنیا میں محو گردش تھا وہ ضرب کلیم میں فرماتے ہیں۔
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
عام چال چلن میں تبدیلی کی نئی جنبش پیدا کرنا یقیناً آسان نہیں ہوتا مگر جنبش کا ہویدا ہونا لازمی ہے۔ ایک ایسی جنبش پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو ضمیر کی رگ میں ارتعاش کا باعث بن کر دل کی مسند پر براجمان مورتی کو زمین بوس کرتے ہوئے پارہ پارہ کرنے کی وجہ ثابت ہو سکے۔
بال جبریل میں شامل مثنوی ”ساقی نامہ“ میں ڈاکٹر اقبال یوں قلم اٹھاتے ہیں۔
وہی سجدہ ہے لائق اہتمام
کہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرام
کاروبار کا دیو ہیتوں کی تبدیلی کے ساتھ ازل سے آدم خاکی کی فانی زندگانی کے ساتھ منسلک ہے۔ سر کو دو قدموں پر کھڑا کرنے کی خاطر اس دیو سے چھٹکارا ہرگز ممکن نہیں۔ ہاں ممکن نہیں مگر خدا کی بارگاہ میں حاضر ہونے سے قبل اس سے چھٹکارا حاصل نہ کرنا انسانیت کی شان میں گستاخی کی مانند ہے۔ کیونکہ انسانیت واحد کا نغمہ الاپتی ہے اور واحد کا نغمہ الاپنے والا دوی کا متحمل کیسے ہو سکتا ہے۔ کیسے؟


