ابو جی


والد گرامی کے متعلق لکھنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ ایک طرف رشتے کا تقدس، دوسری طرف مزاح کی ذمہ داری، لیکن کوئی بات نہیں ہم شروع سے خار دار راہ پر چلنے کی عادی ہیں۔ اس لیے قلم اٹھا کر دیکھتے ہیں۔

جب ہم نے سوچا ابو جان کا ایک خاکہ لکھنا چاہیے کیونکہ ان کی طبیعت اور ذات میں متعدد ایسے پہلو تھے کہ جن کو یاد کر کے دل خوش ہوتا ہے لیکن جب قلم کو یہ ذمہ داری سونپی تو ذہن کو ماؤف پایا۔ ان کی تمام زندگی سامنے ہونے کے باوجود کوئی بات یاد نہیں آ رہی تھی جس پر قلم کو جنبش دی جائے۔

ہم نے جب بھی ان کو دیکھا شلوار اور بنیان میں ہی پایا۔ دھوتی وہ نہیں پہنتے تھے مگر گھر میں قمیض پہننے کی زحمت بھی نہیں کرتے تھے۔ جب گھر سے باہر جاتے اس وقت قمیض پہنی جاتی، ورنہ ”بنیان زندہ باد“ ۔ بنیان اکثر اوپر ہو جاتا تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ نے بنیان نہیں بلکہ انگیہ کرتی پہن رکھی ہے۔ اکثر خواتین ہمارے گھر تشریف لاتیں تو والد صاحب کو دیکھ کر دنگ رہ جاتیں کہ کہیں ان کی آنکھوں کو دھوکہ تو نہیں ہو رہا، کیا داڑھی والی خاتون بھی ہوتی ہے۔

ابو جی پکے مسلمان تھے۔ پانچ وقت کے نمازی، روزہ کے پابند اور کثرت سے درود شریف بھی پڑھتے تھے۔ چہرہ داڑھی میں سجا ہوا، ان کا گورا رنگ خوب لشکارے مارتا تھا۔ لوگ ان کو اکثر پٹھان سمجھتے تھے۔ جب بھی گھر موجود ہوتے تو مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے تشریف لے جاتے اور ہمیں بھی ساتھ لے جاتے۔ باقی نمازوں کی تو خیر تھی لیکن فجر کی نماز کے وقت جب ہم سنہرے خواب دیکھ رہے ہوتے وہ ہم کو جگا دیتے اور نماز پر ساتھ لے جاتے۔

سردیوں میں جب وہ یہ عمل دہراتے تو والد کم اور ہماری نیند کے دشمن زیادہ لگتے۔ فجر کی نماز پر ان کا اٹھانے کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے نام لے کر پکارتے اور ساتھ کہتے اٹھو نماز کو دیر ہو رہی ہے۔ تین، چار دفعہ یہ عمل کرنے کے بعد اگر ہم ٹھس سے مس نہ ہوتے تو سردیوں میں ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار کر اٹھایا کرتے اور نماز پر لے جاتے۔ بچپن میں تو اس عمل کی خیریت تھی لیکن جوانی کے سہانے خواب سے ان کا اٹھانا ہماری طبیعت پر بہت گراں گزرتا تھا۔ لیکن ان کے سامنے دم مارنا ہمارے بس سے باہر تھا۔ اس لیے آداب فرزندگی کے مارے ان کے پیچھے پیچھے مسجد کی راہ لیتے اور دل میں ان کو کوستے جاتے، پر زبان پر اف نہ لاتے۔

ہم نے تمام عمر ان کے منہ سے ناشکری کے الفاظ نہ سنے۔ اللہ نے جس حال میں رکھا، وہ اس پر خوش اور مسکراتے رہے۔ ایک بار ہمارے بھائی سے بالکل نئی موٹر سائیکل چوری ہو گئی۔ حالات بھی اچھے نہیں تھے لیکن آپ نے اس کو اف تک نہ کہا بلکہ کہنے لگے میں دوبارہ نئی موٹر سائیکل لے دوں گا اور چوری ہونے میں تمہارا کیا قصور، اس لیے پریشان مت ہو اور کچھ دن بعد آپ نے اس کو نئی موٹر سائیکل خرید کر دی اور تلقین کی اب ذرا پہلے سے زیادہ احتیاط کیا کرے۔

آپ غصہ کے تیز تھے لیکن آپ کا غصہ آتا تھا اور چلا جاتا تھا۔ اکثر ان کو یاد بھی نہیں رہتا تھا کہ تھوڑی دیر پہلے کس بات پر اور کس سے غصہ کر رہے تھے۔ لیکن جب ان کو غصہ آیا ہوتا تو کوئی بچہ بھی ان کے قریب نہ جاتا کیونکہ نجانے غصہ میں کون سی شے ان کے ہاتھ لگے اور وہ دے ماریں۔ لیکن ابو جی کے نشانے بڑے کمزور تھے، یا وہ جان بوجھ کر ادھر ادھر اچھال دیتے تھے۔ ہم کو معلوم نہیں لیکن ان کو غصہ میں صرف والدہ ماجدہ ہی قابو کر سکتی تھیں، باقی سب ان سے دور بھاگتے تھے اور اپنے اپنے کونوں میں پناہ لیتے تھے۔

