مقامی جمہوریت کا نظام اور عدالتی فیصلہ


پاکستان میں مقامی سیاست، جمہوریت، طرز حکمرانی اور عوامی مفادات پر مبنی سیاست کا ایک بنیادی نقطہ ”مضبوط اور خود مختار مقامی حکومت“ کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم کئی دہائیوں سے جاری جمہوری سفر یا اس کے ارتقائی عمل میں جمہوریت کی بنیادی کنجی یعنی ہم مقامی حکومت کے نظام کو اپنی سیاسی ترجیحات میں کوئی بڑی اہمیت نہیں دے سکے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں جمہوریت سمیت مقامی سطح پر جمہوریت کا مجموعی عمل کمزور بھی ہے اور عام آدمی کے مفادات کے برعکس بھی نظر آتا ہے۔ جمہوریت اور سیاست سے جڑے وہ افراد جن کی ترجیحات میں مقامی جمہوریت کا نظام ہے ان کو سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادتوں کے مقابلے میں عدالت کی جانب دیکھنا پڑتا ہے۔ ان کو لگتا ہے کہ اگر یہ نظام اپنی سیاسی جگہ یا ساکھ قائم کر سکا تو اس میں عدالتوں کے فیصلے زیادہ اہمیت کہ حامل ہوں گے ۔

سندھ مقامی حکومت کے نظام کے تناظر میں حالیہ سپریم کورٹ کا عدالتی فیصلہ یقینی طور پر ایک بڑا فیصلہ ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد یہ فیصلہ ایم کیو ایم کی درخواست پر سنایا۔ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کی جانب سے درخواستیں 2017 میں دائر کی گئیں تھیں۔ اس مقدمہ کا فیصلہ 26 اکتوبر 2020 کو محفوظ کیا گیا تھا جسے یکم فروری 2022 میں سنایا گیا۔ یعنی پانچ برس بعد یہ فیصلہ سنایا گیا ہے۔ اس فیصلہ میں چار بنیادی اصول وضع کیے گئے ہیں۔

اول سندھ حکومت صوبہ میں با اختیار مقامی حکومتوں کے نظام یا اداروں کو قائم کرنے کی پابند ہے جس کے تحت ان اداروں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کی منتقلی شامل ہے اور اس نظام کو اسی شق کی مدد سے تشکیل دیا جائے۔ دوئم سندھ مقامی نظام حکومت 2013 کی شق 74، 75 کو کالعدم قرار دیا گیا ہے جس میں صوبہ کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اس نظام کو کسی بھی وقت ختم یا تحلیل کر سکتی ہے۔ سوئم سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کے ڈی اے قوانین کو آئین کے مطابق ڈھالنے، واٹر بورڈ قانون، ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور حیدرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی، سیہون اور لاڑکانہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قوانین کو تبدیل کرنے یا ترمیم کرنے

کا حکم دیا گیا ہے۔ چہارم فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومت کے تحت آنے والا کوئی نیا منصوبہ صوبائی حکومت شروع نہیں کر سکتی اس کے لیے اسے مقامی حکومتوں سے مشاورت کرنا ضروری ہے۔ پنجم شہروں کے ماسٹرز پلان بنانا اور اس پر عملدرآمد مقامی حکومتوں کے اختیارات ہیں جسے صوبائی حکومت سلب نہیں کر سکتی۔ ششم جہاں صوبائی و مقامی حکومتوں کے اختیارات میں تضاد ہے ان شقوں میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کی جائیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سندھ حکومت اس فیصلہ کو بنیاد بنا کر واقعی سندھ میں ایک مضبوط اور خود مختار مقامی حکومت کے نظام کو تشکیل نو میں مثبت کردار ادا کرے گی یا عدالتی فیصلہ کے برعکس روایتی، کمزور اور لاغر قسم کا مقامی نظام کو چلانے پر ہی سیاسی اکتفا کرے گی۔ لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک کی میں موجود چاروں صوبائی حکومتوں کو پابند کرنے، ان پر دباو بڑھانے یا ان کو ایک واضح اور شفاف پالیسی گائیڈ لاین دینے میں معاون ثابت ہو سکے گا؟

کیونکہ مقامی حکومتوں کی خود مختاری اور ان میں تسلسل سمیت مکمل اس نظام کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کا مسئلہ محض سندھ تک محدود نہیں۔ یہ قومی مسئلہ ہے اور چاروں صوبوں میں طرز حکمرانی یا گورننس کے بڑے بحرانوں کی ایک بڑی بنیادی وجہ مضبوط اور مربوط مقامی حکومتوں کے نظام سے انحراف کی پالیسی ہے۔ اس وقت جو چاروں صوبوں کی سطح پر جو مقامی حکومتوں کے نظام سے جڑے قوانین ہیں ان کا مسئلہ ہی عدم شفافیت اور آئین کی شق 140۔ Aاؤ ر 32 سے مکمل طور پر سنگین انحراف کی پالیسی ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک میں مقامی جمہوریت کی جنگ سیاسی اور قانونی محاذ سمیت اہل دانش کی سطح پر موجود ہے اور یہ جنگ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں سیاسی اور قانونی محاذ پر جاری ہے۔ بدقسمتی سے جو فیصلے سیاست اور جمہوریت کے تناظر میں سیاسی حکومتوں اور سیاسی پارلیمانی فورمز میں ہونے چاہیے تھے وہ عدالتوں کے محاذ پر اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس حالیہ عدالتی فیصلہ میں سندھ مقامی حکومت کے نظام کی شق 74۔ 75 کو کالعدم قرار دیا گیا ہے لیکن یہ شق تمام صوبائی نظام میں موجود ہے اور کیا ہر صوبہ کی جنگ اپنے اپنے تناظر میں عدالتی محاذ پر ہی لڑی جائے گی۔

اگرچہ حالیہ سپریم کورٹ کا فیصلہ سندھ حکومت اور اس کے مقامی نظام حکومت تک موجود ہے اور اسی طرز کا ایک بڑا فیصلہ ہمیں پنجاب میں بھی عدالتی جنگ کی صورت میں دیکھنے کو ملا تھا۔ لیکن اب واقعی ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت سمیت چاروں صوبائی حکومتیں مل بیٹھ کر سیاسی اتفاق رائے کی مدد سے کچھ بنیادی اصول اور سیاسی، انتظامی اور مالی فریم ورک پر متفق ہونا ہو گا جو ملک میں مضبوط اور مربوط مقامی نظام حکومت کی تشکیل میں معاون ثابت ہو سکے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلہ نے ایک بنیادی نقطہ کی نشاندہی بھی کی ہے کہ صوبہ کے نظام میں جو بھی مسائل مقامی حکومتوں کے نظام سے تضاد رکھتے ہیں یا ٹکراؤ پیدا کرتے ہیں یا مقامی حکومتوں کے مقابلے میں صوبائی حکومت کو زیادہ با اختیار یا مقامی حکومت کے مقابلے میں متبادل سطح کے نظام کو سامنے لاتے ہیں ان میں بنیادی نوعیت کی ترامیم کرنا ہوگی۔ تاکہ صوبائی اور مقامی نظام میں اہم آہنگی اور بہتر ورکنگ تعلقات کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اس وقت واقعی صوبائی اور مقامی نظام میں ایک ٹکراؤ ہے اور صوبائی حکومتیں اس مقامی نظام کو اپنے لیے ایک بڑا سیاسی خطرہ محسوس کرتی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ صوبائی ارکان اسمبلی اور مقامی منتخب نمائندوں کے درمیان اختیارات اور ترقیاتی فنڈز پر قبضہ کی سیاسی جنگ بھی ہے۔ جب تک ارکان اسمبلی کو قانون سازی یا نگرانی کے نظام تک محدود کر کے ترقیاتی کام مقامی حکومتوں کے نظام کو منتقل نہیں کیے جائیں گے، حالات کی درستگی ممکن نہیں۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کے بقول یہ ممکن نہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کر دیے جائیں۔ سوال یہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ صوبائی حکومتوں کو مقامی حکومتوں کے نظام پر اتفاق ہی نہیں اور وہ اس نظام کے حامی نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تواتر کے ساتھ صوبائی حکومتیں اول نہ تو مضبوط نظام تشکیل دیتی ہیں اور نہ ہی تواتر کے ساتھ ان کے انتخابات کو یقینی بناتی ہے۔ ان کی اصل ترجیح اس نظام کو کمزور کرنا اور ان کی تشکیل میں تاخیری حربے اختیار کرنا ہے۔

حالانکہ 18 ویں ترمیم کے مطابق صوبائی حکومتیں ایک مضبوط مقامی نظام حکومت اور اختیارات کی سیاسی، انتظامی اور مالی تقسیم کو صوبوں سے اضلاع تک منتقل کرنے کی پابند ہیں۔ اب بھی اگر ملک میں مقامی سطح پر مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنا کر ملک کی حکمرانی اور محروم طبقات کی سیاست کو شفاف اور مضبوط بنانا ہے تو ہمیں اس نظام میں تسلسل کے لیے وفاق کے کردار کو سامنے لانا ہو گا۔ کیونکہ محض صوبائی حکومتوں کے رحم وکرم پر اس بنیادی جمہوری اداروں کو چھوڑ کر یہ ریاست سمیت حکومت حکمرانی کے حقیقی بحران سے نہیں نمٹ سکیں گے۔ کچھ بنیادی اصول اور فریم ورک وفاقی سطح پر طے کر کے صوبائی نظام کی تشکیل کو یقینی بنائیں جو چاروں صوبوں میں اہم آہنگی بھی پیدا کرسکے۔ صوبائی سطح پر ہر ایک کا اپنا اپنا نظام یا سیاسی بولی جمہوری بنیادی اداروں کی کمزوری کا سبب بن رہی ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے سندھ اور پنجاب میں حالیہ فیصلوں سے یقینی طور پر ملک میں مقامی جمہوریت سے وابستہ لوگوں یا اداروں میں عملاً ایک امید پیدا ہوئی ہے۔ کیونکہ اس فیصلہ سے مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کی جنگ میں جاری بحث میں عدالتی فیصلے قومی سطح پر ایک بڑی معاونت کا کردار ادا کرسکے گا۔ عوامی رائے عامہ بنانے والے افراد یا ادارے سمیت ملک کے اہل دانش علمی و فکری محاذ پر اس بحث کو مثبت انداز میں آگے بڑھائیں کہ عدالتی فیصلہ کی روشنی میں صرف سندھ ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں مقامی نظام حکومت کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرسکیں۔

ہمیں علمی اور فکری بنیادوں پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر دباؤ کی پالیسی کو مضبوط بنانا ہو گا کہ وہ اپنی سیاسی، آئینی ذمہ داری کا حق ادا کریں اور جو بھی مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی میں سیاسی، انتظامی، مالی اور قانونی رکاوٹیں ہیں ان کو ہر سطح پر دور کرنا ہو گا کیونکہ پاکستان میں حکمرانی کا روشن مستقبل مضبوط اور مربوط مقامی حکومت کے نظام کا تقاضا کرتا ہے۔

Facebook Comments HS