کیا حکومت کی روانگی کی سیٹی بج گئی ہے؟
لگتا ہے۔ سیٹی بج گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارلیمنٹیرین کے چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھاگے دوڑتے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کی رہائش گاہ واقع ماڈل ٹاؤن لاہور پہنچ گئے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا شہباز شریف کے ظہرانہ پر چلے آنا اور ماڈل ٹاؤن میں ان کا شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز کی طرف سے پرجوش خیر مقدم کرنا عام خبر نہیں اس ملاقات کے پس منظر میں ایک پوری کہانی ہے جس کے دو اہم کرداروں کی لاہور میں ملاقات ہوئی ہے۔ کم و بیش ایک سال قبل پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان ہونے والی تلخ نوائی نے نہ صرف دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے تھے بلکہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے ہی نکل گئی تھی۔
پیپلز پارٹی کی طرف سے لانگ مارچ کے ساتھ استعفے دینے کی مخالفت کے بعد پی ڈی ایم کو لانگ مارچ ہی ملتوی کرنا پڑا پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات سے جہاں عمران خان حکومت کے خلاف تحریک کو نقصان پہنچا وہاں حکومت کی مضبوط ہوئی پچھلے ایک سال کے دوران پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان بیان بازی ہوتی رہی ایک دوسرے کو طعنے بھی دیے جاتے رہے لیکن ایک دوسرے سے قطعی طور پر تعلقات ختم نہیں کیے پارلیمنٹ سے باہر پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی الگ الگ پلیٹ فارم پر اپنے آپ کو حقیقی اپوزیشن ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی رہیں لیکن پارلیمنٹ کے اندر شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان رابطے بھی ہوئے اور ملاقاتیں بھی ہوئیں لیکن یہ رابطے اور ملاقاتیں کو بڑی خبر نہ بن سکے لیکن اچانک کیا ہوا کہ آصف علی زرداری اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کو لے کر ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے؟
وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے اس ملاقات پر جو فوری رد عمل دیا اس سے ظاہر ہوتا تھا جیسے انہیں ملاقات پر زیادہ اعتراض نہیں تھا بلکہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی تیتر بٹیر سے تواضع کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ انہیں اس بات کا علم نہیں آصف علی زرداری پرہیزی کھانا کھاتے ہیں اور اپنے ساتھ دال چاول لے کر چلتے ہیں۔ تیتر اور بٹیر میاں شہباز شریف کی کمزوری ہیں۔ جن دنوں میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان گاڑھی چھنتی تھی۔ وہ ان دنوں بھی چوہدری نثار علی خان کی لاہور آمد پر تیتر بٹیر سے تواضع کرتے تھے۔
میاں شہباز شریف ماضی قریب میں آصف علی زرداری بارے میں سخت بیانات دیتے رہے ہیں جس کے باعث دونوں کے درمیان پرجوش تعلقات قائم نہیں تھے۔ بالآخر سیاسی ضرورتوں نے دونوں کے درمیان فاصلے ختم کر دیے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ سیاست دانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرنے میں سخت زبان کا استعمال نہیں کرنا چاہیے تاکہ جب کل انہیں مل بیٹھنا ہو تو ایک دوسرے سے شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سیاسی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں لیکن سیاست دانوں کی زبان سے نکلے ہوئے سخت جملوں کی چبھن سالہا سال محسوس کی جاتی ہے۔
میری اطلاع کے مطابق یہ ملاقات کرٹسی کال نہیں بلکہ تجدید تعلقات تھی اور عمران خان کی حکومت گرانے کے لئے تحریک عدم اعتماد لانے کی منصوبہ بندی کا حصہ تھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے۔ اس ملاقات میں مریم نواز اور حمزہ شہباز نے تو شریف خاندان کے نمائندوں کے طور پر شرکت تھی لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر خواجہ سعد رفیق اور مریم اورنگ زیب کے سوا کسی مسلم لیگی رہنما کو مدعو نہیں کیا گیا