والد صاحب شوگر کے مریض تھے لیکن میٹھے کے دیوانے تھے۔ وہ اس مقولے پر یقین رکھتے تھے کہ ’لوہے کو لوہا کاٹتا ہے‘ ۔ اس لیے شوگر کو میٹھے سے ختم کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔ ان کو ہر وہ شے پسند تھی جس میں میٹھا ہو مثلاً دودھ جلیبی، دیسی گھی شکر، آم، آملہ، خمیرہ گاؤ زبان وغیرہ وغیرہ۔ ہفتے میں تین دن وہ ضرور دودھ جلیبی کھاتے تھے تاکہ طاقت بحال رہے۔ باقی دن دیسی گھی اور شکر سے گزارہ کرتے تھے۔ آموں کے موسم میں تین وقت آم کی خوراک استعمال کرتے تھے۔

آم کے ساتھ ملائی ان کی پسندیدہ خوراک تھی۔ ایک کیمرہ مین کم حکیم صاحب آپ کو مل گئے، انہوں نے آپ کے لیے مربہ جات بنائے۔ آپ نے کھائے کہ آپ کی شوگر گلوکومیٹر پر ایرر بن جاتی یعنی اتنی زیادہ ہوتی کہ مشین اس کو ماپنے سے انکار کر دیتی۔ ان مربہ جات کے بعد آپ کی طبیعت سنبھلی نہیں بلکہ بد سے بد تر ہوتی چلی گئی۔

آپ کو انگریزی لباس سے نفرت تھی اس لیے پینٹ کو ”چوت کسی“ کہتے تھے اور اس کو پسند نہیں کرتے تھے، خاص طور پر آپ کو جینز ذرا نہیں بھاتی تھی۔ ان کا خیال تھا مرد کی شان داڑھی مونچھوں میں ہے، ”مچھ نہیں تے کچھ نہیں“ ۔ جب ہم نے داڑھی مونچھ سے جان چھڑائی ہم کو تو وہ فالتو شے معلوم ہوئی۔ وہ ہم سے بہت شدید ناراض ہوئے اور کہا کہ کم از کم مونچھیں رکھو لیکن ہم ان کے سامنے خاموش رہے لیکن کلین شیو برقرار رکھی تو انہوں نے ہم کو ٹوکا نہیں۔

ان کی حس مزاح خوب تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج ہم طنز و مزاح لکھ رہے ہیں۔ وہ جب بھی کسی پر طنز یا مذاق کرتے تو خود نہیں ہنستے بلکہ دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے کہ پکا منہ کر کے کتنی دلچسپ بات کر رہے۔ ان کی اس عادت کی وجہ سے کچھ لوگ آپ سے دور بھی رہتے تھے کہ آپ کو طنز کے نشتر چلانے کی عادت ہے کہیں وہ نہ اس کا نشانہ بن جائیں۔

ابو جی شوگر سے لڑتے رہے۔ وہ 25 سال اس مرض میں مبتلا رہے اور ڈٹ کر میٹھا کھایا۔ آخر کمزور بدن نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ پہلے شوگر نے آنکھوں پر حملہ کیا، پاؤں پر حملہ کیا اور آخر گردوں کو بیکار کیا۔ کہتے ہیں گردے ایک بار خراب ہو جائیں تو ٹھیک نہیں ہوتے۔ یہی ان کے ساتھ ہوا۔ ہم نے کوشش کی کہ گردہ تبدیل کرایا جائے لیکن شوگر نے ان کے جسم کو اتنا کمزور کر دیا تھا کہ وہ اتنے بڑے آپریشن کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔

اس لیے ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ اس کا رسک نہ لیا جائے۔ وفات سے پہلے وہ پندرہ دن کے لیے قومہ میں چلے گئے۔ جب ان کا الیکٹرو لائٹس بیلنس خراب ہوا۔ اس دور میں وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھے۔ باتیں کرتے کرتے سو جاتے، نماز پڑھتے بھول جاتے۔ ان کو اکثر باتیں بھول گئی تھیں۔ وہ دن میں بیس بیس بار نماز کا ارادہ باندھتے اور بھول کر بے ہوشی میں چلے جاتے۔ جب وہ قومہ سے اٹھے تو انہوں نے طے کیا کہ اب وہ نئی زندگی گزاریں گے، بالکل بدپرہیزی نہیں کریں گے اور باقاعدگی سے ورزش یعنی چہل قدمی کیا کریں گے۔

اس سے پہلے جب بھی ہم نے ان سے ورزش کرنے کا کہا تو یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ ہمارے بڑوں نے کبھی ورزش نہیں کی ہم کیوں کریں۔ لیکن وہ بھول جاتے تھے ان کے بڑوں کو گاڑی، موٹر سائیکل کی سہولت حاصل نہیں تھی، وہ پیدل چلا کرتے تھے۔ لیکن وقت گزر چکا تھا اور بیماری نے ان کے تمام اعضائے رئیسہ کو زنگ لگا دیا تھا۔ آپ قومہ کے بعد صرف پندرہ دن زندہ رہے۔ وقت رخصت آپ کی زبان پر کلمہ حق جاری تھا اور وہ رب کا شکر پڑھتے جا رہے تھے۔

خدا ان کو غریق رحمت کرے، آمین

Facebook Comments HS