مہنگائی کا بھوت: واپڈا اور غریب عوام پر ڈاکا


کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں تین دوست سینما فلم دیکھنے گئے تو ان کے سامنے ہال میں ایک گنجا آدمی بھی بیٹھا تھا۔ گنجے کو دیکھ کر ان تینوں کو شرارت سوجھی۔ انہوں نے آپس میں شرط لگائی کہ کوئی دوست اس گنجے کے سر کو ہاتھ لگا کر دکھائے گا تو اسے پانچ سو روپے ملیں گے۔ کافی سوچ بچار کے بعد ان میں سے ایک شرارتی دوست تیار ہو گیا اور گنجے آدمی کے قریب پہنچ کر زور سے اس کے سر پر ہاتھ مار کے بولا۔ ”ارے جمیل بھائی!! کیا حال ہے تیرا؟ گنجے نے غصے سے کہا۔“ میں جمیل نہیں ہوں ”شرط لگانے والا معذرت کر تا ہوا اپنی جگہ واپس آ گیا اور پانچ سو روپے لے لیے ۔ کچھ دیر بعد دوسرے دوستوں نے پھر اسے اکسایا کہ“ اگر اس بار اسے مارو گے تو تمہیں ہزار روپے ملیں گے۔ ”اس نے کچھ لمحے سوچا اور پھر ہمت کر کے گیا۔ گنجے آدمی کے سر پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے اس نے کہا۔“ دیکھو یار! مذاق نہ کرو، تم ہی میرے دوست جمیل ہو! ”۔ گنجا آدمی غصے سے لال پیلا ہو کر بولا“ تجھے ایک بار کہا تو ہے میں جمیل نہیں ہوں۔

شرارتی دوست اپنی مسکراہٹ کو چھپاتے ہوئے ایک بار پھر معذرت کرتے ہوئے، واپس آیا اور اپنا انعام لے لیا۔ اس دوران وہ گنجا آدمی غصے میں بڑبڑاتا ہوا ہال سے نکل کر اوپر باکس میں جا بیٹھا۔ شرارتی دوستوں نے پھر اپنے اس دوست کو لالچ دیتے ہوئے کہا ”اب اگر تم اسے مارو تو پندرہ سو روپے ملیں گے۔“ اس بار اسے یہ شرارت ایک کوہ گراں لگ رہی تھی لیکن پھر بھی وہ اٹھا اور باکس کی طرف چل دیا۔ گنجے کے سر پر زور سے تیسری بار ہاتھ مارتے ہوئے بولا!

”ابے یار جمیل! تو یہاں بیٹھا ہے میں نیچے ہال میں تیری غلط فہمی میں کسی اور کو مارتا پھر رہا ہوں!“ اسی لطیفے کو پڑھ کر مجھے پاکستان واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی غریب عوام کے مہنگائی سے گنجے ہوئے سر پر مختلف ٹیکسوں کی مد میں لگائی گئی تھپڑ یاد آ رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے جب سے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہیں، عوام کو کوویڈ اور مہنگائی نے تو چاروں شانے چت کر ہی دیا ہے لیکن واپڈا کی کرم فرمائیوں نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا ہوا، صارفین کے نازک کندھے استعمال شدہ ہائیڈل سے زیادہ تھرمل پاور کا بوجھ تو اٹھا ہی رہے ہیں لیکن مہیا شدہ بجلی پر مختلف ٹیکسوں کی مد میں جو تھپڑ ماری جار ہی ہیں، وہ ناقابل برداشت ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گھریلو صارفین کو مہیا کی جانے والی بجلی کون سی ایسی قیمتی چیز سے تیار ہو رہی ہے کہ جو بھی حکومت آتی ہے، وہ بھر پور کوشش کرتی ہے کہ بل بجلی کے نام پر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جائے۔ دیکھا جائے تو پاکستان میں ہائیڈل اور الیکٹرک پاور کے علاوہ کراچی کے لئے ایک محدود پیمانے پر ایٹمی پاور کے ذریعے بجلی فراہم کی جا رہی ہے لیکن کیا پانی سے پیدا ہونے والی بجلی مہنگی ہے یا تھرمل پاور میں سونے جیسی دھات کو پگھلا کر بجلی پیدا کی جا رہی ہے؟

افسوس کا مقام یہ ہے کہ صنعتوں کو ارزاں بجلی اس لئے فراہم کی جا رہی ہے کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ نہ پڑے لیکن اس سے دگنا بوجھ بل بجلی کی صورت میں بطور غنڈا ٹیکس عوام سے وصول کرنے کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی لائسنس کی مد میں ہر ماہ 35 روپے کے ساتھ ساتھ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں عوام کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ کم از کم 15 سال سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ انکم ٹیکس، ایف سی سرچارج، میٹر اخراجات، ٹیرف اخراجات، جی ایس ٹی، الیکٹریسٹی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اضافی ٹیکس اور پھر اضافی ٹیکس کی مد میں ہر ماہ عوام کی جیب خالی کرنے کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔

ان تمام شرح جات کے علاوہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر بھی سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس وقت ملتان ریجن کا رہائشی ہونے کے ناتے، میں حکومتی چارجز کے ساتھ ساتھ میپکو چارجز بھی پابندی سے ادا کر رہا ہوں۔ میرے سامنے پڑا استعمال شدہ 161 یونٹ کا 3094 روپے سکہ رائج الوقت کا بل میرا فشار خون بلند کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان 161 کلو واٹ آور کا فی کلو واٹ آور 18.14 روپے بل مجھے بھیجا گیا ہے۔ حالانکہ مجھے عام صارفین میں شمار کیا جاتا ہے۔ واپڈا کے قواعد کی رو ایسے صارفین جو 300 تک ماہانہ بجلی کے یونٹ استعمال کرتے ہیں وہ عام صارفین کہلاتے ہیں، جنھیں بجلی کے نرخوں میں خاص رعایت حاصل ہوتی ہے۔ ایسے صارفین سنگل فیز میٹر استعمال کرتے ہیں، جس میں وہ گرمیوں میں گھر میں ایک ائرکنڈیشنر چلانے کے بجائے زیادہ سے زیادہ ائر کولر استعمال کرتے ہیں۔ ان صارفین کی تعداد تو 70 فیصد سے بھی زیادہ ہے مگر 86 فیصد بجلی میں سے یہ 31 فیصد بجلی استعمال کرتے ہیں۔

باقی 51 فیصد وہ صارفین ہیں جو ماہانہ 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو شتر بے مہار واپڈا کو مکمل بوجھ یہ 70 فیصد عام صارفین ہی اٹھا رہے ہیں، لائن لاسز کے ساتھ ساتھ چوری شدہ بجلی اور واپڈا ملازمین کو مفت دی جانے والی بجلی کی قیمت بھی غریب عوام کو برداشت کرنا پڑ رہی ہے، اس کے علاوہ یاد دلاتا چلوں کہ ہمارے ملک میں ایسے بہت سے محکمے ہیں جو عرصہ 20 یا 30 سال سے واپڈا کے ڈیفالٹر چلے آ رہے ہیں لیکن افسر شاہی ان محکموں کے بجلی میٹر کاٹنے کی جرات نہیں رکھتی۔

ملتان شہر کی مثال لے لیں، گزشتہ ہفتے کی ایک خبر کے مطابق مارکیٹ کمیٹی واسا اور واپڈا ٹاؤن جیسے صرف دو محکمے ایک کروڑ سے زیادہ کے ڈیفالٹر ہیں، اس کے علاوہ ہمارے وطن عزیر میں سینکڑوں ایسے محکمے ہیں جو کروڑوں روپے کے نادہندہ ہیں۔ اس کے علاوہ واپڈا کیے لئے سب سے بڑا چیلنج کرپشن اور بجلی چوری سے نمٹنا ہے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس سلسلے میں کوئی بھی حکومت ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بجلی چوروں کے خلاف مختلف ٹیمیں ہی تشکیل دے دی جاتی ہیں لیکن ریکوری اور سد باب ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔

سب سے اہم عنصر یہ کہ بڑے بڑے دیہات اور قصبہ جات میں واپڈا اہلکار ان کی ملی بھگت سے گھریلو صارف میٹر سے بجلی کمرشل دکانوں، ڈیری اور پولٹری فارمز کے ساتھ ساتھ مقامی خشت بھٹہ جات کو مہیا کی جاتی ہے جس کی وجہ سے واپڈا کو ایک بڑا خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ میرے مشاہدے میں کئی ایسے دکاندار بھی ہیں جو واپڈا عملے کو نوٹوں کی چمک دکھا کر مختلف دکانوں کو کنکشن دے رہے ہیں تاکہ ان کو اپنا بل بچ جائے۔ جہاں تک رینٹل پاور کمپنیوں کی بات ہے تو انہوں نے اپنی فروخت شدہ تمام بجلی یونٹس کا بل واپڈا سے وصول کرنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے مختلف ذرائع سے چوری شدہ بجلی کے تمام اخراجات عام صارفین کی جیب سے ہی پورے کیے جاتے ہیں۔

ان تمام شہ خرچیوں کے علاوہ، سب سے اہم مسئلہ واپڈا ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی ہے۔ اس وقت محکمہ واپڈا جیسا سفید ہاتھی اپنے دو لاکھ سے زائد ملازمین کو مفت بجلی فراہم کر رہا ہے۔ ایک غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق لائن مین کو ہر ماہ 150 یونٹ، ایس ڈی او کی سطح پر 300 یونٹ ماہا نہ اور ایکسیئن کی سطح کے افسر کو 1800 یونٹ ماہانہ بجلی مفت فراہم کی جا رہی ہے۔ فرض کریں کہ ان دو لاکھ میں سے پچاس ہزار افسران کو ہر ماہ 1800 یونٹ فی کس مہیا کیے جائیں توکل 9 کروڑ یونٹ، اور بقیہ ڈیڑھ لاکھ ملازمین کو 150 فی یونٹ مفت مہیا کیے جائیں تو کل 2.25 کروڑ یونٹ یہ بھی بنتے ہیں، ان تمام اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہے کہ کم از کم 10 کروڑ ماہانہ یونٹ کا بوجھ عام صارف اٹھاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ واپڈا خسارہ کم کرنے کرنے کے لئے حکومت حتی الامکان کوشش کرتی ہے کہ غریب عوام کی بوجھ پر ہی ڈاکا ڈالا جائے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے کی بجائے کسی ایسے مسیحا کے انتظار میں ہے جو اس نظام کو ٹھیک کر سکے لیکن کنٹینر پر کھڑے ہو کر عوام کو بجلی کے بل پھاڑ کر دکھانے سے اگر کام چلتا ہو تو کون پاگل ہے جو ہمارے حقوق کے لئے لڑے۔ آج بھی وقت ہے کہ ہم عوام اپنے حقوق کے لئے احتجاج کریں، بجائے یہ کہ پھر کسی ایسے مداری کو منتخب کیا جائے تو صرف وعدہ فردا پر ٹرخانے کے لئے سامنے آ جائے۔ میری یہی گزارش ہے کہ جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانے اور اس کا شفاف احتساب کرنے کے علاوہ، خالی خولی وعدوں پر ٹرخانے والے سیاستدانوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔

Facebook Comments HS