حتیٰ کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی بھی مدعو نہیں کیے گئے ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رومانس کے حق میں نہیں وہ پیپلز پارٹی سے کسی صورت تعلقات بحال کرنے کے حق میں نہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کی ڈیل کی سیاست کے سخت خلاف ہیں۔ انہوں پی ڈی ایم کے حالیہ اجلاس میں جو 8 سفارشات پیش کیں تھیں ان میں سے ایک سفارش پیپلز پارٹی کی پی ڈی ایم میں مشروط شرکت بارے میں تھی۔ سفارش میں پیپلز پارٹی کو مدعو کرنے کی بجائے کہا گیا کہ اگر وہ خود دوبارہ شرکت پر آمادہ ہو تو اس کی شمولیت پر غور کیا جا سکتا ہے۔
شنید ہے، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز سے الگ کمرے میں ملاقات کی اس دوران میاں نواز شریف بھی آن بورڈ تھے۔ شنید ہے، میاں شہباز شریف کو عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم بنانے کی پیشکش ہوئی ہے لیکن میاں نواز شریف نے پیپلز پارٹی کو اپنا وزیر اعظم کے لئے امیدوار میدان میں لانے پر مسلم لیگ (ن) کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ معلوم ہوا ہے۔ بند کمرے میں ہونے والی ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحاریک عدم اعتماد لانے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
وفاق میں پیپلز پارٹی کا وزیر اعظم منتخب کرنے کی صورت میں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو وزارت عظمی دے دی جائے گی۔ ملاقات کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے مختصر پریس کانفرنس سے خطاب کیا انہوں نے کھل کر تو کوئی بات نہیں کہی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان وفاق اور پنجاب میں تحاریک التوا لانے پر اتفاق رائے گیا ہے البتہ یہ کہا ہے کہ حکومت سے نجات حاصل کرنے کے لئے تمام آئینی، قانونی و سیاسی آپشنز استعمال کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آج ایک ایجنڈے پر اتفاق نہیں کیا تو قوم معاف نہیں کرے گی۔ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے آپشن پر سنجیدگی سے گفتگو کی گئی ہے۔ اس پر اپنی پارٹی اور پی ڈی ایم میں مشاورت کی جائے گی۔ عدم اعتماد کے معاملے پر نواز شریف اور پارٹی کی سینٹرل کمیٹی فیصلہ کرے گی۔ معلوم ہوا کہ تیزی سے بدلتے سیاسی منظر کے پیش نظر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس 7 فروری 2022 ء کو طلب کر لیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے ملاقات کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمنٰ سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور انہیں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے ہونے والی ملاقات بارے اعتماد میں لیا اور کہا کہ ملاقات کی تفصیلات مل کر ہی بتائیں گے۔ شنید ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمیں ایک بار تحریک عدم اعتماد کا آپشن استعمال کرنا چاہیے مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم کے فورم پر حتمی منظوری لینے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا۔ پہلے وزیر اعظم پر عدم اعتماد لانا ہے جس وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف؟
ملاقات میں جہانگیر ترین گروپ کے 6 ارکان قومی اسمبلی کے علاوہ پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کی تعداد بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا شہباز شریف نے ملاقات کے لئے بلاول سے چند روز قبل دورہ لاہور کے دوران رابطہ کیا تھا۔ بلاول اپنی بہن آصفہ کی سالگرہ میں شرکت کے لئے کراچی گئے اور ایک دن بعد ملاقات کے لئے واپس لاہور آ گئے۔ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کے لانگ مارچ ایک ساتھ اسلام آباد داخل ہونے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا آصف علی زرداری نے کہا کہ ممکن ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد لانگ مارچ کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن ) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے ملاقات کے بعد پارٹی قائد محمد نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ترجمان مسلم لیگ ( ن) مریم اورنگزیب کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق نواز شریف سے مشاورت کے بعد شہباز شریف نے پیر 7 فروری کو پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلا لیا ہے۔ پی ڈی ایم کا اجلاس بلانے کے لئے تاریخ کا اعلان مشاورت سے کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ دونوں جماعتیں قومی خزانہ لوٹنے کے لئے آپس میں نورا کشتی کرتی ہیں۔ قوم کی لوٹی گئی دولت کے چھن جانے کا خوف انہیں اکٹھا کرتا ہے۔ الگ الگ نوکری کی عرضیاں قبول نہ ہونے پر دونوں مل کر درخواست دینے کی کوشش میں ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
قوم آج کی اس ملاقات کی شدت سے منتظر تھی کیونکہ شہباز شریف کی بڑھکیں اسے یاد ہیں۔ قوم کو انتظار تھا کہ آج پیٹ پھاڑے جائیں گے اور سڑکوں پر گھسیٹ کر قوم کا چوری شدہ مال نکلوایا جائے گا۔ مگر پیٹ پھاڑنے یا زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بجائے میاں صاحب نے اپنے مقصود چپڑاسیوں اور مسرور انوروں کو بچانے کو ترجیح دی۔ عمران خان نے برسوں پہلے قوم کو بتا دیا تھا کہ زرداری اور شریف ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
کھانے کی دعوت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ پر رکھی گئی تھی اور وقت ڈیڑھ بجے کا رکھا گیا تھا۔ مریم نواز دو بجے پہنچی تو اڑھائی بجے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری بھی پہنچ گئے۔ آصف علی زرداری اپنا پرہیزی کھانا اور سندھ پولیس کے کمانڈوز سکیورٹی گارڈ اپنے ساتھ ہی لے کر کر آئے لیکن گارڈ بھی باہر ہی رہے اور کھانا چھوٹے دروازے سے اندر پہنچا دیا گیا۔ آصف علی زرداری پہلی مرتبہ شہباز شریف کے گھر آئے جب کہ بلاول بھٹو زرداری دو مرتبہ آ چکے ہیں۔
جیسے ہی آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی گاڑی گھر کے اندر داخل ہوئی تو شہباز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز آگے بڑھ کر ان کا استقبال۔ کورونا کے ایس او پیز پر مکمل عمل کیا گیا۔ شہباز شریف اور آصف علی زرداری نے ایک دوسرے سے کہنیاں ملا کر خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ بلاول اور حمزہ نے ہتھیلیوں کے مکوں سے ایک دوسرے سے گرم جوشی کا اظہار کیا۔ گھر کے ڈرائنگ روم میں ملاقات شروع ہوئی تو میڈیا کو جو فوٹیج جاری کی گئی اس میں مسلم لیگ نون کی طرف سے شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق اور مریم اورنگ زیب نظر آرہے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور پارٹی کے پنجاب کے جنرل سیکریٹری حسن مرتضیٰ موجود تھے۔ 15 منٹ تک ایک دوسرے سے خیر سگالی کے اظہار اور موجودہ سیاسی صورت حال پر گفتگو کے بعد اصل ملاقات کا آغاز ہوا۔
یہ پہلے سے ہی طے تھا کہ ملاقات میں صرف پانچ لوگ ہوں گے اور اسی حوالے سے ہی تمام انتظامات کیے گئے تھے۔ ابتدائی ملاقات کے بعد کھانا پیش کیا گیا اور اس کے بعد پھر دوسری اور اہم ملاقات شروع ہوئی۔ دو خاندانوں کے درمیان یہ ملاقات گھنٹہ بھر جاری رہی جس میں صرف شہباز شریف، آصف علی زرداری، مریم نواز، بلاول بھٹو اور حمزہ شہباز شریک ہوئے۔ ایک گھنٹے کی ملاقات کے بعد میڈیا کو بھی اندر بلا لیا گیا۔ تاہم ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو بارے کوئی بات بتانے سے گریز کیا گیا پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے بار بار مریم نواز سے یہ پوچھا کہ کیا اب بھی وہ بلاول کو سیلیکٹڈ سمجھتی ہیں؟ تو شہباز شریف نے مسکراتے ہوئے کہا آپ لوگ بے فکر رہیں اب میں درمیان میں کھڑا ہوں۔
اب دیکھنا یہ ہے، پی ڈی ایم کی طرف سے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف حکومت کی اتحادی جماعتوں کا کیا رد عمل سامنے آتا ہے۔ اس کے لئے ہمیں کچھ دن انتظار کرنا پڑے گا البتہ ایک بات سب کو معلوم ہے۔ سیٹی بج چکی ہے۔ سیٹی بجنے کے منتظر ارکان پارلیمنٹ کے کھل کر سامنے آنے سے سیاسی منظر واضح ہو جائے گا۔

