پی ایس ایل 7 میں کراچی کنگز بمقابلہ پشاور زلمی: کراچی پہلی جیت کو ترس گئی، بابر اعظم کے 90 رنز بھی شکست سے نہ بچا سکے
قسمت کس وقت روٹھ جائے پتا نہیں چلتا، کراچی کنگز دو سال پہلے پی ایس ایل کی فاتح تھی لیکن اب وہ اپنی پہلی جیت کے لیے ترس رہی ہے۔
جمعے کی شب پشاور زلمی کے خلاف میچ میں ہار اور پی ایس ایل 7 میں لگاتار چوتھی شکست کے بعد پلے آف تک اس کی رسائی کے امکانات اگرچہ ختم نہیں ہوئے ہیں لیکن دھچکہ ضرور پہنچا ہے۔
پی ایس ایل کے پوائنٹس ٹیبل کی آخری نمبر کی دو ٹیموں کے اس میچ میں پشاور زلمی نے نو رنز کی کامیابی کے ذریعے دو اہم پوائنٹس حاصل کر لیے۔
پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پشاور زلمی نے چار وکٹوں کے نقصان پر 173 رنز بنائے۔
کراچی کنگز جواب میں چھ وکٹوں پر 164 رنزبنا سکی۔ بابراعظم کے ناقابل شکست 90 رنز بھی اپنی ٹیم کو شکست سے بچانے میں ناکام رہے۔ انھوں نے یہ رنز 63 گیندوں پر بنائے جن میں بارہ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔
مین آف دی میچ ایوارڈ شعیب ملک کے نام رہا جنھوں نے نصف سنچری بنانے کے علاوہ دو کیچ لیے اور ایک وکٹ حاصل کی۔
ززئی پھر بڑا سکور نہ کر سکے
کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر زلمی کو بیٹنگ دی تو سب کی توجہ کا مرکز افغان بیٹسمین حضرت اللہ ززئی تھے جو لاہور قلندرز کے خلاف شاہین آفریدی کے پہلے ہی اوور میں آؤٹ ہوئے تھے۔
اس بار عماد وسیم کے پہلے اوور کی پانچ گیندوں پر بھی ان میں اعتماد کا فقدان نظر آیا تاہم آخری گیند پر وہ چوکا لگانے میں کامیاب ہو گئے۔
ززئی اس بار اپنے اصل رنگ میں آنے کے موڈ میں نظر آئے جس کی جھلک انھوں نے عامر یامین کے دوسرے اوور میں دو چھکے اور دو چوکے مار کر دکھائی لیکن 41 کے انفرادی سکور پر ان کی پیشقدمی کو عمید آصف کپتان بابراعظم کے کیچ کے ذریعے روکنے میں کامیاب ہو گئے۔
ززئی کی ستائیس گیندوں پر مشتمل اننگزمیں چھ چوکوں اور دو چھکے شامل تھے۔
کامران اکمل پی ایس ایل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمینوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ ایک بڑی اننگز ان پر بھی قرض ہے، پچھلے میچ میں 41 رنز بنانے کے بعد اس میچ میں وہ 19 گیندوں پر صرف 21 رنز بنا کر عمید آصف کی دوسری وکٹ بنے۔
حیدر علی بغیر کسی باؤنڈری کے 21 گیندوں پر 16 رنز بنا کر عامر یامین کو وکٹ دے گئے۔
حیدر علی کا ٹیلنٹ اس پی ایس ایل میں کب پوری طرح نظر آئے گا؟ سب کو اس کا انتظار ہے۔ لاہور قلندرز کے خلاف 49 رنز کی اننگز کے علاوہ ابھی تک وہ کوئی قابل ذکر اننگز نہیں کھیل پائے ہیں۔
103 رنز پر تیسری وکٹ گرنے کے بعد پشاور زلمی ایک بڑے سکور کے لیے شعیب ملک اور بین کٹنگ کی طرف دیکھ رہی تھی۔
شعیب ملک کا وسیع تجربہ اس بار بھی اپنی ٹیم کے کام آیا جنھوں نے 28 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے پانچ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 52 رنز ناٹ آؤٹ کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔
بین کٹنگ نے بھی شعیب ملک کا اچھا ساتھ دیا۔ انھوں نے 24 رنز بناتے ہوئے 59 رنز کی شراکت قائم کی۔ وہ عمید آصف کی اس میچ میں تیسری وکٹ بنے۔
یہ بھی پڑھیے
’کراچی اور اس کے مضافات میں صدمے کا وقت ہوا چاہتا ہے‘
’کووڈ نے سب بدل دیا، کوئی چیز نہیں بدلی تو قلندرز کی شکست کی ریت‘
’لیگوں‘ کے دور میں ’کچھ الگ‘ سی پی ایس ایل
بابراعظم کی سنچری اور جیت سے محروم
کراچی کنگز نے جب اننگز شروع کی تو 174 رنز کا ہدف اس کے لیے قابل رسائی معلوم ہو رہا تھا لیکن سات گیندوں پر گرنے والی دو وکٹوں کے بعد یہ ہدف ماؤنٹ ایورسٹ معلوم ہونے لگا۔
اننگز کی تیسری ہی گیند پر شعیب ملک نے شرجیل خان کو صفر پر آؤٹ کر دیا۔ اگلے ہی اوور میں صاحبزادہ فرحان بھی بغیر کوئی رن بنائے پشاور زلمی کی طرف سےاپنا پہلا میچ کھیلنے والے محمد عمر کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔
کپتان بابر اعظم نے 13ویں گیند پر اپنا پہلا چوکا محمد عمر کی گیند پر مارا تاہم اس کے بعد وہ سلمان ارشاد اور وہاب ریاض کے اوورز میں دو دو چوکے مارنے میں کامیاب رہے۔
ان کے ہر شاٹ پر نیشنل سٹیڈیم کے مختلف انکلوژر سے ہونے والے شور اور تالیوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ شائقین بابر اعظم کی جانب سے ایک بڑی اننگز دیکھنے کے لیے کتنے بیتاب تھے۔
انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے 34 سال کے ای این کاکبین جو پی ایس ایل میں اپنا پہلا میچ کھیل رہے تھے اپنے کپتان کا اچھا ساتھ دینے میں کامیاب رہے۔
انھوں نے پانچ چوکوں کی مدد سے 31 رنز سکور کیے اور تیسری وکٹ کی شراکت میں 74 رنز کا اضافہ پچاس گیندوں میں کیا۔
اس مرحلے پر کراچی کنگز کو جیتنے کے لیے دس اوورز میں 97 رنز درکار تھے۔ محمد نبی صرف دس گیندوں پر اتنے ہی رنز بنا کر حسین طلعت کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔
عامر یامین نے ہاتھ کھولے اور عثمان قادر کے ایک ہی اوور میں دو چھکے مارے تو دوسری جانب بابراعظم نے اپنے دو چوکوں کے درمیان انھوں نے 14 گیندیں کھیل ڈالی تھیں۔
سلمان ارشاد کے آخری اوور میں ان کے لیے گیند کو باؤنڈری کا راستہ دکھانا ممکن نہ ہو سکا۔
کراچی کنگز کو پے در پے دو جھٹکے 18ویں اوور میں اس وقت لگے جب محمد عمر نے عامر یامین کو 20 اور عماد وسیم کو صفر پر آؤٹ کر دیا۔
بابر اعظم اپنی ٹیم کی آخری امید تھے۔ انھوں نے اپنے حریف کپتان وہاب ریاض کے آخری اوور میں ایک چوکا اور ایک چھکا لگایا جو اس ٹورنامنٹ میں ان کا پہلا چھکا تھا۔
کراچی کنگز کو آخری اوورز میں جیت کے لیے 29 رنز بنانے تھے لیکن اس میں 19 رنز بن پائے جن میں بابراعظم کے تین چوکے شامل تھے۔
بابر اعظم کی اننگز کا ایک قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ انھوں نے اپنی اننگز میں 17 گیندیں ایسی کھیلیں جن پر کوئی رن نہ بن سکا ان میں سے آٹھ گیندیں سلمان ارشاد کی تھیں۔
زلمی کے سب سے کامیاب بولر محمد عمر رہے جنھوں نے صرف 22 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔


