کیا امریکن سکالر شیخ یاسر قاضی ہماری فکری راہنمائی کر پائیں گے


مذہبی ذہن چاہے دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتا ہو اس کی فکر کا ایک مخصوص اینگل ہوتا ہے اور اس مخصوص و محدود دائرے سے باہر نکلنا ان کے لیے ناممکن ہوتا ہے، بنیادی وجہ عقیدہ کی وہ گرہ ہوتی ہے جو صفت ایمان مفصل و مجمل کی صورت میں ہر صاحب عقیدہ کے دماغ کے گرد مستقل بنیادوں پر لگ جاتی ہے اور کم و بیش تقریباً ہر مذہب کا اپنے ماننے والوں سے یہی بنیادی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ ایمان بالغیب کی صورت میں اپنے مذہب کی تعلیمات پر پختہ یقین قائم کر کے اسے حتمی سچائی کے طور پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تسلیم کر لیں۔

انہی روایتی بنیادوں پر ہماری مذہبی فکر نے فلسفہ کو حرام علم تصور کرنے والے امام غزالی کو اپنا پیشوا تسلیم کر لیا مگر فلسفہ و کھوج کے امام ابن رشد کو گمراہ ڈکلیئر کر کے گمنامی کے پاتال میں ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا مگر بھلا ہو کفار کا جنہوں نے ابن رشد کو کھوج نکالا اور اس سے استفادہ کر کے اپنے معاشروں کو مختلف خیالات کی قوس قزح سے منور کر لیا اور انہی بنیادوں پر آج یورپ ”اسکپٹیی سزم، ایتھی ازم، لبرل ازم، سیکولرازم اور ہیومنزم“ جیسے تصورات سے معمور ہے اور ہر شخص اپنے انفرادی حق کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی انسانی فکر سے وابستگی قائم کر کے اپنی زندگی مکمل آزادی سے جی سکتا ہے۔

شیخ یاسر قاضی امریکن بورن ہیں اور اس بات کی بڑی توقع تھی کہ شیخ کا ویژن آف لائف و مذہب کم از کم ہمارے ملک کی مذہبی کلاس سے کافی مختلف ہو گا مگر ان کے خیالات سے استفادہ کرنے کے بعد یہ اندازہ ہوا کہ کسی بھی خطے کی آب و ہوا کا کسی بھی مذہبی ذہن پر کوئی اثر نہیں پڑتا سوائے زبان کے باقی بنیادی اصول وہی ہوتے ہیں جنہیں ہم اپنی مذہبی کلاس سے سنتے آرہے ہیں۔ یاسر قاضی عمران خان کی دعوت پر پاکستان تشریف لائے، اس دورے کا مقصد پاکستان میں القادر یونیورسٹی کا قیام، سیرت کورسسز کے حوالہ سے ڈسکشن اور ایک روڈ میپ تشکیل دینا تھا۔

شیخ نے انیق احمد کے پروگرام پیام صبح میں شرکت فرمائی ان سے سوال کیا گیا کہ اس نئی قائم ہونے والی یونیورسٹی میں کیا پڑھایا جائے گا؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہاں ہیومینیٹی کو اسلامک سائنسز کے ساتھ ملا کر پڑھایا جائے گا تاکہ ہمارے طلبہ کی فکری اصلاح ہو سکے۔ شیخ کو شاید اس بات کی خبر نہیں تھی کہ ضیاء الحق کے دور میں ایسا ہی تجربہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور دنیا نے ہماری اس عجیب منطق کا خوب مذاق اڑایا تھا، شیخ سے یہ پوچھنا چاہیے کہ اسلامک سائنسز کون سی ہوتی ہیں؟

کیونکہ جہاں سائنس کا لفظ آئے گا اس کے ساتھ ٹھوس لوجک و شواہد اور تجرباتی علم کا پیکج جڑ جاتا ہے اور انہی بنیادوں پر شواہد اور عقیدہ کیسے ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟ کیا بلائنڈ لو جک اور بلائنڈ بیلیف کے درمیان کوئی ٹھوس تعلق استوار ہو سکتا ہے؟ اور اگر زبردستی دونوں کو مکس اپ کرنے کی کوشش کی جائے گی تو ایسا کرنے سے سائنس کا کچھ نہیں بگڑے گا چونکہ اس کا مقدمہ تو شروع ہی مفروضہ سے ہوتا ہے اور حقائق تک پہنچنے کے باوجود بھی تحقیق کا در کھلا رہتا ہے مگر مذہبی فکر کو بہت زیادہ نقصان ہو گا چونکہ اس کا سارا مقدمہ ہی ایمان بالغیب پر ٹکا ہوا ہے اور ایمان پر سوال کیسا؟

ہماری مذہبی فکر پہلے ہی سوالات سے گھبراتی ہے اسی لیے سوچنا اور سوال کرنا ان کے ہاں شیطانی فعل تصور کیا جاتا ہے؟ شیخ سے جب یہ پوچھا گیا کہ مسلم امہ کو آج کن مسائل کا سامنا ہے؟ تو انہوں نے اگناسٹک ازم، ڈارون تھیوری، اسکپٹیی سزم، ایتھی ازم، لبرل ازم، سیکولرازم، ہیومنزم اور ایوولوشن جیسے تصورات کو مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ ان تصورات کی وجہ سے آج کی نسل میں تشکیکی رویے فروغ پا رہے ہیں اور خاص طور پر اس بات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی نسل کو اس سمت میں گائیڈ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیوں ڈارون تھیوری کو تسلیم نہیں کرتے؟

سیانے کہتے ہیں کہ خوش فہمی صحت کے لیے ضرور اچھی ثابت ہو سکتی ہے مگر کیا حقائق سے نظریں چرا لینے سے حقائق ختم ہو جاتے ہیں یا ان کا ارتقائی سفر تمام ہو جاتا ہے اور تلخ حقیقت یا مقام افسوس یہ ہے کہ سائنس کے پاس ایوولوشن کو ثابت کرنے کے لیے ہزاروں تجرباتی ٹھوس ثبوت موجود ہیں مگر ہمارے پاس اس تحقیق کو غلط ثابت کرنے کے لئے صرف عقیدہ کی کسوٹی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم چا ہے تسلیم کریں یا نہ کریں حقائق کا ارتقائی عمل چلتا رہے گا جو معاشرے اس سفر کے ساتھی بنیں گے وہی دنیا پر راج کریں گے۔

ڈارون سے شروع ہونے والا سفر مزید فائن ٹیون ہو کر آج ہمارے سامنے ہے اور نا جانے کتنے حقائق کو مزید ڈی کوڈ کرتا چلا جائے گا۔ مسلکی اختلافات کے حوالہ سے شیخ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ واریت ایک بہت بڑا کینسر ہے جس سے ہمیں بچنا چاہیے اور علماء کو اپنے مسلکی اختلافات کو بند کمروں میں بیٹھ کر حل کرنے چاہئیں نہ کے ان اختلافات کا تذکرہ عوام کے اندر کریں کیونکہ اس رویہ سے لوگ بدظن ہو کر خود کو مذہبی طبقہ سے فاصلہ پر کر لیتے ہیں یا الحاد کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں جو ہمارے لئے کوئی مثبت سائن نہیں ہے۔

شیخ آپ نے بالکل درست نشاندہی فرمائی ہے مگر یہ دکھ تو وہی علماء سمجھ سکتے ہیں جو دین کو خالص قادر مطلق کی رضا و خوشنودی کے لیے پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر ہمارے ہاں تو یہ معمولی معمولی مسلکی اختلافات علماء کی روزی روٹی کا سامان ہیں۔ مناظرہ بازی، اپنے اپنے فرقہ کا جنت میں جانے کا زعم اور ایک دوسرے کے خلاف کلپ بازیاں اس کے سوا ہمارے دامن میں کچھ بھی نہیں ہے اور اسی میں ان کی فکری بقا ہے۔ ان اختلافات کی بنیاد پر اگر کوئی الحاد کا راستہ اختیار کرتا ہے تو ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور جو بھی ان کو دماغ والا بندہ نظر آتا ہے اسے ذرا سی بات پر دائرہ مذہب سے خارج کرنے کے لئے ہر وقت تیار بیٹھے رہتے ہیں۔

پھپھے کٹنے والی مائیوں کی طرح شیخ نے بھی ایک روایتی شکوہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم ہزار سال تک ٹاپ پر رہے اور ایک لمبا عرصہ تک دنیا کو تہذیب سکھاتے رہے اور المیہ یہ ہے کہ آج ہم اعلی تعلیم کے لیے یورپ جانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب انہوں نے مسلمانوں کی ضعیف الا ایمانی کو قرار دیا تو یہاں شیخ سے ایک سوال بنتا ہے کہ یورپ نے تو مذہب کو ریاستی معاملات سے الگ کر کے انسان کا نجی معاملہ قرار دے دیا تو کیا ان کی ترقی کا راز مضبوط الایمانی میں چھپا ہوا ہے؟

آپ کے مطابق وہاں اب چرچ ویران ہونا شروع ہو چکے ہیں اور سنڈے کو بھی لوگوں کی بہت کم تعداد گر جوں کا رخ کرتی ہے مگر اس کے باوجود وہ دنیا کے امام بن گئے آخر اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اگر مضبوط الایمانی عروج کا سبب بنتی ہے تو پھر یورپ کمزور ایمانی اور الحادی رویوں کے ساتھ دنیا پر کیسے چھا گیا؟ کیا ہماری ہزار سالہ کاؤ شوں کو کفار اپنے بیگ میں بند کر کے ساتھ لے گیا؟ انٹر فیتھ ریلیشن شپ پر بات کرتے ہوئے شیخ نے فرمایا کہ عیسائی اور یہودی اللہ پر ایمان رکھتے ہیں لیکن ان کا ایمانی تصور غلط ہے اور ہمیں کوشش اس بات کی کرنی چاہیے کہ انہیں صحیح تصور پر چلنے کے لئے قائل کریں۔

میری نظر میں یہ رویہ احساس تفاخر سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ آخر میں شیخ نے علماء پر زور دیتے ہوئے کہا کہ الحاد کے آگے بند باندھنے کے لئے ہمارے علماء کو کلاسیکل مذہبی روایت کو آسان اور عام فہم انداز میں ترجمہ کر کے عوام کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔ ضرور کریں مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ مشکل زبانی کے باوجود درجنوں فرقوں کا ظہور ہو چکا ہے اور آسان فہمی کے بعد کتنے معرض وجود میں آئیں گے اس کا شاید آپ کو اندازہ نہ ہو۔

رہی بات مختلف افکار کے پھیلاؤ کی اور اس کے آگے بند باندھنے کی تو کیا گلوبل ولیج میں ایسا ممکن ہو سکتا ہے؟ انٹرنیٹ اور معلومات کے سیلاب میں آپ لوگوں کے ذہنوں کو کیسے کنٹرول کر سکتے ہیں؟ یا شیخ آپ القادر یونیورسٹی میں سیرت کورسز ضرور پڑھائیں اور طلبہ کی فکری اصلاح کریں مگر دھیان سے کیوں کہ ہمارے علماء میں دینی شخصیات کو مسلکی بنیادوں پر پرکھنے کا چلن ہے جبکہ آپ فرقہ واریت کو کینسر ڈکلیئر کر چکے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگر آپ اس نیک کام کا آغاز انبیاء کے وارثین سے شروع کریں جو فرقوں میں بٹ کر تقسیم ہو چکے ہیں۔ اگر گھر میں انتشار ہو گا تو پھر ہم دنیا کو کیسے قائل کریں گے؟ اس لیے بہتر ہو گا کہ پہلے اپنے گھر سے آغاز کیا جائے۔

Facebook Comments HS